نئی افغان جنگ میں پاکستان کو دھکیلنے کی کوشش

نقیب اللہ قتل کیس؛ راؤ انوار ماورائے عدالت قتل کے ذمہ دار قرار

امریکا اور فرانس کا ایران سے کڑی شرائط پر نئے جوہری معاہدے پر اتفاق

پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن تحریک انصاف میں شامل ہوگئے

جوہری معاہدے کی پاسداری ضروری ہے، موگرینی

خواتین معاشرے کا طاقتور حصہ ہیں لیکن انہیں کمزور بنا کر پیش کیا جاتا ہے

قومی مستقبل کا سوال ہے بابا! نذر حافی

داعش کو سر اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی: عراق

قطر کو شام میں امریکی فوجی موجودگی کے اخراجات ادا کرنے چاہییں

دنیا کو بالادستی کے فریب کے چنگل سے نکلنا ہو گا، ایرانی وزیر خارجہ

جوہری معاہدے کو ضرر پہنچا تو بھیانک نتائج آپ کے منتظر ہیں، ایرانی صدرکا امریکہ کو انتباہ

احسن اقبال کی چیف جسٹس کو للکار: کیا اداروں کا تصادم لازم ہے؟

جوڈیشل مارشل لا کے سائے

پاکستان روس کے ساتھ فوجی روابط بڑھانا چاہتا ہے: پاکستان آرمی

پاکستانی نوجوان کو گاڑی سے کچلنے والا امریکی سفارت کار بلیک لسٹ

یمن کی کسی کو پرواہ نہیں ہے – عامر حسینی

وزیراعظم بیرون ملک مفرور ملزم سے ملتے ہیں شاید انہیں قانون کا پتہ نہیں، چیف جسٹس

ایران سے جنگ کرکے امریکا کو کچھ حاصل نہیں ہوگا، فرانسیسی صدر

ن لیگ کی شیعہ دشمنی، دہشتگردوں کو سرکاری پروٹوکول، شیعہ رہنماوں کی سیکورٹی واپس

فیس بک نے داعش اور القاعدہ کی 19 لاکھ پوسٹیں ڈیلیٹ کردیں

شامی افواج کا دمشق میں امام علی(ع) مسجد پر قبضہ

شبعان المعظم عبادت و بندگی اور پیغمبر اسلام کا مہینہ

پاکستان کا کرنل جوزف کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار

این آراو سے متعلق درخواست پر پرویز مشرف اور آصف زرداری کو نوٹس جاری

ایران سے جنگ امریکا کے لیے کتنی نقصان دہ ہو گی؟

تمام اہل بہشت ہمیشہ کیلئے امام حسین(ع) کے مہمان ہیں

مارشل لاء میں بھی اتنی پابندیاں نہیں لگیں جتنی اب ہیں، نواز شریف

بار بار اسمارٹ فون دیکھنے کی لت نشے کی مانند ہے: ماہرین

خون کی رگوں کو جوان کرنے والا نایاب اینٹی آکسیڈنٹ دریافت

تاحیات نااہلی اور نوازشریف

نقیب قتل کیس؛ پولیس نے راؤ انوار کو مرکزی ملزم قرار دے دیا

کے پی کے حکومت میں رخنہ: کیا پی ٹی آئی جماعت اسلامی کے بغیر اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے؟

سعودیہ میں تبدیلی کے پیچھے کون؟

شام میں مشترکہ عرب فوج تشکیل دینے پر مبنی امریکی منصوبہ

موجودہ حالات میں الیکشن ہوتے نظر نہیں آرہے، چوہدری شجاعت حسین

کوئٹہ میں ملک دشمن تکفیری دہشت گردوں کی فائرنگ، 2 شیعہ ہزارہ شہید 1 زخمی

فاروق ستار کی لوڈ شیڈنگ ختم نہ ہونے پر وزیر اعلیٰ ہاؤس کے گھیراؤ کی دھمکی

مغرب کیمیائی حملے کے شواہد تبدیل کر رہا ہے: روس

6 ماہ میں مختلف بیماریوں میں 2 ہزار یمنی شہریوں کا جانی نقصان

نظام تعلیم کا بیڑا غرق کردیا یہ ہے پنجاب حکومت کی کارکردگی، چیف جسٹس

ضیاالحق سے ڈکٹیشن لیتے وقت نواز شریف کو ووٹ کی عزت یاد نہیں آئی، بلاول بھٹو زرداری

مجھے دکھ ہے کہ بے گناہی ثابت کرنے کے لئے 14 ماہ زندان میں گزارے، ثمر عباس – از فواد حسن

ریاض میں شاہی محل کے قریب ‘کھلونا ڈروان’ مارگرایا

ہم آزادی سے خائف ہیں؟

’پاکستان سے زیارت کرنے جاؤ تو واپسی پر ایجنسیاں اٹھا لیتی ہیں‘، بی بی سی رپورٹ

اسلامی مزاحمت کے میزائل اسرائیل کے اندر ہر ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں

حضرت عابد (ع) کی ولادت مبارک ہو!

مانچسٹر میں سالانہ سیمینار: 'برطانیہ میں مسلمانوں کو درپیش چیلینجز'

حضرت عباس(ع) کی زندگی انتظار کا عملی نمونہ

حضرت ابوالفضل (ع) کے باب الحوائج ہونے کا راز

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کا80 واں یوم وفات

فلسطینی بچوں پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ شرمناک ہے، اقوام متحدہ

اعیاد شعبانیہ اور جشن سرکار وفا

شمالی کوریا کا مزید ایٹمی اور میزائل تجربات نہ کرنے کا اعلان

شام کو اینٹی ایئر کرافٹ میزائل فراہم کرنا اخلاقی ذمہ داری

پاکستان کا کشمیر سے متعلق امام خامنہ ای کے بیان کا خیر مقدم

ان الحسین باب من ابواب الجنة

ہم تب کربلائی اور حسینی ؑنہضت کا حصہ بن سکتے ہیں جب ہمارے اندر انبیائی اور حسینیؑ صفات موجود ہوں: علامہ راجہ ناصر عباس

صحافت اور شہادت ساتھ ساتھ

چیئرمین سینیٹ منتخب کرانے کیلیے پی ٹی آئی نے کہا کہ اوپر سے آرڈر آیا ہے: سراج الحق

ایران کا ردعمل امریکہ کیلئے تکلیف دہ ہوگا: محمد جواد ظریف

امریکا کی عالمی جوہری ڈیل سے ممکنہ دستبرداری اور اس کے اثرات

امام حسین علیہ السلام کی سیرت طیبہ

مسلم خاتون کو ہاتھ نہ ملانے کی وجہ سے فرانس کی شہریت سے محروم کر دیا گیا

اللہ تعالی کی طرف سے حضرت امام حسین علیہ السلام کی ولادت کے موقع پر تہنیت اور تعزیت

سعودی عرب میں چیک پوسٹ پر فائرنگ سے 4 سیکویرٹی اہلکار جاں بحق

امریکی ہتھیاروں پر انحصار میں کمی: کیا پاکستان امریکہ سے مستقل چھٹکارا پا رہا ہے؟

سائیکل چلانے سے بہتر کوئی ورزش نہیں

کیمائی گیس حملہ کا فسانہ – رابرٹ فسک

شام پر ناکام حملہ، ٹرمپ کی مشکلات میں اضافہ

سعودی حکومت کے بانی کے برطانوی ایجنٹ ہونے کی تصدیق

2018-01-08 12:21:48

نئی افغان جنگ میں پاکستان کو دھکیلنے کی کوشش

j

پاکستان کے خلاف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جارحانہ ٹویٹ اور اس کے بعد امریکی عہدیداروں کی طرف سے دھمکیاں اور پاکستان کی سیکورٹی امداد بند کرنے کے اقدامات کے بعد جوں جوں الزامات اور جوابی وضاحتوں کی دھند صاف ہو رہی ہے، یہ بات بھی واضح ہورہی ہے کہ امریکہ پاکستان کو ایک نئی افغان جنگ میں جھونکنا چاہتا ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ امریکہ کا اصل تنازعہ قبائیلی علاقوں میں حقانی نیٹ ورک کی موجودگی اور اس کی افغانستان میں حملے کرنے کی صلاحیت ہے اور امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان اس گروہ کے خلاف ہمدردانہ اور سرپرستی کا رویہ ختم کرے۔ پاکستان اس الزام سے انکار کرتا رہا ہے۔ تاہم اب یہ بات واضح ہورہی ہے کہ اصل مسئلہ حقانی نیٹ ورک کے ٹھکانے نہیں ہیں بلکہ گزشتہ برس اگست میں صدر ٹرمپ نئی افغان پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کو آڑے ہاتھوں لینے کی جو کوشش کی تھی ، اس کا مقصد پاکستان کو ایک نئی افغان جنگ میں ملوث کرنا ہے۔ یہ نئی حکمت عملی امریکہ کے وزیر دفاع جیمز میتھیس کی نگرانی میں تیار ہوئی ہے۔ اس کے تحت پاکستان سے کہا جارہا ہے کہ وہ افغان طالبان کے خلاف اپنے قبائیلی علاقوں میں بھرپور جنگ کا آغاز کرے اور افغانستان کی طرف سے امریکی افواج دباؤ بڑھائیں گی۔ اس طرح افغان طالبان کو عسکری لحاظ سے اتنا کمزور کردیا جائے گا کہ وہ سیاسی مفاہمت پر آمادہ ہو جائیں۔ اس حوالے سے سیکرٹری جیمز میتھیس نے گزشتہ روز واشنگٹن میں پریس کانفرنس کے دوران تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان سے نمٹنے کے لئے امریکہ نے ایک حکمت عملی بنائی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو اس پر عمل درآمد کرنا چاہئے۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا پاکستان کی سول حکومت اس منصوبہ پر عمل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جیمز میتھیس کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستانی حکومت اس منصوبہ پر عمل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ حکمت عملی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس خواہش کے مطابق ہے کہ وہ 2020 کے انتخاب سے پہلے افغان جنگ جیتنے کا سہرا اپنے سر پر سجا کر دوسری مدت کے لئے صدر بننے کا خواب پورا کرسکیں۔ اسی خواہش کی وجہ سے امریکہ نے پاکستان کی امداد بند کرنے کا اعلان کرنے کے باوجود  کسی بھی سطح پر پاکستان کے ساتھ رابطوں کو معطل نہیں کیا اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ امداد معطل کرنے کے باوجود اس امداد کی فراہمی کے لئے وزارت خارجہ کو استثنیٰ دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔ اور جس شعبہ میں امریکی سلامتی کے لئے ضروری ہوگا ، امداد فراہم کی جائے گی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکی حکام نے پاکستان کو یہ پیغام دیا ہے کہ اگر وہ ان کے منصوبے اور حکمت عملی کے مطابق نئی افغان جنگ میں اپنی فوج جھونکنے کے لئے تیار ہوں گے تو امداد بتدریج بحال کی جائے گی اور اگر اس بارے میں مزاحمت کی گئی تو پاکستان پر دباؤ میں اضافہ کے لئے مزید ہتھکنڈے اختیار کئے جائیں گے۔

اب یہ بھی واضح ہو رہاہے کہ گزشتہ برس کے آخر میں امریکی وزیر دفاع جیمز میتھیس اور وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن یہی پیغام لے کر پاکستان آئے تھے۔ پاکستانی حکام نے اس امریکی منصوبے کو مثبت قرار دینے کے با وجود اس کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ طالبان کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑا ہے اور اسی نے اس جنگ میں کسی حد تک کامیابی بھی حاصل کی ہے۔ تاہم اب پاک افغان سرحد کے دونوں طرف سے طالبان کو عسکری لحاظ سے دباؤ میں لانے کی صورت میں اس آپریشن کی ناکامی کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ 9/11 کے بعد 2001 میں افغان طالبان کے خلاف اتحادی افواج کی پوری قوت سے کارروائی ناکام ہو چکی ہے۔ اس جنگ کا شراکت دار بننے پر پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اس لئے اس بات کا امکان موجود ہے کہ ایک نئی جنگ کی صورت میں طالبان ایک بار پھر پہاڑوں میں اپنے محفوظ علاقوں میں محصور ہو جائیں اور جوں ہی فوجی کارروائیاں ختم ہوں وہ ایک بار پھر سرکشی پر اتار آئیں ۔ تاہم اس صورت میں تمام نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑے گا اور افغان جنگ اس کی سرزمین پر منتقل ہوجائے گی۔

یہی وجہ ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر خارجہ خواجہ آصف نے حالیہ بیانات میں یہ واضح کیا ہے کہ اگر 2001 میں ملک میں جمہوری حکومت ہوتی تو وہ کبھی بھی امریکی دباؤ کو قبول کرتے ہوئے افغان جنگ میں امریکہ کا فریق نہ بنتی۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے تو گزشتہ روز ایک بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ اگر پاکستان طالبان کے خلاف جنگ کا آغاز کرتا ہے تو افغان جنگ پاکستان کی سرزمین پر منتقل ہوجائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں اس وقت امن بحال کیا جاچکا ہے۔ دہشت گرد گروہوں کو محدود کیا گیا ہے اور زندگی معمول پر واپس آرہی ہے لیکن طالبان کے ساتھ جنگ کی صورت میں ایک بار پھر پاکستان دہشت گردوں کے براہ راست نشانے پر آجائے گا۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ نے یہ تک کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اشتراک ختم ہو چکا ہے۔ صدر ٹرمپ نے جس لب و لہجہ میں پاکستان کے بارے میں بات کی ہے اور جس طرح پاکستان کی امداد معطل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، اتحادی ایک دوسرے کے ساتھ اس قسم کا رویہ اختیار نہیں کرتے۔اس انٹرویو کے علاوہ ملک کی سیاسی قیادت کی طرف سے سامنے آنے والے بیانات کو ملا کر پڑھا جائے تو یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی سیاسی حکومت امریکی منصوبے کا حصہ بننے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ جبکہ پاک فوج کی طرف سے اس قسم کا کوئی واضح اشارہ سامنے نہیں آیا ہے۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے صدر ٹرمپ کے ٹویٹ پیغامات پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان کی قربانیوں اور نقصانات کا ذکر کیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے اور یہ جنگ اس نے اپنے وسائل سے لڑی ہے۔ انہوں نے معیشت کو ہونے والے کثیر مالی نقصان اور پاک فوج کی جانی قربانیوں کا حوالہ بھی دیا۔ تاہم پاک فوج کے ترجمان نے افغان طالبان کے خلاف جنگ کے منصوبہ کے حوالے سے نہ تو کوئی واضح اشارہ دیا اور نہ ہی اس بارے میں فوج کا کوئی مؤقف سامنے آیا ہے۔ جبکہ وزیر خارجہ کے بیان میں امریکی منصوبہ کے بارے میں حکومت کا واضح مؤقف سامنے آیا ہے۔

اس غیر واضح صورت حال میں یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ کیا سول حکومت اور فوجی قیادت کے درمیان اس سوال پر مکمل اتفاق رائے موجود ہے یا اس بارے میں بھی فوج کا رویہ سول حکومت کے برعکس ہے۔ ملک کی سیاسی حکومت کو اندازہ ہے کہ یہ الیکشن کا سال ہے ۔ اس موقع پر اگر ایک نئی جنگ شروع کی گئی اور ملک کی سیکورٹی کی صورت حال پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے تو اس کے لئے انتخابات جیتنا مشکل ہو جائے گا۔ اسی لئے اس کی طرف سے مزاحمت قابل فہم ہے۔ جبکہ امریکہ کی طرف سے سیکورٹی امداد بند ہونے کی وجہ سے نقصان پاک فوج کو برداشت کرنا پڑے گا۔ اس امداد کے تحت پاک فوج کو جدید ٹیکنالوجی، ہتھیار اور آلات مہیا کئے جاتے ہیں جو قبائیلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لئے اہم ہیں۔ اس کے علاوہ پاک فوج عام طور سے امریکی ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی پر انحصار کرتی رہی ہے۔ اس کے ہتھیاروں کا وسیع ذخیرہ امریکہ سے ہی آیا ہے اور انہیں قابل استعمال حالت میں رکھنے کے لئے امریکہ سے فاضل پرزوں کی فراہمی کا جاری رہنا بھی ضروری ہے۔ اگرچہ یہ ساری صورت حال غیر واضح ہے لیکن اس بات کا امکان ہے کہ فوجی قیادت کے امریکہ کے ساتھ دیرینہ اور گہرے تعلقات کی وجہ سے فوج کا مؤقف سول حکومت سے مختلف ہو ۔ اسی لئے امریکہ کی طرف سے تند و تیز بیانات اور امداد معطل کرنے کے معاملہ کو اعلیٰ سطح پر سیاسی رنگ دینے کے باوجود پاکستان نے ابھی تک نہ تو اس سوال کے تمام پہلوؤں پر بحث کا آغاز کیا ہے اور نہ ہی امریکہ کو افغان جنگ کے حوالے سے دی جانے والی سہولتوں کو بند کرنے کے بارے میں کوئی بات منہ سے نکالی گئی ہے۔

یہ اطلاعات موجود ہیں کہ پاکستان مسلسل اس بات کی کوشش کررہا ہے کہ امریکہ کو اس منصوبہ کو مؤخر کرنے اور اس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے پر آمادہ کیا جائے۔ امریکی وزیر دفاع اسی پس منظر میں یہ واضح کررہے ہیں کہ پاکستان میں نئے امریکی منصوبہ پر عملدرآمد کی صلاحیت موجود ہے۔ امریکیوں کا خیال ہے کہ پاکستان اپنی پوری فوجی قوت امریکی منصوبہ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی خواب کی تکمیل کے لئے فراہم کرے۔ اگرچہ امریکی اہلکار بھی ایسی جنگ کی ممکنہ ناکامی کو خارج از امکان نہیں سمجھتے اور یہ اقرار کرتے ہیں کہ طالبان اس جنگ سے بھی ’سرخرو‘ نکل سکتے ہیں لیکن وہ اپنے منصوبہ پر نظر ثانی کے لئے تیار نہیں ہیں کیوں کہ اس کی ناکامی کا زیادہ اثر پاکستان کو قبول کرنا پڑے گا۔ جبکہ پاکستان کی کوشش ہے کہ امریکہ کو اس منصوبہ پر عملدرآمد مؤخر کرنے پر آمادہ کیا جائے اور اس دوران طالبان کے بعض عناصر کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لئے کام کیا جائے۔ اور اس عمل میں شامل ہونے سے انکار کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو۔ یعنی پاکستانی مزید وقت حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ افغانستان کے مختلف عناصر کے ساتھ برسوں کی محنت سے استوار کئے گئے تمام راستے مسدود نہ ہو جائیں۔ جبکہ امریکیوں کو اپنے منصوبہ پر عملدرآمد کی جلدی ہے تاکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی پوزیشن مضبوط ہو سکے۔

اس منصوبہ کے حوالے سے افغانستان میں بھارت کا بڑھتا ہؤا کردار بھی پاکستان کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ پاکستانی حکام سمجھتے ہیں کہ امریکہ ایک طرف پاکستان کو ایک نئی افغان جنگ میں جھونکنا چاہتا ہے لیکن دوسری طرف افغانستان میں بھارت کے لئے سہولتیں اور مواقع فراہم کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ کیا پاکستان اس امریکی منصوبہ کا حصہ بننے کے لئے بھارت کے معاملہ میں امریکہ سے کچھ رعائیتیں حاصل کرنا چاہتا ہے۔ کیوں کہ خبروں کے مطابق پاکستان نے نئی جنگ کے بارے میں امریکی منصوبے کو مسترد نہیں کیا ہے بلکہ اس کے بارے میں اپنے تحفظات ظاہر کئے ہیں۔ لیکن وزیر خارجہ کی باتوں سے لگتا ہے کہ ان کی حکومت اس منصوبے پر عمل کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ لیکن سیاسی حکومت اس حوالے سے فوج کے تعاون اور رضامندی کی محتاج ہے۔ اگر پاک فوج کی قیادت اپنے علاقائی اور وسیع تر اسٹریجک مفادات کے لئے امریکہ کے ساتھ اسی طرح اشتراک عمل ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی جس کا اشارہ خواجہ آصف دے رہے ہیں تو ایک کمزور اور مشکلات میں گھری سیاسی حکومت کس حد تک فوجی رائے کی مزاحمت کر سکتی ہے۔

ماضی میں افغانستان کے حوالے سے جنگ کا حصہ بننے کے دونوں فیصلے فوجی حکومتوں نے کئے تھے اور دونوں فیصلوں سے پاکستان کو ذبردست نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اس وقت البتہ ملک میں ایک سویلین حکومت ہے لیکن وہ ہر طرف سے سیاسی دباؤ میں ہے۔ پاکستان کی مختلف سیاسی پارٹیوں میں بھی اس معاملہ پر اتفاق رائے موجود نہیں ہے۔ ملک کا میڈیا ایک سیاسی لیڈر کی ممکنہ شادی کے سوال پر اپنی ساری صلاحیتیں صرف کرنے میں مصروف ہے۔ یہ صورت حال پاکستان کی سلامتی اور ملک کے عوام کی بہبود کے حوالے سے خوش کن نہیں ہے۔ بہتر تو یہ ہوگا کہ اس معاملہ کو قومی اسمبلی یں زیر بحث لایا جائے تاکہ امریکی منصوبہ کے تمام پہلوعوام کے سامنے آسکیں اور ان کے نمائیندے اس بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرسکیں ۔ اس طرح پارلیمنٹ کے تعاون سے امریکی دباؤ کا مقابلہ بھی کیا جاسکے گا۔ موجودہ صورت حال میں اس کے علاوہ کوئی بھی فیصلہ خواہ کتنی ہی نیک نیتی سے کیا جائے، پاکستان کے لئے مشکلات اور مصائب کا سبب بنے گا۔ یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ پاکستان اس علاقے میں امریکی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے آلہ کار نہ بنے۔ کوئی بھی نئی افغان جنگ ماضی کی دونوں جنگوں کی طرح پاکستان کے مفادات کے خلاف ہوگی۔

 
 
 
زمرہ جات:   Horizontal 1 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)