آئینی اختیار اور جمہوری قوتیں

سعودی ولی عہد کو اسرائیل کے دورے کی دعوت

آل خلیفہ اسرائيل کے ساتھ تعلقات مضبوط بنا کر تاریخ کے کوڑے دان میں دفن ہوجائیں گے

شام میں امریکی فوج کی موجودگی غیر قانونی ہے: روس

مسئلہ فلسطین: اتحاد یا پھر اپنی باری کا انتظار

کراچی : پی ایس 128 میں کالعدم جماعت کی الیکشن مہم، سیکورٹی ادارے خاموش

بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کا افغان لڑکیوں کو پاکستان مین دہشتگردی کہ لیے ٹریننگ دینے کا انکشاف

اسرائیل کے قیام پر علامہ اقبال کا بیان

حضرت امام مہدی(عج) کی حوائج کےحصول کے لیےنصیحت

او آئی سی کا ہنگامی اجلاس: مقبوضہ بیت المقدس کو فلسطینی دارالحکومت تسلیم کرنے کا مطالبہ

ناقابل قبول عدالتی فیصلہ

پاکستان اور شمالی کوریا جیسے ممالک کے ساتھ کام کرنا پر لطف نہیں: امریکی وزیر خارجہ

پاکستان کیلیے امریکی امداد دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی سے مشروط

لگتا نہیں اسمبلیاں مدت پوری کریں گی، ایاز صادق

مذہبی جماعتوں کا ایم ایم اے کی بحالی کا اعلان

ایران کا بیت المقدس کے دفاع کے لئے اسلامی ممالک سے تعاون پر آمادگی کا اظہار

شام میں کردوں، امریکیوں اور داعشیوں کے درمیان تین سمجھوتوں کا راز

یمن میں 8 ملین افراد شدید قحط کا شکار

ٰیروشلم : پہلے مسلمان خود تو اتحاد کر لیں

القدس سے متعلق امریکی اعلان پراوآئی سی کا ہنگامی اجلاس

فلسطینی امن عمل میں امریکا کا کردار ختم ہوگیا: خواجہ آصف

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات

سعودی سلطنت کا مستقبل

ترکی اور روس نے مقبوضہ القدس سے متعلق امریکی اعلان خطرناک قراردے دیا

ملک میں جمہوریت کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا

پانچ استعفوں پر حکومت گرانے کا خواب

مقام شہادت ایک درجہ کمال ہے، ان کو نصیب ہوتا جو معرفت الہی کے راہی ہوتے ہیں: علامہ امین شہیدی

او آئی سی کا غیر معمولی اجلاس، وزیر اعظم ترکی پہنچ گئے

ایران اور پاکستان کے درمیان ثقافتی میدانوں میں تعلقات کو فروغ دینے پر تاکید

ایران اور برطانیہ کے تعلقات میں نئے دور کا آغاز

بعض لوگ میری پشت میں خنجر گھونپنا چاہتے تھے

بیت المقدس اور فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کے مسئلہ کو فراموش کردیں

ہماری نگاہیں قدس کی جانب ہیں اور قدس کی نگاہیں سید مقاومت کی طرف

سعودی نواز پاکستانی اینکر کا بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے کے فیصلے کا دفاع

پاکستانی عدالتیں فوجی حکومتوں کی باقیات ہیں

ٹرمپ نے سعودیہ، مصر اور امارات کے مشورے کے بعد بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا

مسلم عسکری اتحاد اپنی پوزیشن واضح کرے کہ یہ اتحاد کیوں اور کس لئے بنایاگیا،17دسمبر کو ملین مارچ ہوگا امیر جماعت اسلامی

نماز تمام انسانی کمالات کو حاصل کرنے کا وسیلہ ہے

برسلز بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم نہیں کرتا: موگرینی

ٹرمپ کا اقدام بعض عرب ملکوں کی سازش کا نتیجہ

ٹرمپ کا فیصلہ اسرائیل کی نابودی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا

عراق میں داعش کے خلاف کامیابی پر نجف میں کانفرنس

یمن پر سعودی جارحیت بند کی جائے، اقوام متحدہ

سعودی عرب کا سینما ہالوں پر عائد پابندی اٹھانے کا اعلان

امریکی سینیٹروں کی جانب سے ٹرمپ کے استعفے کا مطالبہ

مدینہ میں مسجدِ نبوی کے قریب خود کش حملہ: سعودی تاریخ کے بھیانک پہلو

عالم اسلام میں صرف شیعہ ہی مسئلہ فلسطین کو زندہ رکھےہوئے ہیں، شہزاد چوہدری

یہ ٹرمپ نہیں بول رہا بلکہ ڈھول بول رہے ہیں !!!

لمحہ فکریہ! بیت المقدس تنازعہ پر ساری دنیا سراپائے احتجاج،سعودی عرب میں احتجاج پر پابندی!

امریکہ استکباری ایجنڈے پر عمل پیرا ہوکر عالمی امن کو تباہ کرنا چاہتا ہے، سبطین سبزواری

مخالف زیرو اور حکومت قاتل: فیصلہ کیسے ہو

ٹرمپ کے خلاف امریکہ میں بھی مظاہرے

امریکی مسلمان لڑکی، حجاب کی وجہ سے ملازمت سے محروم

بیت المقدس اسرائیل کی غاصب اور بچوں کی قاتل حکومت کو ہر گز نہیں دیں گے: ترکی

بیت المقدس کے بارے میں امریکی سازش برداشت نہیں کریں گے: ایران

پوپ تھیوڈورس نے امریکی نائب صدر سے ملاقات منسوخ کردی

امریکہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لے: عرب لیگ

مضبوط حکومت، ناکام ریاست

(ن) لیگ کی سیاست پہلے دن سے ہی منافقت پر مبنی ہے: اعتزازاحسن

(ن) لیگ کو دھچکا، 5 ارکان اسمبلی نے استعفیٰ دے دیا

ٹرمپ بمقابلہ عالم اسلام

یمن میں علی صالح کی موت کے بعد سعودی عرب کی حکمت عملی کیا ہوگی؟

ٹرمپ نے اپنے ہاتھوں سے اسرائیل کے منصوبے خاک میں ملا دیئے

یروشلم کے معاملے پر سعودی عرب کا 'حقیقی مؤقف' کیا ہے؟

ٹرمپ نے بیت المقدس کے خلاف فیصلہ دے کر دنیائے اسلام کی غیرت ایمانی کو للکارا ہے، علامہ مقصود ڈومکی

تصاویر: سعودی عرب کے علاوہ پورے عالم اسلام میں امریکہ کے خلاف مظاہرے

ٹرمپ نے سعودیہ، مصر اور امارات کے مشورے کے بعد بیت المقدس کو اسرائيل کا دارالحکومت تسلیم کیا

سعودی عرب کی امریکی صدر کے فیصلے کو ماننے کے لئے محمود عباس کو 100 ملین ڈالر کی رشوت کا پردہ فاش

عراق کے وزیراعظم نے ملک سے داعش کے خاتمہ کا اعلان کردیا

بیت المقدس کے یہودی ہونے کی حسرت صہیونیوں کےدل میں ہی رہ جائے گی

فلسطین کا مسئلہ نعرے بازی سے حل نہیں ہو گا

2017-10-10 07:22:33

آئینی اختیار اور جمہوری قوتیں

 

 

Pakistan paramilitary soldiers stand guard outside the Supreme Court in Islamabad, Pakistan, February 13, 2012. Photographer: Asad Zaidi/Bloomberg

وفاقی وزیرِ داخلہ کا پنجاب رینجرز پر اظہارِ برہمی کوئی مخاصمانہ طرزِ عمل نہیں ہے جیسا کہ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے خلاف دائر بدعنوانی کی درخواست کی سماعت کے وقت عدالت کے باہر رینجرز اہلکاروں کی تعیناتی کی وضاحت کرتے ہوئے اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں تجویز کیا ۔

 

احسن اقبال نے وزراء، جماعتی راہنماؤں اور وکلاءکو احتساب عدالت میں داخلے سے روکنے پررینجرزکے خلاف شدید ردِ عمل کا اظہار کیاتھا۔ صوبائی وزیرِ قانون رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ نیم فوجی ادارے اپنی حدود سے تجاوز کر رہے ہیں۔ اس واقعے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ قومی سلامتی اورقانون نافذ کرنے والے ادارے کسی اور مقصد کے تحت کام کر رہے ہیں اور اس سے تنظیم و تحکیم میں سست روی کے متعلق بھی سوال اٹھتا ہے۔اس صورتِ حال نے ملک میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بنیادی ساختیاتی مسائل کو طشت ازبام کردیا ہے۔قانون نافذ کرنے والے غیر فوجی ادارے اس قدر بے بس ہو چکے ہیں کہ وہ ایسے واقعات میں اپنی صفائی تک پیش نہیں کر سکتے۔ دوسری طرف نیم فوجی ادارے شہری امن و امان سے متعلقہ معاملات میں مداخلت کرکے اپنے ادارہ جاتی اور اخلاقی اقتدار و اختیار کو مضبوط تر کیے جا رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملکی سلامتی اور شہری تحفظ ، ہر دو طرح کے ادارے باہمی انا اور اجارہ داری کی کشمکش کو پسِ پشت ڈال کر وسیع تر تناظر میں اس صورتِ حال پر نظرِ ثانی کریں۔یہ بات کھلی اور واضح ہے کہ دہشت گردی کے عفریت کو کچلنے کیلیے غیر معمولی انتظامی، قانونی اور عملی اقدامات کرنا ریاست کی مجبوری تھی اوردہشت گردی کے اس خطرے سے نمٹنے کیلئے حکومت نے پاکستانی افواج کے ساتھ نیم فوجی اداروں کو بھی ذمہ داریاں تفویض کیں۔مزید برآں پاک چین اقتصادی راہداری بھی غیر معمولی حفاظتی انتظامات کی متقاضی تھی۔ اس عمل سے نہ صرف پرانی غلطیاں سامنے آئیں بلکہ اداروں کے اختیارات و دائرہ کار اور باہمی ربط و تعلق سے منسلک نئے مسائل بھی پیدا ہوئے۔حکومت اندرونی خطرات کے سدِ باب کیلئے بے بہا وسائل خرچ کر رہی ہے اور وفاقی و صوبائی سلامتی کے زیادہ تر وسائل متوازی اورخاص مقاصد کیلئے بنائی گئی سلامتی کی قوتوں کیلئے مختص ہیں۔گزشتہ بجٹ میں وفاقی حکومت نے19 ارب80 کروڑ روپے ملک میں امن و امان کی صورتحال کی بہتری کیلئے مختص کئے۔اس کے علاوہ پاک چین اقتصادی راہداری کی حفاظت اور ایک  ایسی حفاظتی لہر جو کہ حال ہی میں ملک میں ابھر رہی تھی کیلئے61 ارب60 کروڑ روپے مختص کئے گئے تھے۔

 

ہر صوبہ کے پاس اسی طرح کے خطرات سے نمٹنے کیلئے سلامتی کی متوازی قوتیں موجود ہیں ۔پنجاب میں ایلیٹ فورس ہے، جو کہ 1997میں دہشت گردی اور سنگین جرائم کے انسداد کیلئے بنائی گئی تھی ، لیکن2014میں ایک ایسے ادارے کی بنیاد رکھی گئی جو انسداد دہشت گردی  کے لیے خاص تھی، (ATF)کی بنیاد رکھی گئی۔ ماہرین اور پولیس افسران ماضی میں ایلیٹ فورس کی اطمینان بخش کارکردگی کے سبب اس کی تنظیمِ نو اور توسیع کے حق میں تھے تاہم ایلیٹ فورس بڑے پیمانے پر با اثر اور مقتدر شخصیات کی طرف سے اپنی حفاظت اور پروٹوکول بالخصوص اپنے دفاتر اور طاقت و اقتدار کی نمائش کیلئے متعین تھی۔ ان مقتدر اور با اثر شخصیات میں صوبائی کابینہ کے اراکین، عدالتی افسران اور صوبے میں مقیم غیر ملکی شامل ہیں۔

 

دوسرے صوبوں کے پاس بھی ایسی ہی قوتیں موجود ہیں ۔سندھ میں کوئیک ریسپانس فورس سے پہلے اسپیشل سیکیورٹی یونٹ ایلیٹ اسپیشل فورس کے طور پر کام کررہی تھی۔ پنجاب میں ایلیٹ پولیس کی طرح سندھ میں بھی اسپیشل سیکیورٹی یونٹ کے اعلیٰ تربیت یافتہ اہلکار بااثر شخصیات کی حفاظت پر مامور ہیں۔ خیبر پختونخو ا اور بلوچستان نے2015-16میں انسداد دہشت گردی قوتوں کو تشکیل دیا۔ اسی طرح دہشت گردی، بینک ڈکیتی ، جعل سازی اور دولت کی غیر قانونی منتقلی جیسے جرائم کی تحقیقات کیلئے وفاقی ادارہ تحقیقات(FIA) کے قائم شدہ ادارے اسپیشل انویسٹی گیشن گروپ کی طرح بیشتر مخصوص حربی قوتیں ملک میں فعال ہیں۔تاہم انسداد دہشت گردی کا یہ و فاقی ادارہ دارالحکومت کی عدم توجہی کا شکاراورمعاشی مسائل سے دوچار ہے۔

 

ایک اور میدان جس پر صوبائی حکومتیں خرچ کررہی ہیں ،شہری حفاظت کے منصوبہ جات(Safe City projects) پر مشتمل ہے۔ مگر یہ منصوبے اسلام آباد اور لاہور میں شخصی سلامتی کے بنیادی ڈھانچے کا بوجھ ہلکا کر سکے اور نہ ہی اپنے اختتام کو پہنچ جانے کے باوجود عام آدمی کو ان مسائل سے نجات دے سکے ہیں۔2017 میں پنجاب حکومت نے ان منصوبہ جات کیلئے مزید45 ارب روپے مختص کئے۔پولیس اور اس سے متعلقہ مخصوص سرگرم اکائیوں کے علاوہ نیم فوجی قوتوں کو ملک کے مختلف حصوں میں روایتی جرائم اور دہشت گردانہ خطرات سے نبرد آزمائی میں مسلسل مصروف رکھا گیا ہے۔کچھ معاملات میں فوجی اسٹیبلشمنٹ نے عوامی حکومتوں کو نیم فوجی اداروں کی خدمات حاصل کرنے پرمجبور کیا یہی وجہ ہے کہ پنجاب نے بہت پس وپیش کے بعد اپنی انسداد دہشت گردی مہم میں پنجاب رینجرز کی مدد لینے پر آمادگی ظاہر کی۔

 

ہمہ گیر انسداد دہشت گردی مہم میں نیم فوجی اداروں کی عملی مدد لینا بہت معنی خیز اور عموماََ انتہائی محدود شرائط پرمبنی رہا ہے۔تاہم  بہت سے معاملات میں نیم فوجی قوتوں نے اپنا دائرہِ کار عام پولیس تک بڑھا دیا۔نیم فوجی خدمات نے نہ صرف صوبائی حکومتوں پر معاشی دباﺅ ڈالا بلکہ امن و امان کے صوبائی نظم ونسق کو کمزور کیا۔مثال کے طور پر کم از کم مستقبل قریب میں کراچی کی سطح پرشہر میں عام پولیس کی تعیناتی کا تصور مشکل معلوم ہوتا ہے۔شہری تحفظ کے اداروں کے مابین ربط و تعلق پہلے ہی ایک مسئلہ تھا مگر رینجرز کی تعیناتی (Rangerisation) نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ اونچے اداروں کی ناک بھی اونچی ہوتی ہے سو وہ ملکی معاملات میں بڑا اور رہنمایانہ کردار ادا کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔جب اعلیٰ اداروں کو غیر معمولی حالات پر قابو پانے کیلئے مدعو کیا گیا تو قوانین کے عمومی نفاذ میں غیر فعالیت درآئی اور انتظامی امورصرف ایک عادت بن کر رہ گئے اور اس طرح عوامی حکومتیں کسی بھی طرح کی ذمہ داری سے بری ہو گئیں۔

 

 عوامی خفیہ اداروں اورانسداد دہشت گردی کی صوبائی قوتوں پر مشتمل قانون نافذ کرنے والے غیر فوجی محکمہ جات نے نسبتاََ کم آزادی سے کام کرنے کے باوجود انسداد دہشت گردی  مہم اور روایتی جرائم کے تدارک کیلئے عمدہ کارکردگی دکھائی۔یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر حکومت شہری تحفظ کے اداروں کی تنظیمِ نو، استحکام اور معاشی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کرتی ہے تویہ ادارے تسلی بخش کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ اگر حکومت متوازی اداروں کے قیام اور عام صورتحال میں نیم فوجی اداروں کی تعیناتی کی حکمتِ عملی جاری رکھتی ہے تو یہ عمل بہت مہنگا پڑے گا اور اس سے اداروں کے مابین غلط فہمیاں پیدا ہوں گی۔

یہ بات حتمی نہیں ہے کہ آیا وزیرِ داخلہ کے پاس ماضی میں نیم فوجی اداروں کو انسداد دہشت گردی اور جرائم کے تدارک کی شہری مہمات میں شمولیت کی حکمتِ عملی اور ان اداروں کی کارکردگی پر نظرِ ثانی کی کوئی تدبیر ہے یا نہیں۔عام انتخابات سر پر ہونے کے باعث ممکن ہے کہ ان کے پاس اس کیلئے وقت نہ ہو۔مگر نئی حکومت کوشہری تحفظ کے غیر فوجی اداروں کی مضبوطی و ترقی اور نیم فوجی اداروں کو ان کے متعلقہ معمولات پر واپس بھیجنے کیلئے اس مسئلہ کو دیکھنا ہو گا۔

محمد عامر رانا

 

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

ایرانی مشاہیر

- سحر ٹی وی

یادوں کے جھروکے

- سحر ٹی وی

جام جم - 14 دسمبر

- سحر ٹی وی