نیویارک میں محرم کا جلوس – محمد حسین

سعودی ولی عہد کو اسرائیل کے دورے کی دعوت

آل خلیفہ اسرائيل کے ساتھ تعلقات مضبوط بنا کر تاریخ کے کوڑے دان میں دفن ہوجائیں گے

شام میں امریکی فوج کی موجودگی غیر قانونی ہے: روس

مسئلہ فلسطین: اتحاد یا پھر اپنی باری کا انتظار

کراچی : پی ایس 128 میں کالعدم جماعت کی الیکشن مہم، سیکورٹی ادارے خاموش

بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کا افغان لڑکیوں کو پاکستان مین دہشتگردی کہ لیے ٹریننگ دینے کا انکشاف

اسرائیل کے قیام پر علامہ اقبال کا بیان

حضرت امام مہدی(عج) کی حوائج کےحصول کے لیےنصیحت

او آئی سی کا ہنگامی اجلاس: مقبوضہ بیت المقدس کو فلسطینی دارالحکومت تسلیم کرنے کا مطالبہ

ناقابل قبول عدالتی فیصلہ

پاکستان اور شمالی کوریا جیسے ممالک کے ساتھ کام کرنا پر لطف نہیں: امریکی وزیر خارجہ

پاکستان کیلیے امریکی امداد دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی سے مشروط

لگتا نہیں اسمبلیاں مدت پوری کریں گی، ایاز صادق

مذہبی جماعتوں کا ایم ایم اے کی بحالی کا اعلان

ایران کا بیت المقدس کے دفاع کے لئے اسلامی ممالک سے تعاون پر آمادگی کا اظہار

شام میں کردوں، امریکیوں اور داعشیوں کے درمیان تین سمجھوتوں کا راز

یمن میں 8 ملین افراد شدید قحط کا شکار

ٰیروشلم : پہلے مسلمان خود تو اتحاد کر لیں

القدس سے متعلق امریکی اعلان پراوآئی سی کا ہنگامی اجلاس

فلسطینی امن عمل میں امریکا کا کردار ختم ہوگیا: خواجہ آصف

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات

سعودی سلطنت کا مستقبل

ترکی اور روس نے مقبوضہ القدس سے متعلق امریکی اعلان خطرناک قراردے دیا

ملک میں جمہوریت کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

پانچ استعفوں پر حکومت گرانے کا خواب

مقام شہادت ایک درجہ کمال ہے، ان کو نصیب ہوتا جو معرفت الہی کے راہی ہوتے ہیں: علامہ امین شہیدی

او آئی سی کا غیر معمولی اجلاس، وزیر اعظم ترکی پہنچ گئے

ایران اور پاکستان کے درمیان ثقافتی میدانوں میں تعلقات کو فروغ دینے پر تاکید

ایران اور برطانیہ کے تعلقات میں نئے دور کا آغاز

بعض لوگ میری پشت میں خنجر گھونپنا چاہتے تھے

بیت المقدس اور فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کے مسئلہ کو فراموش کردیں

ہماری نگاہیں قدس کی جانب ہیں اور قدس کی نگاہیں سید مقاومت کی طرف

سعودی نواز پاکستانی اینکر کا بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے کے فیصلے کا دفاع

پاکستانی عدالتیں فوجی حکومتوں کی باقیات ہیں

ٹرمپ نے سعودیہ، مصر اور امارات کے مشورے کے بعد بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا

مسلم عسکری اتحاد اپنی پوزیشن واضح کرے کہ یہ اتحاد کیوں اور کس لئے بنایاگیا،17دسمبر کو ملین مارچ ہوگا امیر جماعت اسلامی

نماز تمام انسانی کمالات کو حاصل کرنے کا وسیلہ ہے

برسلز بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم نہیں کرتا: موگرینی

ٹرمپ کا اقدام بعض عرب ملکوں کی سازش کا نتیجہ

ٹرمپ کا فیصلہ اسرائیل کی نابودی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا

عراق میں داعش کے خلاف کامیابی پر نجف میں کانفرنس

یمن پر سعودی جارحیت بند کی جائے، اقوام متحدہ

سعودی عرب کا سینما ہالوں پر عائد پابندی اٹھانے کا اعلان

امریکی سینیٹروں کی جانب سے ٹرمپ کے استعفے کا مطالبہ

مدینہ میں مسجدِ نبوی کے قریب خود کش حملہ: سعودی تاریخ کے بھیانک پہلو

عالم اسلام میں صرف شیعہ ہی مسئلہ فلسطین کو زندہ رکھےہوئے ہیں، شہزاد چوہدری

یہ ٹرمپ نہیں بول رہا بلکہ ڈھول بول رہے ہیں !!!

لمحہ فکریہ! بیت المقدس تنازعہ پر ساری دنیا سراپائے احتجاج،سعودی عرب میں احتجاج پر پابندی!

امریکہ استکباری ایجنڈے پر عمل پیرا ہوکر عالمی امن کو تباہ کرنا چاہتا ہے، سبطین سبزواری

مخالف زیرو اور حکومت قاتل: فیصلہ کیسے ہو

ٹرمپ کے خلاف امریکہ میں بھی مظاہرے

امریکی مسلمان لڑکی، حجاب کی وجہ سے ملازمت سے محروم

بیت المقدس اسرائیل کی غاصب اور بچوں کی قاتل حکومت کو ہر گز نہیں دیں گے: ترکی

بیت المقدس کے بارے میں امریکی سازش برداشت نہیں کریں گے: ایران

پوپ تھیوڈورس نے امریکی نائب صدر سے ملاقات منسوخ کردی

امریکہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لے: عرب لیگ

مضبوط حکومت، ناکام ریاست

(ن) لیگ کی سیاست پہلے دن سے ہی منافقت پر مبنی ہے: اعتزازاحسن

(ن) لیگ کو دھچکا، 5 ارکان اسمبلی نے استعفیٰ دے دیا

ٹرمپ بمقابلہ عالم اسلام

یمن میں علی صالح کی موت کے بعد سعودی عرب کی حکمت عملی کیا ہوگی؟

ٹرمپ نے اپنے ہاتھوں سے اسرائیل کے منصوبے خاک میں ملا دیئے

یروشلم کے معاملے پر سعودی عرب کا 'حقیقی مؤقف' کیا ہے؟

ٹرمپ نے بیت المقدس کے خلاف فیصلہ دے کر دنیائے اسلام کی غیرت ایمانی کو للکارا ہے، علامہ مقصود ڈومکی

تصاویر: سعودی عرب کے علاوہ پورے عالم اسلام میں امریکہ کے خلاف مظاہرے

ٹرمپ نے سعودیہ، مصر اور امارات کے مشورے کے بعد بیت المقدس کو اسرائيل کا دارالحکومت تسلیم کیا

سعودی عرب کی امریکی صدر کے فیصلے کو ماننے کے لئے محمود عباس کو 100 ملین ڈالر کی رشوت کا پردہ فاش

عراق کے وزیراعظم نے ملک سے داعش کے خاتمہ کا اعلان کردیا

بیت المقدس کے یہودی ہونے کی حسرت صہیونیوں کےدل میں ہی رہ جائے گی

فلسطین کا مسئلہ نعرے بازی سے حل نہیں ہو گا

2017-10-04 23:05:57

نیویارک میں محرم کا جلوس – محمد حسین

12-1

نیویارک کی سب بڑی یونی ورسٹی ’’نیویارک یونی ورسٹی‘‘ سمیت نیویارک اور نیوجرسی (پچاس میں سے صرف دو ریاستیں) کے جڑواں شہروں میں انگریزی، اردو، عربی، فارسی سمیت مختلف زبانوں میں مختلف اقوام کے لوگوں کی جانب سے تقریبا تیس عشرہ مجالس جاری ہیں،

گزشتہ اتوار کو نیویارک شہر کے مرکزی شاہراہ پر محرم کا اکتیس سالوں سے جاری روایتی جلوس بھی نکالا گیا۔ سڑکیں ایک سائڈ سے بند تھیں مگر دوسری طرف سے ٹریفک کے لیے کھلی تھیں، جلوس میں کہیں سے بھی داخل ہو سکتا تھا، چھتوں پر پولیس دیکھی گئی اور نہ ہی جلوس میں داخل ہونے کے لیے کوئی جامہ تلاشی کا سلسلہ تھا۔ جلوس میں کوئی بھی بندہ شریک ہو سکتا تھا،

میں حیران تھا کہ راہگیر لوگ جلوس کے قریب آ کر کچھ دیر رکتے تھے پھر آگے نکل جاتے، کچھ لوگ قریب آ کر جلوس میں شریک کسی سے پوچھ لیتے تھے کہ اس پروگرام کے بارے میں ان کو بتائیں، دلگیر انداز میں پڑھے جانے والے نوحے، شرکاء کے آنسو بہاتی آنکھیں، اور خواتین، بچوں اور بوڑھوں کی کثیر تعداد اور غم کے آثار ہر قلب سلیم کو متاثر کر رہے تھے

میرے درجنوں غیر مسلم دوست ان دنوں جب سوالات کرتے ہیں تو میں جواب میں ان کو دنیا کے مشاہیر کی طرف سے حضرت امام حسین علیہ السلام کو پیش کیے گئے خراج تحسین کے کلمات پیش کر دیتا ہوں تو کہنے لگتے ہیں کہ ہمیں تو اس بات کا بالکل علم نہیں تھا۔

مختلف گفت و شنید کے دوران مجھے ان کے چہرے سے محسوس ہونے لگا کہ واقعہ کربلا کے بارے میں جان کر ان کے لیے اسلام سے متعلق ایک ایسا دریچہ وا ہو جاتا ہے، جو اسلام کے بارے میں میڈیا میں پیش کیے گئے خوفزدگی پر مبنی تاثر سے مختلف ہے بلکہ یہاں نواسہ رسول ظلم و جبر کے خلاف بے مثال قربانیاں دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، تو وہ مزید جاننے کی جستجو میں لگ جاتے ہیں۔

صرف دو فیصد پر مشتمل مسلمان آبادی کے لیے ’’نظام زندگی‘‘ مفلوج ہونے پر کوئی بھی شکوہ کناں نہیں دیکھا گیا، یہاں سڑکیں بند ہونے کا غوغا سنا گیا اور نہ ہی مذہبی اجتماع کو چار دیواری کے اندر بند کرنے کا مطالبہ کسی نے کیا۔ذکر حسین سے فرقہ واریت پھیلنے کا شور بھی نہیں سنا گیا۔ نیویارک یونی ورسٹی والوں کو بھی ’’تعلیمی ماحول‘‘ خراب ہونے کی فکر نہیں ہے بلکہ وہ ان کے انتظام و اہتمام میں بھرپور سہولت فراہم کر رہے ہیں۔

واضح رہے اسی طرح یہاں ہر مکتب فکر اور رنگ و نسل اور زبان و علاقہ سے تعلق رکھنے والوں کے روزانہ کوئی نہ کوئی اجتماع ہوتا رہتا ہے۔

اس ’’کافر‘‘ ملک کے برعکس ’’قلعہ اسلام‘‘ سے متعلق سوشل میڈیا پر ہمارے مذہبی و لبرل دانشوروں کا مزاج دیکھ لیں، ملک میں کئی سالوں سے جاری دہشت گردی کے خلاف ان کے قلم خاموش رہے بلکہ فرقہ وارانہ تنظیموں، اور دہشت گردوں کا دفاع کرتے رہے ہیں مگرمحرم کے مجالس و جلوسوں میں سینکڑوں دھماکوں اور حملوں کے باوجود اسی دہشت و خوف کو شکست دے کر میدان میں نکلنے والوں پر معترض ہیں کہ ان کی وجہ سے سڑکیں بند، نیٹ ورک پند اور کاروبار بند ہیں، ارے اللہ کے بندو یہ سارے دہشت گردوں کی وجہ سے بند ہونے لگے ہیں ورنہ یہ جلوس تو صدیوں سے نکل رہے ہیں۔ یہ ہمارا مشترکہ تہذیببی ورثہ ہے کسی مکتب فکر کی جاگیر نہیں ہے ہر طبقہ فکر اس میں شریک ہوتے ہیں، آپ بھی شریک ہو جائیں، اپنے پہلے سے قائم کردہ مفروضات کو معطل کر کے قریب جا کر دیکھ لیجیے کہ کیا مجالس و جلوس کے شرکاء کیوں دھاڑیں مار مار کر رونے لگتے ہیں، کیا وہ صرف کسی دوسرے فرقے کے ضد میں سڑک بند کروانے کے لیے جلوس نکالتے ہیں یا ان کے نقطہ نظر اور جذبات کیا ہیں۔

سالانہ تبلیغی اجتماع کے وقت لاہور تا اسلام آباد موٹر وے بند کیا جاتا ہے، ملک بھر میں منعقد ہونے والے سیاسی و مذہبی پروگرامات کے دوران لوگوں کی تعداد کے مطابق سکیورٹی کے پیش نظر سڑکیں بند کی جاتی ہیں، وی آئی پیز کے نقل و حرکت کے دوران شاہراہیں بند اور نیٹ ورک بند کیے جاتے ہیں، قومی تقریبات کے وقت بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہوتا ہے۔ دھرنوں، سیاسی ریلیوں اور الیکشن کے دوران بڑے سیاسی جلسوں کے وقت بھی نامطلوب پابندیوں کا سامنا ہوتا ہے۔

ان سب پر مجھے تکلیف ہوتی ہے، مگر میرا اصولی موقف یہ ہے کہ ہر شہری کو اس کے انسانی و آئینی حقوق حاصل ہیں اس کے مطابق اس کو جینے اور اپنے مذہبی و سیاسی فکر پر عمل پیرا رہنے کا یکساں موقع ملنا چاہیے،

کرسمس، ہولی، گرونانک کا جنم دن، ایسٹر، مدح صحابہ ریلی، تبلیغی اجتماع، عشق رسول ریلی، میلاد کاجلوس، دعوت اسلامی کا اجتماع یا محرم کے جلوس اسی طرح پی ٹی آئی، ایم کیو ایم، پی پی پی، مسلم لیگ ن، ق۔ جمعیت علمائے اسلام ف، س ، جعمیت علمائے پاکستان سمیت کوئی بھی مذہبی و سیاسی تنظیم کوئی اجتماع کرنا چاہے تو یہ ان کا بنیادی انسانی حق ہے، آئین پاکستان اس کی ضمانت دیتا ہے۔

سکیورٹی کا معاملہ پوری ریاست کا معاملہ ہے۔ دہشت گردی کا مقابلہ ہم سب نے مل کر کرنا ہے جس بے پوری قوم کے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ اسے مذہبی اجتماعات کو چار دیواری میں بند کرنے نہیں ختم کیا جا سکتا بلکہ اس کی نظریاتی اساس کی بیخ کنی اور انتظامی سہولت کاروں اور اس کے متاثرین کو راہ راست پر لانے کے لییے قومی پالیسیوں میں جوہری تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔

ہمیں کاٹنے والے پاگل کتوں کو بند رکھنے چاہیں نہ کہ لوگوں کو گھروں میں محصور کیے جائیں۔

 

زمرہ جات:   Horizontal 3 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

ایرانی مشاہیر

- سحر ٹی وی

یادوں کے جھروکے

- سحر ٹی وی

جام جم - 14 دسمبر

- سحر ٹی وی