زلمے خلیل زاد اہم ممالک کے دورے پر روانہ
Most Popular (6 hours)

مضر صحت کھانوں کی فروخت

- ایکسپریس نیوز

Most Popular (24 hours)

Most Popular (a week)

وی او اے
12 days ago

زلمے خلیل زاد اہم ممالک کے دورے پر روانہ

 امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغا ن مفاہمت زلمے خلیل زاد ا فغان تنازع کے حل کی کوششوں کی سلسلے میں ایک بار پھر پر کئی اہم ممالک کے دورے پر روانہ ہوگئے۔ امریکہ کے محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق خلیل زاد امریکہ کے ایک بین الادارتی وفد کے ہمراہ 10 سے 28 فروری کے دوران بلجیم ، جرمنی ، ترکی، قطر ، افغانستان اور پاکستان کو دورہ کریں گے۔ محکمہ خارجہ نے کہا کہ یہ دورہ امن عمل کی کوششوں کا حصہ ہے جن میں امریکہ کی قومی سلامتی کے مفادات کا تحفظ اور تمام افغان فریقین کو افغانوں کے درمیان مذاکرات کے لیے  ایک میز پر لانا ہے تاکہ وہ اپنے ملک کے مستقبل کا تعین کر سکیں۔ بیان میں دورے سے متعلق مزید تفصیلا ت جاری نہیں کی گئیں ۔ قطر میں طالبان کا سیاسی دفتر قائم ہے جو افغانستان میں سرکاری فورسز کے خلاف برسرپیکار ہیں اور جو حال ہی میں خلیل زاد کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں بھی شامل رہے ہیں۔  ترکی اور پاکستان ،افغانستان کے اہم ہمسایہ ممالک ہیں اور خطے میں ان کا کردار اہم ہے۔   امریکہ طالبان کو کابل حکومت کے  نمائندوں کے ساتھ براہ راست بات چیت پرآماد ہ کرنے میں کوشاں ہے۔  دوسری طرف امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے بات چیت میں کابل حکومت کا کوئی نمائندہ شریک نہیں تھا جس پر کابل حکومت ناخوش ہے۔ طالبان ،کابل حکومت کو مغربی ممالک کی کٹھ پتلی حکومت قرار دیتے ہوئے اس سے بات چیت سے انکار کرتے ہیں۔   قطر میں ہونے والی حالیہ بات چیت کے دوران امریکہ اور طالبان نے امن سمجھوتے کی امیدظاہر کی ہے۔ واشنگٹن میں امریکہ کے انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں 8 فروری کو بات کرتے ہوئے خلیل زاد نے کہا کہ افغانستان کے جولائی میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے پہلے کوئی سمجھوتہ طے  پا سکتا ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی حتمی سمجھوتے تک پہنچنے کے لئے ایک طویل راستہ طے کرنا باقی ہے۔ امریکی عہدیدار یہ کہہ چکے ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان میں تعینات 14 ہزار امریکی فوجیوں کی نصف تعداد کو واپس لانا چاہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ پہلے ہی شام سے اپنے دوہزار فوجیوں کی واپسی کے اعلان کے وقت کہہ چکے ہیں کہ وہ  مہنگی جنگوں میں امریکہ کی شرکت کو کم کرنا چاہتے ہیں۔

Read on the original site

مضر صحت کھانوں کی فروخت

- ایکسپریس نیوز