رانا ثناءاللہ کا قومی اسمبلی میں قرآن پاک منگوانے کا مطالبہ مگر کیوں؟ تہلکہ خیز خبر آگئی
Most Popular (6 hours)

Most Popular (24 hours)

Most Popular (a week)

’’گوروں کے دیس میں‘‘

- ایکسپریس نیوز

سچ ٹی وی
14 days ago

رانا ثناءاللہ کا قومی اسمبلی میں قرآن پاک منگوانے کا مطالبہ مگر کیوں؟ تہلکہ خیز خبر آگئی

کسی بھی پراسیکیوشن میں اہم ترین چیز تفتیش ہے لیکن اس مقدمے میں کوئی تفتیش نہیں ہوئی، کہا گیا کہ ایک گروہ افغانستان سے فیصل آباد مجھ تک ہیروئن پہنچاتا ہے۔ مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی رانا ثناءاللہ خان نے شہریار آفریدی کو چیلنج کردیا، کہا کہ شہریار آفریدی قرآن پاک پر حلف اٹھاکر مجھ پر لگے الزامات کی تصدیق کردیں۔ انہوں نے سپیکر سے درخواست کی کہ ایوان میں قرآن مجید منگوایا جائے تاکہ شہریار آفریدی سے قسم لی جاسکے۔ وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی رانا ثناءاللہ خان نے کہا کہ قرآن پاک میں اللہ نے قسم سے متعلق طریقہ کار وضع کیا ہے اور کہا ہے کہ جو بھی قسم کھاتا ہے وہ اللہ کے نام کی قسم کھائے اور کہے کہ اگر میں جھوٹ بولوں تو اللہ کا قہر اور غضب مجھ پر نازل ہو۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر کوئی اس کی بات کو جھٹلانا چاہتا ہو تو وہ بھی اسی طرح قسم کھائے۔ رانا ثناءاللہ نے ایک بار پھر ایوان میں قسم کھاتے ہوئے کہا ’ میں نے زندگی میں کسی ہیروئن فروش یا ڈرگ فروش سے کوئی تعلق رکھا ہو یا کسی کی ایک مرتبہ سفارش کی ہو تو اللہ تعالیٰ کا قہر اور غضب مجھ پر نازل ہو۔‘  انہوں نے کہا کہ شہریار آفرید کو بھی حقیقت معلوم ہے لیکن یہ جذباتی انداز اختیار کرکے اپنے آپ کو اس بات سے نکالنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ سچے ہیں تو یہ بھی اس ایوان کے سامنے اللہ کو حاضر ناظر جان کر قسم اٹھائیں۔ رانا ثناءاللہ نے سپیکر سے مطالبہ کیا کہ ایوان میں قرآن مجید منگوایا جائے جس پر شہریار آفریدی قسم اٹھائیں، جس کے بعد اللہ کی ذات ہمارے درمیان فیصلہ کردے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ جس دن انہیں اے این ایف کے لوگوں نے گرفتار کیا اور16 گھنٹے تک تھانے میں رکھا گیا ، اگر اے این ایف والوں نے ہیروئن برآمدگی سے متعلق ہی کوئی بات کی ہو تو اللہ کا قہر اور غضب مجھ پر نازل ہو، اس بات کا پتا اس وقت لگا جب انہوں نے عدالت میں مقدمہ پیش کیا۔ رانا ثناءاللہ نے کہا کہ کسی بھی پراسیکیوشن میں اہم ترین چیز تفتیش ہے لیکن اس مقدمے میں کوئی تفتیش نہیں ہوئی۔ کہا گیا کہ ایک گروہ افغانستان سے فیصل آباد مجھ تک ہیروئن پہنچاتا ہے ، میں وہ ہیروئن لاہور پہنچاتا ہوں اور بعد ازاں لاہور کا گروہ پوری دنیا میں ہیروئن سمگل کرتا ہے۔ میں 6 مہینے جیل میں رہا ہوں، اس عرصے کے دوران اس گروہ کے 10 سے 15 لوگ پکڑے جانے چاہئیں تھے لیکن ایک بندہ بھی گرفتا

Read on the original site