بن سلمان کی تبدیلیاں محض دکھاوا اور ان کے اپنے فائدے کے لئے ہیں

فتویٰ اور پارلیمینٹ

کل بھوشن کے بعد اب محمد شبیر

سعودیہ فوج میں زبردستی بھرتی پر مجبور ہوگیا ہے؛ یمنی نیوز

پاکستان کی غیر واضح خارجہ پالیسی سے معاملات الجھے رہیں گے

پارلیمنٹ پر لعنت

نائیجیریا میں آیت اللہ زکزکی کی حمایت میں مظاہرہ

ایٹمی معاہدے میں کوئی خامی نہیں، امریکی جوہری سائنسداں کا اعتراف

سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان مکار، دھوکہ باز، حیلہ گر اور فریبکار ہیں: قطری شیخ

امریکا نے دہشت گردی کے بجائے چین اور روس کو خطرہ قرار دے دیا

سلامتی کونسل میں پاکستان اور امریکی مندوبین کے درمیان لفظی جنگ

ایک اورماورائے عدالت قتل

کالعدم سپاہ صحابہ کا سیاسی ونگ پاکستان راہ حق پارٹی بھی اھل سیاسی جماعتوں میں شامل

امریکہ اور دہشتگردی کا دوبارہ احیاء

ایرانی جوان پوری طرح اپنے سیاسی نظام کے حامی ہیں؛ ایشیا ٹائمز

دنیائے اسلام، فلسطین اور یمن کے بارے میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرے

شام کے لیے نئی سازش کا منصوبہ تیار

پاک فوج کیخلاف لڑنا حرام ہے اگر فوج نہ ہوتی تو ملک تقسیم ہوچکا ہوتا: صوفی محمد

امام زمانہ عج کی حکومت میں مذہبی اقلیتوں کی صورت حال

سعودی عرب نائن الیون کے واقعے کا تاوان ادا کرے، لواحقین کا مطالبہ

امریکہ کو دوسرے ممالک کے بارے میں بات کرنے سے باز رہنا چاہیے: چین

پاکستان میں حقانی نیٹ ورک موجود نہیں

سعودی عرب نے یمن میں انسانی، اسلامی اور اخلاقی قوانین کا سر قلم کردیا

پاکستان کو ہم سے دشمن کی طرح برتاؤ نہیں کرنا چاہیے: اسرائیلی وزیراعظم

آرمی چیف نے 10 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی

بھارت: ’حج سبسڈی کا خاتمہ، سات سو کروڑ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے

صہیونی وزیر اعظم کے دورہ ہندوستان کی وجوہات کچھ اور

پاکستانی سرزمین پر امریکی ڈرون حملہ، عوام حکومتی ایکشن کے منتظر

روس، پاکستان کی دفاعی حمایت کے لئے تیار ہے؛ روسی وزیر خارجہ

عام انتخابات اپنے وقت پر ہونگے: وزیراعظم

ناصرشیرازی اور صاحبزادہ حامد رضا کی چوہدری پرویزالہیٰ سے ملاقات، ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

پارلیمنٹ نمائندہ ادارہ ہے اسے گالی نہیں دی جاسکتی: آصف زرداری

زائرین کے لیے خوشخبری: پاک ایران مسافر ٹرین سروس بحال کرنے کا فیصلہ

شریف خاندان نے اپنے ملازموں کے ذریعے منی لانڈرنگ کرائی، عمران خان

امریکہ کی افغانستان میں موجودگی ایران، روس اور چین کو کنٹرول کرنے کے لئے ہے

ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر کی تہران اسلام آباد سیکورٹی تعاون بڑھانے پر تاکید

دورہ بھارت سے نیتن یاہو کے مقاصد اور ماحصل

ایوان صدر میں منعقد پیغام امن کانفرنس میں داعش سے منسلک افراد کی شرکت

امریکہ، مضبوط افغانستان نہیں چاہتا

عربوں نے اسرائیل کے خلاف جنگ میں اپنی شکست خود رقم کی

سیاسی لیڈر کا قتل

مقاصد الگ لیکن نفرت مشترکہ ہے

انتہا پسندی فتوؤں اور بیانات سے ختم نہیں ہوگی!

تہران میں او آئی سی کانفرنس، فلسطین ایجنڈہ سرفہرست

زینب کے قاتل کی گرفتاری کے حوالے سے شہباز شریف کی بے بسی

یورپ کی جانب سے جامع ایٹمی معاہدے کی حمایت کا اعادہ

بن گورین ڈاکٹرین میں ہندوستان کی اہمیت

دہشت گردی کے خلاف متفقہ فتویٰ

شام میں امریکی منصوبہ؛ کُرد، موجودہ حکومت کی جگہ لینگے

شفقنا خصوصی: کیا زینب کے قاتل کی گرفتاری کو سیاسی مقاصد کے لیے چھپایا جا رہا ہے؟

مسئلہ فلسطین، عالم اسلام کا اہم ترین مسئلہ ہے

پاپ کی طرف سے میانمار کے مسلمانوں کی عالمی سطح پر حمایت

امریکا مشترکہ مفادات کی بنیاد پر پاکستان سے نئے تعلقات بنانا چاہتا ہے، ایلیس ویلز

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا بینظیر بھٹو کو قتل کرنے کا دعویٰ

امریکہ، بیت المقدس کے بارے میں اپنے ناپاک منصوبوں ميں کامیاب نہیں ہوگا

پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم کرنےکےلیے پرعزم ہیں: امریکی جنرل جوزف ڈنفورڈ

اسلامی ممالک کو اختلافات دور کرنے اور باہمی اتحاد پر توجہ مبذول کرنی چاہیے

بھارت ایسے اقدامات سے باز رہے جن سے صورتحال خراب ہو، چین

عمران خان اور آصف زرداری کل ایک ہی اسٹیج سے خطاب کریں گے، طاہرالقادری

اسرائیلی وزیراعظم کا 6 روزہ دورہ بھارت؛ کیا پاکستان اور ایران کے روایتی دشمنوں کیخلاف علاقائی اتحاد ناگزیر نہیں؟

مودی، یاہو اور ٹرمپ کی مثلث

سید علی خامنہ ای، دنیا کے تمام مسلمانوں کے لیڈر ہیں؛ آذربائیجانی عوام

لسانی حمایت کافی نہیں، ایرانی معترضین تک اسلحہ پہنچایا جائے؛ صہیونی ادارہ

خود کش حملے حرام ہیں، پاکستانی علما کا فتوی

پاکستان افغان جنگ میں قربانی کا بکرا نہیں بنے گا ، وزیردفاع

امریکہ کے شمالی کوریا پر حملے کا وقت آن پہنچا ہے؛ فارن پالیسی

یمن پر مسلط کردہ قبیلۂ آل سعود کی جنگ پر ایک طائرانہ نظر

پاکستان اور امریکہ کے روابط میں اندھیر

مقبوضہ کشمیر، برہان وانی کے بعد منان وانی !!!

آج دنیا کی تمام اقوام کی تباہی و بربادی کا ذمہ دار امریکہ ہے، جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنایا جائے،

پاک و ہند میں امن کی ضرورت ہے ، جنگ کی نہیں

2018-01-14 07:56:31

بن سلمان کی تبدیلیاں محض دکھاوا اور ان کے اپنے فائدے کے لئے ہیں

Bin Salman

 

 

سلمان بن عبدالعزیز کی بادشاہی کے تین سال مکمل ہو گئے ہیں پر یہ ملک 2015 کے بعد سے بدل چکا ہے۔

 

2015 میں شاہ عبداللہ کے مرنے کے بعد شاہ سلمان نے اپنے منصوبوں پر عملدرآمد شروع کر دیا۔ سعودیہ نے اداروں میں تبدیلی شروع کردی یہاں تک کہ شاہ سلمان نے اپنے بھائی کے شاہی گارڈز کو بھی شاہی محل سے نکال دیا۔ تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے معیشت خراب ہونے لگی جبکہ 2017 کا سال 52.8 ارب ڈالر کی خسارے کے ساتھ شروع ہوا۔ لیکن اس دوران اہم بات سعودی خاندان میں بغاوت کا ہونا ہے، جس کے بارے میں ماہر سیاسیات، یمنی تجزیہ نگار «عباس السید» کی گفتگو پیش کرتے ہیں۔

 

بن سلمان کی سربراہی میں 2030 کے وژن کے مطابق سعودیہ میں معاشی، ثقافتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں آپ کی اس کے بارے میں کیا نظر ہے؟

 

سعودی ولیعہد کے سیاسی اصلاحات کا اقدام ان کے ثقافتی اور معاشی اصلاحات کے بغیر ایسا ہی ہے کہ وہ سعودی بادشاہت کو حاصل کرنا چاہتے ہیں، شہزادوں کو گرفتار کرنا اور پیسے وصول کرنا اپنے ذاتی مقاصد کے لیے ہی ہوسکتے ہیں۔

 

اصلاحات داخلی یا بیرونی دباو کی وجہ سے کی جا رہی ہیں؟

 

غربی ممالک سعودیہ سے مفادات حاصل کرتے ہیں بدلے میں اسے سیکورٹی فراہم کرتے ہیں مغرب کی اس ملک کی حمایت کی وجہ سے عام نگاہ کے لیے یہ اصلاحات کی جا رہی ہے، البتہ ان اصلاحات سے سعودی معاشرے کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بن سلمان اپنے مقاصد کے لیے سعودی عوام کو استعمال کر رہے ہیں ویسے ہی جیسے مغربی ممالک اپنے مفادات کے لیے بن سلمان کو استعمال کر رہے ہیں۔

 

بن سلمان اپنے آپ کو متوازن اسلام کا سربراہ سمجھتے ہیں، آپ کی نظر میں سعودیہ میں اصلاحات سے عالم اسلام کو کوئی فائدہ ہوگا؟

 

شدت پسند یا توازن پسند کی کوئی حقیقت نہیں ہے یہ اصطلاح، سیاسی ہیں جس کو سعودیہ اور ترکی نے اسلامی ممالک پر حاکم ہونے کے لیے بنائی ہیں۔ اسلامی ممالک، خلیج کونسل، ترکی سعودی اور سوڈان سعودی اختلافات کی موجودگی میں بن سلمان اسلام کے سربراہ نہیں بن سکتے ہیں، بلکہ ان کی اصلاحات سے سعودیہ کی فکری بنیادیں بھی ہل گئی ہیں۔

 

ممکن ہے کہ ان اصلاحات سے جوانوں اور خواتین کو فائدہ ہو لیکن مذہبی طبقہ اور علماء ناراض ہو جائینگے، تو کیا اس سے کشیدگی میں اضافہ نہیں ہو گا۔

 

جیسے کہ کہا گیا، ممکن ہے کہ ان اصلاحات سے جوانوں اور خواتین کو فائدہ ہو، اور وہ حکومت کی طرف مائل ہوں پر یہ جوان اپنے بنیادی حق، اپنے بادشاہ کے انتخاب میں ووٹ نہیں ڈال سکتے، نہ ہی اس بارے میں اپنی نظر بیان کر سکتے ہیں، دوسری اہم بات یہ کہ سعودی معاشرہ وہابیت کی بنا پر کھڑا ہے، ممکن ہے یہ طبقہ ابھی خاموش ہو پر جلد وہ اپنی خاموشی توڑ دیگا۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

ہم اتنے بے حس کیوں ہیں؟

- ایکسپریس نیوز

21 ویں صدی کے دو تقاضے

- ایکسپریس نیوز