Syria's President Bashar al-Assad speaks during an interview with AFP news agency in Damascus, Syria in this handout picture provided by SANA on April 13, 2017. SANA/Handout via REUTERS    ATTENTION EDITORS - THIS IMAGE WAS PROVIDED BY A THIRD PARTY. EDITORIAL USE ONLY. REUTERS IS UNABLE TO INDEPENDENTLY VERIFY THIS IMAGE. - RC1980E74A50

ہفتے کو علی الصباح امریکا، فرانس اور برطانیہ کی جانب سے شام کے دارلحکومت دمشق سمیت متعدد اہداف پر میزائل حملوں کے بعد دمشق میں زندگی کی روز مرہ سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔ دارلحکومت کی سڑکیں اتنی ہی مصروف ہیں جتنی عام طور پر ہوتی ہیں۔

چیک پوائنٹس پر فوجی پرسکون ہیں اور سیکیورٹی عمومی دنوں کے مقابلے میں زیادہ سخت نہیں ہے۔ دکانیں کھلی ہیں اور لوگ کام پر جا رہے ہیں۔ دمشق کے مرکزی چوک میں درجنوں لوگ جمع ہیں اور بشار الاسد کے حق میں نعرے بازی کر رہے ہیں۔

شامی صدر کے دفتر نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں انھیں اپنے دفتر جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈئو کے ساتھ لکھا گیا ہے ’ثابت قدمی کی صبح‘۔

شام کے صدر بشار الاسد نے امریکا اور اس کے دو اتحادیوں برطانیہ اور فرانس کی جانب سے شام پر حملے کو ’بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔