بھارتی سپریم کورٹ میں بغاوت

نقیب اللہ قتل کیس؛ راؤ انوار ماورائے عدالت قتل کے ذمہ دار قرار

امریکا اور فرانس کا ایران سے کڑی شرائط پر نئے جوہری معاہدے پر اتفاق

پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن تحریک انصاف میں شامل ہوگئے

جوہری معاہدے کی پاسداری ضروری ہے، موگرینی

خواتین معاشرے کا طاقتور حصہ ہیں لیکن انہیں کمزور بنا کر پیش کیا جاتا ہے

قومی مستقبل کا سوال ہے بابا! نذر حافی

داعش کو سر اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی: عراق

قطر کو شام میں امریکی فوجی موجودگی کے اخراجات ادا کرنے چاہییں

دنیا کو بالادستی کے فریب کے چنگل سے نکلنا ہو گا، ایرانی وزیر خارجہ

جوہری معاہدے کو ضرر پہنچا تو بھیانک نتائج آپ کے منتظر ہیں، ایرانی صدرکا امریکہ کو انتباہ

احسن اقبال کی چیف جسٹس کو للکار: کیا اداروں کا تصادم لازم ہے؟

جوڈیشل مارشل لا کے سائے

پاکستان روس کے ساتھ فوجی روابط بڑھانا چاہتا ہے: پاکستان آرمی

پاکستانی نوجوان کو گاڑی سے کچلنے والا امریکی سفارت کار بلیک لسٹ

یمن کی کسی کو پرواہ نہیں ہے – عامر حسینی

وزیراعظم بیرون ملک مفرور ملزم سے ملتے ہیں شاید انہیں قانون کا پتہ نہیں، چیف جسٹس

ایران سے جنگ کرکے امریکا کو کچھ حاصل نہیں ہوگا، فرانسیسی صدر

ن لیگ کی شیعہ دشمنی، دہشتگردوں کو سرکاری پروٹوکول، شیعہ رہنماوں کی سیکورٹی واپس

فیس بک نے داعش اور القاعدہ کی 19 لاکھ پوسٹیں ڈیلیٹ کردیں

شامی افواج کا دمشق میں امام علی(ع) مسجد پر قبضہ

شبعان المعظم عبادت و بندگی اور پیغمبر اسلام کا مہینہ

پاکستان کا کرنل جوزف کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار

این آراو سے متعلق درخواست پر پرویز مشرف اور آصف زرداری کو نوٹس جاری

ایران سے جنگ امریکا کے لیے کتنی نقصان دہ ہو گی؟

تمام اہل بہشت ہمیشہ کیلئے امام حسین(ع) کے مہمان ہیں

مارشل لاء میں بھی اتنی پابندیاں نہیں لگیں جتنی اب ہیں، نواز شریف

بار بار اسمارٹ فون دیکھنے کی لت نشے کی مانند ہے: ماہرین

خون کی رگوں کو جوان کرنے والا نایاب اینٹی آکسیڈنٹ دریافت

تاحیات نااہلی اور نوازشریف

نقیب قتل کیس؛ پولیس نے راؤ انوار کو مرکزی ملزم قرار دے دیا

کے پی کے حکومت میں رخنہ: کیا پی ٹی آئی جماعت اسلامی کے بغیر اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے؟

سعودیہ میں تبدیلی کے پیچھے کون؟

شام میں مشترکہ عرب فوج تشکیل دینے پر مبنی امریکی منصوبہ

موجودہ حالات میں الیکشن ہوتے نظر نہیں آرہے، چوہدری شجاعت حسین

کوئٹہ میں ملک دشمن تکفیری دہشت گردوں کی فائرنگ، 2 شیعہ ہزارہ شہید 1 زخمی

فاروق ستار کی لوڈ شیڈنگ ختم نہ ہونے پر وزیر اعلیٰ ہاؤس کے گھیراؤ کی دھمکی

مغرب کیمیائی حملے کے شواہد تبدیل کر رہا ہے: روس

6 ماہ میں مختلف بیماریوں میں 2 ہزار یمنی شہریوں کا جانی نقصان

نظام تعلیم کا بیڑا غرق کردیا یہ ہے پنجاب حکومت کی کارکردگی، چیف جسٹس

ضیاالحق سے ڈکٹیشن لیتے وقت نواز شریف کو ووٹ کی عزت یاد نہیں آئی، بلاول بھٹو زرداری

مجھے دکھ ہے کہ بے گناہی ثابت کرنے کے لئے 14 ماہ زندان میں گزارے، ثمر عباس – از فواد حسن

ریاض میں شاہی محل کے قریب ‘کھلونا ڈروان’ مارگرایا

ہم آزادی سے خائف ہیں؟

’پاکستان سے زیارت کرنے جاؤ تو واپسی پر ایجنسیاں اٹھا لیتی ہیں‘، بی بی سی رپورٹ

اسلامی مزاحمت کے میزائل اسرائیل کے اندر ہر ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں

حضرت عابد (ع) کی ولادت مبارک ہو!

مانچسٹر میں سالانہ سیمینار: 'برطانیہ میں مسلمانوں کو درپیش چیلینجز'

حضرت عباس(ع) کی زندگی انتظار کا عملی نمونہ

حضرت ابوالفضل (ع) کے باب الحوائج ہونے کا راز

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کا80 واں یوم وفات

فلسطینی بچوں پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ شرمناک ہے، اقوام متحدہ

اعیاد شعبانیہ اور جشن سرکار وفا

شمالی کوریا کا مزید ایٹمی اور میزائل تجربات نہ کرنے کا اعلان

شام کو اینٹی ایئر کرافٹ میزائل فراہم کرنا اخلاقی ذمہ داری

پاکستان کا کشمیر سے متعلق امام خامنہ ای کے بیان کا خیر مقدم

ان الحسین باب من ابواب الجنة

ہم تب کربلائی اور حسینی ؑنہضت کا حصہ بن سکتے ہیں جب ہمارے اندر انبیائی اور حسینیؑ صفات موجود ہوں: علامہ راجہ ناصر عباس

صحافت اور شہادت ساتھ ساتھ

چیئرمین سینیٹ منتخب کرانے کیلیے پی ٹی آئی نے کہا کہ اوپر سے آرڈر آیا ہے: سراج الحق

ایران کا ردعمل امریکہ کیلئے تکلیف دہ ہوگا: محمد جواد ظریف

امریکا کی عالمی جوہری ڈیل سے ممکنہ دستبرداری اور اس کے اثرات

امام حسین علیہ السلام کی سیرت طیبہ

مسلم خاتون کو ہاتھ نہ ملانے کی وجہ سے فرانس کی شہریت سے محروم کر دیا گیا

اللہ تعالی کی طرف سے حضرت امام حسین علیہ السلام کی ولادت کے موقع پر تہنیت اور تعزیت

سعودی عرب میں چیک پوسٹ پر فائرنگ سے 4 سیکویرٹی اہلکار جاں بحق

امریکی ہتھیاروں پر انحصار میں کمی: کیا پاکستان امریکہ سے مستقل چھٹکارا پا رہا ہے؟

سائیکل چلانے سے بہتر کوئی ورزش نہیں

کیمائی گیس حملہ کا فسانہ – رابرٹ فسک

شام پر ناکام حملہ، ٹرمپ کی مشکلات میں اضافہ

سعودی حکومت کے بانی کے برطانوی ایجنٹ ہونے کی تصدیق

2018-01-14 00:34:36

بھارتی سپریم کورٹ میں بغاوت

j

بھارتی سپریم کورٹ کے چار سینئر ججوں نے چیف جسٹس دیپک مشرا کے طریقہ کار اور انتظامی معاملات میں روایت کے برعکس سینئر ججوں کو نظر انداز کرنے اور حساس مقدمات اپنی پسند کے جونیئر ججوں کے حوالے کرنے کے الزامات عائد کئے ہیں۔ انتہائی غیر روائیتی طریقہ اختیار کرتے ہوئے ان ججوں نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے میڈیا کو چیف جسٹس کے رویہ اور ملک کی اعلیٰ عدالت کے اندرونی حالات کے بارے میں آگاہ کیا۔ اس پریس کانفرنس کے بعد جو کہ چیف جسٹس کے بعد بھارتی سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس جستی چیلا میسور کے گھر پر منعقد ہوئی تھی ، بھارت کے قانون دان اور سیاسی حلقوں میں سراسیمگی پھیلی ہوئی ہے۔ بہت کم لوگوں نے اس پریس کانفرنس کے حوالے سے بات کی ہے اور جو لوگ بھی سامنے آئے ہیں، انہوں نے ان حالات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے وقار کو نقصان پہنچے گا اور لوگوں کا عدالتوں اور ججوں پر اعتماد کم ہوگا۔ اس طرح ملک میں جمہوری نظام کو بھی نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔

اس کے برعکس روایت سے بغاوت کرنے والے چاروں ججوں نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز کو سنتے ہوئے اور ملک کے آئین کی حفاظت کے حلف کا لحاظ کرتے ہوئے یہ باتیں سامنے لانے پر مجبور ہوئے ہیں۔ جسٹس چیلا میسور نے کہا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ آج سے بیس برس بعد کوئی دانشمند شخص یہ سوال کرے کہ جب سپریم کورٹ کے حالات اتنے خراب ہو چکے تھے اور آئین و عدالتی روایت کے پرخچے اڑائے جا رہے تھے تو یہ جج کیوں خاموش رہے‘۔ اس موقع پر پریس کانفرنس میں موجود دیگر ججوں میں جسٹس رنجن گوگی، جسٹس مدن لوکر اور جسٹس کورین جوزف بھی شامل تھے۔ ان ججوں کا کہنا ہے  کہ چیف جسٹس عدالت کو اپنی مرضی کا تابع بنار ہے ہیں اور جس طرح عدالتی تقرریوں اور ترقیوں کے لئے میرٹ اور مشاورت کو نظر انداز کیا جارہاہے ، وہ ملک کے عدالتی ڈھانچے کے علاوہ جمہوری نظام کے لئے بھی انتہائی خطرناک ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر ملک کی عدلیہ شفاف اور غیر جانبدار نہیں ہوگی تو اس سے جمہوری نظام کو شدید نقصان پہنچے گا۔ ان کے خیال میں ان حالات میں جمہوریت کی بنیادیں کمزور ہو رہی ہیں۔

بھارتی سپریم کورٹ کے 31 میں سے چار سینئر ججوں کے اس باغیانہ اقدام سے یہ واضح ہورہا ہے کہ بھارتی جنتا پارٹی کی حکومت اور اس کے انتہا پسند وزیر اعظم اب عدالتی نظام کو بھی تہ و بالا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ موجودہ چیف جسٹس دیپک مشرا کو وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ سال اگست میں متعین کیا تھا۔ تاہم اسی وقت سے اس حیثیت میں چیف جسٹس نے ایسے فیصلے کئے ہیں جس سے ملک کے قانون دان طبقوں میں پریشانی پیدا ہونا شروع ہو گئی تھی۔ اس کا اظہار دبے لفظوں میں اخباری تبصروں میں بھی دیکھنے میں آنے لگا تھا۔ تاہم آج چار ججوں کی پریس کانفرنس اور چیف جسٹس کے غیر قانونی اقدامات پر براہ راست تنقید سے یہ واضح ہؤا ہے کہ بھارت کے اس اعلیٰ ترین ادارے میں زوال کے آثار پیدا ہو چکے ہیں۔ اسی لئے چار ججوں کو صورت حال قوم کے سامنے رکھنے اور حالات کو بہتر بنانے کی اپیل کرنے کا انتہائی اقدام کرنا پڑا۔

ایک سوال کے جواب میں جسٹس چیلا میسور نے کہا کہ وہ چیف جسٹس کے مواخذے کی بات نہیں کررہے ۔ لیکن اس کا فیصلہ قوم کو کرنا چاہئے کہ کیا اس کی ضرورت ہے یا نہیں ۔ ہم تو صرف اصل صورت حال عوام کے سامنے پیش کرنے کا فریضہ ادا کررہے ہیں۔ ان چاروں ججوں نے نومبر میں چیف جسٹس کے اقدامات پر احتجاج کرتے ہوئے ایک خط لکھا تھا۔ انہیں امید تھی کہ اس خط کے بعد چیف جسٹس معاملات کو درست کرنے کے لئے اقدامات کریں گے۔ لیکن اس خط کا جواب نہ ملنے اور انتظامی معاملات میں مسلسل جانبداری اور بگاڑ سامنے آنے کے بعد اب ان ججوں نے یہ خط بھی میڈیا کو جاری کردیا ہے اور پریس کانفرنس میں نریندر مودی کے مقرر کردہ چیف جسٹس کا بھانڈا بھی پھوڑ دیا ہے۔ ان چاروں ججوں نے پریس کانفرنس سے پہلے چیف جسٹس سے ملاقات بھی کی تھی لیکن اس ملاقات میں بھی اصلاح احوال کی کوئی صورت سامنے نہیں آسکی تھی۔

سپریم کورٹ کے ججوں کی طرف سے پریس کانفرنس ایک انتہائی اقدام ہے۔ بھارت کی تاریخ میں اگرچہ ججوں نے اپنے فیصلوں میں ایک دوسرے سے اختلاف کا اظہار کیا ہے لیکن سینیئر ججوں کی طرف سے چیف جسٹس کو جانبدار اور روایت دشمن قرار دینے کے لئے پریس کانفرنس منعقد کرنا ایک سنگین اقدام ہے جس کے ملک کی سیاست اور عدالتی نظام پر اثرات مرتب ہونا لازم ہے۔ چیف جسٹس مشرا نے خود پر لگنے والے الزامات کا جواب دینے سے انکار کیاہے۔ اسی طرح وزیر قانون روی شنکر پرساد نے بھی اس صورت حال پر کوئی بات کرنے سے گریز کیا ہے۔  تاہم بھارتی میڈیا کے مطابق چیف جسٹس نے یہ الزامات سامنے آنے کے بعد اٹارنی جنرل سے ملاقات کی ہے۔

ان الزامات کا تعلق اگرچہ عدالتی انتظامی معاملات سے ہے لیکن دراصل اس طرح ملک کے چیف جسٹس کے سیاسی مزاج اور وفادری پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ ججوں کے احتجاج سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اگر بھارت جیسی مضبوط جمہوریت میں عدالتوں کے ججوں کے سیاسی رویے عدالتی نظام اور جمہوریت کے لئے نقصان دہ قرار دیئے جا سکتے ہیں تو جن ملکوں میں جمہوری روایت ابھی مستحکم اور مضبوط نہ ہو، وہاں اعلیٰ عدالتوں کے سیاسی رویے پورے نظام کے لئے اندیشوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ 

زمرہ جات:   Horizontal 1 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)