پرویز مشرف کی سربراہی میں 23 جماعتوں کا ’اتحاد‘ قائم

شیعہ اور اہل سنت علماء نے توحید کو زندہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے

دعا کو زبان پر لانے کی اتنی تاکید کیوں؟

ملی یکجہتی کونسل کی جانب سے ناصر شیرازی کی بازیابی کامطالبہ

جب شامی عوام کے سر کاٹے جارہے تھے اس وقت عرب لیگ کہاں تھی؟

نائجیریا کی مسجد میں خودکش حملے میں 50 افراد جاں بحق

سپریم کورٹ نے اسلام آباد دھرنے کا نوٹس لے لیا

کویت میں اسرائیل مخالف کانفرنس منعقد

افریقی مہاجرین کی بطور غلام نیلامی

عمران خان کی طالبان کے باپ سمیع الحق سے ملاقات کیا رنگ لائے گی؟

سعودی بادشاہی دربار کا تازہ ترین راز فاش

’بوسنیا کے قصائی‘ کی کہانی کا المناک اختتام

فیض آباد دھرنا

نواز شریف کیسے نظریہ بن رہا ہے

داعش کی شکست کے بعد اس کے حامی نئے منصوبوں پر کام کریں گے: ایران

عرب لیگ کا بیانیہ مضحکہ خیز ہے: سید حسن نصر اللہ

سعودیہ کے نام نہاد عسکری اتحاد کا تشکیل کے دو سال بعد پہلا اجلاس

اسرائیل کے کئی مسلم ممالک سے خفیہ رابطے ہیں: صہیونی وزیر کا دعویٰ

ربیع الاول کا مہینہ دیگر تمام مہینوں پر شرافت رکھتا ہے

سازشی چاہتے ہیں ملک میں لال مسجد اور ماڈل ٹاؤن جیسا واقعہ ہو: وزیر داخلہ

ناصر شیرازی کی بازیابی کے لئےآل پارٹیز کانفرنس

لبنان ہر طرح کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا

ایران کے خلاف اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعاون جاری

سعودی عرب کو خطے میں جنگی جنون اور تفرقہ کے بجائے امن و ثبات کے لئے تلاش کرنی چاہیے

امام حسن(ع) کی معاویہ کےساتھ صلح، آپ کی مظلومیت کی دلیل تھی

انتظار کی فضیلت اور منتظر کا ثواب

دھرنا ختم کرنے کے لیے آپریشن کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے: وزیر داخلہ

قطر کا ایران کے ساتھ رابطہ منفرد اور بے مثال

داعش نے پہلی بار کشمیر میں حملے کی ذمہ داری قبول کرلی

دائیں بازو کی جماعتوں کی صف بندی کیا رنگ لائے گی؟

شیعوں کی بیداری، امریکہ اور سعودیہ کے لئے ایک بڑا خطرہ

ارب پتی شہزادہ ولید بن طلال کی خود کشی کرنے کی کوشش

اسرائیل:دشمن ملک سے اتحادی ملک تک کا سفر

امام حسن مجتبی (ع) کےنورانی اقوال

اچهی زندگی کے لیے امام حسن (ع) کی تعلیمات

امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں موجود نظریات کا جائزہ

القاعدہ برصغیر کا بھارتی خفیہ ایجنسی "را" کیساتھ گٹھ جوڑ کا انکشاف

مقبوضہ کشمیر میں رحلت رسول و شہادت نواسہ رسول(ص) کی مناسبت سے جلوس و مجالس عزاء کا اہتمام

رسول اکرم (ص) کی رحلت اور امام حسن مجتبی (ع) کی شہادت کی مناسبت سے عالم اسلام سوگوار

’’نا اہل‘‘ قرار دیا گیا تو سیاست چھوڑ دوں گا،عمران خان

فیض آباد کا دھرنا اور مذہبی حرمت کا سوال

جب حکومت اغوا برائے تاوان میں ملوث ہو ۔۔۔۔!

وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے استعفیٰ دے دیا

ترکی کا امریکہ کی طرف سے دہشت گردوں کی حمایت پر مبنی اسناد فاش کرنے کا اعلان

فرانس کو ایران کے داخلی امور میں مداخلت نہ کرنے کا مشورہ

سعودی عرب اور امارات کو بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنا چاہیے

سعودی عرب نے جرمنی سے اپنا سفیر احتجاجا واپس بلالیا

اسلام آباد میں دھرنا مظاہرین کے خلاف آپریشن 24 گھنٹے کیلئے موخر

الحوثی: بحیرہ احمر سے تیل منتقل کرنے کا راستہ بند کردینگے

مشر ق وسطیٰ ایک نئے طوفان کی جانب گامزن

داعش کی پسپائی کے بعد کیا اب حزب اللہ نشانے پر ہے؟

سعودیہ کے داخلی اختلافات، کس کے حق میں ہیں؟ امریکہ یا روس

'یمن کی سرحدیں نہ کھولی گئیں تو لاکھوں افراد ہلاک ہوجائیں گے'

ناصرشیرازی کی غیر قانونی گرفتاری، دوسرے ہفتے بھی پنجاب حکومت مخالف ملک گیر احتجاج

سعودی عرب تاریخی حقائق سے چشم پوشی کر رہا ہے: ایران

عراق میں داعش کا کام تمام، آخری شہر راوہ بھی آزاد

ایران کے زلزلہ زدگان کے لیے پاکستان کی امداد

پیغمبر اسلام (ص) کی اپنے اہلبیت (ع) سے محبت نیز اخلاق، نیکی اور مہربانی پر تاکید

دھرنا ختم نہ ہوا تو حکومت کو مجبوراً عدالتی حکم پرعمل کرنا ہوگا: احسن اقبال

تصاویر: کربلائے معلی میں شیعوں کا عظيم اجتماع

درگاہ لعل شہباز قلندر دھماکے کا مرکزی ملزم گرفتار

فرانس کے بیان پر ایران کا رد عمل

سعودی شاہ سلمان کا بیٹے کے حق میں تخت سے دستبرداری کا امکان

لبنانی عوام نے باہمی اتحاد سے سعودی عرب کی سازش کو ناکام بنادیا

سعودی مفتی کو تل ابیب آنے کی دعوت دی گئی

کیا امت مسلمہ اور عرب دنیا کے لئے اصل خطرہ ایران ہے ؟؟؟

تربت کے قریب 15 افراد کا قتل: دہشت گردی یا انسانی اسمگلنگ؟

سعودی شاہی خاندان کے اندرونی جھگڑوں کی داستان

’اسرائیل،سعودی عرب سے ایران سے متعلق انٹیلیجنس شیئرنگ کیلئے تیار‘

دھرنا مافیا کے سامنے وزیر قانون اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی بے بسی

کائنات میں سرورکائنات اور سبط اکبر کا ماتم

2017-11-11 02:35:43

پرویز مشرف کی سربراہی میں 23 جماعتوں کا ’اتحاد‘ قائم

Mushi

آل پاکستان مسلم لیگ (اے پی ایم ایل) نے سابق صدر و آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی سربراہی میں ’پاکستان عوامی اتحاد‘ کے نام سے 23 جماعتوں کا اتحاد قائم کرنے کا اعلان کردیا۔

آل پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی دفتر میں پرویز مشرف کی سربراہی میں قائم ہونے والے اتحاد کا اجلاس ہوا، جس میں ڈاکٹر محمد امجد، سردار عتیق احمد خان، اقبال ڈار اور دیگر قائدین نے شرکت کی۔

اجلاس میں آل پاکستان مسلم لیگ، پاکستان عوامی تحریک، مجلس وحدت المسلمین، سنی اتحاد کونسل، مسلم لیگ (جونیجو)، مسلم کانفرنس (کشمیر) اور پاکستان مزدور محاذ سمیت مجموعی طور پر 23 جماعتوں کے رہنما شریک ہوئے۔

اتحاد کی دیگر جماعتوں میں پاکستان سنی تحریک، پاکستان مسلم لیگ (کونسل)، پاکستان مسلم لیگ (نیشنل)، عوامی لیگ، پاک مسلم الائنس، کنزرویٹیو پارٹی، مہاجر اتحاد تحریک، پاکستان انسانی حقوق پارٹی، ملت پارٹی، جمعیت علماء پاکستان (نیازی گروپ)، عام لوگ پارٹی، عام آدمی پارٹی، پاکستان مساوات پارٹی، پاکستان منارٹی پارٹی، جمعیت مشائخ پاکستان اور سوشل جسٹس ڈیموکریٹک پارٹی شامل ہیں۔

اتحاد کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں قائم کیا گیا ہے جس کے چیئرمین پرویز مشرف جبکہ اقبال ڈار سیکریٹری جنرل ہوں گے۔

اس موقع پر نئے گرینڈ الائنس کا مشور بھی جلد پیش کرنے کا اعلان کیا گیا۔

بعد ازاں ویڈیو نیوز کانفرنس کرتے ہوئے پرویز مشرف نے کہا کہ ’جب بھی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی بات آتی ہے تو میرا نام لیا جاتا ہے، میں پاگل نہیں ہوں جو کراچی کی ایک چھوٹی لسانی جماعت کا سربراہ بن جاؤں، ایم کیو ایم کے ساتھ جو ہو رہا ہے اس پر تشویش ہے لیکن ایم کیو ایم پاکستان اب آدھی جماعت رہ گئی ہے، جبکہ میں فاروق ستار یا مصطفیٰ کمال کی جگہ نہیں لینا چاہتا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پی ایس پی اور ایم کیو ایم کا اتحاد ایک دن چلا اور ختم ہوگیا، اگر دونوں جماعتیں اتحاد کر لیں تو بہتر ہے، لیکن یہ دونوں اکٹھی ہو بھی گئیں تب بھی میں اس کا سربراہ نہیں بنوں گا۔‘

واضح رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کے سربراہان ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال نے’سیاسی اتحاد‘ کا اعلان کیا تھا۔

مصطفیٰ کمال کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ’ایک عرصے سے پی ایس پی اور ایم کیو ایم میں مشاورتی عمل جاری تھا، فیصلہ کیا ہے کہ مل کر سندھ بالخصوص کراچی کے عوام کی خدمت کریں اور بہترین ورکنگ ریلیشن شپ اور سیاسی اتحاد قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سیاسی اتحاد عارضی اور جزوی عمل نہیں، آئندہ انتخابات میں ایک نام، ایک نشان اور ایک منشور کو لے کر جائیں گے، آئندہ ملاقاتوں میں فریم ورک کو تشکیل دیں گے، اتحاد میں دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی دعوت دیں گے کیونکہ سندھ اور کراچی کی خدمت کے لیے دیگر جماعتوں کو بھی ساتھ ملانا ہوگا، جبکہ امید ہے اب ہمارے سیل دفاتر واپس مل جائیں گے۔‘

مصطفیٰ کمال نے فاروق ستار کے سیاسی اتحاد کے اعلان کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک انتخابی نشان کے ساتھ پارٹی کے لیے تیار ہیں، ہم ایک نشان، نام اور منشور پر مل کر ایسی قیادت نکالنا چاہتے ہیں جو پاکستان کی آواز بنے۔‘

دونوں جماعتوں کے اتحاد کے ایک روز بعد ہی فاروق ستار، مصطفیٰ کمال پر خوب گرجے برسے اور اپنی رابطہ کمیٹی سے بھی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کی سربراہی اور سیاست سے دستبرداری کا اعلان کیا۔

تاہم اس کے اعلان کے ایک گھنٹے کے اندر ہی انہوں نے اپنی والدہ کی خواہش پر اپنا یہ فیصلہ واپس لے لیا۔

مزید پڑھیں: ‘پاک سر زمین’ میں مشرف کا مستقبل

ویڈیو نیوز کانفرنس کے دوران سابق صدر کا کہنا تھا کہ ’وقت کی ضرورت ہے کہ اب تمام مہاجر اتحاد کریں اور میری سربراہی میں پاکستان عوامی اتحاد میں شامل ہوجائیں، میں کسی ایک جماعت کی نہیں بلکہ ایک بڑے الائنس کی سربراہی کرنا چاہتا ہوں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’کراچی اور مہاجروں کے مسائل کا حل صرف اتحاد میں ہے، مہاجر مل جائیں اور ایک نئے نام سے پارٹی بنا لیں، ایم کیو ایم اور مہاجر نام بدنام ترین ہوچکے ہیں، مہاجر برادری خود کو پاکستانی کہے اور نئے نام کے ساتھ متحد ہوجائیں، یہ سب اکٹھے ہوجائیں تو ایک نئی قوت بنتی ہے جو پاکستانی قوت ہوگی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی سیاست میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے اور جو کچھ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کر رہی ہیں انہیں ہینڈل کرنے والے لوگ پاکستان میں موجود ہیں، پنجاب میں پیپلز پارٹی ختم ہوچکی ہے، (ن) لیگ نے پنجاب اور پیپلز پارٹی نے سندھ میں تباہی مچائی ہوئی ہے جس کا اتحاد سے خاتمہ کریں گے۔‘

اپنے خلاف کیسز کے حوالے سے سابق صدر نے کہا کہ ’میں کیسز کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں، پہلے نواز شریف عدالتوں کو چلاتے تھے لیکن اب حالات بدل رہے ہیں، نواز شریف کا سیاسی مستقبل ختم ہوچکا ہے، عدالتوں اور جے آئی ٹی میں جو ہو رہا ہے وہ ہونا چاہیے، جبکہ میرے آنے سے احتساب کا عمل متاثر نہیں ہونا چاہیے۔‘

انتخابات سے متعلق انہوں نے کہا کہ ’الیکشن سے اگر مسائل کا حل مل رہا ہے تو ہمیں الیکشن کی طرف جانا چاہیے ورنہ پاکستان کو پٹڑی پر چڑھانے کے لیے کچھ اور اقدامات کرنا ہوں گے۔‘

اس موقع پر سیکریٹری جنرل اے پی ایم ایل ڈاکٹر امجد نے 25 نومبر کو ایوان اقبال لاہور میں کنونش اور دسمبر میں کراچی میں بڑا جلسہ کرنے کا اعلان کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

زمرہ جات:   پاکستان ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

یادوں کے جھروکے

- سحر نیوز

افکار و نظریات

- سحر نیوز

جام جم - 21 نومبر

- سحر نیوز