جنوبی کوریا کی تین کمپنیوں کی شمالی کوریا سے کوئلے کی غیر قانونی درآمد
Most Popular (6 hours)

Most Popular (24 hours)

Most Popular (a week)

نیب … اچھا یا برا؟

- ایکسپریس نیوز

وی او اے
3 months ago

جنوبی کوریا کی تین کمپنیوں کی شمالی کوریا سے کوئلے کی غیر قانونی درآمد

جنوبی کوریا کے کسٹم کے ادارے کا جمعے کو کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کی تین کمپنیوں نے مبینہ طور اقوام متحدہ کی تعزیرات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے روسی مصنوعات کے لبادے میں شمالی کوریا سے کوئلہ درآمد کیا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق سیئول شمالی کوریا سے ممکنہ طور پر کوئلہ درآمد کرنے کے 9 معاملات کا جائزہ لے رہا ہے جو کہ گزشتہ سال اگست میں اقوام متحدہ کی طرف سے منظور کی جانے والی قرارداد کی خلاف ورزی میں مبینہ طور پر ہوئی جس کے تحت پیانگ یانگ کے میزائل اور جوہری پروگرام کے لیے فنڈ کی فراہمی کو روکنا تھا۔  تاہم جنوبی کوریا کے کسٹم کے ادارے ان کمپینوں کی نشاندہی نہیں کی ہے جو اس میں مبینہ طور پر ملوث ہیں تاہم یہ کہا کہ اپریل اور اکتوبر 2017ء کے دوران تقریباً 35 ہزار ٹن کوئلے جنوبی کوریا میں لایا گیا جس کی مالیت 58 لاکھ ڈالر کی تھی۔ کوریا کی کسٹم سروس کے ڈپٹی کمشنر ،رہو سک ہون نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ بظاہر ان کمپنیوں نے شمالی کوریا میں کوئلے کی قیمتیں کم ہونے کی وجہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے اسے غیر قانونی طریقے سے (جنوبی کوریا ) لایا۔ کسٹم کے ادارے نے کہا کہ وہ کمپنیوں اور افراد کے خلاف الزامات عائد کرے گا جنہوں نے کسٹم قوانین کی خلاف ورزی اور دستاویزات میں جعل سازی کا ارتکاب کرنے میں ملوث پائی گئی۔ کسٹم حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کی حکومت ان 14 بحری جہازوں کو ضبط کرنے یا ان کو جنوبی کوریا کی بندرگاہوں پر داخلہ بند کے معاملے کا بھی جائزہ لے رہی ہے جنہوں نے کوئلے کی ترسیل کی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شمالی کوریا پر کوئلہ، خام لوہا اور دیگر اشیا درآمد کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی اور امریکہ نے شمالی کوریا کو اپنا جوہری پروگرام ترک کرنے کے پیانگ یانگ پر اقتصادی پانبدیاں عائد کرنے کی مہم شرو ع کی تھی۔ تاہم خطے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے شمالی کوریا پر زیادہ سے زیادہ دباؤ بڑھانے کی مہم کا اثر اس وقت کم ہو گا جب پیانگ یانگ کی طرف سے واشنگٹن، سئیول اور بیجنگ کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے کی کوشش کی۔

Read on the original site