کرم ایجنسی، سیکیوریٹی ادارے اور پولیٹیکل انتظامیہ

پاکستان میں دہشت گردی امریکا کا ساتھ دینے پر شروع ہوئی، مشیر قومی سلامتی امور

دعوؤں کے جلو میں دہشت گردی بھی جاری ہے

دنیا میں تکفیریت مسلمانوں میں تفرقہ بازی کی وجہ سے پھیلی

چین نے آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ کردیا،او آئی سی کے مطالبے کی تائید

امریکی اسٹرٹیجی پوری طرح ایرانی اثر و رسوخ کو گھٹانے کی جانب مرکوز

کیا اردن نئے اتحادیوں کی تلاش میں ہے؟

اسلام کی نظر میں انسانی حقوق

امام جعفرصادق (ع) کی نظر میں مومن کے لیے خوبصورت ترین لباس

علامہ راجہ ناصر عباس کا کوئٹہ میں چرچ پر حملے اور قیمتی انسانی جانوں کے نقصان پر اظہار افسوس

مقبوضہ فلسطین میں 11 فلسطینی شہید اور 3000 سے زائد زخمی

سعودی ولی عہد دنیا کے مہنگے ترین گھر کے خریدار نکلے

ترک صدر کا بیت المقدس میں سفارت خانہ کھولنے کا عندیہ

جب تک ایک مسلمان بھی زندہ ہے القدس اسرائیلی دارالحکومت نہیں بن سکتا: سراج الحق

سعودی عرب امریکہ سے اسلحہ خریدنے والا سب سے بڑا ملک

کوئٹہ: چرچ میں بم دھماکا، خواتین سمیت آٹھ افراد ہلاک

بھارت میں اردو زبان میں حلف اٹھانا جرم قرار

بیت المقدس کو کھو دیا تو مکہ اور مدینہ کی بھی حفاظت نہیں کرپائیں گے، اردوغان

اسرائیلی فوج کے ترجمان کی حماس مخالف باتیں، سعودی نیوز پیپر میں

خان بچ گیا، کیا پاکستان بچے گا

16 دسمبر 1971 سے 16 دسمبر 2014 تک کا سفر رائیگاں

امریکی ہتھیاروں سے یمنی عوام کا قتل کیا جا رہا ہے،: ترجمان انصار اللہ

انصاف کے دو ترازو کے خلاف ملک گیر تحریک چلائیں گے: نواز شریف

امریکہ فلسطین میں اسرائیل اور یمن میں سعودی عرب کے ہولناک جرائم میں برابر کا شریک

بیت المقدس سے ذرہ برابر چشم پوشی نہیں کریں گے

اگر ہم نے بیت المقدس کو کھو دیا تو پھر ہم مکہ اور مدینہ کی حفاظت نہیں کرسکیں گے

سعودی عرب کی عالم اسلام کو ایک بار پھر دھوکہ اور فریب دینے کی کوشش

سعودی خواتین کو گاڑی کے بعد موٹرسائیکل اور ٹرک چلانے کی بھی اجازت

ہمارے بیانات کسی بھی طرح ملکی مفاد میں نہیں: چوہدری نثار

ہم پر دباؤ ڈالنے والا ابھی پیدا نہیں ہوا: چیف جسٹس پاکستان

بٹ کوائن کے ذریعہ داعش کی فنڈنگ، پاکستانی دیوبندی خاتون زوبیہ شہناز گرفتار

داعش کے بعد بھی عراق میں تکفیری گروہوں کی سرگرمیوں کا امکان

امریکی روپ دھارے اسرائیلی جاسوس داعش کی مدد کیلئے افغانستان پہنچنا شروع

سعودی شہزادوں کی اوپن ٹرائل کی درخواست

اسلامی بلاک بمقابلہ امریکی بلاک/ مختصر جائزہ

بیت المقدس سے متعلق OIC قرارداد مسلمین عالم کے جذبات کی آئینہ دار: آغا حسن

سعودی عرب نے صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات برقرار کرنے کا اعتراف کر لیا

امریکہ اور اس کے حواری عالم انسانیت کے مجرم ہیں: علامہ مقصود ڈومکی

امام غائب (عج) کو کس نام سے پکاریں؟

یمن سے ریاض پر داغا جانے والا میزائل ایرانی نہیں تھا

اسلامی ممالک صرف بیانات دینے پر ہی اکتفانہ کریں: خطیب جمعہ تہران

ایک سال کی تلاشی کے بعد اپنے حق میں فیصلے پر خوشی ہوئی: عمران خان

نواز شریف کا نظریہ

سعودی حکمرانوں کی اسلام مخالف پالیسیوں پر حریت رہنما کی کڑی تنقید

قدس کے بارے میں ٹرمپ کے فیصلے نے امریکہ کو اکیلا کردیا

82 فیصد فلسطینی سعودیہ پر اعتماد نہیں کرتے؛ سروے

اردغان نے مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے لئے امریکی چودھراہٹ کو مسترد کردیا

دہلی میں امریکہ مخالف مظاہرہ

گاجر کے رس کے حیرت انگیز فوائد

روہنگیا مسلمانوں کے خلاف سرکاری فوج کے مظالم کے انکشافات

تقریریں تو خوب رہیں، نتیجہ ڈھاک کے تین پات

سعودی ولی عہد کو اسرائیل کے دورے کی دعوت

آل خلیفہ اسرائيل کے ساتھ تعلقات مضبوط بنا کر تاریخ کے کوڑے دان میں دفن ہوجائیں گے

شام میں امریکی فوج کی موجودگی غیر قانونی ہے: روس

مسئلہ فلسطین: اتحاد یا پھر اپنی باری کا انتظار

کراچی : پی ایس 128 میں کالعدم جماعت کی الیکشن مہم، سیکورٹی ادارے خاموش

بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کا افغان لڑکیوں کو پاکستان مین دہشتگردی کہ لیے ٹریننگ دینے کا انکشاف

اسرائیل کے قیام پر علامہ اقبال کا بیان

حضرت امام مہدی(عج) کی حوائج کےحصول کے لیےنصیحت

او آئی سی کا ہنگامی اجلاس: مقبوضہ بیت المقدس کو فلسطینی دارالحکومت تسلیم کرنے کا مطالبہ

ناقابل قبول عدالتی فیصلہ

پاکستان اور شمالی کوریا جیسے ممالک کے ساتھ کام کرنا پر لطف نہیں: امریکی وزیر خارجہ

پاکستان کیلیے امریکی امداد دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی سے مشروط

لگتا نہیں اسمبلیاں مدت پوری کریں گی، ایاز صادق

مذہبی جماعتوں کا ایم ایم اے کی بحالی کا اعلان

ایران کا بیت المقدس کے دفاع کے لئے اسلامی ممالک سے تعاون پر آمادگی کا اظہار

شام میں کردوں، امریکیوں اور داعشیوں کے درمیان تین سمجھوتوں کا راز

یمن میں 8 ملین افراد شدید قحط کا شکار

ٰیروشلم : پہلے مسلمان خود تو اتحاد کر لیں

القدس سے متعلق امریکی اعلان پراوآئی سی کا ہنگامی اجلاس

فلسطینی امن عمل میں امریکا کا کردار ختم ہوگیا: خواجہ آصف

2017-12-06 07:23:04

کرم ایجنسی، سیکیوریٹی ادارے اور پولیٹیکل انتظامیہ

Pakistani soldiers arrive to take position outside the Pakistan Air Force base after an attack by militants in Peshawar on September 18, 2015.  Militants attacked the air base in the northwestern city of Peshawar, the military said, adding that at least six attackers had been killed.    AFP PHOTO / A MAJEED

 

کرم ایجنسی دیگر ایجنسیوں کی نسبت پُرامن ہوچکا ہے جس میں سیکیوریٹی اداروں کیساتھ ساتھ علاقے کی عوام کی بھی بھرپور کاوشیں شامل ہیں۔

 

 

اپر کرم ہو یا لوئر کرم اور یا سنیٹرل کرم، نہایت قابل قدر اور معزز مشران قوم اور نوجوان موجود ہیں جنہوں نے ایجنسی میں لگی آگ بجھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب وقت آ پہنچا ہے کہ کرپٹ مشران اور تخریب کار جوانوں کی حوصلہ شکنی کی جائے اور پولیٹیکل انتظامیہ میں بیٹھے کالی بھیڑیوں کو آئینہ دکھایا جائے۔

 

2007سے 2011 تک کے خونریز قبائلی اور فرقہ ورانہ لڑائی کے بعد کوئی بھی ذی شعور جوان اسلحہ اُٹھانے کے حق میں نہیں اور کرم ایجنسی کے جوان کھیل اور تعلیم کے شعبے میں روز افزوں ترقی کررہے ہیں جس میں پبلک سیکٹر کے سکولوں کا کردار قابل قدر ہے۔

 

پانچ سالہ خونریز فرقہ ورانہ اور قبائلی جنگ میں سیکیوریٹی اداروں کا کردار نہایت اہم ہے۔ جہاں چار سال تک سب سیکیوریٹی ادارے خاموش تماشائی بنے رہے اور ہزاروں لوگ لقمہ اجل بنتے رہے لیکن پھر ایسا وقت بھی آیا کہ ٹل سے لیکر پاراچنار تک سیکیوریٹی اداروں نے سینکڑوں چیک پوسٹ قائم کئے اور فرقہ ورانہ اور قبائلی جنگ پر قابو پا لیا۔

 

تاہم 2011 کے بعد دہشتگردوں نے بعض قبائل کیساتھ ملکر کرم ایجنسی کے شیعہ آبادی کو خودکش بم دھماکوں کا نشانہ بنانا شروع کیا جس پر پاکستان سمیت دنیا بھر کی طرح یہاں بھی قابو پانا مشکل ہوا ہے۔ 2011 کے قبائلی اور فرقہ ورانہ جنگ کے بعد پاراچنار اور گرد و نواح کی شیعہ آبادی کو 11 بڑے خودکش دھماکوں کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کے اکثر سہولتکار پکڑے گئے ہیں اور سیکیوریٹی اداروں کے مطابق اس کے سہولتکار مقامی ہیں۔ اب حکومت اور سیکیورٹی اداروں نے ان سہولتکاروں کیخلاف کوئی کارروائی کی ہے یا نہیں یہ بات وہ بتانے سے گریز کررہے ہیں۔ لیکن سب کو پتہ ہے کہ خودکش میں استعمال ہونیوالی گاڑیاں کہاں تیار ہوتی رہی ہیں اور کہاں سے ہوتی ہوئی پاراچنار داخل ہوتی رہی ہیں۔

 

اصل مقصد اس پورے کہانی کا یہ ہے کہ جن اداروں نے ابھی تک دہشتگردی کے اس سارے عمل سے سبق نہیں سیکھا ہے اس میں سرفہرست پولیٹیکل انتظامیہ ہے۔ صرف کرم ایجنسی کا پولیٹیکل انتظامیہ ہی نہیں بلکہ سات ایجنسیوں کے پولیٹیکل سسٹم مکمل فیل ہوئے ہیں، کرم ایجنسی کے ساتھ ساتھ خیبر، مہمند، اورکزئی، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان اور باجوڑ ایجنسیاں مکمل طور پر تباہ و برباد ہوچکی ہیں اور اس کی مکمل طور پر ذمہ داری پولیٹیکل انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے کیونکہ پولیٹیکل ایجنٹ ایجنسی کا بادشاہ ہوتا ہے، بلکہ بادشاہ سے بھی زیادہ طاقتور کیونکہ عدالت، انتظامیہ اور مقننہ سب ان کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور مزیدار بات یہ کہ پولیٹیکل ایجنٹ کسی کے سامنے جوابدہ بھی نہیں۔ جبکہ علاقائی ذمہ داری کے قانون کے تحت تخریب کاری اور دہشتگردی کے ذمہ دار علاقے کے عوام ہوتے ہیں۔

 

لگے ہاتھوں ایک سنگین مسئلہ کی نشادہی بھی ضرور ہے تاکہ نئی حلقہ بندی کے وقت یاد رہے، پوسٹوں اور ترقیاتی اسکیموں کی غیر منصفانہ تقسیم کا روک تھام کیا جائے اور وہ یہ کہ جس علاقے کو آج سنٹرل کرم کہا جاتا ھے یہ علاقہ غیر اور کرم کا حصہ نہیں تھا، انتظامی لحاظ سے اس کا نام “علاقہ غیر FR Kurram” تھا جیسے اب FR Kohat, FR Banu , FR DIKhan ہیں۔ وہ سارے FRs اب بھی اسی حیثیت میں باقی ہیں صرف کرم سے ملحق FR کو سازش کے تحت کرم ایجنسی میں ضم کیا گیا اور 2002 کے بعد تو باقاعدہ ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے اس کو سنٹرل کرم کا نام دیکر باقاعدہ حصہ بنایا گیا۔ اس سے لوئر کرم کو بہت کم لیکن اپر کرم کو بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔ اس کا مناسب حل تلاش کیا جائے۔

 

جس اصل موضوع کی طرف لانا تھا وہ یہ کہ حال ہی میں صدہ میں منعقدہ ایک تقریب مثال کے طور پر پیش کرتا ہوں تاکہ سب کی آنکھیں کھول جائیں اور اس طرح زیادتی سے آئندہ گریز کیا جائے بلکہ متعصب اہلکاروں کو برطرف کرکے اہل اہلکار لگائیں اور پوسٹوں کی تقسیم بھی مناسب تناسب سے کریں تو کئی مشکلیں خود بخود حل ہوجائیں گی۔

 

نسیم خان لوئر کرم صدہ سے ایک نام نہاد صحافی ہے جو اکثر عوامی جذبات ابھارتے رہے ہیں۔ نیسم خان نے کل ہی ایک رپورٹ شائع کی ہے کہ جی او سی جناب اظہر اقبال عباسی نے آج بروز ہفتے کو صدہ کا اسپیشل دورہ کیا، 114 وینگ میں کمانڈنٹ کرم ملیشیاء راشد محمود، وینگ کمانڈر کرنل مقصود انجم، میجر ارسلان، کیپٹن زین اور پولیٹیکل انتظامیہ کرم کے افسران اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ طارق حسن، اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ سنٹرل کرم عرفان علی و دیگر ٹیم نے مہمان کا استقبال کیا، مقامی مشران کے جانب سے ملک حاجی عبدالمنان نے ایجنسی روایات کے مطابق میجر جنرل کو کولہ لونگی پہنائی، اس موقعہ پر لوئر، سنٹرل کرم کے مشران سے ملاقات کی مشران سے خطاب کرتے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے ترقی و امن امان قائم رکھنے میں حکومت سے زیادہ آپ لوگوں کا کردار ہے کیونکہ امن اور بدامنی کا اثر سب سے پہلے مقامی لوگوں پر پڑتا ہے۔

 

اب لوئر کرم کے امن و امان کی صورتحال پر بلائی گئی اس نمائندہ قبائلی جرگہ میں مشران بلانے کی ذمہ داری اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ اور اس کے ریڈر کی ہوتی ہے۔ معلومات کے مطابق اس امن جرگے میں ٹوٹل تین شیعہ مشران مدعو تھے جنہیں بولنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا جبکہ لوئر کرم میں عمل کوٹ سے لیکر علیزئی تک ایک بہت بڑی تعداد میں شیعہ علاقے شامل ہیں جس کی آبادی لگ بھگ ایک لاکھ کے قریب ہے۔

 

دوسری طرف اپر کرم میں اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ اور ریڈر سنی مسلک سے ہیں اور جب بھی کوئی جرگہ بلایا جاتا ہے اس میں شیعہ مشران سے زیادہ تعداد ہمارے سنی بھائیوں کی ہوتی ہے اور ہر ایک کو بولنے کے برابر مواقع ملتے ہیں جس پر نہ ہمیں کوئی اعتراض ہے اور نہ ہی کھبی شکوہ اور شکایت کی ہے۔ آج جب ہم شکایت کررہے ہیں تو اس زیادتی پر کررہے ہیں جو لوئر کرم صدہ میں ہورہا ہے۔

 

لہذا اب ہمارا مطالبہ ہے کہ اپر کرم اور لوئر کرم میں پولیٹیکل انتظامیہ کے اہلکاروں کی تعیناتی میں مناسب تناسب کا خیال رکھا جائے۔ اپر کرم کے پولیٹیکل یا اسسٹنٹ پولیٹیکل جبکہ لوئر کرم کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ اور تحصیلدار میں برابر تناسب رکھیں۔ اسی طرح لوئر کرم میں ریڈر اور اپر کرم کے ریڈر کے تعیناتی میں برابر تناسب رکھا جائے تاکہ اس قسم کے ناخوشگوار اور تلخ حقائق سامنے نہ آئیں۔

 

اس طرح زیادتی سے آئندہ گریز کیا جائے بلکہ متعصب اہلکاروں کو برطرف کرکے اہل اہلکار لگائیں اور پوسٹوں کی تقسیم بھی مناسب تناسب سے کریں تو کئی مشکلیں خود بخود حل ہوجائیں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

ٹرمپ، فلسطین اور منافقین

- مجلس وحدت المسلمین

جام جم - 18 دسمبر

- سحر ٹی وی