جنوبی کوریا میں امریکی فوجی: سیئول اس سال ایک ارب ڈالر دے گا
Most Popular (6 hours)

Most Popular (24 hours)

Most Popular (a week)

سچ ٹی وی
11 days ago

جنوبی کوریا میں امریکی فوجی: سیئول اس سال ایک ارب ڈالر دے گا

جنوبی کوریا اپنے ہاں ساڑھے اٹھائیس ہزار امریکی فوجیوں کی تعیناتی پر اٹھنے والے اخراجات میں اپنے حصے کے طور پر اس سال امریکا کو تقریباﹰ ایک ارب ڈالر ادا کرے گا۔ سیئول واشنگٹن کو ان اخراجات کا چالیس فیصد حصہ ادا کرتا ہے۔ جنوبی کوریائی دارالحکومت سیئول سے اتوار دس فروری کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق امریکا نے جزیرہ نما کوریا پر شمالی اور جنوبی کوریا کے مابین عشروں سے جاری کشیدگی کے باعث اپنے کُل 28,500 فوجی جنوبی کوریا میں تعینات کر رکھے ہیں، جن پر سالانہ اربوں ڈالر کا فوجی بجٹ خرچ کیا جاتا ہے۔ ان فوجیوں کی وہاں موجودگی کا سارا خرچ امریکا اکیلا برداشت نہیں کرتا بلکہ اس کے لیے سیئول حکومت واشنگٹن کو باقاعدہ ادائیگی کرتی ہے، جس کے لیے ایک باضابطہ دوطرفہ معاہدہ بھی موجود ہے۔ جنوبی کوریائی حکومت نے 2018ء میں ان امریکی فوجی اخراجات میں اپنے حصے کے طور پر واشنگٹن کو 830 ملین ڈالر ادا کیے تھے۔ تاہم اس بارے میں ان دونوں عسکری حلیف ممالک میں کچھ عرصے سے اختلاف رائے بھی پایا جاتا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سے امریکا کا یہ مطالبہ تھا کہ سیئول کو اس مد میں امریکا کو زیادہ رقوم ادا کرنا چاہییں۔ آج اتوار کے روز جنوبی کوریا اور امریکا کے مابین سیئول میں ایک ایسا اتفاق رائے ہو گیا، جس کے تحت جنوبی کوریائی حکومت اپنے ملک کی سرزمین پر امریکی فوجیوں کی موجودگی کے سلسلے میں واشنگٹن کو آئندہ زیادہ رقوم ادا کیا کرے گی۔ سال رواں کے لیے ان رقوم کی مالیت 10.4 کھرب وون (جنوبی کوریائی کرنسی) ہو گی، جو 924 ملین امریکی ڈالر کے برابر بنتی ہے۔ اس اتفاق رائے کے طے پا جانے کے موقع پر سیئول میں دونوں ممالک کی طرف سے کہا گہا کہ جزیرہ نما کوریا پر بدلتی ہوئے صورت حال میں جنوبی کوریا میں امریکی عسکری موجودگی کو مستحکم رکھا جائے گا۔ اس موقع پر سیئول میں ملکی وزارت خارجہ کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا کہ امریکا نے جنوبی کوریا کو یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ واشنگٹن جزیرہ نما کوریا پر سلامتی کے حوالے سے خود پر عائد ہونے والی ذمے داریوں سے پوری طرح آگاہ ہے اور جنوبی کوریا میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں کسی کمی کا بھی فی الحال کوئی منصوبہ نہیں ہے۔‍ آج طے پانے والے اتفاق رائے سے قبل سیئول اور و اشنگٹن کے مابین اس موضوع پر دس مذاکراتی دور ہوئے تھے جو سب بے نتیجہ ہی رہے تھے۔ دونوں ممالک کے مابین امریکا کے لیے جنوبی کوری

Read on the original site