ایمبولینسز وی آئی پی ڈیوٹیز میں استعمال ہونے کا انکشاف
Most Popular (6 hours)

Most Popular (24 hours)

Most Popular (a week)

سچ ٹی وی
17 days ago

ایمبولینسز وی آئی پی ڈیوٹیز میں استعمال ہونے کا انکشاف

 بے نظیر بھٹو ہسپتال (بی بی ایچ) کی زندگی بچانے کے جدید آلات سے لیس 4 ایمبولینسز وی آئی پی ڈیوٹیز میں استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ گزشتہ برس ہسپتال انتظامیہ نے مریضوں کی منتقلی کے لیے 4 جدید زندگی بچانے والی ایمبولینسز خردیں تھیں جنہیں بعد میں وی آئی پی ڈیوٹیز کے لیے مختص کردیا گیا۔ مذکورہ ایمبولینسز وزیراعظم اور صدر کے ایئرپورٹ جانے کے قافلے کا حصہ ہیں۔ اس ضمن میں بی بی ایچ کے ایک سینئر ڈاکٹر نے ڈان کو بتایا کہ ایمبولینسز وینٹیلیٹر اور زندگی بچانے والے دیگر آلات سے لیس ہیں جن کی ضرورت تشویشناک حالت میں موجود مریضوں کی منتقلی کے لیے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ایمبولینسز کا مقصد تشویشناک حالت میں موجود مریضوں کو ایم آر آئی ٹیسٹ کے لیے دوسرے ہسپتال پہنچانا یا دوسرے ہسپتال منتقل کرنا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اب یہ ایمبولینسز وی آئی ڈیوٹیز میں استعمال ہورہی ہیں اور نازک صورتحال میں موجود مریضوں کی منتقلی کے لیے ہسپتال انتظامیہ کو امدادی سروس ریسکیو 1122 کو کال کرنی پڑتی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایمبولینسز کی خریداری پر 10 لاکھ روپے سے زائد کی رقم خرچ ہوئی جو سب ضائع ہوگئی۔ خیال رہے کہ گزشتہ ماہ ہسپتال کی پارکنگ میں جدید ایمبولینسز کی موجودگی کے باوجود مریضوں کو ایم آر آئی ٹیسٹ کے لیے ہولی فیملی ہسپتال پہنچانے کی خاطر ان کے ساتھ آنے والے افراد کو ایمبولینسز کا بندوبست کرنے کا کہا گیا تھا۔ اس سلسلے میں بی بی ایچ ہسپتال کے ایک اور سینئر ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ہسپتال کی پارکنگ میں جدید ایمبولینسز اس لیے کھڑی ہیں کیوں کہ ان کی رجسٹریشن کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا، اس کے لیے گاڑیوں کا معائنہ ہونا باقی ہے جس کے بعد انہیں مریضوں کی منتقلی کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔ تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق یا انکار کرنے سے گریز کیا کہ مذکورہ ایمبولینسز وی آئی پی ڈیوٹیز میں استعمال ہورہی ہیں۔ دوسری جانب ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہسپتال انتظامیہ کا نازک حالت میں حاملہ خواتین کو کمیٹی چوک پر موجود فلٹر کلینک سے بی بی ایچ منتقل کرنے کے لیے ایمبولینس استعمال کرنے کا ارادہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہسپتال کی ایمبولینس کو ریسکیو 1122 کو دے دیا گیا تھا لیکن ان ایمبولینسز کو اسلیے نہیں دیا گیا کہ یہ نازک حالت میں موجود مریضوں کے لیے خصوصی طور پر حکومتِ پنجاب کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت خریدی گئیں تھیں۔

Read on the original site