روہنگیا، چین اور مسلمان

عزاداری امام حسین ہماری شہ رگ حیات ہے اس پر کوئی پابندی قبول نہیں: علامہ احمد اقبال رضوی

امریکہ سے دوستی! پاکستان کو دئے گئے 5 ہیلی کاپٹرز واپس مانگ لئے

کربلا ایک دانشگاہ؛ سانحہ نہیں

14 سو سال بعد آج پھر یزیدیت تکفیریت کی شکل میں سر اٹھا رہی ہے: علامہ راجہ ناصرعباس جعفری

برگزیٹ کے خلاف برطانوی عوام کا مظاہرہ

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ عام نہ کرنے کی اپیل، عدالت نے پنجاب حکومت کی اپیل مسترد کردی

ملک دشمنوں کے عزائم کو ناکام بناتے ہوئے وحدت اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا جائے: علامہ حسن ظفر نقوی

اقوام متحدہ کی سیکڑوں روہنگیا خواتین سے اجتماعی زیادتیوں کی تصدیق

تحریک انصاف نے ایم کیوایم سے بات کرکے تھوک کر چاٹا ہے: خورشید شاہ

تصاویر: جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں سید الشہداء حضرت امام حسین(ع) کی عزاداری

امریکہ کی سفری پابندیوں کی نئی فہرست میں شمالی کوریا شامل سوڈان خارج

بے نظیر کا قاتل کون: پرویز مشرف یا آصف علی ذرداری؟

کردستان کا عراق سے الگ ہوجانا پورے عراق کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے

عوض القرنى اور سلمان العوده کے بعد محمد العریفی بھی گرفتار

حسن مثنی کون تھے؟ کیا وہ کربلا میں موجود تھے؟

سعودی عرب کو درپیش دو بڑے چیلنجز

تاریخ کوفہ: کچھ گم گشتہ پہلو — عامر حسینی کی کتاب کوفہ پہ تبصرہ: میاں ارشد فاروق

بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کی تعداد 4لاکھ 30 ہزارہوگئی

انجیلا مرکل چوتھی بار جرمنی کی چانسلر منتخب

محرم الحرام میں آگ و خون کا بڑا منصوبہ ناکام

ملیحہ لودھی کی اقوام متحدہ میں سنگین غلطی

نوازشریف کا لندن سے فوری وطن واپسی کا فیصلہ

یمنی عوام پر گزشتہ ماہ سعودی جنگی اتحاد کے حملہ میں امریکی بم استعمال ہوا، ایمنسٹی انٹرنیشنل

اگر مرجعیت کے فتوی پر عمل نہ ہوتا تو داعش کا کربلا، بصرہ، کویت اور سعودی عرب پر قبضہ ہوجاتا

اسلام آباد میں نامعلوم افراد نے کالعدم داعش کا جھنڈا لگادیا

خطے میں موجود بحرانوں میں کس نے مہاجرین کو پناہ دی؟

این اے 120میں شدت پسند عناصرکی کارکردگی

روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و ستم ،7 ممالک نے سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کر لیا

روہنگیا پناہ گزینوں کی تعداد سات لاکھ سے تجاوز کرگئی

لندن میں تیزاب حملے میں 6 افراد زخمی

ذہنی طور پر ان فٹ ڈونلڈ ٹرمپ خود کش مشن پر ہیں: شمالی کوریا

استغفار شیطان سے مقابلہ کا بہترین راستہ ہے

مجلس امام حسین کی خصوصیت دشمن سے مقابلہ اور شیعت کی ترویج ہے

شیعہ ہزارہ قوم کی نسل کشی کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

لندن میں آن لائن ٹیکسی سروس ’’اوبر‘‘ پر پابندی لگانے کا فیصلہ

پاکستان کے حالات عجیب رخ اختیار کر سکتے ہیں: نواز شریف

امریکا اور شمالی کوریا بچوں کی طرح لڑرہے ہیں: روس

نجران میں یمنی فوج نے سعودی فوج کا حملہ پسپا کر دیا

مشرف اتنے بہادر ہیں تو پاکستانی عدالتوں کا سامنا کریں: زرداری

پرویز مشرف کے الزامات

ترکی سفیر نے امارات میں اسرائیلی افسروں کی رہائشگاہ فاش کردی

عمر رسیدہ عرب شیوخ کی کمسن بھارتی لڑکیوں سے شادیاں

مشکل وقت سر پر ہے

کیا اردوغان، تباہی کے بالکل قریب ہیں؟

دنیا کو تڑپانے والا یہ بچہ اب کس حال میں ہے؟

پاکستان نے اقوام متحدہ میں کشمیر پر بھارتی موقف مسترد کر دیا

مشرف میں عدالتوں کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں: فرحت اللہ بابر

ایران اور دنیا کے چالیس سے زائد ملکوں میں عالمی یوم علی اصغر

نوازشریف کے دوبارہ پارٹی صدر بننے کی راہ ہموار ہو گئی

پاکستان کی سیاست میں مثبت تبدیلی کیوں نہیں آ رہی ؟

فری بلوچستان : پاکستان کی خود مختاری پر کاری ضرب

تعلیم یافتہ دہشت گرد

الجبیر: بغداد اور کردستان ایک بڑی جنگ کی جانب بڑھ رہے ہیں

امریکا کے حمایت یافتہ جنگجوؤں نے اشتعال انگیزی کی تو نشانہ بنائیں گے: روس

پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف دنیا کا سب سے بڑا آپریشن کیا: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی

گھر کی صفائی اور سابق وزیر داخلہ کی ناراضگی

عراقی وزیر اعظم نے الحویجہ کی آزادی کا حکم صادر کردیا

ٹرمپ کا خطاب اس کی ناکامی، شکست، غصہ اور درماندگی کا مظہر ہے

کائنات کے گوشہ و کنار میں امام مظلوم کے ماتم کا آغاز

پاکستان میں محرم الحرام کا چاند نظر آگیا

نواز شریف کی نسلوں میں سے کوئی اقتدار میں آنے والا نہیں رہے گا: طاہر القادری

اسلام آباد میں مختلف مکاتب فکر کے 14علماء اور خطبا کے داخلے پر پابندی عائد

لاہور ہائی کورٹ کا سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا حکم

بےنظیر اور مرتضیٰ بھٹو کو آصف زرداری نے قتل کرایا: پرویز مشرف

عسکری تنظیمیں ۔۔۔بدامنی کا محرک

سوچی کی حقائق پر پردہ پوشی: افسوسناک یا مجرمانہ فعل؟

قدس کو منظم کرنے کا بہانہ یا یہودی بنانے کا منصوبہ؟

غنڈوں کی زبان بولتا صدر

سعودی فوج مرکز پر یمنی سرکاری فوج کا میزائل حملہ، متعدد سعودی اہلکار ہلاک

امام کعبہ نے امریکی صدر ٹرمپ کو ’’امن کی فاختہ‘‘ قرار دے دیا!

2017-09-13 18:41:50

روہنگیا، چین اور مسلمان

j

بدھ کو بالآخر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میانمار میں روہنگیا کے خلاف انسانیت سوز مظالم پر غور کرنے والی ہے۔ 25 اگست سے شروع ہونے والے تشدد اور تباہ کاری کے اس تازہ سلسلہ میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ تین لاکھ کے لگ بھگ روہنگیا ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ یہ لوگ نہایت پر صعوبت اور دشوار گزار سفر کرکے بنگلہ دیش پہنچتے ہیں جہاں پر عالمی تنظیمیں ان کی دیکھ بھال کرنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن بنگلہ دیش کی حکومت ان پناہ گزینوں کے حوالے کسی گرمجوشی کا مظاہرہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی لاکھ روہنگیا برس ہا برس سے بنگلہ دیش میں غیر قانونی حیثیت میں موجود ہیں اور ان کی بحالی اورآباد کاری کے لئے کوئی منظم اور مؤثر کوششیں دیکھنے میں نہیں آتیں۔ میانمار روہنگیا کو بنگلہ دیش سے آئے ہوئے ناجائز تارکین وطن قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو بنگلہ دیش واپس جانا چاہئے یا دنیا کا جو بھی ملک انہیں اپنے ہاں آباد کرنا چاہتا ہے تو وہ بخوشی ایسا کرسکتا ہے، میانمار انہیں اپنے ہاں نہیں رہنے دے گا۔ دوسری طرف بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ لوگ میانمار کے باشندے ہیں اور گزشتہ دنوں میں میانمار سے بنگلہ دیش آنے والے لوگوں کو واپس اپنے گھروں میں آباد کیا جائے۔

عالمی ادارے اور حکومتیں گزشتہ کئی دہائیوں سے اس صورت حال کو دیکھ رہی ہیں لیکن کسی طرف سے کوئی خاص اقدام دیکھنے میں نہیں آیا۔ اس دوران برما یا میانمار کی سخت گیر فوجی حکومت کی بجائے جمہوری انتظام متعارف کروایا گیا اور 1991 میں اپنے لوگوں کے جمہوری حقوق کی جد و جہد کرنے پر امن انعام پانے والی لیڈر آنگ سان سوچی کو ملک کی ڈی فیکٹو رہنما کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ سوچی اگرچہ بظاہر ملک کی وزیر خارجہ ہیں لیکن وہ فوجی جرنیلوں کے ساتھ سیاسی معاہدہ کے نتیجہ میں ملک کے بیشتر معاملات میں دخیل ہیں ۔ اس تبدیلی کے باوجود میانمار کے روہنگیا کی صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے بلکہ حالیہ تشدد اور جبری کے واقعات اس تسلسل اور شدت سے پہلے کبھی پیش نہیں آئے۔ بتایا جاتا ہے کہ میانمار میں دس لاکھ روہنگیا آباد ہیں لیکن حالیہ بے دخلی میں تین لاکھ کے قریب لوگوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر جلاوطن ہونے پر مجبور کیاگیا ہے۔ اس طرح برما کی حکومت ، فوج اور بودھ انتہا پسند ایک تہائی روہنگیا آبادی کو ملک سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ یہ سلسلہ اگر اسی رفتار سے جاری رہتا ہے تو چند ہی ہفتے میں میانمار روہنگیا مسلمانوں سے ’پاک‘ ہوجائے گا اور ان کے دیہات، گھر بار اور مساجد تباہ کی جاچکی ہوں گی اور ان کے اثاثے لوٹے جا چکے ہوں گے۔ اسی لئے عالمی سطح پر برما کی حکمت عملی کو ایک چھوٹی اقلیت کی نسل کشی قرار دیا جارہاہے لیکن عملی طور سے رنگون کی حکومت کو کسی طرف سے کسی دباؤ کا سامنا نہیں ہے۔

میانمار کی حکومت کامؤقف ہے کہ وہ روہنگیا کے خلاف کسی قسم کی کارروائی میں ملوث نہیں ہے بلکہ اس علاقے میں اراکان دہشت گرد ایک طرف سرکاری فوج اور دوسرے مذہبی گروہوں کے خلاف سرگرم عمل ہیں تو دوسری طرف عالمی توجہ حاصل کرنے کے لئے وہ خود ہی ان لوگوں کو بے گھر کرنے کا سبب بھی بن رہے ہیں ، وہ جن کے حقوق کی حفاظت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ رنگون حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ دہشت گرد گروہ دراصل برمی فوج اور عوام کے خلاف برسر پیکار ہیں جبکہ برما کی فوج دیگر آبادیوں کی طرح روہنگیا کی حفاظت کی جد و جہد بھی کررہی ہے۔ جمہوریت کے لئے طویل قید و بند کی صعوبت برداشت کرنے کی وجہ سے عالمی شہرت اور وقار حاصل کرنے والی آنگ سان سوچی نے بھی بصد مشکل روہنگیا کے معاملہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے یہی بات دہرائی اور اراکان لبریشن آرمی کو قتل و غارتگری اور تباہ کاری کاذمہ دار بتایا۔ انہوں نے بھی یہ مضحکہ خیز دعویٰ کیا کہ میانمار کی فوج روہنگیا کی حفاظت کررہی ہے جبکہ ان کے نام پر دہشت گردی کرنے والے اصل فساد کی جڑ ہیں۔

اس حوالے سے قباحت یہ ہے کہ غیر جانبدار ذرائع سے اگر ان مظالم کی تصدیق ممکن نہیں ہے جو برمی فوج اور بودھ مسلح گروہوں کی طرف سے روہنگیا پر روا رکھے جارہے ہیں تو رنگون حکومت کے دعوؤں کو درست تسلیم کرنا بھی دشوار ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ برما کی فوج اور حکومت کی طرف سے صحافیوں اور امدادی کارکنوں کو صوبہ راکھین میں روہنگیا تک پہنچنے کی اجازت دینے سے انکار کیا جاتا ہے۔ اسی لئے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اگر میانمار کی حکومت اور فوج کے ہاتھ اتنے ہی صاف ہیں اور وہ روہنگیا کی حفاظت میں واقعی ایک دہشت گرد گروہ سے جنگ کررہی ہے تو غیر جانبدار مبصرین کو اس علاقے میں جا کر حالات کا جائزہ لینے کا حق کیوں نہیں دیا جاتا۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی مضحکہ خیز حد تک حیران کن ہے کہ برما کی فوج گزشتہ کئی دہائیوں سے واضح کررہی ہے کہ وہ کسی صورت روہنگیا کو نہ تو اپنے ملک میں قبول کرے گی اور نہ ہی انہیں بنیادی شہری حقوق دیئے جائیں گے۔ عالمی اداروں اور دیگر ملکوں کے پیٹ میں درد ہے تو وہ ان لوگوں کو اپنے ہاں آباد کرلیں۔ اب یک بیک ایسی کون سی کایا پلٹ ہو گئی ہے کہ وہی فوج بے بس اور ناپسندیدہ روہنگیا کی حفاظت کے لئے جنگ کرنے پر آمادہ ہے اور ان کی حفاظت کو بیڑا اٹھائے ہوئے ہے۔ اس جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی نیت سے میانمار کی حکومت نے گزشتہ دنوں چند عالمی صحافیوں کو راکھین کا دورہ کرنے اور صورت حال کا خود مشاہدہ کرنے کی دعوت دی۔ تاہم بی بی سی کے نمائیندے نے اس دورہ کے دوران چشم دید حالات کی جو تصویر پیش کی ہے اس سے رنگون کے حکمرانوں کے جھوٹ کا پردہ فاش ہوجاتا ہے۔

بی بی سی کے نمائیندے نے بتایا ہے کہ انہیں سخت نگرانی میں راکھین کے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں لے جایا گیا تھا لیکن کسی بھی صحافی کو ایک لمحے کے لئے بھی آزادانہ کسی سے بات کرنے یا حالات کا جائزہ لینے کا موقع نہیں دیاگیا۔ اس پابندی کا سبب سیکورٹی کو قرار دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ان کی جان کی حفاظت کے پیش نظر وہ تنہا کہیں نہیں جا سکتے۔ انہیں ایسے پناہ گزین مرکز میں لے جایا گیا جہاں علاقے کے بے گھر ہونے والے ہندوؤں کو رکھا گیا تھا اور یہ لوگ بتا رہے تھے کہ دہشت گردوں نے ان کے گاؤں اور کاروبار تباہ کردیئے تھے لیکن ان کی باتوں سے صاف ظاہر تھا کہ وہ وہی بات کہہ رہے تھے جو فوج کی طرف سے انہیں بتائی گئی تھی۔ حقیقت احوال یہ تھی کہ فوج اور پولیس کی نگرانی میں روہنگیا کے خلاف سر گرم عمل بود ھ عسکری گروہوں نے ایک سی شکل و شباہت اور چال ڈھال ہونے کی وجہ سے روہنگیا کے مغالطے میں ہندوؤں کو بھی دہشت کا نشانہ بنایا اور انہیں بے گھر ہونے پر مجبور کردیا۔ صحافیوں کے اس گروپ کو جعلی تصاویر بھی فراہم کی گئیں جن میں مسلمانوں کو خود ہی اپنے گھروں کو نذر آتش کرتے دکھایا گیا تھا لیکن یہ تصاویر خاص طور سے ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کی گئی تھی تاکہ سرکاری مؤقف کو درست ثابت کیا جا سکے۔ اس نمائیندے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ سفر سے واپسی پر ایک گاؤں میں آگ لگی دیکھ کر تمام صحافی ذبردستی بس رکواکر جائے حادثہ کی طرف بھاگے تو انہوں نے بودھ جتھوں کو مکان جلاتے اور تباہ کاری کرتے دیکھا جو اچانک درجن کے لگ بھگ غیر ملکی صحافیوں کو اپنے سامنے دیکھ کر وہاں سے فرار ہونے لگے۔ نمائیندہ کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں پولیس اور فوج کی کئی چوکیاں ہیں لیکن اس کے باوجود بودھ انتہا پسند اطمینان سے تباہ کاری اور لوٹ مار میں مصروف تھے۔ یہ وہی بات ہے جو ان علاقوں سے فرار ہوکر بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا پناہ گزینوں نے بھی بتائی ہیں۔ جس کا مشاہدہ بی بی سی کے نمائیندے کے علاوہ درجن بھر دیگر صحافیوں نے بھی کیا۔

اس صورت حال کے باوجود اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو سینکڑوں لوگوں کی ہلاکت، درجنوں دیہات کی تباہ کاری اور تین لاکھ لوگوں کی ملک بدری کے بعد یہ توفیق ہوئی ہے کہ وہ اس المناک انسانی مسئلہ پر غور کرے۔ لیکن چین نے اجلاس سے پہلے ہی واضح کردیاہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف برمی فوج کی کارروائی کی حمایت کرتا ہے۔ اس بیان کا مقصد یہ ہے کہ بیجنگ کے حکمران میانمار میں رونما ہونے والے انسانی المیہ کو تسلیم کرنے اور لاکھوں لوگوں کی پریشانی اور جان و مال کو لاحق خطرے کو مسترد کرنے کی بجائے سلامتی کونسل میں رنگون حکومت کے مظالم کو دہشت کے خلاف کارروائی قرار دے کر میانمار کے خلاف کسی بھی قسم کی قرار داد کو مسترد کردیں گے۔ اس طرح عالمی برادری بدستور روہنگیا کے سوال پر خاموش تماشائی بنی رہے گی۔اس رویہ کا واضح پیغام یہ ہے کہ چین کے لئے اس علاقے میں اپنے مفادات کا تحفظ انسانی زندگی اور حقوق سے زیادہ اہم ہے۔ پاکستان اور دنیا کے دیگر ملکوں میں روزانہ کی بنیاد پر روہنگیا کے لئے جان قربان کرنے کے دعوے کرنے والے نعرے بازوں کے لئے بھی یہ صورت حال سبق آموز ہونی چاہئے۔ پاکستان کی حکومت چین کی قریبی حلیف ہے اور اپنے ہاں محفوظ جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کے خلاف عالمی کارروائی کا راستہ روکنے کے لئے اسے چین کی اعانت حاصل رہی ہے۔ سی پیک منصوبہ کی تکمیل چین کے عالمی تجارتی، سیاسی اور اسٹریجک مفادات کے لئے بے حد ضروری ہے لیکن روہنگیا کے خلاف مؤقف اختیار کرتے ہوئے نہ اسے مسلمانوں کے جذبات کا خیال ہے اور نہ ہی پاکستان سے اپنی دوستی کو راہ میں آنے دیتا ہے۔ بلکہ یہ سوچتا ہے کہ علاقے میں وہ کس طرح زیادہ سے زیادہ ملکوں کو اپنے زیر اثر رکھ سکتا ہے۔

عالمی سفارت کاری میں یہی سنگدلی بنیادی اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان کی حکومت بھی روہنگیا کے لئے اپنے عوام کی بلند آہنگ حمایت کے باوجود اپنے قریب ترین حلیف سے یہ نہیں کہہ سکتی کہ اسے روہنگیا کی حالت زار پر رنگون حکومت کی سرزنش کرنی چاہئے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف سب ملک اپنے اپنے طور پر عاجز ہیں۔ جو عناصر روہنگیا یا کسی دوسرے گروہ کے ذریعے اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لئے دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کا ارادہ کرتے ہیں، دنیا کا ہر ملک ان کے خلاف اقدام کرنا ضروری سمجھتا ہے۔

 
 
 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

زمرہ جات:   Horizontal 1 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

اسحاق ڈاراستعفیٰ دیں

- ڈیلی پاکستان

سحر نیوز رپورٹ

- سحر ٹی وی

جام جم - 25 ستمبر

- سحر ٹی وی