ٹرین حادثہ: اپوزیشن نے شیخ رشید کے استعفے اور گرفتاری کا مطالبہ کردیا
Most Popular (6 hours)

Most Popular (24 hours)

Most Popular (a week)

سچ ٹی وی
11 days ago

ٹرین حادثہ: اپوزیشن نے شیخ رشید کے استعفے اور گرفتاری کا مطالبہ کردیا

اپوزیشن نے ٹرین حادثوں پر وزیر ریلوے شیخ رشید کے استعفے سمیت ان کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتاری کا بھی مطالبہ کردیا۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ٹرین حادثے پر اظہار افسوس کیا اور کہاکہ حادثوں پر استعفوں کی عمران خان نے بہت مثالیں دیں، اب اپنے وزیر سے استعفیٰ لیں گے؟ انہوں نے کہا کہ شیخ رشید کا وزارت سے رومانس اور ٹرین حادثات نہ جانے کتنی زندگیاں نگلتا چلا جائے گا، کھڑی بوگیوں کو ملاکر نئی ٹرینیں چلائی جارہی ہیں۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ شیخ رشید اور عمران خان صرف پوائنٹ اسکورنگ کرر رہے ہیں، ملک بھی محکمہ ریلوےکی طرح چلایا جارہا ہے، مشرف کے زمانے میں بھی شیخ رشید نے ریلوے کو تباہ کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم استعفیٰ تو نہیں لےسکتے، ریلوےکسی اُس شخص کودیں جس کے پاس وزارت کے لیے وقت ہو، وزیراعظم کو چاہیے وہ جعلی کارکردگی کی حوصلہ شکنی کریں۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ٹرینوں کے حادثات اور اس میں ہلاکتوں میں اضافہ پریشان کن ہے، حادثے کے اسباب و محرکات سامنے لاکر ذمہ داروں کا تعین کیاجائے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری نے وزیر ریلوے شیخ رشید سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ‎عمران نیازی شیخ رشید کو وزارت گالم گلوچ دے دیں، ریلوے کسی اور وزیر کو دیں، ‎خوشامدی نیازی ایکسپریس چلانے سے پہلےعوام کی جان کی حفاظت یقینی بنانے کا انتظام کریں۔ انہوں نے کہا کہ ‎عمران نیازی اب استعفیٰ کیوں نہیں مانگتے؟ اب مغربی جمہوریت کا معیار بدل گیا یا یوٹرن لےلیا، 10 ماہ میں کسی حادثے کی رپورٹ سامنے نہیں آئی،کس کی وجہ سے مزید حادثے ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے ٹرین حادثے پر شیخ رشید کے خلاف اندراج مقدمہ اور ان کی گرفتاری کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرادی۔ مسلم لیگ (ن) کی رہنما حنا پرویز بٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی قرارداد میں کہا گیا ہےکہ اکبر ایکسپریس اور مال گاڑی ٹکرانے کا ذمہ دار شیخ رشید کو سمجھتے ہیں، شیخ رشید احمد کے پاس اپنے عہدے پر رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں۔ قرارداد میں مزید کہا گیا ہےکہ محکمہ ریلوے کی نااہلی کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

Read on the original site