ایم کیو ایم العالمی سے ایم کیو ایم الزمینی

شیعہ اور اہل سنت علماء نے توحید کو زندہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے

دعا کو زبان پر لانے کی اتنی تاکید کیوں؟

ملی یکجہتی کونسل کی جانب سے ناصر شیرازی کی بازیابی کامطالبہ

جب شامی عوام کے سر کاٹے جارہے تھے اس وقت عرب لیگ کہاں تھی؟

نائجیریا کی مسجد میں خودکش حملے میں 50 افراد جاں بحق

سپریم کورٹ نے اسلام آباد دھرنے کا نوٹس لے لیا

کویت میں اسرائیل مخالف کانفرنس منعقد

افریقی مہاجرین کی بطور غلام نیلامی

عمران خان کی طالبان کے باپ سمیع الحق سے ملاقات کیا رنگ لائے گی؟

سعودی بادشاہی دربار کا تازہ ترین راز فاش

’بوسنیا کے قصائی‘ کی کہانی کا المناک اختتام

فیض آباد دھرنا

نواز شریف کیسے نظریہ بن رہا ہے

داعش کی شکست کے بعد اس کے حامی نئے منصوبوں پر کام کریں گے: ایران

عرب لیگ کا بیانیہ مضحکہ خیز ہے: سید حسن نصر اللہ

سعودیہ کے نام نہاد عسکری اتحاد کا تشکیل کے دو سال بعد پہلا اجلاس

اسرائیل کے کئی مسلم ممالک سے خفیہ رابطے ہیں: صہیونی وزیر کا دعویٰ

ربیع الاول کا مہینہ دیگر تمام مہینوں پر شرافت رکھتا ہے

سازشی چاہتے ہیں ملک میں لال مسجد اور ماڈل ٹاؤن جیسا واقعہ ہو: وزیر داخلہ

ناصر شیرازی کی بازیابی کے لئےآل پارٹیز کانفرنس

لبنان ہر طرح کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا

ایران کے خلاف اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعاون جاری

سعودی عرب کو خطے میں جنگی جنون اور تفرقہ کے بجائے امن و ثبات کے لئے تلاش کرنی چاہیے

امام حسن(ع) کی معاویہ کےساتھ صلح، آپ کی مظلومیت کی دلیل تھی

انتظار کی فضیلت اور منتظر کا ثواب

دھرنا ختم کرنے کے لیے آپریشن کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے: وزیر داخلہ

قطر کا ایران کے ساتھ رابطہ منفرد اور بے مثال

داعش نے پہلی بار کشمیر میں حملے کی ذمہ داری قبول کرلی

دائیں بازو کی جماعتوں کی صف بندی کیا رنگ لائے گی؟

شیعوں کی بیداری، امریکہ اور سعودیہ کے لئے ایک بڑا خطرہ

ارب پتی شہزادہ ولید بن طلال کی خود کشی کرنے کی کوشش

اسرائیل:دشمن ملک سے اتحادی ملک تک کا سفر

امام حسن مجتبی (ع) کےنورانی اقوال

اچهی زندگی کے لیے امام حسن (ع) کی تعلیمات

امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں موجود نظریات کا جائزہ

القاعدہ برصغیر کا بھارتی خفیہ ایجنسی "را" کیساتھ گٹھ جوڑ کا انکشاف

مقبوضہ کشمیر میں رحلت رسول و شہادت نواسہ رسول(ص) کی مناسبت سے جلوس و مجالس عزاء کا اہتمام

رسول اکرم (ص) کی رحلت اور امام حسن مجتبی (ع) کی شہادت کی مناسبت سے عالم اسلام سوگوار

’’نا اہل‘‘ قرار دیا گیا تو سیاست چھوڑ دوں گا،عمران خان

فیض آباد کا دھرنا اور مذہبی حرمت کا سوال

جب حکومت اغوا برائے تاوان میں ملوث ہو ۔۔۔۔!

وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے استعفیٰ دے دیا

ترکی کا امریکہ کی طرف سے دہشت گردوں کی حمایت پر مبنی اسناد فاش کرنے کا اعلان

فرانس کو ایران کے داخلی امور میں مداخلت نہ کرنے کا مشورہ

سعودی عرب اور امارات کو بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنا چاہیے

سعودی عرب نے جرمنی سے اپنا سفیر احتجاجا واپس بلالیا

اسلام آباد میں دھرنا مظاہرین کے خلاف آپریشن 24 گھنٹے کیلئے موخر

الحوثی: بحیرہ احمر سے تیل منتقل کرنے کا راستہ بند کردینگے

مشر ق وسطیٰ ایک نئے طوفان کی جانب گامزن

داعش کی پسپائی کے بعد کیا اب حزب اللہ نشانے پر ہے؟

سعودیہ کے داخلی اختلافات، کس کے حق میں ہیں؟ امریکہ یا روس

'یمن کی سرحدیں نہ کھولی گئیں تو لاکھوں افراد ہلاک ہوجائیں گے'

ناصرشیرازی کی غیر قانونی گرفتاری، دوسرے ہفتے بھی پنجاب حکومت مخالف ملک گیر احتجاج

سعودی عرب تاریخی حقائق سے چشم پوشی کر رہا ہے: ایران

عراق میں داعش کا کام تمام، آخری شہر راوہ بھی آزاد

ایران کے زلزلہ زدگان کے لیے پاکستان کی امداد

پیغمبر اسلام (ص) کی اپنے اہلبیت (ع) سے محبت نیز اخلاق، نیکی اور مہربانی پر تاکید

دھرنا ختم نہ ہوا تو حکومت کو مجبوراً عدالتی حکم پرعمل کرنا ہوگا: احسن اقبال

تصاویر: کربلائے معلی میں شیعوں کا عظيم اجتماع

درگاہ لعل شہباز قلندر دھماکے کا مرکزی ملزم گرفتار

فرانس کے بیان پر ایران کا رد عمل

سعودی شاہ سلمان کا بیٹے کے حق میں تخت سے دستبرداری کا امکان

لبنانی عوام نے باہمی اتحاد سے سعودی عرب کی سازش کو ناکام بنادیا

سعودی مفتی کو تل ابیب آنے کی دعوت دی گئی

کیا امت مسلمہ اور عرب دنیا کے لئے اصل خطرہ ایران ہے ؟؟؟

تربت کے قریب 15 افراد کا قتل: دہشت گردی یا انسانی اسمگلنگ؟

سعودی شاہی خاندان کے اندرونی جھگڑوں کی داستان

’اسرائیل،سعودی عرب سے ایران سے متعلق انٹیلیجنس شیئرنگ کیلئے تیار‘

دھرنا مافیا کے سامنے وزیر قانون اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی بے بسی

کائنات میں سرورکائنات اور سبط اکبر کا ماتم

2017-11-12 04:45:50

ایم کیو ایم العالمی سے ایم کیو ایم الزمینی

mqm pak

بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے مختلف دھڑوں کی حالیہ سیاست، سیاست سے کہیں زیادہ اُس سلسلہ وار کہانی کی شکل اختیار کرچکی ہے جس میں بیک وقت جذباتیت، سطحیت، مزاح، حماقت، یوٹرن اور نجانے کیا کیا شامل ہوچکا۔

پاکستان بنانے والے پڑھے لکھے مہاجروں کی نئی نسل کی سیاست دیکھ کر اب بہت افسوس ہوتا ہے کہ کیا تھے، کیا ہوگئے۔

گزشتہ تین چار روز میں ہونے والی تبدیلیوں کے بابت کراچی کے صحافتی حلقوں میں پہلے سے ہی بات ہورہی تھی کہ اب پاکستان میں موجود ایم کیو ایم کے مختلف دھڑے، چاہے وہ پاکستان کے نام سے ہوں، پاک سرزمین پارٹی یا دبئی میں بیٹھے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت العباد، سب کو ایک ہی منزل کا راہی بن جانا ہے۔

بدھ کی سہ پہر جب مختلف نشریاتی اداروں کی اسکرینز پر سرخ پٹیاں چلنے لگیں کہ فاروق ستار نے اہم پریس کانفرنس بلُا لی ہے تو پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے صحافیوں کا جمِ غفیر پلک جھپکتے پریس کلب پہنچ گیا جہاں فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال نے ایک اور تاریخی پریس کانفرنس کرنی تھی۔

دھماکہ خیز پریس کانفرنسوں کا طویل تجربہ پیپلزپارٹی کے سابق رہنماء ذوالفقار مرزا بھی رکھتے ہیں، خیر۔

متحدہ و پی ایس پی کی مشترکہ پریس کانفرنس سے ایک ہی بات سمجھ آئی کہ جو کچھ ہوا بہت تیزی اور کچھ بھونڈے انداز سے ہوا ہے، جلد بازی کا عنصر بتارہا تھا کہ دیگ وقت سے پہلے ہی اتر گئی اور بہت سے دانے کچے رہ گئے ہیں، یہی وجہ تھی کہ پریس کانفرنس میں بیک وقت اتحاد و انضمام کی بات ہوئی اور پھر یہی بات اس قدر آگے بڑھی کہ فاروق ستار جیسے صلح جو لیڈر نے اپنے بانی و قائد کی روش پر چلتے ہوئے سیاست و پارٹی قیادت سے الگ ہونے کا چند گھنٹوں کا فیصلہ کرلیا۔

ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ان کی غیر موجودگی میں ہوا اور اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ یہ سیاسی اتحاد ہے نہ کہ انضمام۔

شاید یہی بات فاروق ستار سیدھا دل پر لے گئے اور پارٹی سے روٹھ کر اپنے گھر چلے گئے، بعدازاں رابطہ کمیٹی ان کی رہائش گاہ پہنچیں اور بقول فاروق ستار کہ ان کی والدہ کے پیر پکڑ کر متحدہ پاکستان کی قیادت نے انہیں دوبارہ سیاست میں حصہ لینے پر مجبور کیا۔

کہانی کا یہ جذباتی لمحہ بھی مکمل ہوا اور دو دن پہلے پاک سرزمین پارٹی کے ساتھ ایک منشور و نشان کے تحت الیکشن لڑنے کا اعلان کرنے والے فاروق ستار نے نوید دی کہ ایم کیو ایم کا نام و نشان برقرار رہے گا، اب موجودہ صورتحال کب تک رہتی یہ الگ معاملہ ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے ایم کیو ایم و پی ایس پی کے اشتراک کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ بے جوڑ نکاح دراصل ڈرامہ بازی اور جہیز کو لوٹنے کی ایک کوشش ہے، جسے تسلیم نہیں کرتے۔

پاکستان کے دیگر شہروں میں بسنے والے لوگوں اور بالخصوص سیاسی کارکنوں میں یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ مہاجر سیاست کا یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اور 2018 کے عام انتخابات میں کس جماعت کو اپنی نمائندگی سونپے گا؟

سچی بات تو یہی ہے کہ اردو بولنے والوں کی اکثریت کا ووٹ اس وقت بھی ایم کیو ایم لندن سے جُڑا ہوا ہے اور اس کے بعد ایم کیو ایم پاکستان سے، الطاف حسین سے اردو بولنے والوں کے اس تعلق کی الگ وجہ ہے جسے تلاش کرنے کے لیے ایوب خان کے دور اور بعدازاں سندھی اردو تنازعے، اور پھر کوٹہ سسٹم نے اس خلیج کو مزید تقسیم کیا، کے ابواب کھولنے پڑیں گے۔

الطاف حسین سے بطور مہاجر شناخت پانے والی قوم بتدریج قومی سیاست سے لسانیت اور نسل پرستی کی سیاست کی اسیر ہوگئی اور بدقسمتی سے اب تک اس سے نہ نکل سکی، اس دوران کچے و پکے قلعے کے سانحات اور 12 مئی جیسے واقعات نے صورتحال کو تبدیل کیا اور گزشتہ برس پاکستان کے خلاف نعرے لگا کر الطاف حسین نے سیاسی صورتحال کو مکمل طور پر تبدیل کرلیا۔

یہ الگ موضوع ہے کہ الطاف حسین کی نظریاتی ایم کیو ایم کیسے بھتے اور قتل و غارت گری کی جانب متوجہ ہوئی اور لیاقت آباد میں رہنے والی غریب قیادت ڈیفنس کے پوش بنگلوں میں منتقل ہوئی؟ ممکن ہے کہ الطاف حسین یہاں ہوتے اور انہیں لندن میں اخراجات کے واسطے بھاری رقوم درکار نہ ہوتیں تو شاید مہاجر سیاست اپنے علاقوں میں رہتی اور شاید کرپشن اس درجے کو نہ پہنچتی اور نہ ہی شہری ادارے یوں برباد ہوتے۔

کراچی میں جاری آپریشن نے ایم کیو ایم کے عسکری ونگ کو کمزور کردیا، جس کا ٹیسٹ کیس نائن زیرو چھاپے اور صولت مرزا کی پھانسی کے بعد شہر کھلا رہنا اور ایک گملا بھی نہ ٹوٹنا تھا، اعصاب کی اس جنگ میں ایم کیو ایم کو شکست ہوئی لیکن انتخابی میدان میں وہ ابھی بھی ایک حقیقی چیلنج ہے جس کا مقابلہ پاک سرزمین پارٹی کرنے میں ناکام رہی ہے، البتہ 2013 کے عام انتخابات میں کراچی والوں نے تحریک انصاف کو ووٹ دے کر الطاف حسین کو سرپرائز دیا تھا لیکن خود تحریک انصاف ہی اپنی طرف آنے والے ووٹ کو سنبھالنے سے قاصر رہی جس کی وجہ سے یہی ووٹ دوبارہ ایم کیو ایم پاکستان کی طرف جاچکا، کراچی کی سیاست پلٹ ضرور رہی ہے مگر فی الحال اس میں جوہری تبدیلی کا امکان نہیں ہے کیونکہ ووٹر بہرحال ایم کیو ایم کے ساتھ ہے اور وہ تقسیم کچھ یوں ہے۔

ایم کیو ایم العالمی

ایم کیو ایم المقامی

ایم کیو ایم الحقیقی

ایم کیو ایم الزمینی

یعنی لندن پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کے درمیان ہی رہے گا، اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ ووٹ مہاجر نظریے ہی کا ہے، مگر کسی قدر ترمیم کیساتھ۔

فیض اللہ خان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

یادوں کے جھروکے

- سحر نیوز

افکار و نظریات

- سحر نیوز

جام جم - 21 نومبر

- سحر نیوز