اسرائیلی وزیراعظم کرپشن کے گرداب میں

زائرین کے لیے خوشخبری: پاک ایران مسافر ٹرین سروس بحال کرنے کا فیصلہ

شریف خاندان نے اپنے ملازموں کے ذریعے منی لانڈرنگ کرائی، عمران خان

امریکہ کی افغانستان میں موجودگی ایران، روس اور چین کو کنٹرول کرنے کے لئے ہے

ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر کی تہران اسلام آباد سیکورٹی تعاون بڑھانے پر تاکید

دورہ بھارت سے نیتن یاہو کے مقاصد اور ماحصل

ایوان صدر میں منعقد پیغام امن کانفرنس میں داعش سے منسلک افراد کی شرکت

امریکہ، مضبوط افغانستان نہیں چاہتا

عربوں نے اسرائیل کے خلاف جنگ میں اپنی شکست خود رقم کی

سیاسی لیڈر کا قتل

مقاصد الگ لیکن نفرت مشترکہ ہے

انتہا پسندی فتوؤں اور بیانات سے ختم نہیں ہوگی!

تہران میں او آئی سی کانفرنس، فلسطین ایجنڈہ سرفہرست

زینب کے قاتل کی گرفتاری کے حوالے سے شہباز شریف کی بے بسی

یورپ کی جانب سے جامع ایٹمی معاہدے کی حمایت کا اعادہ

بن گورین ڈاکٹرین میں ہندوستان کی اہمیت

دہشت گردی کے خلاف متفقہ فتویٰ

شام میں امریکی منصوبہ؛ کُرد، موجودہ حکومت کی جگہ لینگے

شفقنا خصوصی: کیا زینب کے قاتل کی گرفتاری کو سیاسی مقاصد کے لیے چھپایا جا رہا ہے؟

مسئلہ فلسطین، عالم اسلام کا اہم ترین مسئلہ ہے

پاپ کی طرف سے میانمار کے مسلمانوں کی عالمی سطح پر حمایت

امریکا مشترکہ مفادات کی بنیاد پر پاکستان سے نئے تعلقات بنانا چاہتا ہے، ایلیس ویلز

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا بینظیر بھٹو کو قتل کرنے کا دعویٰ

امریکہ، بیت المقدس کے بارے میں اپنے ناپاک منصوبوں ميں کامیاب نہیں ہوگا

پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم کرنےکےلیے پرعزم ہیں: امریکی جنرل جوزف ڈنفورڈ

اسلامی ممالک کو اختلافات دور کرنے اور باہمی اتحاد پر توجہ مبذول کرنی چاہیے

بھارت ایسے اقدامات سے باز رہے جن سے صورتحال خراب ہو، چین

عمران خان اور آصف زرداری کل ایک ہی اسٹیج سے خطاب کریں گے، طاہرالقادری

اسرائیلی وزیراعظم کا 6 روزہ دورہ بھارت؛ کیا پاکستان اور ایران کے روایتی دشمنوں کیخلاف علاقائی اتحاد ناگزیر نہیں؟

مودی، یاہو اور ٹرمپ کی مثلث

سید علی خامنہ ای، دنیا کے تمام مسلمانوں کے لیڈر ہیں؛ آذربائیجانی عوام

لسانی حمایت کافی نہیں، ایرانی معترضین تک اسلحہ پہنچایا جائے؛ صہیونی ادارہ

خود کش حملے حرام ہیں، پاکستانی علما کا فتوی

پاکستان افغان جنگ میں قربانی کا بکرا نہیں بنے گا ، وزیردفاع

امریکہ کے شمالی کوریا پر حملے کا وقت آن پہنچا ہے؛ فارن پالیسی

یمن پر مسلط کردہ قبیلۂ آل سعود کی جنگ پر ایک طائرانہ نظر

پاکستان اور امریکہ کے روابط میں اندھیر

مقبوضہ کشمیر، برہان وانی کے بعد منان وانی !!!

آج دنیا کی تمام اقوام کی تباہی و بربادی کا ذمہ دار امریکہ ہے، جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنایا جائے،

پاک و ہند میں امن کی ضرورت ہے ، جنگ کی نہیں

اتحاد اور ایمریٹس ایئر لائن کا پی آئی اے کی خریداری میں دلچسپی کا اظہار

آصف زرداری کا طاہر القادری کی حکومت مخالف تحریک میں شمولیت کا فیصلہ

ستر سال کا بوڑھا پروفیسر قومی سلامتی کے لئے خطرہ تھا؟ عامر حسینی

فلسطینی قسام بریگیڈ کی پہلی مسلحانہ کاروائی ،صہیونی مزہبی پیشوا فائرنگ میں ہلاک

سعودی عوام مہنگائی کی وجہ سے پریشان ہیں؛ ہوفنگٹن پوسٹ

کویت نے لبنان کے شیعہ سفیر کو آخر کار قبول کرلیا

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ترکی میں مذاکرات

امریکی صدر سے ملاقات کڑوی گولی ہے مگر نگلنی پڑے گی، عمران خان

حزب اللہ آئندہ جنگ میں روزانہ 4ہزار میزائل داغنے کی صلاحیت رکتھی ہے، اسرائیلی اخبار

بن سلمان کی تبدیلیاں محض دکھاوا اور ان کے اپنے فائدے کے لئے ہیں

 بناتِ زینب اور ابنائے آدم

بھارت کی غلط فہمی کا بھرپور جواب دے سکتے ہیں: پاکستان

سیاسی میدان حسد کے ظہور کا مقام ہے

بھارتی سپریم کورٹ میں بغاوت

شیخ زکزاکی کی 2 سال کی حراست کے بعد صحافیوں کے سامنے حاضری

جوہری معاہدے میں کوئی تبدیلی قبول نہیں کریں گے، ایران

ایران کا امریکہ کی نئی پابندیوں کے خلاف جوابی کارروائی کا اعلان

ٹرمپ کو لندن کے شہریوں کا پیغام

ایک موقع، ایران کے لئے بھی پاکستان کے لئے بھی، عزم ملی کی ضرورت!!!

ٹرمپ کی پالیسی آخرکار ایرانی عوام کو مشتعل کردیگی؛ نیویارک ٹائمز

نیتن یاہو نے برطانیہ سے ایرانی احتجاجوں کی حمایت کا مطالبہ کیا

تنازعہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے،‘حریت کانفرنس

خلیج فارس کےعرب ممالک کے پورے جھگڑے کا مرکزی کردار ایک عورت

سعودی میڈیا اور ایران کے اندرونی احتجاجات

سعودی عرب کے لیے سلمان کی حکومت کا تیسرا سال کیسا رہا ؟

امریکہ پاکستان کے اندر فوجی کارروائی کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا: امریکی کمانڈر

زینب کا خط اپنے باپ امین کے نام – عامر حسینی

اصل ایشو تو زینب کو انصاف دلانا ہے – ریاض ملک

خیبرپختونخوا میں قاتلوں تک اداروں کی رسائی نہیں جب کہ بے گناہوں کو گھروں سے غائب کر دیا جاتا ہے، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

ڈونلڈ ٹرمپ کا احتجاج کے خدشے کے باعث دورہ برطانیہ منسوخ

حالات اور جھوٹے مقدمات کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے: نواز شریف

2018-01-11 05:57:53

اسرائیلی وزیراعظم کرپشن کے گرداب میں

corruption

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کچھ عرصے سے کرپشن کے الزامات کے گرداب میں ہیں۔ ان کے خلاف بڑے پیمانے پر عوامی مظاہرے بھی ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی پولیس کی طرف سے ان کے خلاف دو مقدمات کی بنیادپر تحقیقات کا عمل جاری ہے۔

 

اس سلسلے میں پولیس کئی مرتبہ ان کی رہائش گاہ پر آکر ان سے پوچھ گچھ کر چکی ہے۔بعض اوقات انھوں نے تحقیقاتی اداروں کے ساتھ تعاون سے انکار بھی کیا ہے۔ الزامات کے گرداب میں فقط نیتن یاہو نہیں بلکہ ان کا پورا خاندان ہے۔ 8جنوری 2018 کو اسرائیل کے چینل 2نیوز نے اسرائیلی وزیراعظم کے بیٹے یائیر کی ایک آڈیو ریکارڈنگ نشر کی ہے جس میں وہ نشے کی حالت میں اسرائیلی گیس ٹائیکون کوبی میمن (Kobe Mammon) کے بیٹے سے کہہ رہا ہے کہ میرے باپ نے تمھارے باپ کے مفاد میں پارلیمنٹ میں 2015میں ایک متنازعہ بل کی حمایت کی تھی۔ یہ کہتے ہوئے دراصل وہ اس سے کچھ تقاضا کررہا ہے۔ آڈیو ریکارڈنگ میں اس کے الفاظ کچھ یوں ہیں:

“Bro, you got to spot me. My dad made an awesome deal for your dad, bro, he fought, fought in the Knesset for this, bro,”

“Bro, my dad now arranged for you a $20bn deal and you can’t spot me 400 shekels?”

یہ لیک یقینی طور پر اسرائیلی وزیراعظم کے لیے پاکستان کے وزیراعظم کے خلاف مشہور ہونے والی پاناما لیک سے کم ثابت نہیں ہوگی، کیونکہ اس سے پہلے بھی بہت کچھ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف لیک ہو چکا ہے۔

دسمبر2017کے آغاز میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی مبینہ کرپشن کے خلاف اسرائیلی عوام سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ اسرائیلی شہر تل ابیب میں بیس ہزار افراد نے وزیراعظم کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کیا تھا۔ عوام کا مطالبہ تھا کہ نتین یاہو کے خلاف شفاف تحقیقات ہونا چاہییں۔ ادھر عوام یہ مطالبہ کررہے تھے اور ادھر وزیراعظم اپنے اثر و رسوخ سے اسرائیلی پارلیمنٹ میں کرپشن تحقیقات محدود کرنے کا بل منظور کروا رہے تھے۔

عبرانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف زیر تحقیق مقدمہ 1000 کی بنیاد پر فرد جرم تیار کی جا چکی ہے جس کے مطابق نیتن یاہو کے بدعنوانی میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ان کے خلاف رشوت وصول کرنے، امانت میں خیانت کرنے اوردیگر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔پولیس کو ایک آسٹریلوی یہودی جیمز پاکر کی گواہی میسر آئی ہے جس کے بعد وہ اس نتیجے تک پہنچی ہے کہ انھوں نے وزیراعظم اور ان کے خاندان کی جانب سے مطالبے پر تحائف دیے اور انھیں ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

اسرائیلی ذرائع کے مطابق رواں ہفتے میں پولیس کرپشن کے الزامات میں وزیراعظم  نتین یاہو کے خلاف فوج داری تحقیقات کا آغاز کرنے والی ہے۔اسرائیل میں سب سےزیادہ  دیکھے جانے والے چینل 2کے مطابق وزیراعظم نے دو بڑے تاجروں سے قیمتی تحائف یا مراعات حاصل کی ہیں۔ مشہور ویب سائٹ وائے نیٹ نے بھی یہی دعویٰ کیا ہے۔بظاہر یوں لگتا ہے کہ نیتن یاہو کے بیٹے کی آڈیو سامنے آنے کے بعد صورت حال میں تیز رفتاری سے مزید پیش رفت ہوگی۔ کہا جارہا ہے کہ کیس میں اسرائیلی وزیراعظم کے خاندان کے متعدد افراد بھی شامل ہیں۔ خاص طور پر ان کے بیٹے نے جس انداز سے مراعات حاصل کیں اور بڑے بڑے اسرائیلی سرمایہ داروں کی سرپرستی میں امریکا جا کرعیاشی کی اس کے واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف ملک کی حزب اختلاف بھی تحقیقات کے لیے مہم چلا رہی ہے۔ حزب اختلاف کے اہم قانون ساز اور صہیونی یونین پارٹی کے ایئریل مرجالیت نے نیتن یاہو اور ان کو عطیات فراہم کرنے والی نمایاں شخصیات کے مابین تعلق کے حوالے سے تحقیقات کروانے کے لیے تحریک چلا رکھی ہے۔ڈاؤچے ویلے کی رپورٹ کے مطابق ماضی میں نتین یاہو اعتراف کر چکے ہیں کہ انھوں نے فرانس میں مقید ٹائیکون آرنو میمران سے رقم وصول کی تھی ۔ وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق 2001میں چالیس ہزار ڈالر وصول کیے گئے تھے جب نیتن یاہو ابھی وزیراعظم نہیں تھے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق قبل ازیں اسرائیلی وزیراعظم پر عائد ہونے والے الزامات کی وجہ سے اسرائیل اور جرمنی کے مابین ہونے والا آبدوز معاہدہ بھی کھٹائی میں پڑ گیا تھا۔ ڈولفن کے نام سے مشہور یہ آبدوزیں سمندر کی گہرائیوں میں ایٹمی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسرائیل کی نیشنل سیکورٹی کونسل کے ذرائع کے مطابق جرمنی نے اسرائیل کو تین عدد ڈولفن آبدوزوں کی فروخت مؤخر کر رکھی ہے۔ مبینہ کرپشن کے الزامات میں اسرائیلی پولیس پہلے ہی تین افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔ جرمنی نے تل ابیب پر یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر اس سودے میں کرپشن ثابت ہوئی تو برلن اس معاہدے کو منسوخ کردے گا۔ یاد رہے کہ جرمن حکومت اس نوعیت کی چار آبدوزیں پہلے بھی اسرائیل کو فروخت کر چکی ہے۔

نیتن یاہو کے خلاف عوامی مظاہروں، تحقیقات، رپورٹوں، الزامات اور اپوزیشن کے شور شرابے کا نتیجہ کیا نکلتا ہے، اس کے بارے میں ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم اس امر کا امکان موجود ہے کہ نئے شواہد سامنے آنے کی وجہ سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف فضا مزید سنگین ہو جائے اور شاید انھیں وقت سے پہلے اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا پڑے۔

 

ثاقب اکبر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

ایرانی مشاہیر

- سحر ٹی وی

پیغامِ پاکستان اور قومی بیانیہ

- مجلس وحدت المسلمین

یادوں کے جھروکے

- سحر ٹی وی

جام جم - 18 جنوری

- سحر ٹی وی