P5+1کا جوہری معاہدہ اور ڈونلڈ ٹرمپ

افغانستان: پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملہ،32 ہلاک 200 زخمی

عراق: مخمور سے بھی پیشمرگہ کی پسپائی

ایٹمی جنگ کسی بھی وقت چھڑ سکتی ہے

آئندہ انتخابات جیتنے کے بعد ملک کے تمام ادارے ٹھیک کریں گے: عمران خان

نیوز ون چینل کے مالک کے داعش سے مراسم، خطرناک انکشاف

انڈیا میں سبھی مذاہب کے لیے یکساں قانون کے نفاذ کا راستہ ہموار

مشرق وسطیٰ کو «سی آئی اے» کے حوالے کرنا، ٹرمپ کی اسٹرٹیجک غلطی

حضرت زینب (س) کس ملک میں دفن ہیں؟

ایران جوہری معاہدہ، امریکہ اپنے وعدوں پر عمل کرے: یورپی یونین کا مطالبہ

امام سجاد(ع) کا طرز زندگی انسان سازی کیلئے بہترین نمونہ ہے

پاک-ایران گوادر اجلاس؛ دہشتگردوں کی نقل و حرکت کے خلاف موثر کارروائی کا فیصلہ

فوج کے نئے مستعد وکیل

امام زین العابدین علیہ السلام کے یوم شہادت پر عالم اسلام سوگوار

علامہ ناصر عباس جعفری کا کرم ایجنسی دھماکےاور پاک فوج کے جوانوں کی شہادت پر اظہار افسوس

’’باوردی سیاستدانوں‘‘ کے ہوتے جمہوریت محفوظ نہیں

نواز شریف کا کیپٹن صفدر کی احمدی مخالف تقریر سے لاتعلقی کا اظہار

عمران خان کا 26 اکتوبر کو الیکشن کمیشن میں رضاکارانہ پیش ہونے کا فیصلہ

ایران کی دفاعی حکمت عملی میں ایٹمی ہتھیاروں کی کوئی جگہ نہیں

سعودی کارندوں کی آپس میں جنوبی یمن میں جنگ

پانچ مغویان کی بازیابی پاک امریکہ تعلقات کشیدگی کے خاتمے میں مثبت پیشرفت

دس سال جدائی کے بعد فلسطینی گروہ متحد

کے پی کے۔۔۔پی ٹی آئی ناکام ہوئی یا جمہوریت

یمن میں ہیضہ کی بیماری میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 2156 ہو گئی

امریکہ کسی بھی معاہدے کی پابندی نہیں کرتا: ڈاکٹر لاریجانی

امام زین العابدین علیہ السلام کی شہادت کے غم میں فضا سوگوار

ترکی نے عراقی کردستان کے ساتھ اقتصادی تعاون ختم کردیا

ٹرمپ کے اقدامات پوری دنیا کے لیے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں: ہلیری کلنٹن

مقتدیٰ صدر کا کردستان کے ریفرنڈم کے نتائج کو باطل کرنے کا مطالبہ

خواتین کےخلاف وہابیت کے مظالم کا ماجرا

آئی ایم ایف نے ایران مخالف امریکی مطالبہ مسترد کردیا

سینٹرل افریقہ میں مسلمانوں کا قتل عام

میں نہیں سمجھتا نواز شریف پھر وزیراعظم بن سکیں گے: خورشید شاہ

آج پاکستان مقروض ہوچکا اور کوئی پوچھنے والا نہیں: عمران خان

برطانیہ، آذربائجان کے فوجی معاملات میں داخل ہونے جارہا ہے

عرب ممالک کے ساتھ اسرائیل کے فوجی اور انٹیلی جنس رابطے

طويريج کون ھیں، انکا کربلا کے سفر کا آغاز کب ھوا ؟

حافظ سعید کی نظر بندی: کیا پاکستان بین الاقوامی دباؤ کو نظر انداز کر دے گا؟

سی پیک، کئی ممالک کے مفادات کی جنگ

صدر ٹرمپ دنیا میں امریکہ اور امریکی عوام کی آبروریزی کررہے ہیں

شام کا شہر المیادین، داعش کے قبضے سے آزاد

ہم لبنان کو امریکہ اور اسرائیل کے ہاتھوں کا کھلونا بننےکی اجازت نہیں دیں گے

کیا روس نے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی جگہ لے لی ہے ؟

’ڈو مور‘ پر کا قضیہ

معیشت ، سیاست اور فوج

حقیقی منتظر، امام (ع) کی دوری پر پریشان ہوتا ہے

کیا ملت جعفریہ کے گمشدہ افراداحسان اللہ احسان سے بھی بڑے مجرم ہیں؟

سعودی عرب کا ایران کے خلاف امریکی صدر کے بیان کا خیر مقدم

روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی ایٹمی معاہدے کی حمایت

احسن اقبال کے بیان پر بطور سپاہی اور پاکستانی دکھ ہوا: ترجمان پاک فوج

امریکا سی پیک پر اپنے فتوے اپنے پاس ہی رکھے: سعد رفیق

آرمی چیف کو معیشت پربات کرنے کا پوراحق ہے: خورشید شاہ

قومی دھارا یا اشنان گھاٹ

امریکہ اور ترکی میں لفظی جنگ میں شدت ،ہمیں امریکہ کی کوئی ضرورت نہیں، ترک صدر

عراقی صدر کے مشیر نے عراق میں خانہ جنگی کے حوالے سے خبردار کردیا

شاہ سلمان کے دورہ روس کے مضمرات

ٹرمپ کا ایران سے جوہری معاہدہ جاری نہ رکھنے کا اعادہ

پاکستان نے ورلڈ بیچ ریسلنگ میں پہلی مرتبہ گولڈ میڈل جیت لیا

سیاسی مسائل حج کی ادائیگی میں رکاوٹ نہیں بننے چاہئیں

کوئٹہ کا ہزارہ قبرستان جہاں زندگی کا میلہ سجتا ہے

قادیانیوں کو مسلمان نہیں کہا: رانا ثناءاللہ

ایران کے خلاف امریکہ کی نئی پالیسی کا متن

اپنے دفاع کے لیے کسی پر حملے سے بھی گریز نہیں کریں گے: ترک صدر

امریکا کو مشترکہ آپریشن کی دعوت، متعدد سیاسی جماعتیں چراغ پا

سعودی عرب اور امارات کی اسلامی ممالک کو تقسیم کرنے کی سازش

پاکستان میں لاپتہ شیعہ افراد کی بازیابی کے لئے مظاہرے اور گرفتاریاں

مسلم لیگ (ن) نے آج پاکستان کی عدلیہ پردوسری بارحملہ کیا: عمران خان

حامد کرزئی کے امریکہ پراعتراضات میں وزن ہے

روزانہ 150ہزار بیرل تیل کے پیسے بارزانی اور طالبانی کے جیب میں جارہے ہیں

امریکی انسٹی ٹیوٹ: ہمارا قاسم سلیمانی کون ہے؟

ٹرمپ کی طرف سے ’ڈو مور‘ پر عمل کا دعویٰ

2017-10-12 07:31:25

P5+1کا جوہری معاہدہ اور ڈونلڈ ٹرمپ

 

 

DT

 2015میں پانچ عالمی طاقتوں اورجرمنی نے مشترکہ طور پر ایران کے ساتھ ایک تاریخی جوہری معاہدہ کیا جسے بعدازاں 14جولائی 2015میں سلامتی کونسل نے منظور کرکے اسے ایک عالمی قانونی دستاویز بنا دیا۔ اس معاہدے کو جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (JCPOA) کہتے ہیں۔

 

پانچ عالمی طاقتیں امریکہ،روس، چین،برطانیہ اور فرانس ہیں جنھیں سلامتی کونسل میں ویٹو پاور حاصل ہے۔ اس معاہدے تک پہنچنے کے لیے کئی برس کے طویل اور حوصلہ آزما مذاکرات سے گزرنا پڑا۔یہاں تک کہ اس معاہدے کومذاکرات کے نتائج کا معجزہ کہا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے سے ایران کے جوہری پروگرام پر کچھ پابندیاں عائد کی گئیں اور جواب میں اس پر عائد کئی ایک اہم اقتصادی اور دیگر پابندیاں ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ معاہدے کے مطابق ایران کو اپنے جوہری پروگرام کو مطلوبہ سطح پر لانے کے لیے 6ماہ کی مہلت دی گئی اور عالمی توانائی ایجنسی کی تائیدی رپورٹ کے بعد16جنوری 2016 کومعاہدے پر عملدرآمد شروع ہو گیا۔

 

 بعدازاں عالمی توانائی ایجنسی نے مسلسل مختلف وقفوں میں یہ رپورٹ دی کہ ایران معاہدے پر عملدرآمد کررہا ہے۔ اسی طرح امریکی اور یورپی انٹیلی جنس اداروں نے بھی اس کی تائید کی۔ سابقہ امریکی حکومت اس معاہدے کو اپنی بہت بڑی کامیابی قرار دیتی رہی ہے اور صدر باراک اوباما صدر ٹرمپ کی صدارتی مہم کے دوران میں معاہدے کی مخالفت کو عاقبت نا اندیشانہ قرار دیتے رہے ہیں۔ سابق امریکی وزیر خارجہ نے بھی اس معاہدے سے نکلنے کے منفی نتائج سے صدر ٹرمپ کو متنبہ کیا۔ بہرحال امریکی قانون کے مطابق امریکی صدر کو ہر تین ماہ بعد کانگرس کو یہ یقین دہانی کروانا ہوتی ہے کہ ایران مذکورہ جوہری معاہدے پر عملدرآمد کررہا ہے۔ چنانچہ صدر ٹرمپ دو مرتبہ یہ یقین دہانی پہلے ہی کروا چکے ہیں۔ اب پندرہ اکتوبر کو وہ تاریخ آ رہی ہے کہ جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پھر ایک مرتبہ یہی یقین دہانی کروانا ہے۔

 

صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو یہ بیان دے چکے ہیں کہ مشترکہ جامع حکمت عملی(JCPOA) امریکی تاریخ کا بدترین معاہدہ ہے اور یہ کہ وہ اب کانگرس میں اس امر کی تائید نہیں کریں گے کہ ایران اس پر عملدرآمد کررہاہے۔ وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ایران معاہدے کی رو ح کے مطابق اس پر عمل نہیں کررہا ۔ اس کے لیے انھوں نے ایران کے میزائل پروگرام کو ہدف تنقید بنایا ہے جب کہ معاہدے کے دیگر شرکاءاور عالمی ادارے صدر ٹرمپ کے بیان کو غلط قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ ایران کا میزائل پروگرام اس معاہدے کی حدود میں شامل نہیں ہے اور وہ اس کی زد میں نہیں آتا۔

 

اس وقت عالمی سطح پر یہ سوال بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اگر 15اکتوبر2017کو امریکی صدر نے کانگرس میں مثبت رپورٹ پیش نہ کی تو اس کے نتائج کیا ہوں گے۔ اس وقت یورپی یونین اور خود بہت سے امریکی ماہرین یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ کوئی دو طرفہ معاہدہ نہیں ہے کہ امریکا کو حق پہنچتا ہو کہ وہ اس سے نکل جائے بلکہ یہ سلامتی کونسل کا منظور کردہ عالمی معاہدہ ہے جسے دنیا کی تمام ایٹمی طاقتوں نے جرمنی کے ساتھ مل کر تیار کیا اور ایرانی تائید کے بعد اسے ایک عالمی معاہدے کی شکل دی گئی لہٰذا امریکا کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ ایسی صورت حال میں جب کہ ایران اس پر پوری طرح عملدرآمد کررہا ہے، اس سے نکل جائے۔

 

ایسا ہوا تو امریکا کے بارے میں یہ رائے قائم ہو جائے گی کہ اس کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کیا جاسکتا۔ خاص طور پراس وقت جب کہ شمالی کوریا کے ساتھ امریکا کے تعلقات اپنی پوری تاریخ میں خطرناک ترین مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور شمالی کوریا ایک فلیش پوائنٹ بن چکا ہے اور دنیا کی تمام طاقتیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام کا مسئلہ بات چیت کے ذریعے سے حل کیا جائے۔ جب ایران کے ساتھ جوہری پروگرام کا مسئلہ جو طویل مذاکرات کے بعد حل کیا گیا تھا، امریکا اس کے بارے میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گا تو پھر دنیا اور خاص طورپر شمالی کوریا کس طرح سے امریکا پر اعتبار کرکے مذاکرات کا آغاز کر سکتا ہے۔

 

یورپی یونین کی فارن پالیسی کی چیف فیڈریکا موغرینی پہلے ہی ایران کے ساتھ ہونے والے P5+1 کے معاہدے کا دفاع کر چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی توانائی ایجنسی مسلسل اس امر کو کنفرم کرتی آرہی ہے کہ ایران نے اس معاہدے پر پوری طرح سے عمل کیا ہے۔ روس اور چین بھی اس مسئلے میں ایران کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ روس اور یورپی یونین نے 6اکتوبر2017کو ایک دفعہ پھر امریکی صدر کے اس بیان پر کہ وہ اس تاریخی معاہدے کی تائید نہیں کریں گے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ یہ ایک عالمی معاہدہ ہے جسے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے منظور کیا ہے اور عالمی توانائی ایجنسی نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں اس امر کی تائید کی ہے کہ ایران اس معاہدے پر عملدرآمد کررہا ہے۔

 

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے قازقستان میں 6اکتوبر کو اپنے دورہ کے موقع پر اس امید کا اظہار کیا کہ ٹرمپ اس معاہدے پر متوازن فیصلہ کریں گے کیونکہ ان کے بقول اس معاہدے کو محفوظ رکھنا بہت اہم ہے۔

 

یورپی یونین نے تو واضح طور پر یہ کہا ہے کہ اگر امریکی صدر نے اس معاہدے کی تائید نہ کی تو ہم اس کی پیروی نہیں کریں گے کیونکہ اس معاہدے کے بارے میں ہم اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کریں گے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ تین یورپی ممالک نے اس معاہدے کو حتمی شکل دینے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔

 

امریکہ سے آنے والی اطلاعات کے مطابق اس وقت امریکی وزیرخارجہ اور وزیر دفاع بھی یہ کوشش کررہے ہیں کہ کسی طرح سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قائل کیا جائے کہ وہ 15اکتوبر کو اپنی رپورٹ میں اس معاہدے کی تائید کریں۔ قبل ازیں امریکا کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ بھی امریکی صدر کو یہ مشورہ دے چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ کیے گئے جوہری معاہدے کو باقی رکھنا امریکا کے مفاد میں ہے بلکہ سی آئی ہے کے سابق سربراہ جان برینن نے یہاں تک کہہ دیا تھاکہ میرے خیال یہ حماقت کی انتہا ہوگی کہ اگر نئی انتظامیہ یہ معاہدہ ختم کردے۔ انھوں نے کہا تھا کہ ایسا کرنا تباہ کن ہوگا۔

 

دوسری طرف ایران نے بارہا واضح کیا ہے کہ اگر امریکا نے یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کی تو اس کے پاس کئی ایک متبادل راستے موجود ہیں۔ ہمارے خیال میں اگر یورپی یونین اور دیگر عالمی طاقتیں امریکی مخالفت کے باوجود اس معاہدے پر کاربند رہیں تو ایران اس معاہدے سے علیحدگی اختیار نہیں کرے گا اس سے ایران کے بارے میں عالمی تاثر اور بھی بہتر ہوگا۔

 

بہت سے یورپی ممالک نے اس معاہدے کے بعد ایران کے ساتھ جو تجارتی تعلقات قائم کیے ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ ان تعلقات کو ختم کیا جائے البتہ اس راستے میں انھیں یہ مشکل درپیش ہے کہ جو کمپنیاں ایران کے ساتھ کاروبار کریں گی امریکا ان پر پابندیاں عائد نہ کردے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپی سفارت کار امریکی کانگرس کے اراکین کے ساتھ لابنگ کررہے ہیں کہ وہ امریکا کو اس معاہدے سے نکلنے سے روکیں۔

 

عملی طور پر شاید یورپ کے لیے اب یہ ممکن نہیں کہ وہ سو فیصد امریکی حکام اور فیصلوں کی پیروی کریں۔ شاید اب یہ موقع آ گیا ہے کہ یورپی یونین امریکا کے مقابلے میں جرات مندانہ موقف اختیار کرے۔اگر ایسا ہو گیا، جس کا امکان دکھائی دے رہا ہے تو اس جوہری معاہدے سے علیحدگی کا خمیازہ امریکا کو بھگتنا پڑے گا۔ اس معاہدے کی زیادہ تر مخالفت اسرائیل اور سعودی عرب کی طرف سے کی گئی تھی۔ اس موقع پر اگر امریکا نے اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کرلی تو اس امر کا امکان موجود ہے کہ اب امریکی پابندیاں خود امریکا کے خلاف نتائج پیداکریں گی۔ گویا تاریخ کا وہ سفر جو ایران کے خلاف پابندیوں سے شروع ہوا تھا اب واپس ہونا شروع ہوگا اور اس کا رخ امریکا کی طرف ہو جائے گا۔

ثاقب اکبر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

زمرہ جات:  
ٹیگز:   ڈونلڈ ٹرمپ ، JCPOA ، P5+1 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)