پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کو فارغ کرنے کی منظوری، حکومت نے بڑا فیصلہ لے لیا
Most Popular (6 hours)

Most Popular (24 hours)

Most Popular (a week)

کون کس پر گیا ہے

- ایکسپریس نیوز

سچ ٹی وی
28 days ago

پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کو فارغ کرنے کی منظوری، حکومت نے بڑا فیصلہ لے لیا

حکومت نے یکمشت ادائیگی کے لیے 20 ارب روپے کی منظوری کے ساتھ پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) کے 9 ہزار 350 ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی سربراہی میں ہونے والے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں کیا گیا تھا جس کی منظوری کا باضابط نوٹیفکیشن آج جاری کیا گیا ہے.گزشتہ روز ای سی سی کے اجلاس میں عدالت عظمیٰ کے فیصلوں، احکامات اورپاکستان اسٹیل ملز کے حوالہ سے دیگر عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی روشنی میں پاکستان اسٹیل ملز کے ہیومن ریسورس رئیلائزیشن منصوبے کی مکمل اور حتمی منظوری دے دی گئی۔ مذکورہ فیصلہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی 13 مئی کی ہدایت پر وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے ہیومن ریسورس رئیلائزیشن کی بنیاد پر نظرِ ثانی شدہ سمری پر کیا گیا اس سے قبل کے منصوبے میں 18 ارب 74 کروڑ روپے کی لاگت میں 8 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کی تجویز دی گئی تھی حالیہ فیصلے کے نتیجے میں حکومت اسٹیل ملز کے 100 فیصد ملازمین کو فارغ کردے گی جن کی تعداد 9 ہزار 350 ہے۔ کل تعداد میں سے صرف 250 ملازمین کو اس منصوبے پر عملدرآمد اور ضروری کام کی انجام دہی کی خاطر 120 روز کے لیے برقرار رکھا جائے گا۔ دوسری جانب ای سی سی کے فیصلے کو کابینہ کے آئندہ اجلاس میں منظوری ملنے کے بعد تمام ملازمین کو برطرفی کے نوٹسز جاری کردیے جائیں گے‘اس منصوبے کا مالیاتی اثر 19 ارب 65 کروڑ 70 لاکھ روپے کے برابر ہوگا جو گریجویٹی اور پراوڈنٹ فنڈز کی ادائیگی کے لیے یکمشت جاری کیے جائیں گے، اس کے علاوہ اسٹیل ملز ملازمین کو تنخواہوں کے ادائیگی کی مد میں منظور شدہ ضمنی گرانٹ سے ایک ماہ کی تنخواہ بھی ادا کی جائے گی اس طرح ہر فرد کو اوسطاً 23 لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔ اپنی پیش کردہ سمری میں وزارت صنعت و پیداوار نے بتایا کہ اسٹیل ملز کی کمزور معاشی صورتحال کے باعث حکومت سال 2013 سے ملازمین کو خالص ماہانہ تنخواہ ادا کررہی ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان اسٹیل ملز کے 14 ہزار 753 ملازمین کے لیے انسانی وسائل کا کوئی منصوبہ تشکیل دیے بغیر جون 2015 میں تجارتی سرگرمیاں روک دی گئی تھیں۔ جس کے بعد 2019 تک ملازمین کی تعداد کم ہو کر 9 ہزار 350 رہ گئی تھی۔ اس وقت پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کو خالص تنخواہوں کی مد میں ادا کی جانے والی رقم 35 کروڑ روپے کے برابر ہے جسے اسٹیل ملز کے مالی اکاﺅنٹس میں بطور قرض ایڈجسٹ کیا ج

Read on the original site