عصر عاشور ا کے بعدحضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا کا کردار
Most Popular (6 hours)

شہری کے ریاست پر حقوق

- ایکسپریس نیوز

Most Popular (24 hours)

Most Popular (a week)

عصر عاشور ا کے بعدحضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا کا کردار

وحدت نیوز(آرٹیکل) کربلا وہ عظیم درسگاہ ہے جہاں ہر انسان کے لئے جو جس مکتب فکر سے بھی تعلق رکھتا ہو اور جس نوعیت کی ہو درس ملتا ہے یہاں تک غیرمسلم ہندو ،زرتشتی،مسیحی بھی کربلا ہی سے درس لے کر اپنے اہداف کو پہنچے ہیں ،گاندی اپنے انقلاب کو حسین ابن علی علیہ السلام کی مرہون منت سمجھتا ہے یہ سب اس لئے کہ حسین ابن علی علیہ السلام نے کربلا کے ریگستان میں حق اور حقانیت کو مقام محمود تک پہنچایا اور قیامت تک ظلم اور ظالم کو رسوا کر دیا اگرچہ مادی اور ظاہری آنکھوں کے سامنے حسین ابن علی علیہ السلام کو کربلا میں شکست ہوئی لیکن حقیقت میں اور آنکھوں کے سامنے سے پردہ ہٹ جانے والوں کی نظر میں حسین ابن علی علیہ السلام کامیاب و سرفراز رہے ۔کربلا کے ریگستان میں جب مردوں نے اپنےوظیفے پر عمل کیا تو وہاں آخری باری علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی شیر دل بیٹیوں کی آئیں اس لئے کہ واقعہ کربلا کو دنیا تک پہنچانا زینب و ام کلثوم علیہما السلام کی ذمہ داری تھی علی علیہ السلام کی شیردل بیٹی زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے آنکھوں سےبھائی کے سر قلم ہوتے دیکھا لیکن ذرہ برابر بھی اپنے وظیفہ میں کوتاہی نہیں کی ،اسی لئے کربلا ، کربلا کےمیدان تک محدود نہیں رہے بلکہ قصر ظالم میں پہلی مرتبہ زینب کبری علیہا السلام نے ظالم کوشکست دی اور لوگوں تک اپنے خطبوں کے ذریعے پیغام کربلا کو پہنچایا اور کربلا قیامت تک سرخرو ہو گئے شاعرکہتا ہے:
حدیث عشق دوباب است کربلا و دمشق
یکی حسین رقم کرد و دیگری زینب عشق حقیقی کے یہ کردار دوافراد نے انجام دیے ایک حسین ابن علی علیہ السلام نے دوسرا علی علیہ السلام کی بہادور بیٹی زینب کبری علیہا السلام نے اگر کربلا میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا کردار نہیں ہوتا تو عشق حقیقی کا ایک باب تکمیل تک نہیں پہنچ پاتا اور کربلا کربلا ہی میں دفن ہو جاتی۔عصر عاشور جب سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے دیکھا کہ امام حسین علیہ ا لسلام خاک کربلا پر گرے ہوئے ہیں اور دشمنان دین نے آپ کے جسم مجروح کو گھیرے میں لیا ہوا اور آپ کے قتل کا ارادہ رکھتے ہیں تو آپ خیمے سے باہر آئیں اور ابن سعد سے مخاطب ہوکر فرمایا:{يابن سَعد! أَیُقتَلُ اَبُو عبد اللہ ِ وَأَنتَ تَنظُرُ اِلَيہِ؟۔ (ترجمہ: اے سعد کا بیٹا! کیا ابو عبد اللہ (امام حسین(علیہ السلام)) کو قتل کیا جارہا ہے اور تو تماشا دیکھ رہا ہے!)۔1۔ ابن سعد خاموش رہا اور زینب کبری

Read on the original site