انسان صحیح معنوں میں 30 سال میں بالغ ہوتا ہے: نئی تحقیق
Most Popular (6 hours)

دعائے شب برأت

- ایکسپریس نیوز

شبِ تجدید ِ عہد

- ایکسپریس نیوز

شبِ توبہ و دعا

- ایکسپریس نیوز

ایک لاکھ 35 ہزار گھر

- ایکسپریس نیوز

ابھی نہیں تو کبھی نہیں

- ایکسپریس نیوز

عوام کبھی غلط نہیں ہوتے

- ایکسپریس نیوز

شبِ مُقدّس کے اعمال

- ایکسپریس نیوز

ایک انوکھا مریض

- ایکسپریس نیوز

Most Popular (24 hours)

Most Popular (a week)

سچ ٹی وی
27 days ago

انسان صحیح معنوں میں 30 سال میں بالغ ہوتا ہے: نئی تحقیق

اگرچہ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں کسی بھی انسان کے بالغ ہونے کی قانونی عمر 18 برس ہے، تاہم ایک حالیہ تحقیق کے مطابق اسی عمر میں انسان صحیح معنوں میں بالغ نہیں ہوتا۔ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں 18 سال کے بعد تمام افراد کو نہ صرف شناختی کارڈ کا اجرا کیا جاتا ہے، بلکہ انہیں شادی کرنے، ووٹ کاسٹ کرنے، کوئی بھی ملکیت خریدنے اور فروخت کرنے سمیت انہیں قانونی طور پر بالغ سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی بھی شخص 18 سال سے چند ماہ پہلے بھی کسی جرم کے الزام میں گرفتار کیا جائے تو اس کے خلاف نابالغ افراد یعنی بچوں کے قوانین کے تحت کارروائی کی جاتی ہے۔ تاہم 18 سال کے ہوتے ہی ہر شخص کی قانونی حیثیت تبدیل ہوجاتی ہے۔ لیکن آکسفورڈ یونیورسٹی کے دماغی ماہرین کا کہنا ہے کہ دراصل انسان صحیح معنوں میں 30 سال کی عمر میں بالغ ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ انسان کا بالغ ہونا بھی دنیوی نظام تعلیم یا اس طرح کے دیگر نظاموں کی طرح ہوتا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے ’اے بی سی 6‘ کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے مثال دی کہ اگرچہ 18 سال کے افراد کو پولیس بالغ افراد کے طور پر گرفتار کرتی ہے اور عدالتیں بھی ان کے خلاف بالغ افراد کے طور پر ہی مقدمہ چلاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ اگرچہ 18 سال کی عمر کو پہنچے ہی انسان جسمانی و قانونی طور پر بالغ ہوجاتا ہے اور اسے کئی حقوق حاصل ہوجاتے ہیں، تاہم وہ سنجیدہ شخص نہیں بنتا۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ 30 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے انسان سنجیدہ ہوجاتا ہے اور وہ صحیح معنوں میں بالغ بنتا ہے۔ دماغی ماہرین کے مطابق انسان کے بالغ ہونے اور سنجیدہ بالغ ہونے میں کسی تجربہ کار اور ناتجربہ کار انسان کی طرح کا فرق ہوتا ہے۔ ماہرین نے یہ باتیں آکسفورڈ یونیورسٹی کے ڈپیارٹمنٹ اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز میں ہونے والی ایک تقریب میں کہیں۔  

Read on the original site