یمنی عوام کی اکثریت منصورہادی کی آمرانہ حکومت سے نجات کی خواہاں ہے، علامہ راجہ ناصرعباس
Most Popular (6 hours)

Most Popular (24 hours)

Most Popular (a week)

نیب … اچھا یا برا؟

- ایکسپریس نیوز

یمنی عوام کی اکثریت منصورہادی کی آمرانہ حکومت سے نجات کی خواہاں ہے، علامہ راجہ ناصرعباس

وحدت نیوز(اسلام آباد) یمن پر ثالثی تمام فریقین کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں،یمن میں عوامی حکومت کی تشکیل ہے،جس میں حوثی مجاہدین بھی شامل ہے جبکہ اس کے برعکس سعودی عرب کی جانب سے اپنی منظور نظر حکومت جسے یمنی عوام نے مکمل مسترد کیا ہے کے بچاؤ کے لئے تین سال سے وہاں کے مظلوموں پر جنگ مسلط کر رکھی ہے،یمنی عوام کی نسل کشی جاری ہے،ایسے میں پاکستان کو ایسی پالیسی اختیار کرنی چاہیے جس سے پاکستان کا اپنا تشخص متنازعہ حیثیت اختیار ناکر جائے، یمن کے مسئلے کو یمنی عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جانا چاہیے،پاکستان کو یمنی عوام کی خواہشات کا احترام کرنا ہوگا، اس کے علاوہ کوئی بھی دوسرا راستہ مزید بحرانوں کا سبب بنے گا،ان خیالات کا اظہار سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے وزیر اعظم عمران خان کے یمن جنگ میں ثالثی کے بیان پر میڈیا سیل سے جاری ردعمل میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان مشکلات میں گھرے غریب ملک یمن پر جاری جنگ کے خاتمے کے لئے اگر سنجیدہ ہیں تو اس کے لئے یمن جنگ سے جڑے تمام فریقین کی امن پیش رفت میں شمولیت ضروری ہے۔پاکستان اگر یمن کے معاملات میں ثالثی کے خواہاں ہےتو ہمیں چاہیئے کہ تمام فریقین کے درمیان ثالثی کریں جانبدارانہ کردار ادا کرکے پاکستان کی باوقار کردار کو مشکوک نہ بنایا جائے،یمن مسئلے پر سب سے اہم رائے خود یمنی عوام کی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔یمن جنگ کا حل یمنی عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہئے۔اگر یمن مسئلہ پر عالمی طاقتوں کا دبائو لیا گیا اور یمنی عوامی کی رائے سے مختلف فیصلے کئے گئے تو خطے میں مذید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ اس وقت یمن میں پر منصور الہادی کی حکومت برائے نام ہے یمن کے اکثریت حصے پر حوثیوں کی حکومت ہے۔ یمنی عوام جمہوریت چاہتی ہے اور آمرانہ نظام حکومت سے چھٹکارہ چاہتی تھی۔لیکن یمن میں غیر ملکی سیاسی مداخلت نے اس بحران کو جنم دیا ہے۔ یمن کا مسئلہ جلد از جلد حل ہونا ناگزیر ہو چکا ہے۔ یمن میں ایک کروڑ چالیس لاکھ لوگ کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے اگر اس مسئلہ کو جلد حل نا کیا گیا تو لوگ افریقی ممالک کے انسانی بحران کو بھول جائیں گے اور مہذب دنیا میں ایک مذید انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔

Read on the original site