سرزمین حجاز میں یزید عصر کا ظہور: سعودی شہزادہ ولی عہد محمد بن سلمان کیا چاہتا ہے؟ – پروفیسر محمد ایوب

پاکستان میں دہشت گردی امریکا کا ساتھ دینے پر شروع ہوئی، مشیر قومی سلامتی امور

دعوؤں کے جلو میں دہشت گردی بھی جاری ہے

دنیا میں تکفیریت مسلمانوں میں تفرقہ بازی کی وجہ سے پھیلی

چین نے آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ کردیا،او آئی سی کے مطالبے کی تائید

امریکی اسٹرٹیجی پوری طرح ایرانی اثر و رسوخ کو گھٹانے کی جانب مرکوز

کیا اردن نئے اتحادیوں کی تلاش میں ہے؟

اسلام کی نظر میں انسانی حقوق

امام جعفرصادق (ع) کی نظر میں مومن کے لیے خوبصورت ترین لباس

علامہ راجہ ناصر عباس کا کوئٹہ میں چرچ پر حملے اور قیمتی انسانی جانوں کے نقصان پر اظہار افسوس

مقبوضہ فلسطین میں 11 فلسطینی شہید اور 3000 سے زائد زخمی

سعودی ولی عہد دنیا کے مہنگے ترین گھر کے خریدار نکلے

ترک صدر کا بیت المقدس میں سفارت خانہ کھولنے کا عندیہ

جب تک ایک مسلمان بھی زندہ ہے القدس اسرائیلی دارالحکومت نہیں بن سکتا: سراج الحق

سعودی عرب امریکہ سے اسلحہ خریدنے والا سب سے بڑا ملک

کوئٹہ: چرچ میں بم دھماکا، خواتین سمیت آٹھ افراد ہلاک

بھارت میں اردو زبان میں حلف اٹھانا جرم قرار

بیت المقدس کو کھو دیا تو مکہ اور مدینہ کی بھی حفاظت نہیں کرپائیں گے، اردوغان

اسرائیلی فوج کے ترجمان کی حماس مخالف باتیں، سعودی نیوز پیپر میں

خان بچ گیا، کیا پاکستان بچے گا

16 دسمبر 1971 سے 16 دسمبر 2014 تک کا سفر رائیگاں

امریکی ہتھیاروں سے یمنی عوام کا قتل کیا جا رہا ہے،: ترجمان انصار اللہ

انصاف کے دو ترازو کے خلاف ملک گیر تحریک چلائیں گے: نواز شریف

امریکہ فلسطین میں اسرائیل اور یمن میں سعودی عرب کے ہولناک جرائم میں برابر کا شریک

بیت المقدس سے ذرہ برابر چشم پوشی نہیں کریں گے

اگر ہم نے بیت المقدس کو کھو دیا تو پھر ہم مکہ اور مدینہ کی حفاظت نہیں کرسکیں گے

سعودی عرب کی عالم اسلام کو ایک بار پھر دھوکہ اور فریب دینے کی کوشش

سعودی خواتین کو گاڑی کے بعد موٹرسائیکل اور ٹرک چلانے کی بھی اجازت

ہمارے بیانات کسی بھی طرح ملکی مفاد میں نہیں: چوہدری نثار

ہم پر دباؤ ڈالنے والا ابھی پیدا نہیں ہوا: چیف جسٹس پاکستان

بٹ کوائن کے ذریعہ داعش کی فنڈنگ، پاکستانی دیوبندی خاتون زوبیہ شہناز گرفتار

داعش کے بعد بھی عراق میں تکفیری گروہوں کی سرگرمیوں کا امکان

امریکی روپ دھارے اسرائیلی جاسوس داعش کی مدد کیلئے افغانستان پہنچنا شروع

سعودی شہزادوں کی اوپن ٹرائل کی درخواست

اسلامی بلاک بمقابلہ امریکی بلاک/ مختصر جائزہ

بیت المقدس سے متعلق OIC قرارداد مسلمین عالم کے جذبات کی آئینہ دار: آغا حسن

سعودی عرب نے صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات برقرار کرنے کا اعتراف کر لیا

امریکہ اور اس کے حواری عالم انسانیت کے مجرم ہیں: علامہ مقصود ڈومکی

امام غائب (عج) کو کس نام سے پکاریں؟

یمن سے ریاض پر داغا جانے والا میزائل ایرانی نہیں تھا

اسلامی ممالک صرف بیانات دینے پر ہی اکتفانہ کریں: خطیب جمعہ تہران

ایک سال کی تلاشی کے بعد اپنے حق میں فیصلے پر خوشی ہوئی: عمران خان

نواز شریف کا نظریہ

سعودی حکمرانوں کی اسلام مخالف پالیسیوں پر حریت رہنما کی کڑی تنقید

قدس کے بارے میں ٹرمپ کے فیصلے نے امریکہ کو اکیلا کردیا

82 فیصد فلسطینی سعودیہ پر اعتماد نہیں کرتے؛ سروے

اردغان نے مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے لئے امریکی چودھراہٹ کو مسترد کردیا

دہلی میں امریکہ مخالف مظاہرہ

گاجر کے رس کے حیرت انگیز فوائد

روہنگیا مسلمانوں کے خلاف سرکاری فوج کے مظالم کے انکشافات

تقریریں تو خوب رہیں، نتیجہ ڈھاک کے تین پات

سعودی ولی عہد کو اسرائیل کے دورے کی دعوت

آل خلیفہ اسرائيل کے ساتھ تعلقات مضبوط بنا کر تاریخ کے کوڑے دان میں دفن ہوجائیں گے

شام میں امریکی فوج کی موجودگی غیر قانونی ہے: روس

مسئلہ فلسطین: اتحاد یا پھر اپنی باری کا انتظار

کراچی : پی ایس 128 میں کالعدم جماعت کی الیکشن مہم، سیکورٹی ادارے خاموش

بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کا افغان لڑکیوں کو پاکستان مین دہشتگردی کہ لیے ٹریننگ دینے کا انکشاف

اسرائیل کے قیام پر علامہ اقبال کا بیان

حضرت امام مہدی(عج) کی حوائج کےحصول کے لیےنصیحت

او آئی سی کا ہنگامی اجلاس: مقبوضہ بیت المقدس کو فلسطینی دارالحکومت تسلیم کرنے کا مطالبہ

ناقابل قبول عدالتی فیصلہ

پاکستان اور شمالی کوریا جیسے ممالک کے ساتھ کام کرنا پر لطف نہیں: امریکی وزیر خارجہ

پاکستان کیلیے امریکی امداد دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی سے مشروط

لگتا نہیں اسمبلیاں مدت پوری کریں گی، ایاز صادق

مذہبی جماعتوں کا ایم ایم اے کی بحالی کا اعلان

ایران کا بیت المقدس کے دفاع کے لئے اسلامی ممالک سے تعاون پر آمادگی کا اظہار

شام میں کردوں، امریکیوں اور داعشیوں کے درمیان تین سمجھوتوں کا راز

یمن میں 8 ملین افراد شدید قحط کا شکار

ٰیروشلم : پہلے مسلمان خود تو اتحاد کر لیں

القدس سے متعلق امریکی اعلان پراوآئی سی کا ہنگامی اجلاس

فلسطینی امن عمل میں امریکا کا کردار ختم ہوگیا: خواجہ آصف

2017-11-29 20:40:59

سرزمین حجاز میں یزید عصر کا ظہور: سعودی شہزادہ ولی عہد محمد بن سلمان کیا چاہتا ہے؟ – پروفیسر محمد ایوب

5818814860dc4080b3b865b746098dfe-768x512

یہ 60 ہجری /680 عیسوی کا واقعہ ہے، جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کو 50 سال ہی ہوئے تھے،33 سالہ اموی بادشاہ یزید نے حضرت امام حسین کی قیادت میں اس کی حکمرانی کے جواز کو چیلنچ کرنے والے 72 ساتھیوں کے خلاف قریب قریب 30 ہزار افواج کو تعینات کیا تھا۔اس فوج نے دریائے فرات کے کنارے، کربلاء میں موجودہ عراق کے اندر امام حسین اور ان کے ساتھیوں سب لوگ ہی شہید کردئے۔اس لڑائی کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خانوادے کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بناکر اموی سلطنت کے دارالخلافہ دمشق لیجایا گیا۔

تاریخ کے اس فیصلہ کن واقعہ نے مسلم تاریخ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے حامی سیاسی کیمپ کو اور ٹھوس اور واضح شکل دے ڈالی۔اور یہ کیمپ صرف آج کے شیعہ اسلام کے حامیوں کا ہی نہیں تھا بلکہ ایسے لوگوں کا بھی تھا جنھیں آج سنّی کہا جاتا ہے اور وہ اسلام کے اندر ملوکیت کو سرے سے جائز خیال نہیں کرتے۔جبکہ ان کے مد مقابل امویوں کا کیمپ تھا۔

آج اموی بادشاہ یزید کا سیاسی وارث سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہے۔اور کیا اتفاق ہے کہ اس کی عمر بھی 33 سال ہے۔یہ بھی یزید کی طرح مڈل ایسٹ میں اہل بیت سے محبت کرنے والوں کو ختم کرنے کی لڑائی کی سرپرستی کررہا ہے، جیسے یزید نے کی تھی۔خطے میں اس وقت طاقت کے توازن کو مد نظر رکھتے ہوئے اس نے اپنا سب سے پہلا ہدف حزب اللہ کو بنایا ہے۔وہ کربلاء کی تاریخ دوھرانا چاہتا ہے، کیونکہ سعودی عرب کی بدمست ہاتھی کی طاقت کے مقابلے میں حزب اللہ چیونٹی کی طاقت رکھتی ہے۔

محمد بن سلام نے سعد حریری کے ساتھ جو کیا وہ اسی کا شاخسانہ ہے۔حریری کا سب سے بڑا حرم محمد بن سلمان کی نظر میں حزب اللہ کو قومی حکومت میں شامل کرنا تھا۔حریری نے یہ کام لبنان میں فرقہ وارانہ کشاکش کو کم کرنے کے لئے کیا تھا جو ایک بار پھر بڑھ رہی تھی کیونکہ سعودی عرب، امریکہ اور اس کے اتحادی ہمسایہ ملک شام میں خانہ جنگی کو فرقہ وارانہ رنگ میں رنگ چکے تھے اور سلفی-دیوبندی تکفیری فاشسٹوں کے اجتماعی حملے کے سبب حزب اللہ کو شام کی حکومت کے ساتھ ملکر اس جنگ میں شامل ہونا پڑا تھا۔سعودی عرب لبنان میں حزب اللہ کو نشانہ بنانا چاہتا ہے اور اس کے لئے وہ سعد حریری سے جو توقع کرتا تھا وہ پوری نہیں ہوئی۔

لیکن حزب اللہ تو ایک قربانی کا بکرا ہے۔اصل ہدف اور دشمن تو سعودی حکومت کا ایران ہے۔جس کے ساتھ اس کے سینگھ پھنسے ہوئے ہیں۔یہ خلیج فارس پہ غلبہ کی لڑائی ہے۔محمد بن سلمان کا حقیقی مقصد ایران کے اثر کو اسقدر کم کرنا ہے کہ یہ خلیج فارس میں سعودی تسلط اور تغلب کو مان لے۔جیسے یزید کی اتھارٹی کو امام حسین کی جانب سے چیلنج کئے جانے کو اس کی مذہبی و سیاسی جواز کو ساتویں صدی عیسوی میں چیلنج کرنے کا عمل سمجھا گیا تھا، آج کا وہابی آل سعود ایران کے مڈل ایسٹ میں اثر ورسوخ میں اضافے اور علاقائی و عالمی سطح پہ اس کے ابھار کو اپننے مذہبی جواز کے خلاف چیلنج تصور کرتا ہے۔کیونکہ ایران خود بھی ریاست کا ایک اسلامی ماڈل رکھتا ہے، وہ خلیج فارس میں سعودی عرب کو چیلنج کرتا ہے اور امت مسلمہ کی قیادت کے سعودی دعوے کی نفی کرتا ہے۔جیسے ساتویں صدی میں ہوا تھا بالکل ویسے ہی سیاسی اقتدار سے جڑے مسائل اور مذہبی جواز دونوں سیعودی-ایران کشاکش اور جھگڑے میں باہم مل گئے ہیں۔

تاہم ساتویں صدی اور آج کی صدی میں حالات کا بڑا فرق ہے۔ایران ایٹمی ہتھیاروں کو بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس نے مڈل ایسٹ میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے مڈل ایسٹ میں اپنے مطلب کی حکومتیں قائم کرنے کے منصوبے کو کافی زک لگائی ہے۔شام میں سعودی عرب کے عزائم ناکام ہوئے۔یمن کی سول وار بھیانک خواب بن گیا ہے،لبنان کا منصوبہ کامیاب ہوتا نظر نہیں آیا۔قطر کو غلام بنانے کا منصوبہ ناکام ہوا۔جبکہ ایران نے اس دوران ترکی اور قطر سے اپنے تعلقات کافی بہتر بنائے ہیں۔

سعودی عرب اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود مڈل ایسٹ پہ اپنا غلبہ برقرار رکھنے اور امت مسلمہ کا بلاشرکت غیرے قائد بننے میں بری طرح سے ناکام ہوگیا ہے۔اور اس خطے میں اسے طویل المدت کے لئے وفادار رہنے والے اتحادی نہیں مل پائے ہیں جو نظریاتی طور پہ اس سے جڑ جائیں یا اس کی سافٹ پاور کے زریعے سے اس کے ساتھ جڑنے پہ مجبور ہوں۔

سعودی عرب نے وہابی آئیڈیالوجی کی ایکسپورٹ کی عالمی سطح پہ جو کوشش کی تھی وہ بیک فائر کرگئی ہے۔اس نے سعودی بادشاہت کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے۔وہابی آئیڈیالوجی کے اندر سے ہی ایک اور مذہبی-سیاسی آئیڈیالوجی کا ظہور ہوا ہے جسے تکفیری وہابیت کہا جاسکتا ہے جس نے القاعدہ،داعش وغیرہ کی بنیاد رکھی ہے۔اور یہ ریاض کی جانی دشمن بن گئی ہے،اس تکفیری آئیڈیالوجی کے ماننے والے آل سعود کو بہت بڑے منافق اور فاسق نام نہاد مسلمان حاکم خیال کرتے ہیں۔سعودی عرب بڑی تعداد میں پیسہ خرچ کرکے عارضی طور پہ تو حمایت خریدنے کے قابل ہوسکتا ہے لیکن اس کی سافٹ پاور اگر مکمل طور غائب نہیں ہوئی تو بہت کمزور ہوگئی ہے۔

سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ جو ایران کے خلاف ایک محاذ بنانے کی کوشش کررہا ہے،یہ بیک فائر کرے گا۔یہ اس کے عربوں کا قائد ہونے کے دعوے کو مزید تباہ کردے گا۔اس کے پہلے آثار تو حال ہی میں سعودی عرب کی قیادت میں 42 ممالک کے فوجی اتحاد کے وزرائے دفاع کے اجلاس کے موقعہ پہ 2003ء میں اسرائیل کے غزہ اور مغربی کنارے پہ قبضے کے خلاف فلسطینی انتفاضہ کو دہشت گردی کے طور پہ دکھانے پہ آنے والے ردعمل سے شروع ہوگیا ہے۔اور اس بار نظر آتا ہے کہ عصر کے یزید اور عصر کے حسنیوں میں جو معرکہ ہوگا اس میں ظاہری نتائج ساتویں صدی عیسوی سے مختلف نکلیں گے۔

محمد ایوب مشی گن سٹیٹ یونیورسٹی امریکہ میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ایمریٹس اور سنٹر فار گلوبل پالیسی کے سنئیر فیلو ہیں۔ترجمہ و تلخیص مستجاب حیدر نقوی نے کی ہے۔یہ مضمون مندرجہ ذیل لنک پہ پڑھا جاسکتا ہے

https://www.yahoo.com/…/saudi-arabia-apos-great-gamble-0206…

 

زمرہ جات:   Horizontal 5 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

ٹرمپ، فلسطین اور منافقین

- مجلس وحدت المسلمین

جام جم - 18 دسمبر

- سحر ٹی وی