پاناما کیس کے فیصلے پر سیاسی جماعتوں کا ردِعمل
Most Popular (6 hours)

سڑکوں پربچے جنم دیں

- ڈیلی پاکستان

Most Popular (24 hours)

حق حکمرانی کس کو؟

- ایکسپریس نیوز

Most Popular (a week)

سچ ٹی وی
6 months ago

پاناما کیس کے فیصلے پر سیاسی جماعتوں کا ردِعمل

پاناما لیکس کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے سنائے گئے فیصلے پر سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں کا ردِعمل مختلف رہا۔ کہیں فیصلے پر خدا کا شکر ادا کیا گیا تو کہیں وزیراعظم سے استعفےٰ کا مطالبہ کیا گیا۔ کہیں فصلے کی مذمت کہیں فیصلہ تاریخی قرار۔ مسلم لیگ نواز: وزیراعظم نواز شریف: پاکستانی قوم کی طرح وزیراعظم نواز شریف، ان کے اہل خانہ اور قریبی رفقا بھی پاناما کیس کے فیصلے کا شدت سے انتظار کررہے تھے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے شبہاز شریف، بیٹی مریم نواز اور سابق وزیر پرویز رشید کے ہمراہ میڈیا پر عدالتی فیصلہ سنا۔ اور اللہ کا شکر بجالائے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے پہلے رد عمل میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ مریم نواز شریف: مریم نواز شریف نے روایتی انداز میں عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا کہ انگلی کے ذریعے نوازشریف کی وکٹ لینے میں ناکامی کے بعد عمران خان کو ایک اور فورم سے بھی ناکامی ہوئی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کا پانامہ کیس فیصلے کا خیرمقدم: وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ 20 کروڑ عوام کی دعاوں کا نتیجہ ہے اور اس فیصلے نے یہ ثابت کیا ہے کہ وزیر اعظم نہ صرف صادق اور امین ہیں بلکہ ان کا خاندان ائین اور قانون کی پٌاسداری پر بھی یقین رکھتا ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنماء: سپریم کورٹ میں پاناما کیس کا فیصلہ سننے کے بعد کمرہ عدالت سے باہر آتے ہی مسلم لیگ ن کے اراکین اور کارکنوں نے وزیراعظم نوازشریف کی حمایت میں نعرے بازی کی۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ن لیگ کے رہنماوں کا کہنا تھا کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے نواز شریف کو بے گناہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چوں چوں کے مربے نے مل کر عدالت اور قوم کا وقت برباد کیا۔ آج کا فیصلہ وزیراعظم نواز شریف کی جیت ہے۔ سپریم کورٹ نے نوازشریف پر الزامات کو ختم کر دیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی: فیصلے کی مذمت آصف علی زرداری: سابق صدر آصف زرداری نے کہا کہ 9 مہینے تک قوم کے ساتھ جو مذاق ہوتا رہا ہے اس کی مذمت کرتا ہوں اور اس فیصلے کی بھی مذمت کرتا ہوں۔ سابق صدر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے جمہوریت اور انصاف کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے وزیراعطم سے استعفی کا مطالبہ بھی کردیا۔  آصف زرداری نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ جو نہ کرسکی وہ وزیراعظم کے ماتحت 19 گریڈ کے افسر فیصلہ کریں گے؟ وہ تحقیقات کریں گے اور وزیراعظم کو نا اہل کریں گے؟ یا ان کا بیان وزی

Read on the original site

تف ہے ایسی جمہوریت پر!

- بی بی سی اردو

سڑکوں پربچے جنم دیں

- ڈیلی پاکستان

یادوں کے جھروکے

- سحر نیوز