نواز شریف کیسے جمہوریت کی علامت بن گئے!

سعودی عرب کی ’توہین‘: کویتی بلاگر کو پانچ سال سزائے قید

دنیا، کس قسم کے افراد کو تباہ وبرباد کردیتی ہے؟

ٹرمپ کے خلاف لاکھوں امریکی خواتین کا تاریخی احتجاج

نقیب اللہ قتل؛ راؤ انوار کو پولیس پارٹی سمیت گرفتار کرنے کا فیصلہ

فتویٰ اور پارلیمینٹ

کل بھوشن کے بعد اب محمد شبیر

سعودیہ فوج میں زبردستی بھرتی پر مجبور ہوگیا ہے؛ یمنی نیوز

پاکستان کی غیر واضح خارجہ پالیسی سے معاملات الجھے رہیں گے

پارلیمنٹ پر لعنت

نائیجیریا میں آیت اللہ زکزکی کی حمایت میں مظاہرہ

ایٹمی معاہدے میں کوئی خامی نہیں، امریکی جوہری سائنسداں کا اعتراف

سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان مکار، دھوکہ باز، حیلہ گر اور فریبکار ہیں: قطری شیخ

امریکا نے دہشت گردی کے بجائے چین اور روس کو خطرہ قرار دے دیا

سلامتی کونسل میں پاکستان اور امریکی مندوبین کے درمیان لفظی جنگ

ایک اورماورائے عدالت قتل

کالعدم سپاہ صحابہ کا سیاسی ونگ پاکستان راہ حق پارٹی بھی اھل سیاسی جماعتوں میں شامل

امریکہ اور دہشتگردی کا دوبارہ احیاء

ایرانی جوان پوری طرح اپنے سیاسی نظام کے حامی ہیں؛ ایشیا ٹائمز

دنیائے اسلام، فلسطین اور یمن کے بارے میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرے

شام کے لیے نئی سازش کا منصوبہ تیار

پاک فوج کیخلاف لڑنا حرام ہے اگر فوج نہ ہوتی تو ملک تقسیم ہوچکا ہوتا: صوفی محمد

امام زمانہ عج کی حکومت میں مذہبی اقلیتوں کی صورت حال

سعودی عرب نائن الیون کے واقعے کا تاوان ادا کرے، لواحقین کا مطالبہ

امریکہ کو دوسرے ممالک کے بارے میں بات کرنے سے باز رہنا چاہیے: چین

پاکستان میں حقانی نیٹ ورک موجود نہیں

سعودی عرب نے یمن میں انسانی، اسلامی اور اخلاقی قوانین کا سر قلم کردیا

پاکستان کو ہم سے دشمن کی طرح برتاؤ نہیں کرنا چاہیے: اسرائیلی وزیراعظم

آرمی چیف نے 10 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی

بھارت: ’حج سبسڈی کا خاتمہ، سات سو کروڑ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے

صہیونی وزیر اعظم کے دورہ ہندوستان کی وجوہات کچھ اور

پاکستانی سرزمین پر امریکی ڈرون حملہ، عوام حکومتی ایکشن کے منتظر

روس، پاکستان کی دفاعی حمایت کے لئے تیار ہے؛ روسی وزیر خارجہ

عام انتخابات اپنے وقت پر ہونگے: وزیراعظم

ناصرشیرازی اور صاحبزادہ حامد رضا کی چوہدری پرویزالہیٰ سے ملاقات، ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

پارلیمنٹ نمائندہ ادارہ ہے اسے گالی نہیں دی جاسکتی: آصف زرداری

زائرین کے لیے خوشخبری: پاک ایران مسافر ٹرین سروس بحال کرنے کا فیصلہ

شریف خاندان نے اپنے ملازموں کے ذریعے منی لانڈرنگ کرائی، عمران خان

امریکہ کی افغانستان میں موجودگی ایران، روس اور چین کو کنٹرول کرنے کے لئے ہے

ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر کی تہران اسلام آباد سیکورٹی تعاون بڑھانے پر تاکید

دورہ بھارت سے نیتن یاہو کے مقاصد اور ماحصل

ایوان صدر میں منعقد پیغام امن کانفرنس میں داعش سے منسلک افراد کی شرکت

امریکہ، مضبوط افغانستان نہیں چاہتا

عربوں نے اسرائیل کے خلاف جنگ میں اپنی شکست خود رقم کی

سیاسی لیڈر کا قتل

مقاصد الگ لیکن نفرت مشترکہ ہے

انتہا پسندی فتوؤں اور بیانات سے ختم نہیں ہوگی!

تہران میں او آئی سی کانفرنس، فلسطین ایجنڈہ سرفہرست

زینب کے قاتل کی گرفتاری کے حوالے سے شہباز شریف کی بے بسی

یورپ کی جانب سے جامع ایٹمی معاہدے کی حمایت کا اعادہ

بن گورین ڈاکٹرین میں ہندوستان کی اہمیت

دہشت گردی کے خلاف متفقہ فتویٰ

شام میں امریکی منصوبہ؛ کُرد، موجودہ حکومت کی جگہ لینگے

شفقنا خصوصی: کیا زینب کے قاتل کی گرفتاری کو سیاسی مقاصد کے لیے چھپایا جا رہا ہے؟

مسئلہ فلسطین، عالم اسلام کا اہم ترین مسئلہ ہے

پاپ کی طرف سے میانمار کے مسلمانوں کی عالمی سطح پر حمایت

امریکا مشترکہ مفادات کی بنیاد پر پاکستان سے نئے تعلقات بنانا چاہتا ہے، ایلیس ویلز

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا بینظیر بھٹو کو قتل کرنے کا دعویٰ

امریکہ، بیت المقدس کے بارے میں اپنے ناپاک منصوبوں ميں کامیاب نہیں ہوگا

پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم کرنےکےلیے پرعزم ہیں: امریکی جنرل جوزف ڈنفورڈ

اسلامی ممالک کو اختلافات دور کرنے اور باہمی اتحاد پر توجہ مبذول کرنی چاہیے

بھارت ایسے اقدامات سے باز رہے جن سے صورتحال خراب ہو، چین

عمران خان اور آصف زرداری کل ایک ہی اسٹیج سے خطاب کریں گے، طاہرالقادری

اسرائیلی وزیراعظم کا 6 روزہ دورہ بھارت؛ کیا پاکستان اور ایران کے روایتی دشمنوں کیخلاف علاقائی اتحاد ناگزیر نہیں؟

مودی، یاہو اور ٹرمپ کی مثلث

سید علی خامنہ ای، دنیا کے تمام مسلمانوں کے لیڈر ہیں؛ آذربائیجانی عوام

لسانی حمایت کافی نہیں، ایرانی معترضین تک اسلحہ پہنچایا جائے؛ صہیونی ادارہ

خود کش حملے حرام ہیں، پاکستانی علما کا فتوی

پاکستان افغان جنگ میں قربانی کا بکرا نہیں بنے گا ، وزیردفاع

امریکہ کے شمالی کوریا پر حملے کا وقت آن پہنچا ہے؛ فارن پالیسی

یمن پر مسلط کردہ قبیلۂ آل سعود کی جنگ پر ایک طائرانہ نظر

2017-10-26 12:50:55

نواز شریف کیسے جمہوریت کی علامت بن گئے!

jj

نواز شریف لندن سے پاکستان آتے ہوئے سعودی عرب میں رکے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں ان کی آمد کے انتظار کے علاوہ متحارب سیاسی گروہ اس بات کا بھی بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں کہ نواز شریف کے خلاف تنگ ہوتا ہوا گھیرا انہیں سیاست سے نکال باہر کرے۔ ان میں پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی بھی شامل ہیں۔ دونوں پارٹیوں کی قیادت اپنے اپنے طور پر شریف خاندان کی گرفتاری اور مکمل رسوائی کا مطالبہ کر چکی ہے۔ نواز شریف کو سیاست سے علیحدہ کرنے کےلئے کچھ کوششیں مسلم لیگ (ن) کے اندر سے بھی ہو رہی ہیں۔ اب یہ بات واضح ہے کہ ان کوششوں کی قیادت پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کر رہے ہیں۔ شریف خاندان کو جاننے والوں کا کہنا ہے کہ شہباز شریف اگرچہ نواز شریف پر دباؤ بڑھا کر پارٹی کی قیادت حاصل کرنے اور ملک کا وزیراعظم بننے کے خواہشمند ہیں لیکن وہ اس خواہش کی تکمیل میں اس حد تک نہیں جائیں گے کہ انہیں بھائی کے خلاف علم بغاوت بلند کرنا پڑے۔ بس وہ نواز شریف کو عاجر کرکے یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ اب وہ بوجوہ فوج کےلئے قابل قبول نہیں ہیں۔ اس لئے شہباز شریف کو پارٹی اور اقتدار سونپ کر وہ کم از کم یہ امید کر سکتے ہیں کہ احتساب عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرتے ہوئے انہیں سہولت حاصل ہوگی اور وہ جیل جانے سے بچ جائیں گے۔

شہباز شریف کی اپنے بڑے بھائی اور سیاسی قائد کے خلاف ڈھکی چھپی بغاوت کا مقصد ایک خاص سیاسی ماحول پیدا کرکے نواز شریف پر دباؤ میں اضافہ کرنا تو ہے لیکن وہ دو وجوہات کی بنا پر کھل کر نواز شریف کے خلاف بغاوت نہیں کر سکیں گے۔ ایک تو یہ بات عام طور سے تسلیم کی جاتی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو ملنے والا ووٹ نواز شریف کی وجہ سے ہی ملتا ہے۔ شہباز شریف نے پنجاب میں طویل حکومت کے دوران اپنا حلقہ اثر ضرور پیدا کیا ہے اور انتظامی صلاحیتوں کا لوہا بھی منوایا ہے لیکن پنجاب کا ووٹر شہباز شریف یا حمزہ شہباز کے نام پر ووٹ نہیں دے گا۔ نواز شریف سے بغاوت کرکے شہباز شریف کو اپنی نئی پارٹی کھڑی کرنا پڑے گی۔ ایسی صورت میں وہ نواز شریف کی سیاسی پوزیشن کو تو نقصان پہنچا سکتے ہیں لیکن خود بھی وزیراعظم بننے کی خواہش میں وزارت اعلیٰ سے محروم ہوں گے۔ عقلی بنیادوں پر فیصلے کرنے میں مشہور شہباز شریف سے اس قسم کی غلطی کی توقع نہیں کی جاتی۔ اس لئے وہ پارٹی میں اپنے حامی عناصر اور میڈیا میں اپنے زیر اثر رپورٹروں اور کالم نگاروں کے ذریعے ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش ضرور کرتے رہیں گے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے کے مصداق وہ پارٹی کا کنٹرول بھی سنبھال لیں اور نواز شریف سے تعلق بھی ختم نہ ہو۔ ان کی ان کوششوں کی کامیابی کا اتنا ہی امکان ہے جتنا موجودہ حالات میں نواز شریف کا چوتھی بار وزیراعظم بننا ممکن ہو سکتا ہے۔ نواز شریف کے خلاف شہباز شریف کی علی الاعلان بغاوت نہ کرنے کی ایک وجہ ان کی والدہ بھی ہیں جو ابھی حیات ہیں اور دونوں بیٹوں کے درمیان سیاسی لڑائی کی اجازت نہیں دیں گی۔

اس دوران اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر مسلم لیگ (ق) سمیت کئی سیاسی گروہ مسلسل اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی گروہ کے اتحاد کو توڑا جا سکے۔ اس مقصد کےلئے تواتر سے یہ خبریں سامنے لائی جاتی ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے کتنے اراکین قومی اسمبلی بغاوت پر آمادہ ہیں، فارورڈ بلاک بنا رہے ہیں یا کسی دوسری پارٹی میں شامل ہونے کےلئے پر تول رہے ہیں۔ ابھی تک اس حوالے سے اندر کی خبر لانے والے صحافیوں اور سیاستدانوں نے بہت سی معلومات فراہم کی ہیں اور جلد بڑا دھماکہ ہونے کی پیش گوئیاں بھی کی جاتی رہی ہیں۔ لیکن ان کا نتیجہ فی الحال صفر ہی ہے۔ تاہم اس حوالے سے جلد ہی قومی اسمبلی میں طاقت کا مظاہرہ ہونے کا امکان ہے۔ پیپلز پارٹی انتخابی اصلاحات بل پر پہلے دور میں اعتزاز احسن کی تجویز کردہ ترمیم کروانے میں ناکام رہی تھی کیونکہ تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور بعض دیگر نواز مخالف سینیٹرز اس بل پر ووٹنگ کے وقت سینیٹ میں موجود نہیں تھے۔ اس کا فائدہ اٹھا کر حکومت ایک ووٹ کی اکثریت سے یہ بل سینیٹ میں منظور کروانے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ مسلم لیگ (ن) نے پھر قومی اسمبلی میں منظوری لے کر یہ قانون موثر کر دیا تھا جس کے نتیجہ میں نواز شریف معزول ہونے کے باوجود پارٹی کا صدر بننے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ گزشتہ ہفتہ کے دوران پیپلز پارٹی اس قانون میں ترمیم کا بل سینیٹ سے منظور کروانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ اگرچہ  وزیر قانون نے اس اقدام کو آئین کی خلاف ورزی بھی قرار دیا تھا۔ اب یہ بل قومی اسملی سے منظور کروانے کی کوشش کی جائے گی۔ قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کو ٹھوس اکثریت حاصل ہے۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی کوشش ہوگی کہ نون لیگ کے زیادہ سے زیادہ ارکان کو اس ترمیم پر ووٹنگ کے وقت ایوان سے غیر حاضر ہونے پر آمادہ کیا جا سکے تاکہ اگر ووٹنگ میں اپوزیشن ناکام بھی ہو تو اس کا مارجن قومی اسمبلی میں سیاسی پارٹیوں کی قوت کے تناسب سے بہت کم ہو۔ اس طرح اس ووٹنگ کو نواز شریف کی سیاسی قوت میں کمی کے طور پر پیش کیا جا سکے گا۔

ان حالات میں نواز شریف کو صرف عدالتوں میں مقدمات کا سامنا ہی نہیں کرنا بلکہ اپنی پارٹی پر کنٹرول برقرار رکھنے اور اسے اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی صلاحیت کا مظاہرہ بھی کرنا ہے۔ وہ اسی لئے اپنی اہلیہ کی علالت اور ممکنہ گرفتاری کے اندیشہ کے باوجود پاکستان واپس آنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔ پاکستان آنے سے پہلے اگرچہ وہ بظاہر عمرہ کی ادائیگی کےلئے سعودی عرب گئے ہیں لیکن بعض حلقے یہ اطلاعات بھی دے رہے ہیں کہ وہ اس دورہ میں سعودی حکام کے ساتھ تعلقات بحال کرنے اور ان کی ہمدردی و حمایت حاصل کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔ گزشتہ دنوں پاکستانی میڈیا میں یہ خبریں سامنے آتی رہی ہیں کہ دو اہم خلیجی ممالک نواز شریف کی سیاست سے علیحدگی کےلئے پاکستان کو خطیر امداد دینے پر آمادہ ہیں کیونکہ انہوں نے یمن جنگ میں پاکستانی فوج فراہم کرنے میں ناکامی  پر نواز شریف کو معاف نہیں کیا ہے۔ تاہم اس قسم کی خبروں کی صداقت اور وقعت کو زیادہ اہمیت نہیں دی جا سکتی۔

تمام تر غصہ اور ناراضگی کے باوجود عرب ممالک یہ بھی ضرور جانتے ہوں گے کہ پاکستان کی کوئی بھی حکومت حتیٰ کہ فوجی قیادت بھی چاہنے کے باوجود پاک فوج کے دستے یمن کی جنگ میں بھیجنے کا حوصلہ نہیں کر سکتی۔ کیوں کہ ملک کی رائے عامہ اس کے خلاف ہے۔ دو سال قبل یمن کا تنازعہ شروع ہرنے پر جب پاکستان سے فوجی امداد مانگی گئی تھی تو اس وقت قومی اسمبلی کی تمام سیاسی جماعتوں کے علاوہ فوج بھی اس قسم کی درخواست قبول کرنے پر تیار نہیں تھی۔ حالانکہ اس وقت جنرل راحیل شریف فوج کے سربراہ تھے جنہیں بعد میں حکومت پاکستان کی خصوصی اجازت سے سعودی عرب کی قیادت میں بننے والی اسلامی فوج کا سربراہ بنایا گیا تھا۔ اگر عرب ممالک سفارت کاری کی باریکیوں اور سیاسی پیچیدگیوں سے مکمل طور پر نابلد ہوتے تو وہ نواز شریف سے پہلے جنرل راحیل شریف سے ’’انتقام‘‘ لیتے۔ ان کی تقرری سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ عرب دارالحکومتوں میں بھی فیصلے دور رس اہداف کو پیش نظر رکھ کر کئے جاتے ہیں۔ نواز شریف جب تک پاکستانی سیاست میں طاقتور ہیں، اس وقت تک ان کے عرب دوست بھی ان سے منہ نہیں موڑ سکتے۔

نواز شریف کو اصل چیلنج ملک کے اندر موجود سیاسی صورتحال سے دریش ہے۔ عمران خان مسلم لیگ (ن) کو منتشر کرنے کے دل سے خواہشمند ہیں تاکہ وہ پنجاب میں انتخابی میدان مارنے میں کامیاب ہو سکیں۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) سے سیاسی حساب برابر کرنے کےلئے ایک طرف نواز شریف کے ساتھ مناسب آئینی و قانونی ترامیم کےلئے تعاون کرنے سے گریز کر رہی ہے تو دوسری طرف فوج کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آصف زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ سے تصادم کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہتی۔ شہباز شریف اور ان کے ساتھیوں کی طرح پیپلز پارٹی بھی یہ باور کروانے کی کوشش کر رہی ہے کہ نواز شریف ہی اصل مسئلہ ہیں۔ وہی اپنی جان بچانے اور سیاسی قوت حاصل کرنے کےلئے تصادم کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں اور نظام کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔ 

یہ بات تو محض قیاس اور ماضی کے تجربات کی روشنی میں کہی اور سمجھی جاتی ہے کہ فوج کسی ایسے سیاستدان کو قبول نہیں کر سکتی جو خود مختارانہ طریقے سے ملک کے سیاسی ، سفارتی اور معاشی معاملات چلانا چاہتا ہو لیکن اس وقت نواز شریف کو چیلنج کرنے والی ساری سیاسی قوتیں کھل کر یہ اظہار کر چکی ہیں کہ وہ فوج کے سایہ شفقت میں حکومت کرنے کےلئے تیار ہیں۔ اسی لئے مسلم لیگ (ن)  کے ’’مصلحت پسند‘‘ عناصر ہوں، پیپلز پارٹی کے ’’عوام دوست انقلابی‘‘ یا تبدیلی لانے اور بدعنوانی کا خاتمہ کرنے کے علمبردار عمران خان ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب نواز شریف کو اپنے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ سمجھ رہے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر ملک کی تمام سیاسی قوتیں نواز شریف کی دشمنی میں باہمی اختلافات کے باوجود صرف ایک ہی مقصد حاصل کرنا چاہتی ہیں کہ کسی طرح نواز شریف کی سیاسی قوت کو توڑا یا کم کیا جا سکے۔ انہیں اس بات سے غرض نہیں ہے کہ اس عمل میں غیر جمہوری ادارے امور مملکت پر حاوی ہوں گے اور منتخب نمائندوں پر ان کی بالا دستی میں اضافہ ہوگا۔ لہٰذا بیک زبان نواز شریف کو نظام کےلئے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اس صورتحال میں نواز شریف ملک میں جمہوری روایت اور عوامی حاکمیت کے نمائندہ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ کیونکہ ان سے بڑھ کر ان کے مخالفین یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ نواز شریف ملک کے طاقتور اداروں سے ’’تصادم‘‘ چاہتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ملک کا نظام تباہ ہو جائے گا۔ یعنی فوج براہ راست حکومت سنبھال لے گی۔ مخالفین کی اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ملک میں اگر نام نہاد جمہوری نظام چلانا ہے تو وہ اسی طریقہ کے مطابق چلے گا جو درپردہ قوتیں مختلف اوقات میں وضع کرتی رہتی ہیں۔ اس طرح ملک کے جو عناصرعسکری و ادارہ جاتی قوتوں کی سیاسی معاملات میں مداخلت کو جمہوریت کےلئے زہر قاتل اور ناقابل قبول سمجھتے ہیں، وہ نہ چاہتے ہوئے بھی نواز شریف کی کامیابی کی خواہش رکھتے ہیں۔ اسی لئے وہ اس وقت ملک میں جمہوریت کی بقا کی علامت بنے ہوئے ہیں۔

 تحریر: سید مجاہد علی
 
 
زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

کراچی سے سامارو تک

- ایکسپریس نیوز

اسٹیٹ بینک کی رپورٹ

- ایکسپریس نیوز

دنیا 100 سیکنڈ میں

- سحر ٹی وی

گالی ہی تہذیب ہے

- بی بی سی اردو