پرویز مشرف کی سربراہی میں 23 جماعتوں کا ’اتحاد‘ قائم

پاکستان کے لبرل انگریزی پریس میں کمرشل ازم کا بڑھتا رجحان – عامر حسینی

ایران ہر اس تنظیم کی حمایت کرے گا جو دہشت گردوں کے خلاف جنگ کرے گی

نواز شریف پر سپریم کورٹ کا ایک اور وار

چیف جسٹس کا تبصرہ پسپائی کا اشارہ ہے یا مقابلے کا اعلان؟

سپریم کورٹ کا فیصلہ انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے، ترجمان مسلم لیگ (ن)

نواز شریف، ن لیگ کی صدارت سے فارغ، فیصلے نے کئی سوالات اٹھادیئے

پاکستانی فوج سعودی عرب بھیجنے کے فیصلے کی مخالفت

نواز شریف پارٹی صدارت سے بھی نااہل، سپریم کورٹ کا فیصلہ

تصاویر: مراجع عظام کا حضرت معصومہ (س) کے حرم کی طرف پیدل مارچ

ترکی میں بچوں سے زیادتی کے ملزمان کی جنسی صلاحیت ختم کرنے پر غور

شام میں بچوں کی ہلاکتوں پر الفاظ ختم، یونیسیف نے خالی اعلامیہ جاری کردیا

پاکستان کو دہشت گردی کی واچ لسٹ میں شامل کرنے کی امریکی کوشش ناکام

عدالت نے اقامہ پر نااہل کرکے نواز شریف کو سڑکوں پر نکلنے کا موقع دے دیا، عمران خان

امریکہ کی شام میں موجودگی عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے؛ سرگئی لاوروف

ڈونلڈ ٹرمپ امریکی تاریخ کے بدترین صدر قرار

پاکستانی فوج سعودی عرب بھیجے جانے کی مخالفت

شاہ سلمان اپنے بیٹے کی پالیسیوں پر غصہ ہیں؛ رای الیوم

پارلیمنٹ بمقابلہ عدلیہ: تصادم سے کیا برآمد ہوگا

پارلیمنٹ آئین سے متصادم قانون نہیں بنا سکتی، چیف جسٹس پاکستان

انتخابات اور قومی تعلیم و تربیت

تصاویر: امریکہ میں ہتھیار رکھنے کے خلاف مظاہرہ

جس سے فاطمہ (س) ناراض ہوں اس سے اللہ تعالی ناراض ہوتا ہے

پارلیمنٹ کو عدلیہ کے خلاف استعمال کیا گیا تو سڑکوں پر نکلیں گے، عمران خان

رسول خدا کی بیٹی کی شہادت کا سوگ

سی پیک کے تحفظ کیلئے چین اور بلوچ علیحدگی پسندوں میں خفیہ مذاکرات کا انکشاف

تمام عالم میں جگر گوشہ رسول کا ماتم

مسجد الحرام میں تاش کھیلنے والی خواتین کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

پاکستانی سکولوں میں چینی زبان لازمی، سینیٹ میں قرارداد منظور

خود کشی کی کوشش جرم نہیں بیماری، سینیٹ میں سزا ختم کرنے کا ترمیمی بل منظور

امریکہ شام میں آگ سے نہ کھیلے : روس

کیا فدک حضرت زہرا (س) کے موقوفات میں سے تھا یا نہیں؟

لعل شہباز قلندر کے مزار پہ بم دھماکے میں تکفیری دیوبندی خطیب لال مسجد کے رشتے دار ملوث ہیں – سندھ پولیس/ رپورٹ بی بی سی اردو

اسرائیل کے ناقابل شکست ہونے کا افسانہ ختم ہو چکا ہے

 فرانسیسی زبان میں حضرت زهرا (س) کے لیے مرثیه‌ خوانی 

سعودی عرب کو شرک اورکفر کے فتوے نہ دینے کا مشورہ

ایرانی طیارے کے حادثے پر پاکستان کی تعزیت

سعودی عرب میں غیر ملکی خاتون سے اجتماعی زیادتی

کوئی ملک پاکستان کو دہشت گردی کی بنا پر واچ لسٹ میں نہیں ڈال سکتا، احسن اقبال

بلوچ ـ مذہبی شدت پسندی – ذوالفقار علی ذوالفی

تصاویر: شام میں ترکی کے حمایت یافتہ افراد کی کردوں کے خلاف جنگ

دنیا پاکستان کا سچ تسلیم کیوں نہیں کرتی؟

سعودی عرب نے عورتوں کو شوہر کی اجازت کے بغیر کار و بار کی اجازت دیدی

اسرائیل، شام میں ایران کی موجودگی کو اپنے لئے خطرہ سمجھتا ہے؛ گوٹرش

اسمارٹ فون سے اب ڈیسک ٹاپ میں تصاویر منتقل کرنا آسان ہو گیا

نیب نے خادم پنجاب روڈ پروگرام اور میٹروبس میں کرپشن کی تحقیقات شروع کردیں

ایران کا مسافر بردار طیارہ گر کر تباہ، 66 مسافر سوار تھے

بھارتی اور داعشی کے خطرات میں پاک فوج کی سعودیہ عرب میں تعیناتی خلاف عقل ہے

عوام سے ووٹ لے کر آنا قانون سے بالاتر نہیں بنادیتا، عمران خان

حضرت فاطمہ زہرا (س) کی شہادت

آصف زرداری کا راؤ انوار سے متعلق اپنے بیان پر اظہارِ افسوس

توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگانے پر سخت سزا کی تجویز

عمران کو سزا پاکستان کے عدالتی نظام پر سوالیہ نشان ہے

ڈونلڈ ٹرمپ نے جنرل باجوہ کو مشرف تصور کر کے غلطی کی: برطانوی تھنک ٹینک

فخر سے کہہ سکتے ہیں پاکستانی سرزمین پر دہشتگردوں کا کوئی منظم کیمپ موجود نہیں، پاک آرمی چیف

نائیجیریا میں یکے بعد دیگرے 3 خودکش حملوں میں 22 افراد ہلاک

سعودیہ میں فوجی دستوں کی تعیناتی

ایران اور ہندوستان نے باہمی تعاون کے 15 معاہدوں اور دستاویزات پر دستخط کردیئے

پاکستانی فوجیوں کو سعودی عرب کے زمینی دفاع کو مضبوط کرنے کیلئے بھیجا گیا ہے، خرم دستگیر

17 امریکی سیکیورٹی سروسز کا پاکستانی ایٹمی پروگرام سے اظہارِ خوف

شام سے برطانیہ کے 100 دہشت گردوں کی واپسی کا خدشہ

آرام سے کھانا کھائیے، موٹاپے سے محفوظ رہیے

علامہ سید ساجد علی نقوی کا شہدائے سیہون شریف کی پہلی برسی سے خطاب

زینب کے گھر والوں کا مجرم کو سرِعام پھانسی دینے کا مطالبہ

زینب کے قاتل عمران علی کو 4 بار سزائے موت کا حکم

کرپشن الزامات کے حوالے سے اسرائیلی وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

پاکستان کی 98 فیصد خواتین کو طبی و تعلیمی سہولیات میسر نہیں

شیعہ حریت لیڈر یوسف ندیم کی ہلاکت قتل ناحق ہے، بار ایسوسی ایشن

پاکستانی سینیٹ کا فوجی دستہ سعودی عرب بھیجنے پر تشویش کا اظہار

اسرائیل میں وزیراعظم نتین یاہو کے خلاف ہزاروں افراد کا مظاہرہ

سعودی علماء کونسل : عرب خواتین کے لئے چادر اوڑھنا ضروری نہیں ہے

2017-11-11 02:35:43

پرویز مشرف کی سربراہی میں 23 جماعتوں کا ’اتحاد‘ قائم

Mushi

آل پاکستان مسلم لیگ (اے پی ایم ایل) نے سابق صدر و آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی سربراہی میں ’پاکستان عوامی اتحاد‘ کے نام سے 23 جماعتوں کا اتحاد قائم کرنے کا اعلان کردیا۔

آل پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی دفتر میں پرویز مشرف کی سربراہی میں قائم ہونے والے اتحاد کا اجلاس ہوا، جس میں ڈاکٹر محمد امجد، سردار عتیق احمد خان، اقبال ڈار اور دیگر قائدین نے شرکت کی۔

اجلاس میں آل پاکستان مسلم لیگ، پاکستان عوامی تحریک، مجلس وحدت المسلمین، سنی اتحاد کونسل، مسلم لیگ (جونیجو)، مسلم کانفرنس (کشمیر) اور پاکستان مزدور محاذ سمیت مجموعی طور پر 23 جماعتوں کے رہنما شریک ہوئے۔

اتحاد کی دیگر جماعتوں میں پاکستان سنی تحریک، پاکستان مسلم لیگ (کونسل)، پاکستان مسلم لیگ (نیشنل)، عوامی لیگ، پاک مسلم الائنس، کنزرویٹیو پارٹی، مہاجر اتحاد تحریک، پاکستان انسانی حقوق پارٹی، ملت پارٹی، جمعیت علماء پاکستان (نیازی گروپ)، عام لوگ پارٹی، عام آدمی پارٹی، پاکستان مساوات پارٹی، پاکستان منارٹی پارٹی، جمعیت مشائخ پاکستان اور سوشل جسٹس ڈیموکریٹک پارٹی شامل ہیں۔

اتحاد کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں قائم کیا گیا ہے جس کے چیئرمین پرویز مشرف جبکہ اقبال ڈار سیکریٹری جنرل ہوں گے۔

اس موقع پر نئے گرینڈ الائنس کا مشور بھی جلد پیش کرنے کا اعلان کیا گیا۔

بعد ازاں ویڈیو نیوز کانفرنس کرتے ہوئے پرویز مشرف نے کہا کہ ’جب بھی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی بات آتی ہے تو میرا نام لیا جاتا ہے، میں پاگل نہیں ہوں جو کراچی کی ایک چھوٹی لسانی جماعت کا سربراہ بن جاؤں، ایم کیو ایم کے ساتھ جو ہو رہا ہے اس پر تشویش ہے لیکن ایم کیو ایم پاکستان اب آدھی جماعت رہ گئی ہے، جبکہ میں فاروق ستار یا مصطفیٰ کمال کی جگہ نہیں لینا چاہتا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پی ایس پی اور ایم کیو ایم کا اتحاد ایک دن چلا اور ختم ہوگیا، اگر دونوں جماعتیں اتحاد کر لیں تو بہتر ہے، لیکن یہ دونوں اکٹھی ہو بھی گئیں تب بھی میں اس کا سربراہ نہیں بنوں گا۔‘

واضح رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کے سربراہان ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال نے’سیاسی اتحاد‘ کا اعلان کیا تھا۔

مصطفیٰ کمال کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ’ایک عرصے سے پی ایس پی اور ایم کیو ایم میں مشاورتی عمل جاری تھا، فیصلہ کیا ہے کہ مل کر سندھ بالخصوص کراچی کے عوام کی خدمت کریں اور بہترین ورکنگ ریلیشن شپ اور سیاسی اتحاد قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سیاسی اتحاد عارضی اور جزوی عمل نہیں، آئندہ انتخابات میں ایک نام، ایک نشان اور ایک منشور کو لے کر جائیں گے، آئندہ ملاقاتوں میں فریم ورک کو تشکیل دیں گے، اتحاد میں دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی دعوت دیں گے کیونکہ سندھ اور کراچی کی خدمت کے لیے دیگر جماعتوں کو بھی ساتھ ملانا ہوگا، جبکہ امید ہے اب ہمارے سیل دفاتر واپس مل جائیں گے۔‘

مصطفیٰ کمال نے فاروق ستار کے سیاسی اتحاد کے اعلان کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک انتخابی نشان کے ساتھ پارٹی کے لیے تیار ہیں، ہم ایک نشان، نام اور منشور پر مل کر ایسی قیادت نکالنا چاہتے ہیں جو پاکستان کی آواز بنے۔‘

دونوں جماعتوں کے اتحاد کے ایک روز بعد ہی فاروق ستار، مصطفیٰ کمال پر خوب گرجے برسے اور اپنی رابطہ کمیٹی سے بھی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کی سربراہی اور سیاست سے دستبرداری کا اعلان کیا۔

تاہم اس کے اعلان کے ایک گھنٹے کے اندر ہی انہوں نے اپنی والدہ کی خواہش پر اپنا یہ فیصلہ واپس لے لیا۔

مزید پڑھیں: ‘پاک سر زمین’ میں مشرف کا مستقبل

ویڈیو نیوز کانفرنس کے دوران سابق صدر کا کہنا تھا کہ ’وقت کی ضرورت ہے کہ اب تمام مہاجر اتحاد کریں اور میری سربراہی میں پاکستان عوامی اتحاد میں شامل ہوجائیں، میں کسی ایک جماعت کی نہیں بلکہ ایک بڑے الائنس کی سربراہی کرنا چاہتا ہوں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’کراچی اور مہاجروں کے مسائل کا حل صرف اتحاد میں ہے، مہاجر مل جائیں اور ایک نئے نام سے پارٹی بنا لیں، ایم کیو ایم اور مہاجر نام بدنام ترین ہوچکے ہیں، مہاجر برادری خود کو پاکستانی کہے اور نئے نام کے ساتھ متحد ہوجائیں، یہ سب اکٹھے ہوجائیں تو ایک نئی قوت بنتی ہے جو پاکستانی قوت ہوگی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی سیاست میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے اور جو کچھ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کر رہی ہیں انہیں ہینڈل کرنے والے لوگ پاکستان میں موجود ہیں، پنجاب میں پیپلز پارٹی ختم ہوچکی ہے، (ن) لیگ نے پنجاب اور پیپلز پارٹی نے سندھ میں تباہی مچائی ہوئی ہے جس کا اتحاد سے خاتمہ کریں گے۔‘

اپنے خلاف کیسز کے حوالے سے سابق صدر نے کہا کہ ’میں کیسز کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں، پہلے نواز شریف عدالتوں کو چلاتے تھے لیکن اب حالات بدل رہے ہیں، نواز شریف کا سیاسی مستقبل ختم ہوچکا ہے، عدالتوں اور جے آئی ٹی میں جو ہو رہا ہے وہ ہونا چاہیے، جبکہ میرے آنے سے احتساب کا عمل متاثر نہیں ہونا چاہیے۔‘

انتخابات سے متعلق انہوں نے کہا کہ ’الیکشن سے اگر مسائل کا حل مل رہا ہے تو ہمیں الیکشن کی طرف جانا چاہیے ورنہ پاکستان کو پٹڑی پر چڑھانے کے لیے کچھ اور اقدامات کرنا ہوں گے۔‘

اس موقع پر سیکریٹری جنرل اے پی ایم ایل ڈاکٹر امجد نے 25 نومبر کو ایوان اقبال لاہور میں کنونش اور دسمبر میں کراچی میں بڑا جلسہ کرنے کا اعلان کیا۔

زمرہ جات:   پاکستان ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)