انتظار کی گھڑیاں ہوئی ختم، چوہدری نثار کا بڑی جماعت سے ایک بار بھر سیاست کا اعلان, تہلکہ خیز خبر آگئی
Most Popular (6 hours)

Most Popular (24 hours)

Most Popular (a week)

’’گوروں کے دیس میں‘‘

- ایکسپریس نیوز

سچ ٹی وی
14 days ago

انتظار کی گھڑیاں ہوئی ختم، چوہدری نثار کا بڑی جماعت سے ایک بار بھر سیاست کا اعلان, تہلکہ خیز خبر آگئی

چوہدری نثار علی خان کا ایک بڑی جماعت سے ایک بار بھر سیاست کا اعلان، شمولیت کا اعلان کر دیا۔ چوہدری نثار علی خان کو پارٹی میں واپس لانے کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں اور ن لیگ کے قریبی ذرائع سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اس سلسلے میں کوشاں ہیں، اس کے علاوہ ن لیگ کے رکن اسمبلی رانا تنویر حسین بھی چوہدری نثار کی ”گھر واپسی“ کی کوششوں میں مصروف ہیں کیونکہ پارٹی کے مقتدر حلقوں کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے ایک ایسے بڑے لیگی لیڈر کی ضرورت ہے جس کے خلاف نیب کا کوئی مقدمہ نہ ہو۔  رپورٹ کے مطابق پیپلزپارٹی کے دور میں چوہدری نثار علی خان نے قائدحزب اختلاف کا منصب بڑے سلیقے سے نبھایا تھا اور پیپلزپارٹی کے لیے مشکلات کھڑی کی تھیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ چوہدری نثار پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہے اور نہ ہی ان پر نیب کا کوئی مقدمہ قائم ہے۔ دوسری جانب ان کی واپسی کی مخالفت کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ ن لیگ میں ایک ایسا گروپ گھس گیا ہے، جو اسٹیبلشمنٹ مخالف ہے، یہ گروپ ن لیگ کا اداروں کے ساتھ براہ راست تصادم چاہتا ہے۔ دوسری جانب پارٹی میں اس حقیقت کا ادراک کرنے والے شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان موجود تھے ،شہباز شریف کی چوہدری نثار علی خان کے ساتھ اچھی دوستی تھی، لیکن میاں نواز شریف سے چوہدری نثار کو دور کردیا گیا۔ چوہدری نثار، پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کے خلاف تھے۔ انہوں نے ہی پرویز مشرف کو ملک سے باہر جانے میں مدد دی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت پارٹی کی بقاءکے لیے رانا تنویر حسین اور سردار ایاز صادق کی کوشش ہے کہ کسی طرح چوہدری نثار کو واپس لایا جائے تاکہ مقتدر حلقوں کے ساتھ تعلقات کو ماضی کی سطح پر استوار کیا جاسکے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ چوہدری نثار کی طبیعت مجلسی نہیں ہے جو ایک لیڈر کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ گنتی کے چند صحافی ہی ان کے حلقہ احباب میں ہیں۔ دیگر صحافیوں کی ان تک رسائی آسان نہیں ہے۔ اس رویے کی وجہ سے لوگ انہیں مغرور سمجھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ پارٹی میں اپنا کوئی موثر گروپ نہیں بناسکے تھے۔

Read on the original site