برطانیہ میں عوام کا دوبارہ بریگزٹ پر ریفرنڈم کا مطالبہ
Most Popular (6 hours)

دعائے شب برأت

- ایکسپریس نیوز

شبِ تجدید ِ عہد

- ایکسپریس نیوز

شبِ توبہ و دعا

- ایکسپریس نیوز

ایک لاکھ 35 ہزار گھر

- ایکسپریس نیوز

ابھی نہیں تو کبھی نہیں

- ایکسپریس نیوز

عوام کبھی غلط نہیں ہوتے

- ایکسپریس نیوز

شبِ مُقدّس کے اعمال

- ایکسپریس نیوز

ایک انوکھا مریض

- ایکسپریس نیوز

Most Popular (24 hours)

Most Popular (a week)

سچ ٹی وی
27 days ago

برطانیہ میں عوام کا دوبارہ بریگزٹ پر ریفرنڈم کا مطالبہ

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں بریگزٹ مخالفین کا بڑا مظاہرہ ہوا جہاں انہوں نے حکمراں جماعت کنزرویٹو پارٹی سے یورپین یونین سے اخراج کے معاملے پر ایک مرتبہ پھر ریفرنڈم کروانے کا مطالبہ کردیا۔ خبرایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق پیپلزووٹ مارچ کا آغاز پارک لین اور دیگر مقامات سے ہوا اور برطانوی پارلیمنٹ تک پہنچا جہاں آئندہ چند دنوں میں بریگزٹ پر حمتی فیصلہ ہوگا۔ مظاہرین نے یورپین یونین کے پرچم اٹھا رکھے تھے اور یونین کے ساتھ برطانیہ کے طویل شراکت داری برقرار رکھنے کے مطالبے درج تھے۔ بریگزٹ مخالف مظاہرے میں برطانیہ بھر سے عوام موجود تھے جو وزیراعظم تھریسامے کو بریگزٹ سے دست بردار کرنے کے لیے پرعزم تھے۔ لبرل ڈیموکریٹ رہنما وینس نے مظاہرین کی تعداد حیران کن اور متحد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘یہاں پر ملک بھر زندگی کے ہر شعبے اور عمر سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد موجود ہے اور ملک میں ہم 60 فیصد افراد بریگزٹ کو روکنے کے خواہاں ہیں’۔ پولیس کی جانب سے مظاہرین کی تعداد کے حوالے سے کوئی رپورٹ جاری نہیں کی گئی تاہم آزاد ذرائع کے مطابق بریگزیٹ پر دوبارہ ریفرنڈم کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کی تعداد 10 لاکھ تھی۔ دوسری جانب آن لائن پٹیشن میں 40 لاکھ سے زائد افراد نے آرٹیکل 50 کے خلاف ووٹ دیا تھا جو بریگزٹ معاملے کو مزید گھمبیر بنانے کا باعث بن گیا تھا۔ برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے گزشتہ روز اراکین پارلیمنٹ کو لکھے گئے ایک خط میں کہا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ وہ بریگزٹ معاہدے کو پارلیمنٹ میں نہ لائیں تاہم دیگر اراکین کا خیال تھا وہ اپنے معاہدے کو اس وقت پارلیمنٹ میں لائیں گی جب اس کی حمایت کرنے والے اراکین کی تعداد زیادہ ہوگی۔ خیال رہے کہ برطانوی پارلیمنٹ میں وزیراعظم تھریسامے کے بریگزیٹ منصوبے کی مخالفت میں ووٹ پڑے تھے جس کے بعد انہیں اپنے منصوبے پر عمل درآمد میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور طے شدہ وقت تک بریگزٹ ممکن نہ ہوپایا۔ یورپی یونین اراکین نے برطانیہ کو علیحدگی کے لیے دوڈیڈ لائن دی گئی تھیں اور 22 مئی تک بریگزٹ پر عمل درآمد کے لیے وقت دینے پر اتفاق کیا تھا۔ برطانوی وزیراعظم تھریسامے کے اراکین پارلیمنٹ کو لکھے گئے خط کے باوجود تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ حکومت کا اگلا لائحہ عمل کیا ہوگا۔ برطانوی وزیر اعظم کے ترجمان کے مطابق یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے دو سال قبل طے کی گئی 29 مارچ کی تاریخ سے صرف 10 روز اور یورپی یونین

Read on the original site