بلتستان این جی او ز کے نرغے میں 

خواتین معاشرے کا طاقتور حصہ ہیں لیکن انہیں کمزور بنا کر پیش کیا جاتا ہے

قومی مستقبل کا سوال ہے بابا! نذر حافی

داعش کو سر اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی: عراق

قطر کو شام میں امریکی فوجی موجودگی کے اخراجات ادا کرنے چاہییں

دنیا کو بالادستی کے فریب کے چنگل سے نکلنا ہو گا، ایرانی وزیر خارجہ

جوہری معاہدے کو ضرر پہنچا تو بھیانک نتائج آپ کے منتظر ہیں، ایرانی صدرکا امریکہ کو انتباہ

احسن اقبال کی چیف جسٹس کو للکار: کیا اداروں کا تصادم لازم ہے؟

جوڈیشل مارشل لا کے سائے

پاکستان روس کے ساتھ فوجی روابط بڑھانا چاہتا ہے: پاکستان آرمی

پاکستانی نوجوان کو گاڑی سے کچلنے والا امریکی سفارت کار بلیک لسٹ

یمن کی کسی کو پرواہ نہیں ہے – عامر حسینی

وزیراعظم بیرون ملک مفرور ملزم سے ملتے ہیں شاید انہیں قانون کا پتہ نہیں، چیف جسٹس

ایران سے جنگ کرکے امریکا کو کچھ حاصل نہیں ہوگا، فرانسیسی صدر

ن لیگ کی شیعہ دشمنی، دہشتگردوں کو سرکاری پروٹوکول، شیعہ رہنماوں کی سیکورٹی واپس

فیس بک نے داعش اور القاعدہ کی 19 لاکھ پوسٹیں ڈیلیٹ کردیں

شامی افواج کا دمشق میں امام علی(ع) مسجد پر قبضہ

شبعان المعظم عبادت و بندگی اور پیغمبر اسلام کا مہینہ

پاکستان کا کرنل جوزف کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار

این آراو سے متعلق درخواست پر پرویز مشرف اور آصف زرداری کو نوٹس جاری

ایران سے جنگ امریکا کے لیے کتنی نقصان دہ ہو گی؟

تمام اہل بہشت ہمیشہ کیلئے امام حسین(ع) کے مہمان ہیں

مارشل لاء میں بھی اتنی پابندیاں نہیں لگیں جتنی اب ہیں، نواز شریف

بار بار اسمارٹ فون دیکھنے کی لت نشے کی مانند ہے: ماہرین

خون کی رگوں کو جوان کرنے والا نایاب اینٹی آکسیڈنٹ دریافت

تاحیات نااہلی اور نوازشریف

نقیب قتل کیس؛ پولیس نے راؤ انوار کو مرکزی ملزم قرار دے دیا

کے پی کے حکومت میں رخنہ: کیا پی ٹی آئی جماعت اسلامی کے بغیر اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے؟

سعودیہ میں تبدیلی کے پیچھے کون؟

شام میں مشترکہ عرب فوج تشکیل دینے پر مبنی امریکی منصوبہ

موجودہ حالات میں الیکشن ہوتے نظر نہیں آرہے، چوہدری شجاعت حسین

کوئٹہ میں ملک دشمن تکفیری دہشت گردوں کی فائرنگ، 2 شیعہ ہزارہ شہید 1 زخمی

فاروق ستار کی لوڈ شیڈنگ ختم نہ ہونے پر وزیر اعلیٰ ہاؤس کے گھیراؤ کی دھمکی

مغرب کیمیائی حملے کے شواہد تبدیل کر رہا ہے: روس

6 ماہ میں مختلف بیماریوں میں 2 ہزار یمنی شہریوں کا جانی نقصان

نظام تعلیم کا بیڑا غرق کردیا یہ ہے پنجاب حکومت کی کارکردگی، چیف جسٹس

ضیاالحق سے ڈکٹیشن لیتے وقت نواز شریف کو ووٹ کی عزت یاد نہیں آئی، بلاول بھٹو زرداری

مجھے دکھ ہے کہ بے گناہی ثابت کرنے کے لئے 14 ماہ زندان میں گزارے، ثمر عباس – از فواد حسن

ریاض میں شاہی محل کے قریب ‘کھلونا ڈروان’ مارگرایا

ہم آزادی سے خائف ہیں؟

’پاکستان سے زیارت کرنے جاؤ تو واپسی پر ایجنسیاں اٹھا لیتی ہیں‘، بی بی سی رپورٹ

اسلامی مزاحمت کے میزائل اسرائیل کے اندر ہر ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں

حضرت عابد (ع) کی ولادت مبارک ہو!

مانچسٹر میں سالانہ سیمینار: 'برطانیہ میں مسلمانوں کو درپیش چیلینجز'

حضرت عباس(ع) کی زندگی انتظار کا عملی نمونہ

حضرت ابوالفضل (ع) کے باب الحوائج ہونے کا راز

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کا80 واں یوم وفات

فلسطینی بچوں پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ شرمناک ہے، اقوام متحدہ

اعیاد شعبانیہ اور جشن سرکار وفا

شمالی کوریا کا مزید ایٹمی اور میزائل تجربات نہ کرنے کا اعلان

شام کو اینٹی ایئر کرافٹ میزائل فراہم کرنا اخلاقی ذمہ داری

پاکستان کا کشمیر سے متعلق امام خامنہ ای کے بیان کا خیر مقدم

ان الحسین باب من ابواب الجنة

ہم تب کربلائی اور حسینی ؑنہضت کا حصہ بن سکتے ہیں جب ہمارے اندر انبیائی اور حسینیؑ صفات موجود ہوں: علامہ راجہ ناصر عباس

صحافت اور شہادت ساتھ ساتھ

چیئرمین سینیٹ منتخب کرانے کیلیے پی ٹی آئی نے کہا کہ اوپر سے آرڈر آیا ہے: سراج الحق

ایران کا ردعمل امریکہ کیلئے تکلیف دہ ہوگا: محمد جواد ظریف

امریکا کی عالمی جوہری ڈیل سے ممکنہ دستبرداری اور اس کے اثرات

امام حسین علیہ السلام کی سیرت طیبہ

مسلم خاتون کو ہاتھ نہ ملانے کی وجہ سے فرانس کی شہریت سے محروم کر دیا گیا

اللہ تعالی کی طرف سے حضرت امام حسین علیہ السلام کی ولادت کے موقع پر تہنیت اور تعزیت

سعودی عرب میں چیک پوسٹ پر فائرنگ سے 4 سیکویرٹی اہلکار جاں بحق

امریکی ہتھیاروں پر انحصار میں کمی: کیا پاکستان امریکہ سے مستقل چھٹکارا پا رہا ہے؟

سائیکل چلانے سے بہتر کوئی ورزش نہیں

کیمائی گیس حملہ کا فسانہ – رابرٹ فسک

شام پر ناکام حملہ، ٹرمپ کی مشکلات میں اضافہ

سعودی حکومت کے بانی کے برطانوی ایجنٹ ہونے کی تصدیق

شام میں امریکہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کررہا ہے، ابوالخیرزبیر

بھارت سکھ زائرین کے دورے کو کیوں متنازع بنانا چاہتا ہے؟

میں شام پہ غیر جانبدار نہیں ہوں – عامر حسینی

شامی حکومت نے دوما میں کیمیائی حملہ نہیں کیا: رابرٹ فسک

2018-03-28 13:50:47

بلتستان این جی او ز کے نرغے میں 

Gilgit-wa-baltistan
 
2016ء میں صرف سکردو میں 404این جی اوز رجسٹرڈ تھی بعدمیں 225این جی اوز کی رجسٹریشن منسوخ کی گئی اس وقت صرف سکردو انتظامیہ کے پاس 179این جی اوز رجسٹرڈ ہیں۔ یہ این جی اوز تعلیم،صحت ،روزگار اور ترقی کے نام پر قائم کی گئی ہیں۔ یہ 179این جی اوز تمام کی تمام مقامی ہیں ان میں بعض ادبی اور میڈیا تنظیمیں بھی شامل ہیں ،درجن سے زائد این جی اوز کی سربراہ خواتین ہیں، ان کا مقصد تعلیم ،صحت،خواتین کو باروزگار بناکر معاشرے میں مساوی کرداردینا بتایا گیا ہے ،مقامی این جی اوز کی ہیت اور مقاصد کو دیکھا جائے تو مجموعی طور پر تمام کے تمام اپنے اہداف و مقاصدمیں عوام خصوصاً خواتین کی خدمت کو ترجیحات میں شامل کیاگیا ہے تاہم ذمینی حقائق کے مطابق بعض پڑھے لکھے لوگ این جی اوکو بطور روزگار استعمال کرتے ہیں ،یہ لوگ حکومتی فنڈز بھی لیتے ہیں اور غیرملکی ڈونر ایجنسیز کے ساتھ غیرملکی سفارتخاتوں سے بھی رقم وصول کرتے ہیں دوسرے معنوں میں این جی او بنانے کا مقصد امداد کا حصول ہے جس میں مقامی کمیونٹی کو شامل دکھا کر فنڈز کا حصول نسبتاً آسان ہوجاتاہے ،یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ وہ این جی او جن کی ”خدمت”کا مرکز خواتین ہوں ان کیلئے ڈونر ز ایجنسیوں کے منہ کھل جاتے ہیں،مثلاً بعض غیر ملکی یا قومی سطح کی این جی اوز کی بنیادی شرط خواتین کی تنظیم ہوتی ہے جہاں کہیں دیہاتوں میں خواتین کی تنظیم ہو،ان کا باقاعدہ اجلاس منعقدہ ہورہا ہو اور این جی اوز کے ذریعے قابل ذکر خواتین مختلف ورکشاپس میں شرکت کرتی ہوں تو وہ این جی اوز” گڈ بک ”میں شامل ہوجاتی ہیں بین الاقوامی ڈونر ایجنسیاں اور غیر ملکی سفارتخانے دل کھول کر امداد فراہم کرتے ہیں بین الااقوامی این جی اوز کی سرمایہ کاری کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ یوایس ایڈ نے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران صرف بلتستان میں 3ارب روپے مختلف منصوبوں پر خرچ کیے،کئی منصوبے مکمل بھی کیے اکثر کرپشن کی نذر ہوگئے،واضح رہے کہ بلتستان کے چاروں اضلاع کی اے ڈی پی(سالانہ ترقیاتی فنڈ) 3ارب روپے سے بھی کم ہے۔سوال یہ ہے کہ آخر دنیا کی سب سے بڑی ڈونر ایجنسی یعنی یو ایس ایڈ کو سب سے زیادہ غربت بلتستان میں ہی کیوں نظر آئی؟کیابالائی سندھ ،جنوبی پنجاب میں غربت بلتستان سے بھی زیادہ نہیں؟یوایس ایڈ سے متعلق ایک اور حیران کن پہلو یہ ہے کہ یہ تنظیم صرف ترقیاتی منصوبوں پرہی نہیں گلگت بلتستان کے نظام تعلیم پر بھی خطیر رقم خرچ کررہی ہے۔بلتستان کے تمام سکولوں میں یو ایس ایڈ کے مرتب کردہ خصوصی نصابی کتب فراہم کی جارہی ہے، ساتھ تمام پرائمری سکولوں میںآئی پیڈ بھی تقسیم کیاگیا ہے۔ 
 
ایک اور امریکی این جی او سنٹرل ایشیا انسٹی ٹیوٹ ہے ،یہ 1996ء میں قائم کی گئی اس کے بانی گریک مارٹنسن ہیں ، جو مشہور کتاب”تھری کپس آف ٹی” کے مصنف بھی ہیں ،سنٹرل ایشیاء انسٹیٹیوٹ گلگت بلتستان ،شمالی افغانستان، اور مشرقی تاجکستان کے علاقوں میں بظاہر تعلیم کے فروغ کیلئے کام کررہی ہے،یہ این جی او کمیونٹی بیسڈ سکولوں کو سہولیات فراہم کرتی ہے، سکول کے بچوں میں مفت کتابیں ا ور وردیاں بھی تقسیم کی جاتی ہیں،سنٹرل ایشیاء انسٹیٹیوٹ کی بلتستان کے دوردراز کے علاقوں پر مرکوز ہے ،تاہم بعدمیں ہنزہ اور کے پی کے کے علاقوں تک نیٹ ورک بڑھا دیاگیا۔ 
 
تعلیم اور ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے کے علاوہ بلتستان میں ورکشاپس اور آگاہی پروگرام کرنے والی این جی اوز بھی کافی سرگرم ہیں،عورت فاؤنڈیشن اور آگہی دو الگ الگ این جی اوز ہیں جو صرف اور صرف ورکشاپس اور مختلف پروگرام کراتی ہیں،صرف سکردو شہر میں ہفتے میں کم از کم تین ورکشاپس منعقد ہوتی رہتی ہیں،ان کے پروگرامزمیں زیادہ ترتوجہ عورت کو مساوی حقوق او رمعاشرے میں بنیادی کردار ادا کرنے اور آزادی کے عنوان پر مباحثے کرائے جاتے ہیں۔ایک اور مشہور این جی او چپ کے نام سے ہے جو معذوں پر توجہ مرکوز کررکھی ہے۔یہ نامی گرامی این جی اوز ہیں ان کے علاوہ بھی سینکڑوں این جی اوز سرگرم عمل ہیں۔ 
 
این جی اوز کا تصور بذات خود برا نہیں ہے دنیا میں ایسی این جی اوز بھی ہیں جن کی خدمات قابل قدر اورقابل تعریف ہیں،لیکن حالیہ چند عرصوں میں قومی او ر عالمی سطح پر رونما ہونے والے کئی واقعات نے کئی ایسے حقائق کو بھی آشکا ر کردیا ہے کہ جن کے ظاہری اہداف کے پیچھے خفیہ مقاصدبھی عیاں ہوگئے ہیں،جس کے بعد ضروری ہوگیا ہے کہ اہل درد اور اہل علم و دانش نئے زاویے سے معاملے کو پرکھیں،تحقیقاتی زاویے کے ذریعے خفیہ اہداف تک پہنچنے اور انہیں بے نقاب کرنے کی کوشش کی جائے ۔کیونکہ حالات و واقعات کے عین مطابق دیکھنے میں آیا ہے کہ این جی اوز دینی اقدار میں تبدیلی اور مغربی تہذیب کی تشہیرکے ساتھ حقوق اور آزادی کے نام پر مغربی تہذیب کا پرچار کرتی نظر آرہی ہیں ،ضروری ہے کہ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے کہ آخر این جی اوز کے اہداف میں خواتین کے حقوق ،آزادی اورمعاشرتی اہداف میں تبدیلی ہی کیوں ہے؟ 
 
1۔تہذیبوں کا تصادم صرف نظریہ ہی نہیں۔۔!! 
 
سموئیل ہنٹنگٹن کانظریہ تہذیبوں کا تصادم ظاہری طور پر نظریہ لیکن احقیقت میں مغرب کے پالیسی سازوں کیلئے ”گائیڈ لائن ”تھا،سویت یونین تازہ تازہ بکھر چکا تھا امریکہ اور مغرب کے سامنے اب کوئی قابل قدر دشمن نہیں بچاتھا،اس سے پہلے لگ بھگ نصف صدی تک امریکہ سویت یونین کی دیوہیکل طاقت کو سرنگون کرنے میں مصروف رہا دنیا دو بلاکوں میں تقسیم ہوگئی ،سویت یونین کی دیوہیکل طاقت کے سامنے گرم جنگ ممکن نہیں تھی اس لیے سرد جنگ نے دنیا کو نصف صدی تک گھیرے میں رکھا،تہذیبوں کے تصادم کے نظریے کوعالمی مفکرین نے رد کردیا کیونکہ بظاہر اس نظریے کی بنیاد پراقوام عالم میں تقسیم او ردوریوں کا خدشہ پیدا ہونا یقینی تھا،ہن ٹنگٹن کے نزدیک سویت یونین کے خاتمے کے بعد اب اقوام عالمی کی تہذیبوں کے مابین تصادم ہوگا اور مختلف اقوام اپنی تہذیب اور ثقافت کو ایک دوسرے پر تھونپنے کی کوشش کرینگی اور ظاہر ہے کہ یہ تصادم دو تہذیبوں کے مابین ہے ایک اسلامی تہذیب اور دوسری مغربی،سوال یہ ہے کہ مغرب کا مقابلہ اسلامی تہذیب سے ہی کیوں ؟سویت یونین کے بکھرنے کے بعد دنیا میں امریکہ ظاہری طور پر واحد سپر پاور کے طور پر سامنے آیا ،عالمی پالیسی سازی اور فیصلوں میں امریکی کردار کو حرف آخر کی حیثیت حاصل ہوگئی ،سرد جنگ کے دور میں امریکہ کا واحد سامنا سویت یونین سے تھا لیکن بعد میں سویت کا یہ کردار بھی ختم ہونے کے بعد امریکہ کو بادشاہ گر کی حیثیت حاصل ہوگئی، ظاہری طور پر معیشت اور عسکری میدان میں امریکہ کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا لیکن روحانی اعتبار سے اسلام کا نظریہ اورتہذیب سے مغرب نے حقیقی خطرہ محسوس کیا کیونکہ ایٹم او ر ہائیڈروجن بم جیسے مہلک ترین ہتھیاروں پر اب کسی خاص ملک کی اجارہ داری نہیں رہی ،اس وقت دنیامیں اعلانیہ طور پر کم از کم آٹھ سے دس ممالک کے پاس ایٹمی ہتھیارموجود ہیں،ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی میں جنگ امکان نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ دنیا نے ناگا ساکی اور ہیروشیما کی تباہی دیکھ چکی ہے،1945ء کے مقابلے میں اب کے ایٹمی ہتھیار کئی ہزار گنا زیادہ تباہ کن ہیں ،کسی بھی دو ایٹمی ملکوں کے مابین جنگ چھڑنے اور ایٹمی ہتھیار استعمال ہونے کی صورت میں اس دو ممالک کے ساتھ ساتھ دنیا کے کئی اور ممالک بھی تباہی کی لپیٹ میں آجائیں گے۔ تاہم کسی بھی قوم یا گروہ یا ریاست کی طاقت کا اصل محور ہتھیاروں سے زیادہ اس کا کردار ہوتا ہے ،کیونکہ ”مومن ہوتو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی”ایک شخص کی اصل طاقت جسم میں نہیں بلکہ اس کی روح میں ہوتی ہے ،تازہ ترین مثال حزب اللہ کی ہے کہ جس نے اپنے سے کئی گنا زیادہ طاقت کے حامل اسرائیل کہ جس کے پاس دنیا کی ہر جدید ٹیکنالوجی ہے کو سرنگون کردیا اور دنیا کو بتادیا کہ اصل طاقت ہتھیاروں میں نہیں بلکہ روحانیت اور کردارمیں ہے ،بس مغرب کو اس کردار سے خطرہ ہے۔۔!! 
 
جب تک مسلمانوں میں یہ کردار باقی ہے کوئی طاقت حاوی نہیں ہوسکتی ،تہذیب اور طاقت ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں ،اسلامی تہذیب مسلمانوں کی اصل طاقت ہے اسی طاقت کو مغرب نے محسوس کیا ،اور اسی طاقت کو ختم کرنے کیلئے اسلامی تہذیب کو بگاڑنے کا نظریہ سامنے آیا ،سیموئیل ہن ٹنگٹن کا نظریہ تو حال ہی میں آیا لیکن صیہونی اشرافیہ نے دو سو سال پہلے ہی اس گائیڈلائن پر عمل پیرا ہونا شروع کردیا تھا ،بس فرق یہ ہے کہ صیہونی دماغ شاطر ہے وہ اعلانیہ کام نہیں کرتا ،عمل کرکے دکھاتاہے۔ 
 
2۔مغربی تہذیب کیا ہے؟ 
 
اگر ہم مغرب کی تہذیب کو دیکھیں تو یہ اپنی آخری ہچکیاں لے رہی ہے،بلکہ مغرب کے پاس کوئی تہذیب ہی نہیں بچی،اس کے باوجود مغرب میڈیائی ٹائیکونوں کے ذریعے مغربی معاشرے کو نمونہ عمل بنا کر پیش کرتاہے اور ہم متاثر ہوتے ہیں تو ہماری اپنی کمزوری ہے کیونکہ اس پراپیگنڈے کے مقابلے کیلئے ہمارے پا س کوئی با اثر قابل ذکر کردار ہی نہیں ،تہذیب بذات خو د حدودوقیود کا نام ہے ،یہ انسان کی بے لگام آزادی کو لگام دیتی ہے ،مغرب میں حدود ختم ہوچکے ہیں اور ہر انسان بے لگام آزاد ہے، اسی بے لگام آزادی کے تصور نے مغرب میں جنسی تحریک کو جنم دیاہم جنس پرستی جیسی لعنت کو قانونی تحفظ ملنے کے بعد آج مغرب میں انسان اور جانور میں فرق ہی نہیں رہا ،خاندانی رشتے کا تصور ختم ہوچکا ہے ،باپ اولڈ ہاؤس میں ہے تو بچہ چائلڈ ہاؤس میں۔شوہر کے سامنے ایک بیوی کے کئی بوائے فرینڈ منڈلاتے رہیں تو چاہ کر بھی وہ شوہر کچھ نہیں کرسکتا ،کیونکہ کوئی بھی روک ٹوک شخصی آزادی میں رکاوٹ تصور کی جاتی ہے،شادی کا تصور ختم ہوتا جارہا ہے،بچہ پہلے دنیا میں آتا ہے اور شادی بعدمیں ہوتی ہے،آج مغرب میں لوگ اس حد تک آزاد ہیں کہ ایک جواں سال لڑکی کو ماں بننے کیلئے حکومتی لالچ دینی پڑتی ہے یورپ میں بچے پیدا کرنے کیلئے ہزاروں ڈالر کی آفر کی جاتی ہے فرانس میں 5000ڈالر دے کر بھی کوئی عورت ماں بننے کو تیار نہیں ہوتی،روس کی مثال لیں 2012ء میں صدر پوٹن نے آبادی کی شرح میں اضافے کیلئے 52ارب ڈالر مختص کردیے تھے،امریکہ کی ایک چوتھائی آبادی کی ولدیت نامعلوم ہے،اسی بے لگام آزادی کے تصور نے ہم جنس پرستی جیسی لعنت کو جنم دیا اوراس آزادی نے حکومتوں کو اس لعنت کو قانونی تحفظ دینے پر مجبور کردیا اب دنیائے عیسائت کا روحانی پیشوا پوپ سوم،چہارم،پنجم بھی اس لعنت کو ختم نہیں کرسکتے ۔شوہر بیوی کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتا ، اس لیے ایک بیوی دھڑلے سے درجن بھر بوائے فرینڈز کے ساتھ ہفتوں گزار سکتی ہے ا ور ہاں شوہر کے سامنے یہ کوئی عیب نہیں ہے۔ایک بیٹی اپنے باپ کے سامنے دو چار بوائے فرینڈز بدل سکتی ہے اور بوائے فرینڈ کے ساتھ جنسی تعلق کو معمولات زندگی تصور کیا جاتاہے۔گویا مغربی تہذیب جنسی تحریک،گرلز اوربوائے فرینڈ کا نام ہے۔ 
 
3۔مہذب معاشرہ مادر پدر آزادی کا نام نہیں۔۔ 
 
مہذب معاشرہ مادر پدر آزادی سے تشکیل نہیں پاتا،مہذب معاشرے کی تشکیل کیلئے حدووقیود کا تعین ضروری ہوتا ہے،ایک ریاست کی بقاء کیلئے آئین کی شکل میں حدود کا تعین کیا جاتا ہے اور یہ حدود حکومت کے ذریعے لاگو کیا جاتا ہے،معاشرے کو انتشار اور فساد سے بچانے کیلئے حدود کا تعین ضروری ہے ،ایک تنظیم ،معاشرہ یا ادارہ کی توانائی کا دارو مدار اس کا آئین ہوتا ہے اور یہ ادارہ آئین(حدبندی) پر عمل کرتے ہوئے توانائی پاتا ہے،آئین حدود کا تعین کرتا ہے کسی کو حد سے گزرنے نہیں دیتا،آئین پاکستان کو ہی لیجئے، کئی کمزوریوں کے باوجود ملک کا نظام اسی آئین پرچلتا ہے،آرٹیکل 62 اور 63کو نکال دیا جائے تو پارلیمنٹ کا ممبر بننے کیلئے کسی بھی معیار کا حد ختم ہوجا تا ہے یو ں ڈاکو،قاتل،زانی،جھوٹا اور دہشتگرد بھی رکن اسمبلی بن سکتا ہے ،حدود قیود ختم ہوجائیں تو پارلیمنٹ پر ظالم گروہ کا قبضہ ہوگا اور غریبوں کا استحصال شروع ہوگا۔اسی لیے اسلام بے لگام آزادی کی نفی کرتا ہے ،اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات کا نام ہے ، اسلام نے سیاست،معیشت،معاشرت کیلئے منظم ضابطے مقرر کررکھے ہیں یہ ضابطے ہر انسان کیلئے یکساں ہیں،ان ضابطوں میں تمام مسائل کا حل موجود ہے مثال کے طور پر سیاست کو دین سے جدا کردیا جائے تو بقول علامہ محمد اقبال سیاست کی بچائے چنگیزیت غالب آجائے گی۔اورچنگیزیت فساد اور قتل و غارت گری کا نام ہے۔کیونکہ دین کے بغیر سیاست منافقت ہے ۔یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ ہمارے اپنے لوگ مغرب میں جاکر یا ذرائع ابلاغ کے ذریعے دیکھ اور سن کر مغربی معاشرے کا گرداں دہراتے نہیں تھکتے یہ لوگ وہاں کے لوگوں کو صاف گو،اصول پسند اور مہذب گردانتے ہیں تو اس کا جوا ب یہ ہے کہ مغرب میں تہذیب نہیں بلکہ صرف قانون ہے،اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ تہذیب کے انہدام کے باوجود مغرب میں قانون اور اصول باقی ہے لوگ اصول پسند ہے ،جھوٹ نہیں بولتے ،فراڈ نہیں کرتے (حالانکہ یہ حقیقت سے کوسوں دور ہے)تو اس کا تعلق تہذیب اور معاشرے سے نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی سے ہے،مغرب میں نظام ریاست منظم اصولوں پر قائم ہے،وہاں فرد کیلئے آئین میں تبدیلی نہیں ہوتی ،ریاست کی رٹ سختی سے قائم ہے،طاقت ور کے سامنے قانون نہیں جھکتا،جب لوگوں کو قانون کا ڈر ہو تو فراڈ کرنے اور جرم کرنے سے پہلے سو بار سوچتا ہے فرق یہ ہے کہ مغرب نے ادارے بنائے ہیں ، مغربی معاشرے کا مجموعی کردار ریاست کی رٹ اور قانون کی حکمرانی پر منحصر ہے ،مغرب کو یہ فوقیت اس کے حکومتی نظام کی بدولت ہے اس کے برعکس مشرق خصوصاً اسلامی ممالک میں ریاست فرد کے گرد گھومتی ہے،قانون ایک فرد کیلئے تبدیل ہوتا ہے،قانون اشرافیہ پر اثر انداز نہیں ہوسکتا ،عام لوگوں پر پورا آئین لاگو کیا جاتاہے ،یہ تفریق معاشرتی بگاڑ اور احساس محرومی کی بنیادی وجہ ہے جب ایک عام شخص میں احساس محرومی پیدا ہونا شروع ہوجائے اور آگے اس کے لیے کوئی راستہ ہی نہ چھوڑے تو وہ قانون کو ہاتھ میں لیتا ہے ۔اس کے نتیجے میں بے ہنگم معاشرے کاوجود میں آنا یقینی امر ہے۔جرائم کو مغرب میں بھی ہیں صرف امریکہ میں سالانہ جتنے لوگ قتل ہوتے ہیں وہ پاکستان میں مجموعی قتل کے واقعات سے چار گنا زیادہ ہے 
 
4۔خواتین کے حقوق اور آزادی کا نعرہ۔۔آخر خواتین ہی کیوں؟ 
 
نوے کے عشرے کے بعد خواتین کے حقوق اور آزادی کا نعرہ کچھ زیادہ ہی بلند ہونا شروع ہوا،اس نعرے کا پرچار حکومتی سطح کے ساتھ ساتھ انگنت این جی اوز کے ذریعے کیا جارہا ہے ،مغربی تہذیب میں عورت چونکہ بے لگام آزاد ہے یہی آزادی اسلامی ممالک میں بھی لانے کی کوشش کی جارہی ہے تو سوال یہ ہے کہ صرف خواتین کے حقوق اور آزادی کا شور کیوں مرد کیلئے کیوں نہیں ؟ اس پر بحث سے پہلے یہاں تین واقعات پیش کیے جاتے ہیں۔ 
1۔مئی 2014ء میں ایک ایرانی نژاد برطانوی خاتون اچانک پورے مغربی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن جاتی ہے،ہوا کچھ یوں کہ اس خاتون صحافی نے حجاب کے خلاف سوشل میڈیا پر ایک مہم شروع کی ،خاموش آزادی کے نام پر ایک پیج بنایا اور حجاب کے بغیر تصاویر اپلوڈ کردیں،دوسرے روز اس پیج کی تشہیر عالمی ذرائع ابلاغ کے ذریعے کی گئی،امریکہ اور یورپ کے تمام بڑے اخبارات اور ٹی وی چینلز پر خاتون کی مہم کے بارے میں خصوصی رپورٹس اور ایڈیشن چھاپے گئے،مقصد اس پیج تک زیادہ سے زیادہ لوگوں کورسائی فراہم کرکے ترک حجاب مہم کو کامیاب بناناتھا۔یہ سلسلہ ہفتوں تک چلتا رہا ،یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر اسلام مخالف سینکڑوں مہم چل رہی ہے ،صرف حجاب کے معاملے کی اتنی تشہیر کیوں؟ 
 
2۔گزشتہ سال یعنی 2017ء میں پھر اسی ایران میں مہنگائی کیخلاف کئی شہروں میں مظاہرے ہوئے،ایک روز بعدہی پورا منظرنامہ اس وقت تبدیل ہوا جب یہ مہنگائی کیخلاف احتجاج اسلامی نظام اور انقلاب مخالف مظاہروں میں تبدیل ہوا ،پھر اچانک تہران میں بیج سڑک سکارف کو ڈنڈے پر لہراتی خاتون نمودار ہوتی ہے،پھر کیا تھا مغربی ذرائع ابلاغ نے خاتون کو ”مزاحمت کی علامت”قرار دلوانے کیلئے سر توڑ کوششیں کیں۔سوال یہ ہے کہ مہنگائی کیخلاف احتجاج میں سکارف اور حجاب کہاں سے آگیا؟ 
 
3۔آج سے لگ بھگ چار سال پہلے بلتستان کے ضلع گانچھے کے ہیڈ کوارٹر خپلو میں ایک این جی اوورکشاپ کا اہتمام کرتی ہے،علاقے کے تمام عمائدین اور علماء کو مدعو کیاگیا،ورکشاپ کا عنوان شرکاء کو معلوم نہیں تھا،پروگرام شروع ہوا تو ایجنڈا دیکھ کر شرکاء کے بلڈ پریشر چڑھ گئے،ایجنڈا خواتین کے حقوق اور آزادی کا عنوان کا تھا ،ورکشاپ کے اکثر شرکاء صاحب علم تھے ،انہیں جب پتہ چلا یہ انہیں خواتین کے حقوق پر بھاشن سمجھانے کیلئے بلایا گیا ہے تو احتجاج کیا،شور و غل میں شرکاء نے این جی اوکے ذمہ داروں کی خوب کلاس لی اور پروگرام کا اختتام بدنظمی پر منتج ہوا۔ 
 
5۔خواتین آسان ہدف ہیں۔۔!! 
 
مذکورتینوں واقعات کے تانے بانے ایک دوسرے سے جاملتے ہیں ،ہدف خواتین ہیں اور طریقہ واردات مختلف۔آخر خواتین ہی ہدف کیوں؟جیسا کہ ہم عرض کرچکے ہیں کہ مغرب میں مادر پدر آزاد معاشرے کی تشکیل کے بعد صورتحال کنٹرول سے باہر ہوچکی ہے، 70ء کی دہائی میں مغرب میں جنسی تحریک نے جنم لیایہ تحریک دیکھتے ہی دیکھتے کینسر کی طرح پھیل گئی ،یوں فحاشی کو قانونی انڈسٹری کی حیثیت حاصل ہوگئی ،عریانیت تہذیب بن گئی ،خاندانی رشتے کا تصور ختم ہوتا چلا گیا یوں ایک عورت جو اپنے گھر کی ملکہ ہوتی تھی وہ مارکیٹ میں آگئی ،آج مغرب میں عورت صرف پیسہ بنانے کی مشین سے زیادہ کچھ نہیں،بے لگام آزادی کے تصور نے صنف نازک کو بیج چوراہے پر لاکھڑا کیا ،یوں ایک آزاد عورت مظلوم بن کر رہ گئی ہے۔ استعماری اشرافیہ کو اس بات کا شدت سے احساس ہے اور اس کے نتیجے میں پیدہونے والے خرافات کا ادراک ہے ،اسی لیے کوشش کی جارہی ہے کہ مغرب کی چکا چونک ترقی کی تشہیر کے ذریعے اس ”تہذیب” کو ”مثالی نمونہ”بنا کر پیش کیاجائے تاکہ مسلمان خواتین مغرب کی ڈگر پر چل سکیں اور غیر محسوس مگر منظم سازش کے ذریعے جنسی تحریک کو اسلامی معاشرے میں سرایت کرنے کی کوششیں کامیاب ہو سکیں۔جب ایک معاشرے میں عورت بے لگام ہو تو نت نئے خرافات جنم لیتے ہیں ، معاشرہ ساز ی میں عورت کا کلیدی کردار ہوتا ہے ،کیونکہ عورت ایک ماں کی حیثیت سے اپنی اولاد کیلئے پہلی درسگاہ کی حیثیت رکھتی ہے ،عورت اگر باکردار ہو تو بچے کی تربیت صحیح معنوں میں ہوگی،یہ بچہ بڑا ہوکر معاشرہ سازی میں خودکارطریقے سے کردار ادا کریگا،یوں ایک مہذب معاشرہ وجود میں آئے گا۔اسی حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے مغربی استعمار نے معاشرے کو بگاڑنے اوراسلامی اقدارپر نقب لگانے کیلئے این جی اوز کے ذریعے خواتین کی برین واشنگ کا کام شروع کردیا ہے،ورکشاپ اور پروگراموں میں مختلف لیکچر کے ذریعے غیر محسوس طریقے سے خواتین کو اسلامی حدوقیود سے آزاد کرنے، حجاب کو بوجھ تصور کرنے اور مغربی معاشرے کی طرح کا طرزز ندگی اپنانے کی تربیت دی جاتی ہے،استکباری اور استعماری طاقتیں ہمیشہ لانگ ٹرم پالیسی اپناتی ہیں ،جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جاتا ،کم از کم سوسال کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے ،ابتدائی مرحلے میں خواتین کو آزادی اور حقوق کے نام پر غیر محسوس طریقے سے مغربی طرز معاشرت کو اپنانے کی طرف مائل کیا جاتا ہے عورت کی آزادی کے نام پر عریاں معاشرے کی تشکیل کی صورت میں دینی حمیت و غیرت ختم ہوکر رہ جاتی ہے ،مغربی معاشرے میں دین کیلئے کوئی جگہ نہیں ہوتی جبکہ اسلامی معاشرے اور تہذیب کی اساس دین ہے ،اس کیلئے براہ راست کوئی صیہونی یا امریکی پروفیسر آکر لیکچر نہیں دیتا، بلکہ اس مقصد کیلئے مختلف فورمز استعمال میں لائے جاتے ہیں،اس فورمز کا اہم ترین پلیٹ فارم این جی او ہے،ایک اندازے کے مطابق این جی او زدنیا کی سب سے بڑی خفیہ فوج تصور کی جاتی ہے،جس کے کارکنوں کی تعداد لاکھوں میں ہیں ،یہ کارکن ہمارے اپنے گلی محلے کے لوگ ہو تے ہیں۔مخصوص ایجنڈے کی تکمیل اور جاسوسی کیلئے این جی اوز کا استعمال کوئی عام بات نہیں،جون 2015ء میں پاکستان نے سیو دی چلڈرن نامی عالمی تنظیم کو ملک سے اس وجہ سے نکال دیا تھا کیونکہ خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق یہ تنظیم بچوں کی دیکھ بھا ل کے نام ملکی سلامتی کیخلاف کام کررہی تھی ۔گزشتہ سال مصرکی حکومت نے دو مغربی این جی اوز کو ملک بد رکردیا تھا۔ 
بلتستان نشانہ کیوں؟ 
 
گلگت بلتستان چونکہ حساس ترین خطہ ہے ،یہ ہمیشہ دشمن کی نظروں میں رہا ہے ،1988، میں فوجی آمر کے دور میں منظم لشکرکشی اوراس کے نتیجے میں قتل عام کا زخم ہرا ہے ،یہ لشکر کشی باقاعدہ حکومتی سرپرستی میں ہوا تھا ،مقصد گلگت بلتستان کی شناخت اورجغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کو مکمل طور پر تبدیل کرنا تھا۔لیکن اس کے بعد سے پوری دنیا کا منظر نامہ تبدیل ہوا ہے ،سٹریٹجک پالیسی تبدیل ہوئی ہے ،عملی جنگ کی بجائے نرم جنگ(soft war) نے لے لی ہے،این جی اوز نرم جنگ کا اہم ترین حصہ ہیں یہی وجہ ہے کہ سب سے زیادہ این جی اوز یہاں سرگرم عمل ہیں ،بلتستان کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ خطہ علماء کی سرزمین ہے ،اسلامی تہذیب و ثقافت میں یہ ایک منفرد مقام رکھتا ہے ،فیصلہ سازی میں علماء کو مرکزی کردار حاصل ہے ،عوام کو علما ء پر اعتماد ہے،علماء کی وجہ سے ہی بلتستان کی اسلامی تہذیب زندہ ہے اس  کے باؤجود ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ یہاں کے لوگ سادہ لوح ہیں ،آئینی اور بنیادی حقوق سے محروم رکھنے کی وجہ سے عوام کا سیاسی شعور ابھی ارتقائی عمل میں ہے ،عام لوگ عالمی ریشہ دوانیوں کے داؤپیج سے لاعلم ہیں ،یہ سادگی دشمن کیلئے آسانی پیدا کریگی ۔این جی اوز کے ذریعے مغربی استعمار کاخواتین کے سروں سے حجاب اتار کر مادر پدر آزاد معاشرے کی تشکیل پہلا ہدف ہے، عوام کو علماء سے بدظن کرکے دوریاں پیدا کرنے کی کرنے کی سازشیں دوسرے مرحلے کا حصہ ہے ۔دشمن اسلامی تہذیب کو مٹانے کی کوششوں میں ہے،خواتین کو حجاب سے بدظن کرکے بے لگام آزادی کی راہ پر لگانے کے خفیہ مشن کا نام این جی اوز ہے۔لہٰذا عوام این جی اوز سے ہوشیار رہیں۔۔!!
 
تحریر: لیاقت تمنائی 
 

 

زمرہ جات:   Horizontal 4 ،
ٹیگز:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)