شامی جنگی ڈرامے کا مرکزی ولن کون؟ – ولادیمر گولیسٹن

خواتین معاشرے کا طاقتور حصہ ہیں لیکن انہیں کمزور بنا کر پیش کیا جاتا ہے

قومی مستقبل کا سوال ہے بابا! نذر حافی

داعش کو سر اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی: عراق

قطر کو شام میں امریکی فوجی موجودگی کے اخراجات ادا کرنے چاہییں

دنیا کو بالادستی کے فریب کے چنگل سے نکلنا ہو گا، ایرانی وزیر خارجہ

جوہری معاہدے کو ضرر پہنچا تو بھیانک نتائج آپ کے منتظر ہیں، ایرانی صدرکا امریکہ کو انتباہ

احسن اقبال کی چیف جسٹس کو للکار: کیا اداروں کا تصادم لازم ہے؟

جوڈیشل مارشل لا کے سائے

پاکستان روس کے ساتھ فوجی روابط بڑھانا چاہتا ہے: پاکستان آرمی

پاکستانی نوجوان کو گاڑی سے کچلنے والا امریکی سفارت کار بلیک لسٹ

یمن کی کسی کو پرواہ نہیں ہے – عامر حسینی

وزیراعظم بیرون ملک مفرور ملزم سے ملتے ہیں شاید انہیں قانون کا پتہ نہیں، چیف جسٹس

ایران سے جنگ کرکے امریکا کو کچھ حاصل نہیں ہوگا، فرانسیسی صدر

ن لیگ کی شیعہ دشمنی، دہشتگردوں کو سرکاری پروٹوکول، شیعہ رہنماوں کی سیکورٹی واپس

فیس بک نے داعش اور القاعدہ کی 19 لاکھ پوسٹیں ڈیلیٹ کردیں

شامی افواج کا دمشق میں امام علی(ع) مسجد پر قبضہ

شبعان المعظم عبادت و بندگی اور پیغمبر اسلام کا مہینہ

پاکستان کا کرنل جوزف کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار

این آراو سے متعلق درخواست پر پرویز مشرف اور آصف زرداری کو نوٹس جاری

ایران سے جنگ امریکا کے لیے کتنی نقصان دہ ہو گی؟

تمام اہل بہشت ہمیشہ کیلئے امام حسین(ع) کے مہمان ہیں

مارشل لاء میں بھی اتنی پابندیاں نہیں لگیں جتنی اب ہیں، نواز شریف

بار بار اسمارٹ فون دیکھنے کی لت نشے کی مانند ہے: ماہرین

خون کی رگوں کو جوان کرنے والا نایاب اینٹی آکسیڈنٹ دریافت

تاحیات نااہلی اور نوازشریف

نقیب قتل کیس؛ پولیس نے راؤ انوار کو مرکزی ملزم قرار دے دیا

کے پی کے حکومت میں رخنہ: کیا پی ٹی آئی جماعت اسلامی کے بغیر اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے؟

سعودیہ میں تبدیلی کے پیچھے کون؟

شام میں مشترکہ عرب فوج تشکیل دینے پر مبنی امریکی منصوبہ

موجودہ حالات میں الیکشن ہوتے نظر نہیں آرہے، چوہدری شجاعت حسین

کوئٹہ میں ملک دشمن تکفیری دہشت گردوں کی فائرنگ، 2 شیعہ ہزارہ شہید 1 زخمی

فاروق ستار کی لوڈ شیڈنگ ختم نہ ہونے پر وزیر اعلیٰ ہاؤس کے گھیراؤ کی دھمکی

مغرب کیمیائی حملے کے شواہد تبدیل کر رہا ہے: روس

6 ماہ میں مختلف بیماریوں میں 2 ہزار یمنی شہریوں کا جانی نقصان

نظام تعلیم کا بیڑا غرق کردیا یہ ہے پنجاب حکومت کی کارکردگی، چیف جسٹس

ضیاالحق سے ڈکٹیشن لیتے وقت نواز شریف کو ووٹ کی عزت یاد نہیں آئی، بلاول بھٹو زرداری

مجھے دکھ ہے کہ بے گناہی ثابت کرنے کے لئے 14 ماہ زندان میں گزارے، ثمر عباس – از فواد حسن

ریاض میں شاہی محل کے قریب ‘کھلونا ڈروان’ مارگرایا

ہم آزادی سے خائف ہیں؟

’پاکستان سے زیارت کرنے جاؤ تو واپسی پر ایجنسیاں اٹھا لیتی ہیں‘، بی بی سی رپورٹ

اسلامی مزاحمت کے میزائل اسرائیل کے اندر ہر ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں

حضرت عابد (ع) کی ولادت مبارک ہو!

مانچسٹر میں سالانہ سیمینار: 'برطانیہ میں مسلمانوں کو درپیش چیلینجز'

حضرت عباس(ع) کی زندگی انتظار کا عملی نمونہ

حضرت ابوالفضل (ع) کے باب الحوائج ہونے کا راز

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کا80 واں یوم وفات

فلسطینی بچوں پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ شرمناک ہے، اقوام متحدہ

اعیاد شعبانیہ اور جشن سرکار وفا

شمالی کوریا کا مزید ایٹمی اور میزائل تجربات نہ کرنے کا اعلان

شام کو اینٹی ایئر کرافٹ میزائل فراہم کرنا اخلاقی ذمہ داری

پاکستان کا کشمیر سے متعلق امام خامنہ ای کے بیان کا خیر مقدم

ان الحسین باب من ابواب الجنة

ہم تب کربلائی اور حسینی ؑنہضت کا حصہ بن سکتے ہیں جب ہمارے اندر انبیائی اور حسینیؑ صفات موجود ہوں: علامہ راجہ ناصر عباس

صحافت اور شہادت ساتھ ساتھ

چیئرمین سینیٹ منتخب کرانے کیلیے پی ٹی آئی نے کہا کہ اوپر سے آرڈر آیا ہے: سراج الحق

ایران کا ردعمل امریکہ کیلئے تکلیف دہ ہوگا: محمد جواد ظریف

امریکا کی عالمی جوہری ڈیل سے ممکنہ دستبرداری اور اس کے اثرات

امام حسین علیہ السلام کی سیرت طیبہ

مسلم خاتون کو ہاتھ نہ ملانے کی وجہ سے فرانس کی شہریت سے محروم کر دیا گیا

اللہ تعالی کی طرف سے حضرت امام حسین علیہ السلام کی ولادت کے موقع پر تہنیت اور تعزیت

سعودی عرب میں چیک پوسٹ پر فائرنگ سے 4 سیکویرٹی اہلکار جاں بحق

امریکی ہتھیاروں پر انحصار میں کمی: کیا پاکستان امریکہ سے مستقل چھٹکارا پا رہا ہے؟

سائیکل چلانے سے بہتر کوئی ورزش نہیں

کیمائی گیس حملہ کا فسانہ – رابرٹ فسک

شام پر ناکام حملہ، ٹرمپ کی مشکلات میں اضافہ

سعودی حکومت کے بانی کے برطانوی ایجنٹ ہونے کی تصدیق

شام میں امریکہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کررہا ہے، ابوالخیرزبیر

بھارت سکھ زائرین کے دورے کو کیوں متنازع بنانا چاہتا ہے؟

میں شام پہ غیر جانبدار نہیں ہوں – عامر حسینی

شامی حکومت نے دوما میں کیمیائی حملہ نہیں کیا: رابرٹ فسک

2018-04-16 11:33:30

شامی جنگی ڈرامے کا مرکزی ولن کون؟ – ولادیمر گولیسٹن

30704127_10156276823954561_9139367623177631401_n-768x604

نوٹ : روسی نژاد پروفیسر کا تجزیہ ہمیں وہاں سے چيزوں کو دکھاتا ہے جہاں سے دیکھنے کے لیے دماغ کی بند کھڑکیوں کو کھولنا بہت ضروری ہے۔پاکستان میں دیسی لبرل صحافت بھی اتنی بنجر اور گھٹیا سی کیوں دکھائی دیتی ہے؟ جب ہم ان دیسی لبرل کے آقاؤں کی کہانی پڑھ لیتے ہیں تو ہمیں سمجھ آنے لگتا ہے۔

شام پہ امریکہ اور اس کے دو چمچوں کی شام پہ حالیہ تباہ کن حملوں کی فلم میں ایک مطلق ولن دیکھتا ہوں

ولن سیاست دان نہیں ہیں۔۔۔۔ جو اپنے اپنے ایجنڈوں پہ عمل پیرا ہیں۔ ٹرمپ اس نے ایک تیر سے کئی شکار کیے ہیں: اپنے ناقدین کو خاموش کردیا، اسرائیل کی توجہ ہٹاکر اسے مطمئن کردیا وغیرہ وغیرہ۔

یہ نیتن یاہو بھی نہیں ہے جو ہمیشہ حزب اللہ اور گولان کی پہاڑیوں بارے پریشان رہتا ہے۔۔۔۔اور ایران پہ حملہ کرنے کے ہر موقعہ کی تلاش کرتا ہے۔

یہ تھریسا مے ا میکرون بھی نہیں ہیں۔۔۔۔ دو قابل رحم اوسط درجے کے سیاست دان جن کی بصیرت چار آنے کی بھی نہیں ہے لیکن احساس کمتری ان میں بہت ہے۔

یہ جان میکنن، سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ وکشنگٹن اور نیٹو کی قیادت کا اتفاق بھی نہیں ہے جو کہ سرد جنگ کے دنوں کے سکرپٹ کی پیروی کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اور یہ پہلے ہی ان کے کام آرچکا ہے تو اب وہ فکر کیوں کریں۔

یہ پینگان کے جرنیل بھی نہیں ،جو نئے کھلونے استعمال کرنا چاہتے یا پرانوں سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔

یہ سب کھلاڑی اپنے کام دھندے سے لگے ہوئے ہیں اور اپنے ایجنڈوں کی تکمیل کررہے ہیں۔

بہرحال ہم چاہتے ہیں کہ لوگ اپنی حدودات سے آگے نکلیں اور اپنے تنگ دائروں سے آگے دیکھیں۔ لیکن ہر ایک سے یہ توقع کرنا حماقت ہوگی۔

لیکن جو میری سمجھ میں نہیں آتا اور جسے میں کبھی قبول نہیں کروں گا وہ ہے پریس کا مطلق ولن کا کردار۔ پڑھے لکھے ،نفیس صحافیوں کا مطلق ولن کا کردار جنھوں نے جنگ کے ڈھول گلے میں ڈال کر بجانا شروع کردیے ہیں۔

جنگی بھونپو جو نیویارک ٹائمز، گارڈین، بی بی سی اور دوسرے بظاہر انتہائی باوقار نظر آنے والے میڈیا گھر ہیں کے صفحات کالے کرتے ہیں،محض غدار ہیں۔ اپنے پیشے ، اپنی شناخت ، اپنی انسانیت سب سے غداری کے مرتکب۔آپ ان کو یہ نام دے سکتے ہیں کہ انہوں نے غداری کی ہے۔کوئی کھوج نہیں،کوئی سوال نہیں، کوئی چیلنچ نہیں۔۔۔۔بس صرف تالیاں پیٹ رہے ہیں اور ہل من مزید کی صدائیں لگارہے ہیں۔

زرا گارڈین کو چیک کریں۔۔۔۔۔ اسد، پیوٹن اور ایران کے بارے میں گھٹیا معیار کے مضامین پھر سے لائے جارہے ہیں۔یہ شور کہ اس بمباری سے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ اور یہ کہ ان بدمعاش ریاستوں نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ اور یہ کہ روس جعلی خبروں اور جعلی طریقے سے ابہام پیدا کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔

اس صحافت کی نوعیت بس جنگجوئی پہ مبنی ہے۔

اور وہ یہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس میں کرتے ہیں۔ملک جتنا جارح ہوگا ، اتنا ہی جارح اور کم سوال اٹھانے والا اس ملک کا پریس ہوجاتا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم کے پیچھے صحافت تھی اور لوگوں کو اپنی جنگ و تشدد سے بھری رپورٹنگ اور تجزیوں سے بھڑکانا بھی اسی کا کارنامہ تھا۔اور ایک بار پھر یہ یہی کررہے ہیں۔

تو صحافت کی تاریخ میں ایک اور شرمناک باب کا اضافہ ہوچکا ہے۔ صحافتی فاحشاؤں نے ایک اور بے شرمی پہ مبنی داؤ اپنی جانب سے کھیلنا شروع کردیا ہے۔

ترجمہ و تلخیص: عامر حسینی

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

زمرہ جات:   Horizontal 2 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)