ریاست کا چوتھا ستون۔۔۔آزاد میڈیا یا زرد صحافت

پاکستان کے لبرل انگریزی پریس میں کمرشل ازم کا بڑھتا رجحان – عامر حسینی

ایران ہر اس تنظیم کی حمایت کرے گا جو دہشت گردوں کے خلاف جنگ کرے گی

نواز شریف پر سپریم کورٹ کا ایک اور وار

چیف جسٹس کا تبصرہ پسپائی کا اشارہ ہے یا مقابلے کا اعلان؟

سپریم کورٹ کا فیصلہ انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے، ترجمان مسلم لیگ (ن)

نواز شریف، ن لیگ کی صدارت سے فارغ، فیصلے نے کئی سوالات اٹھادیئے

پاکستانی فوج سعودی عرب بھیجنے کے فیصلے کی مخالفت

نواز شریف پارٹی صدارت سے بھی نااہل، سپریم کورٹ کا فیصلہ

تصاویر: مراجع عظام کا حضرت معصومہ (س) کے حرم کی طرف پیدل مارچ

ترکی میں بچوں سے زیادتی کے ملزمان کی جنسی صلاحیت ختم کرنے پر غور

شام میں بچوں کی ہلاکتوں پر الفاظ ختم، یونیسیف نے خالی اعلامیہ جاری کردیا

پاکستان کو دہشت گردی کی واچ لسٹ میں شامل کرنے کی امریکی کوشش ناکام

عدالت نے اقامہ پر نااہل کرکے نواز شریف کو سڑکوں پر نکلنے کا موقع دے دیا، عمران خان

امریکہ کی شام میں موجودگی عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے؛ سرگئی لاوروف

ڈونلڈ ٹرمپ امریکی تاریخ کے بدترین صدر قرار

پاکستانی فوج سعودی عرب بھیجے جانے کی مخالفت

شاہ سلمان اپنے بیٹے کی پالیسیوں پر غصہ ہیں؛ رای الیوم

پارلیمنٹ بمقابلہ عدلیہ: تصادم سے کیا برآمد ہوگا

پارلیمنٹ آئین سے متصادم قانون نہیں بنا سکتی، چیف جسٹس پاکستان

انتخابات اور قومی تعلیم و تربیت

تصاویر: امریکہ میں ہتھیار رکھنے کے خلاف مظاہرہ

جس سے فاطمہ (س) ناراض ہوں اس سے اللہ تعالی ناراض ہوتا ہے

پارلیمنٹ کو عدلیہ کے خلاف استعمال کیا گیا تو سڑکوں پر نکلیں گے، عمران خان

رسول خدا کی بیٹی کی شہادت کا سوگ

سی پیک کے تحفظ کیلئے چین اور بلوچ علیحدگی پسندوں میں خفیہ مذاکرات کا انکشاف

تمام عالم میں جگر گوشہ رسول کا ماتم

مسجد الحرام میں تاش کھیلنے والی خواتین کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

پاکستانی سکولوں میں چینی زبان لازمی، سینیٹ میں قرارداد منظور

خود کشی کی کوشش جرم نہیں بیماری، سینیٹ میں سزا ختم کرنے کا ترمیمی بل منظور

امریکہ شام میں آگ سے نہ کھیلے : روس

کیا فدک حضرت زہرا (س) کے موقوفات میں سے تھا یا نہیں؟

لعل شہباز قلندر کے مزار پہ بم دھماکے میں تکفیری دیوبندی خطیب لال مسجد کے رشتے دار ملوث ہیں – سندھ پولیس/ رپورٹ بی بی سی اردو

اسرائیل کے ناقابل شکست ہونے کا افسانہ ختم ہو چکا ہے

 فرانسیسی زبان میں حضرت زهرا (س) کے لیے مرثیه‌ خوانی 

سعودی عرب کو شرک اورکفر کے فتوے نہ دینے کا مشورہ

ایرانی طیارے کے حادثے پر پاکستان کی تعزیت

سعودی عرب میں غیر ملکی خاتون سے اجتماعی زیادتی

کوئی ملک پاکستان کو دہشت گردی کی بنا پر واچ لسٹ میں نہیں ڈال سکتا، احسن اقبال

بلوچ ـ مذہبی شدت پسندی – ذوالفقار علی ذوالفی

تصاویر: شام میں ترکی کے حمایت یافتہ افراد کی کردوں کے خلاف جنگ

دنیا پاکستان کا سچ تسلیم کیوں نہیں کرتی؟

سعودی عرب نے عورتوں کو شوہر کی اجازت کے بغیر کار و بار کی اجازت دیدی

اسرائیل، شام میں ایران کی موجودگی کو اپنے لئے خطرہ سمجھتا ہے؛ گوٹرش

اسمارٹ فون سے اب ڈیسک ٹاپ میں تصاویر منتقل کرنا آسان ہو گیا

نیب نے خادم پنجاب روڈ پروگرام اور میٹروبس میں کرپشن کی تحقیقات شروع کردیں

ایران کا مسافر بردار طیارہ گر کر تباہ، 66 مسافر سوار تھے

بھارتی اور داعشی کے خطرات میں پاک فوج کی سعودیہ عرب میں تعیناتی خلاف عقل ہے

عوام سے ووٹ لے کر آنا قانون سے بالاتر نہیں بنادیتا، عمران خان

حضرت فاطمہ زہرا (س) کی شہادت

آصف زرداری کا راؤ انوار سے متعلق اپنے بیان پر اظہارِ افسوس

توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگانے پر سخت سزا کی تجویز

عمران کو سزا پاکستان کے عدالتی نظام پر سوالیہ نشان ہے

ڈونلڈ ٹرمپ نے جنرل باجوہ کو مشرف تصور کر کے غلطی کی: برطانوی تھنک ٹینک

فخر سے کہہ سکتے ہیں پاکستانی سرزمین پر دہشتگردوں کا کوئی منظم کیمپ موجود نہیں، پاک آرمی چیف

نائیجیریا میں یکے بعد دیگرے 3 خودکش حملوں میں 22 افراد ہلاک

سعودیہ میں فوجی دستوں کی تعیناتی

ایران اور ہندوستان نے باہمی تعاون کے 15 معاہدوں اور دستاویزات پر دستخط کردیئے

پاکستانی فوجیوں کو سعودی عرب کے زمینی دفاع کو مضبوط کرنے کیلئے بھیجا گیا ہے، خرم دستگیر

17 امریکی سیکیورٹی سروسز کا پاکستانی ایٹمی پروگرام سے اظہارِ خوف

شام سے برطانیہ کے 100 دہشت گردوں کی واپسی کا خدشہ

آرام سے کھانا کھائیے، موٹاپے سے محفوظ رہیے

علامہ سید ساجد علی نقوی کا شہدائے سیہون شریف کی پہلی برسی سے خطاب

زینب کے گھر والوں کا مجرم کو سرِعام پھانسی دینے کا مطالبہ

زینب کے قاتل عمران علی کو 4 بار سزائے موت کا حکم

کرپشن الزامات کے حوالے سے اسرائیلی وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

پاکستان کی 98 فیصد خواتین کو طبی و تعلیمی سہولیات میسر نہیں

شیعہ حریت لیڈر یوسف ندیم کی ہلاکت قتل ناحق ہے، بار ایسوسی ایشن

پاکستانی سینیٹ کا فوجی دستہ سعودی عرب بھیجنے پر تشویش کا اظہار

اسرائیل میں وزیراعظم نتین یاہو کے خلاف ہزاروں افراد کا مظاہرہ

سعودی علماء کونسل : عرب خواتین کے لئے چادر اوڑھنا ضروری نہیں ہے

2017-11-10 12:43:18

ریاست کا چوتھا ستون۔۔۔آزاد میڈیا یا زرد صحافت

Meida

 

صحافت کاتعلق صحیفہ سے ہے ،عربی زبان میں وہ چیز جس میں کچھ لکھا جاتا ہے،اُسے صحیفہ کہتے ہیں۔ گویا صحافت کا تعلق لکھنے سے ہے اور لکھا قلم سے جاتا ہے ۔ قلم کی حرمت کا یہ عالم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں قلم کی قسم کھائی ہے ۔ مولانا روم نے کہا ہے کہ علم کو “من”پہ مارو تو یار یعنی دوست بن جاتا ہے اگر” تن”پہ مارو تو ماریعنی سانپ بن جاتا ہے ۔

 

ایسا ہی معاملہ قلم کا ہے بہت سے لوگوں نے قلم بیچ کر اپنا تن بلکہ کئی تن پالے ہیں اور اسی قلم سے کئی لوگوں نے من کی پرورش کی اور اسے اپنا دوست بنایا ہے۔

ہماری تاریخ ایسے مشاہیر کے ذکر سےبھری ہوئی ہے جنہوں نے قلم کی حرمت و تقدس کی خاطر ہر طرح کی صعوبتیں اٹھائیں  لیکن اس کا سودا نہ کیا اور ایسے بھی ہیں جنہوں نے قدم قدم پہ اس عفت مآب کو بیچ ڈالا۔ وہ اہل قلم نہیں  ،قلم کے بیوپاری تھے جو چند روز کے فاقوں اورخستہ حالی کا مقابلہ نہ کرسکے۔اپنے نظریات کی دوکان سجائے کسی بڑے گاہک کے انتظار میں رہے اور ایک ہی بار سارا سودا بیچ کر راتوں رات امیر ہو گئے ۔کچھ ایسے سر پھرے بھی تھے جنہیں بقول فیض احمد فیض یہ دُھن سوار تھی۔

ہم پرورش لوح وقلم کرتے رہیں گے

جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

ہاں تلخیِ ایام ابھی اور بڑھے گی

ہاں اہلِ ستم، مشقِ ستم کرتے رہیں گے

منظور یہ تلخی یہ ستم ہم کو گوارا

دم ہے تو مداوۂ الم کرتے رہیں گے

مے خانہ سلامت ہے تو ہم سرخئی مے سے

تزئین درو بامِ حرم کرتے رہیں گے

بدلتے حالات وواقعات کے ساتھ، ایسے “آشفتہ سروں” میں کمی ضرور آئی ہے لیکن ابھی “نایاب” نہیں ہوئے۔ تخلیقِ پاکستان سے قبل شاعر، ادیب اورصحافی انگریز کی بدیسی حکومت کے خلاف اپنے عوام کی ذہن سازی کرتے رہے۔ انہوں نے مسلمانوں کی اخلاقی تعلیم و تربیت کیلئے بہت کچھ لکھا اوربولا۔تخلیق پاکستان کے بعد انہی کے خاندان اور ان کے علاوہ بہت سے لوگ پاکستان منتقل ہوئے۔ یہاں انہوں نے روزانہ، ماہانہ ، ہفتہ وار اور پندرہ روزہ کی بنیاد پہ اخبارات ، رسائل اور میگزین کا سلسلہ شروع کیا۔ پاکستان میں آمرانہ اور جمہوری حکومتوں کے دوران ،عوام کی سیاسی تربیت کے لئے صحافت کا کردار اہم ہوتا چلاگیا جس سے صحافیوں کا بھی حکومتوں کے استحکام میں عمل دخل بڑھ گیا۔ صحافیوں کے اس کردار نے  انہیں اقتدار کے ایوانوں میں  پہنچا دیا جس کے بعد چل سو چل ۔ یہ ایک ایسی بھیڑ چال شروع ہو ئی ہے جس کا اختتام دکھائی نہیں دیتا۔

اب صورتِ حال یہ ہے کہ میڈیا پاکستانی ریاست کاچوتھا “آزاد ستون” بن چکا ہے جو ہر شخص کے ظلم اور استحصال کا رونا روتا اور تنقید کرتادکھائی دیتا ہے لیکن جوظلم و استحصال خود میڈیا اپنے ملازمین اورغریب ورکروں پہ کر تا ہے اس کا کوئی ذکر نہیں ہوتا۔ انکا مداوا جمہوری حکومتیں بھی نہیں کر سکتیں کیونکہ صحافت کے” سر پینچ” ان کی حکومت کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اس طرح محکوم طبقہ تنخواہوں سے محروم خودکشی پہ مجبور ہوجاتا ہے لیکن ان کی خودکشی کی خبر بھی کوئی ٹی وی چینل نہیں چلاتا اور نہ اخبار شائع کرتا حالانکہ یہ ایک” بریکنگ نیوز” ہوتی ہے

 

وہ علمائے کرام جو آئے روز فحاشی ،عریانی کارونا روتے اور پی ٹی وی کی عمارت کے سامنے بینرز لیے کھڑے ہوتے تھے۔ اب وہ کبھی کسی چینل کے سامنے احتجاج کرتے دکھائی نہیں دیتے۔ اب انہیں ظلم دکھائی دیتاہے اور نہ فحاشی ۔ یہ  مذہب ، سیاست اور صحافت کاایسا ٹرائیکاہے جس کا یک نکاتی ایجنڈا ہے کہ عوام کانہیں بس اپنے مفاد کا تحفظ کرو۔

 

 

پاکستانی عوام کے حقوق کی جنگ لڑنے والوں نے کبھی میڈیا کے مظلوموں کی جنگ نہیں لڑی۔ یہ جنگ صرف اور صرف حکومت کیخلاف کیوں ہوتی ہے، روز روز نئے چینلز اور اخبارات نکالنے والے ، اپنے محکوم طبقے کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں اس ظلم کے خلاف کوئی بھی کھڑا نہیں ہوتا۔ان کی جنگ کوئی سیاستدان ،مذہبی رہنما ، سول سوسائٹی اور کوئی سینئر سٹیزن نہیں لڑتا آخر کیوں؟

 

صاحبزادہ امانت رسول

 

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)