ایم کیو ایم العالمی سے ایم کیو ایم الزمینی

پاکستان کے لبرل انگریزی پریس میں کمرشل ازم کا بڑھتا رجحان – عامر حسینی

ایران ہر اس تنظیم کی حمایت کرے گا جو دہشت گردوں کے خلاف جنگ کرے گی

نواز شریف پر سپریم کورٹ کا ایک اور وار

چیف جسٹس کا تبصرہ پسپائی کا اشارہ ہے یا مقابلے کا اعلان؟

سپریم کورٹ کا فیصلہ انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے، ترجمان مسلم لیگ (ن)

نواز شریف، ن لیگ کی صدارت سے فارغ، فیصلے نے کئی سوالات اٹھادیئے

پاکستانی فوج سعودی عرب بھیجنے کے فیصلے کی مخالفت

نواز شریف پارٹی صدارت سے بھی نااہل، سپریم کورٹ کا فیصلہ

تصاویر: مراجع عظام کا حضرت معصومہ (س) کے حرم کی طرف پیدل مارچ

ترکی میں بچوں سے زیادتی کے ملزمان کی جنسی صلاحیت ختم کرنے پر غور

شام میں بچوں کی ہلاکتوں پر الفاظ ختم، یونیسیف نے خالی اعلامیہ جاری کردیا

پاکستان کو دہشت گردی کی واچ لسٹ میں شامل کرنے کی امریکی کوشش ناکام

عدالت نے اقامہ پر نااہل کرکے نواز شریف کو سڑکوں پر نکلنے کا موقع دے دیا، عمران خان

امریکہ کی شام میں موجودگی عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے؛ سرگئی لاوروف

ڈونلڈ ٹرمپ امریکی تاریخ کے بدترین صدر قرار

پاکستانی فوج سعودی عرب بھیجے جانے کی مخالفت

شاہ سلمان اپنے بیٹے کی پالیسیوں پر غصہ ہیں؛ رای الیوم

پارلیمنٹ بمقابلہ عدلیہ: تصادم سے کیا برآمد ہوگا

پارلیمنٹ آئین سے متصادم قانون نہیں بنا سکتی، چیف جسٹس پاکستان

انتخابات اور قومی تعلیم و تربیت

تصاویر: امریکہ میں ہتھیار رکھنے کے خلاف مظاہرہ

جس سے فاطمہ (س) ناراض ہوں اس سے اللہ تعالی ناراض ہوتا ہے

پارلیمنٹ کو عدلیہ کے خلاف استعمال کیا گیا تو سڑکوں پر نکلیں گے، عمران خان

رسول خدا کی بیٹی کی شہادت کا سوگ

سی پیک کے تحفظ کیلئے چین اور بلوچ علیحدگی پسندوں میں خفیہ مذاکرات کا انکشاف

تمام عالم میں جگر گوشہ رسول کا ماتم

مسجد الحرام میں تاش کھیلنے والی خواتین کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

پاکستانی سکولوں میں چینی زبان لازمی، سینیٹ میں قرارداد منظور

خود کشی کی کوشش جرم نہیں بیماری، سینیٹ میں سزا ختم کرنے کا ترمیمی بل منظور

امریکہ شام میں آگ سے نہ کھیلے : روس

کیا فدک حضرت زہرا (س) کے موقوفات میں سے تھا یا نہیں؟

لعل شہباز قلندر کے مزار پہ بم دھماکے میں تکفیری دیوبندی خطیب لال مسجد کے رشتے دار ملوث ہیں – سندھ پولیس/ رپورٹ بی بی سی اردو

اسرائیل کے ناقابل شکست ہونے کا افسانہ ختم ہو چکا ہے

 فرانسیسی زبان میں حضرت زهرا (س) کے لیے مرثیه‌ خوانی 

سعودی عرب کو شرک اورکفر کے فتوے نہ دینے کا مشورہ

ایرانی طیارے کے حادثے پر پاکستان کی تعزیت

سعودی عرب میں غیر ملکی خاتون سے اجتماعی زیادتی

کوئی ملک پاکستان کو دہشت گردی کی بنا پر واچ لسٹ میں نہیں ڈال سکتا، احسن اقبال

بلوچ ـ مذہبی شدت پسندی – ذوالفقار علی ذوالفی

تصاویر: شام میں ترکی کے حمایت یافتہ افراد کی کردوں کے خلاف جنگ

دنیا پاکستان کا سچ تسلیم کیوں نہیں کرتی؟

سعودی عرب نے عورتوں کو شوہر کی اجازت کے بغیر کار و بار کی اجازت دیدی

اسرائیل، شام میں ایران کی موجودگی کو اپنے لئے خطرہ سمجھتا ہے؛ گوٹرش

اسمارٹ فون سے اب ڈیسک ٹاپ میں تصاویر منتقل کرنا آسان ہو گیا

نیب نے خادم پنجاب روڈ پروگرام اور میٹروبس میں کرپشن کی تحقیقات شروع کردیں

ایران کا مسافر بردار طیارہ گر کر تباہ، 66 مسافر سوار تھے

بھارتی اور داعشی کے خطرات میں پاک فوج کی سعودیہ عرب میں تعیناتی خلاف عقل ہے

عوام سے ووٹ لے کر آنا قانون سے بالاتر نہیں بنادیتا، عمران خان

حضرت فاطمہ زہرا (س) کی شہادت

آصف زرداری کا راؤ انوار سے متعلق اپنے بیان پر اظہارِ افسوس

توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگانے پر سخت سزا کی تجویز

عمران کو سزا پاکستان کے عدالتی نظام پر سوالیہ نشان ہے

ڈونلڈ ٹرمپ نے جنرل باجوہ کو مشرف تصور کر کے غلطی کی: برطانوی تھنک ٹینک

فخر سے کہہ سکتے ہیں پاکستانی سرزمین پر دہشتگردوں کا کوئی منظم کیمپ موجود نہیں، پاک آرمی چیف

نائیجیریا میں یکے بعد دیگرے 3 خودکش حملوں میں 22 افراد ہلاک

سعودیہ میں فوجی دستوں کی تعیناتی

ایران اور ہندوستان نے باہمی تعاون کے 15 معاہدوں اور دستاویزات پر دستخط کردیئے

پاکستانی فوجیوں کو سعودی عرب کے زمینی دفاع کو مضبوط کرنے کیلئے بھیجا گیا ہے، خرم دستگیر

17 امریکی سیکیورٹی سروسز کا پاکستانی ایٹمی پروگرام سے اظہارِ خوف

شام سے برطانیہ کے 100 دہشت گردوں کی واپسی کا خدشہ

آرام سے کھانا کھائیے، موٹاپے سے محفوظ رہیے

علامہ سید ساجد علی نقوی کا شہدائے سیہون شریف کی پہلی برسی سے خطاب

زینب کے گھر والوں کا مجرم کو سرِعام پھانسی دینے کا مطالبہ

زینب کے قاتل عمران علی کو 4 بار سزائے موت کا حکم

کرپشن الزامات کے حوالے سے اسرائیلی وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

پاکستان کی 98 فیصد خواتین کو طبی و تعلیمی سہولیات میسر نہیں

شیعہ حریت لیڈر یوسف ندیم کی ہلاکت قتل ناحق ہے، بار ایسوسی ایشن

پاکستانی سینیٹ کا فوجی دستہ سعودی عرب بھیجنے پر تشویش کا اظہار

اسرائیل میں وزیراعظم نتین یاہو کے خلاف ہزاروں افراد کا مظاہرہ

سعودی علماء کونسل : عرب خواتین کے لئے چادر اوڑھنا ضروری نہیں ہے

2017-11-12 04:45:50

ایم کیو ایم العالمی سے ایم کیو ایم الزمینی

mqm pak

بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے مختلف دھڑوں کی حالیہ سیاست، سیاست سے کہیں زیادہ اُس سلسلہ وار کہانی کی شکل اختیار کرچکی ہے جس میں بیک وقت جذباتیت، سطحیت، مزاح، حماقت، یوٹرن اور نجانے کیا کیا شامل ہوچکا۔

پاکستان بنانے والے پڑھے لکھے مہاجروں کی نئی نسل کی سیاست دیکھ کر اب بہت افسوس ہوتا ہے کہ کیا تھے، کیا ہوگئے۔

گزشتہ تین چار روز میں ہونے والی تبدیلیوں کے بابت کراچی کے صحافتی حلقوں میں پہلے سے ہی بات ہورہی تھی کہ اب پاکستان میں موجود ایم کیو ایم کے مختلف دھڑے، چاہے وہ پاکستان کے نام سے ہوں، پاک سرزمین پارٹی یا دبئی میں بیٹھے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت العباد، سب کو ایک ہی منزل کا راہی بن جانا ہے۔

بدھ کی سہ پہر جب مختلف نشریاتی اداروں کی اسکرینز پر سرخ پٹیاں چلنے لگیں کہ فاروق ستار نے اہم پریس کانفرنس بلُا لی ہے تو پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے صحافیوں کا جمِ غفیر پلک جھپکتے پریس کلب پہنچ گیا جہاں فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال نے ایک اور تاریخی پریس کانفرنس کرنی تھی۔

دھماکہ خیز پریس کانفرنسوں کا طویل تجربہ پیپلزپارٹی کے سابق رہنماء ذوالفقار مرزا بھی رکھتے ہیں، خیر۔

متحدہ و پی ایس پی کی مشترکہ پریس کانفرنس سے ایک ہی بات سمجھ آئی کہ جو کچھ ہوا بہت تیزی اور کچھ بھونڈے انداز سے ہوا ہے، جلد بازی کا عنصر بتارہا تھا کہ دیگ وقت سے پہلے ہی اتر گئی اور بہت سے دانے کچے رہ گئے ہیں، یہی وجہ تھی کہ پریس کانفرنس میں بیک وقت اتحاد و انضمام کی بات ہوئی اور پھر یہی بات اس قدر آگے بڑھی کہ فاروق ستار جیسے صلح جو لیڈر نے اپنے بانی و قائد کی روش پر چلتے ہوئے سیاست و پارٹی قیادت سے الگ ہونے کا چند گھنٹوں کا فیصلہ کرلیا۔

ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ان کی غیر موجودگی میں ہوا اور اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ یہ سیاسی اتحاد ہے نہ کہ انضمام۔

شاید یہی بات فاروق ستار سیدھا دل پر لے گئے اور پارٹی سے روٹھ کر اپنے گھر چلے گئے، بعدازاں رابطہ کمیٹی ان کی رہائش گاہ پہنچیں اور بقول فاروق ستار کہ ان کی والدہ کے پیر پکڑ کر متحدہ پاکستان کی قیادت نے انہیں دوبارہ سیاست میں حصہ لینے پر مجبور کیا۔

کہانی کا یہ جذباتی لمحہ بھی مکمل ہوا اور دو دن پہلے پاک سرزمین پارٹی کے ساتھ ایک منشور و نشان کے تحت الیکشن لڑنے کا اعلان کرنے والے فاروق ستار نے نوید دی کہ ایم کیو ایم کا نام و نشان برقرار رہے گا، اب موجودہ صورتحال کب تک رہتی یہ الگ معاملہ ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے ایم کیو ایم و پی ایس پی کے اشتراک کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ بے جوڑ نکاح دراصل ڈرامہ بازی اور جہیز کو لوٹنے کی ایک کوشش ہے، جسے تسلیم نہیں کرتے۔

پاکستان کے دیگر شہروں میں بسنے والے لوگوں اور بالخصوص سیاسی کارکنوں میں یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ مہاجر سیاست کا یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اور 2018 کے عام انتخابات میں کس جماعت کو اپنی نمائندگی سونپے گا؟

سچی بات تو یہی ہے کہ اردو بولنے والوں کی اکثریت کا ووٹ اس وقت بھی ایم کیو ایم لندن سے جُڑا ہوا ہے اور اس کے بعد ایم کیو ایم پاکستان سے، الطاف حسین سے اردو بولنے والوں کے اس تعلق کی الگ وجہ ہے جسے تلاش کرنے کے لیے ایوب خان کے دور اور بعدازاں سندھی اردو تنازعے، اور پھر کوٹہ سسٹم نے اس خلیج کو مزید تقسیم کیا، کے ابواب کھولنے پڑیں گے۔

الطاف حسین سے بطور مہاجر شناخت پانے والی قوم بتدریج قومی سیاست سے لسانیت اور نسل پرستی کی سیاست کی اسیر ہوگئی اور بدقسمتی سے اب تک اس سے نہ نکل سکی، اس دوران کچے و پکے قلعے کے سانحات اور 12 مئی جیسے واقعات نے صورتحال کو تبدیل کیا اور گزشتہ برس پاکستان کے خلاف نعرے لگا کر الطاف حسین نے سیاسی صورتحال کو مکمل طور پر تبدیل کرلیا۔

یہ الگ موضوع ہے کہ الطاف حسین کی نظریاتی ایم کیو ایم کیسے بھتے اور قتل و غارت گری کی جانب متوجہ ہوئی اور لیاقت آباد میں رہنے والی غریب قیادت ڈیفنس کے پوش بنگلوں میں منتقل ہوئی؟ ممکن ہے کہ الطاف حسین یہاں ہوتے اور انہیں لندن میں اخراجات کے واسطے بھاری رقوم درکار نہ ہوتیں تو شاید مہاجر سیاست اپنے علاقوں میں رہتی اور شاید کرپشن اس درجے کو نہ پہنچتی اور نہ ہی شہری ادارے یوں برباد ہوتے۔

کراچی میں جاری آپریشن نے ایم کیو ایم کے عسکری ونگ کو کمزور کردیا، جس کا ٹیسٹ کیس نائن زیرو چھاپے اور صولت مرزا کی پھانسی کے بعد شہر کھلا رہنا اور ایک گملا بھی نہ ٹوٹنا تھا، اعصاب کی اس جنگ میں ایم کیو ایم کو شکست ہوئی لیکن انتخابی میدان میں وہ ابھی بھی ایک حقیقی چیلنج ہے جس کا مقابلہ پاک سرزمین پارٹی کرنے میں ناکام رہی ہے، البتہ 2013 کے عام انتخابات میں کراچی والوں نے تحریک انصاف کو ووٹ دے کر الطاف حسین کو سرپرائز دیا تھا لیکن خود تحریک انصاف ہی اپنی طرف آنے والے ووٹ کو سنبھالنے سے قاصر رہی جس کی وجہ سے یہی ووٹ دوبارہ ایم کیو ایم پاکستان کی طرف جاچکا، کراچی کی سیاست پلٹ ضرور رہی ہے مگر فی الحال اس میں جوہری تبدیلی کا امکان نہیں ہے کیونکہ ووٹر بہرحال ایم کیو ایم کے ساتھ ہے اور وہ تقسیم کچھ یوں ہے۔

ایم کیو ایم العالمی

ایم کیو ایم المقامی

ایم کیو ایم الحقیقی

ایم کیو ایم الزمینی

یعنی لندن پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کے درمیان ہی رہے گا، اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ ووٹ مہاجر نظریے ہی کا ہے، مگر کسی قدر ترمیم کیساتھ۔

فیض اللہ خان

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)