قوم پرست کشمیری لیڈر مقبول بٹ کی برسی پر کشمیر میں ہڑتال
Most Popular (6 hours)

Most Popular (24 hours)

Most Popular (a week)

وی او اے
12 days ago

قوم پرست کشمیری لیڈر مقبول بٹ کی برسی پر کشمیر میں ہڑتال

پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں قوم پرست جموں کشمیر نیشنل لبریشن فرنٹ کے رہنما محمد مقبول بٹ کی برسی کے موقع پر احتجاج کیا گیا اور ہڑتال کے سبب معمولاتِ زندگی معطل رہے۔ محمد مقبول بٹ و 9 فروری 1984ء کو دِلّی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی تھی۔ انھیں 1960ء کی دہائی کے دوران بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے بومئی سوپور علاقے میں  انٹیلی جنس افسر کے قتل  کے مقدمے میں مجرم قرار دیتے ہوئے  سزائے موت سنائی گئی تھی۔ پیر کو مقبول بٹ کی 35 ویں برسی پر مسلم اکثریتی وادئ کشمیر میں ایک عام احتجاجی ہڑتال ہوئی جس کے سبب  پوری وادی کشمیر میں معمولاتِ زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔  اُن کی برسی کے موقع پر بھارت مخالف جلسے جلوسوں کے انعقاد کو روکنے کے لیے سرینگر کے چند علاقوں میں غیر معمولی حفاظتی پابندیاں عائد کی گئی جبکہ سرینگر میں اور وادئ کشمیر کے دوسرے حصوں میں مسلح پولیس اور نیم فوجی دستوں کی اضافی نفری تعینات ہے۔  پولیس نے استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں کے قائدین اور سرکردہ کارکنوں کو اُن کے گھروں میں نظر بند کردیا تھا۔  وادی میں ریل سروسز کو حفظِ ماتقدم کے طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت کی اپیل پر کارکنوں اور حامیوں نے سرینگر کے مائسیمہ علاقے سے ایک احتجاجی جلوس نکالا تو پولیس نے فوری طور پر حرکت میں آکر انہیں حراست میں لے لیا۔ شرکا نے کتبے اور بینر ہاتھوں اُٹھا رکھے تھے اُن پر بھی مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کی باقیات کو لوٹانے کا مطالبہ درج تھا۔ ان تنظیموں نے مقبول بٹ کی باقیات کو لوٹانے کا مطالبہ دہرایا ہے تاکہ انہیں ان کے آبائی علاقے میں اسلامی اور مقامی روایات کے مطابق دفنایا جا سکے۔ پھانسی کے بعد مقبول بٹ کی میت کو تہاڑ جیل کے احاطے ہی میں دفنایا گیا تھا۔ سرینگر کے عید گاہ علاقے میں واقع شہداء کے مزار میں پہلی قبر مقبول بٹ کی باقیات کے لئے خالی رکھی گئی ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشیمر میں احتجاج دوسری طرف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں نامہ نگار روشن مغل کے مطابق کشمیری قوم پرست راہنما مقبول بٹ کی برسی کے موقع پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ریاست کی خودمختاری کی حامی جماعتوں اور طلبہ تنظیموں کی طرف سے ریلیاں نکالی گئییں۔ کشمیر کی پاکستان اور بھارت دونوں سے علیحدگی کا مطالبہ کرنے والی تنظیموں جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (این ایس ایف ) اور جموں کشمیر لبر

Read on the original site