ایران سے سعودی عرب کی پرانی اور خطرناک دشمنی کے ثبوت

شیعہ رہنماوں کی کالعدم جماعت کے سرغنہ لدھیانوی سے ملاقات کی رُداد، علامہ امین شہیدی کی زبانی

گورنر اسٹیٹ بینک کیخلاف 22 سینیٹرز کی درخواست مسترد

شاہد آفریدی کی سراج رئیسانی کے اہلخانہ سے تعزیت

یادداشت کیلئے چارسائنسی انداز

یاہو میسنجر کی موت واقع ہو گئی

جنوبی کوریا:ہیلی کاپٹر حادثے میں5افراد ہلاک

سی ای او پی آئی اے کی دعوت پر ایئر سفاری کی، ڈی جی سی اے اے

الیکشن کمیشن عمران خان کی تقاریر پر پابندی لگائے، ن لیگ

این اے124: پیپلز پارٹی تحریک انصاف کے حق میں دستبردار

نواز شریف کو پیش نہ کر کے کیا چھپایا جا رہا ہے؟

فواد حسن فواد ایک روزہ ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں

نگراں حکومت نے شہباز شریف کے خط کا جواب دےدیا

بھارت میں چاند ستارے والا سبزجھنڈا لگانے پر سماعت

امریکی صدر کے دورے کے خلاف فنلینڈ کے عوام کے مظاہرے

روس کا ایران میں 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا فیصلہ

اماراتی شہزادہ قطر فرار، ابوظہبی کے حکمراں خاندان پر تنقید

دبئی نے نئے ویزہ قوانین متعارف کروا دیے

اسرائیل کا حماس کے ساتھ جنگ میں شکست کا اعتراف

اسرائیل کو ‘صیہونی ریاست’ قرار دینے کیلئے بل تیار

ایران کی مسلح افواج کے سربراہ کی صدر ممنون حسین سے ملاقات

امریکہ کو ایرانی بحریہ کی طاقت کا اندازہ ہوگیا ہے؛بریگیڈیر رمضان شریف

فلسطین کے بارے میں امریکی شیطانی پالیسیاں ناکام ہوں گی:آیت اللہ سید علی خامنہ ای

سعودیہ میں ایران کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے:علی محمد دوشنبہ

’’تمام جماعتوں سے نئے میثاقِ جمہوریت پر بات کرنا چاہتا ہوں‘‘

فرانسیسی ٹیم کا وطن واپسی پر شاندار استقبال

ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکامی کے دو سال مکمل

کموڈور عدنان خالق کی ریئر ایڈمرل کے عہدے پر ترقی

افغان صدر کانگراں وزیراعظم اور آرمی چیف کو ٹیلی فون

یوٹا میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی

شہزادہ چارلس اور ولیم نے ٹرمپ سے ملنے سے انکار کر دیا

بھارت میں گوگل کاسوفٹ ویئر انجینئر بے دردی سے قتل

امریکی سفارت کاروں کو طالبان سے براہ راست مذاکرات کی ہدایت

روسی بمبار جہازجنوبی کوریا میں داخل،کوریا کا احتجاج

میاں صاحب نے کشکول کے بجائے معیشت توڑدی،اسد عمر

بلاول کو پارٹی میں صرف ’ابا‘ ہی کیوں نظر آتا؟سراج الحق

ن لیگ ،پی پی نے کرپشن کے ریکارڈ توڑدئیے،عمران خان

فخر زمان کی سنچری، پاکستان 9وکٹ سے فاتح

’عمران خان کو ناکام جلسوں کی ہیٹ ٹرک مبارک ہو‘

سعید اجمل کا پی ٹی آئی امیدوار کی حمایت کا اعلان

ایم کیو ایم سے لوگوں کو صلہ نہیں ملا، حافظ نعیم

فاروق ستار پر خواتین برس پڑیں،سیاست چمکانے کا الزام لگا دیا

شدت پسندوں کو انسان بنانیکی ناکام کوششیں

دہشتگردی کے سائے اور اہل پاکستان

کراچی عسکری پارک میں جھولا گر گیا بچی جاں بحق 9 افراد زخمی

عالمی کپ کی اختتامی تقریب، مشعل قطر کے سپرد

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا کی ولادت باسعادت مبارک ہو

فرانس فٹبال کا نیا عالمی چیمپئن، کروشیا کو شکست

اسرائیل کا 2014 کے بعد غزہ پر سب سے بڑے حملے کا دعویٰ

یمن میں سامراج کی مخالفت کا قومی دن

اسکاٹ لینڈ: امریکی صدرکے خلاف مختلف اندازمیں احتجاج

کس قانون کے تحت کالعدم جماعتوں کو کلین چٹ دی ہے، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

’اعتزاز احسن کی آنکھ میں ککرے پڑگئے ہیں‘

صحت بخش اور توانائی سے بھرپور. . . سلاد

آمدنی اور اخراجات میں بہت فرق ہے، شمشاد اختر

سراج رئیسانی کا جنازہ ، آرمی چیف کوئٹہ پہنچ گئے

کریمینل ایڈمنسٹریشن آف جسٹس میں محکمہ پولیس کا کلیدی کردار ہے، قاضی خالد علی

ٹرمپ دورہ برطانیہ میں اپنے الفاظ سے پھر گئے

بھارتی فوج کا کنٹونمنٹ علاقے ختم کرنے پر غور

بلوچستان کے مختلف شہروں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ

’لیگی قیادت نے نواز اور مریم کو دھوکا دیا‘

داعش نےسعودی چیک پوسٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی

سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کیخلاف مقدمہ درج

آئرش پارلیمنٹ میں اسرائیلی اشیاء کی در آمدات پر پابندی کا بل منظور

’’حکومت بنا کر سب کو ایک پیج پر لاؤں گا ‘‘

ٹرمپ کے دورۂ برطانیہ پر احتجاج کا سلسلہ جاری

نواز،مریم اور صفدر کے پاس صرف ایک دن کی مہلت

یمن میں متحدہ عرب امارات کے اقدامات جنگی جرائم ہیں، ایمنسٹی انٹرنیشنل

سندھ میں رینجرز کےخصوصی اختیارات میں 90روز کی توسیع

آپ یہ پلے باندھ لیں

تحریک انصاف نے کوئٹہ جلسہ ملتوی کردیا

2016-09-25 22:13:03

ایران سے سعودی عرب کی پرانی اور خطرناک دشمنی کے ثبوت

2016925223714403ایران کے انقلاب اسلامی دستاویز مرکز نے ہفتہ دفاع مقدس کی مناسبت پر ” ایران کے
خلاف بعثی حکومت کی مسلط کردہ جنگ میں آل سعود حکومت کا کردار” کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی ہے۔

22 ستمبر 1980 کو عراق کی جانب سے ایران پر حملے کے آغاز نے آل سعود حکومت کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ اپنے ہم منصب صدام کے ساتھ نو تشکیل حکومت اسلامی کے خلاف اقدام کرے۔  ایران کے خلاف بعثی حکومت کی جانب سے مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ کے دوران سعودی عرب نے صدام کی ہر طرح کی سیاسی، مالی، خفیہ اور اسلحہ جاتی حمایت میں ذرہ برابر بھی دریغ نہیں کیا۔ یہ وہ حقیقت تھی جس کا اعتراف سعودی عرب کے فرمانروا ملک فہد نے عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے دوران کیا تھا اور کہا تھا کہ عراقی رہنماوں کی جانب سے کویت پر حملہ، ایران کے خلاف آٹھ سالہ جنگ میں سعودی عرب کی جانب سے عراق کی فوجی مدد کی ناشکری کی علامت ہے۔   اگر عراق کا کہنا ہے اس نے اپنے افراد کی قربان دی تو ہم بھی پیسہ، پیشرفتہ ہتھیار اور اپنے بین الاقوامی تعاون سے اس قربانی میں شریک تھے۔ وہ کس طرح ان تمام چیزوں کو فراموش کر سکتا ہے اور حقیقت کو پوشیدہ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔  

ایران  پر مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ کے دوران آل سعود حکومت کا سیاسی، مالی، خفیہ اور اسلحہ جاتی کردار، اس بات کی علامت ہے سعودی عرب ایران کے اسلامی انقلاب سے کتنی دشمنی رکھتا ہے۔

ایران کو شکست دینے کے لئے آل سعود کی علاقائی کوششیں :

مسلط کردہ جنگ کے دوران سعودی عرب کے سیاسی حکام نے ایران کو الگ تھلگ اور تنہا کرنے اور عراق کی بعثی حکومت کو مضبوط کرنے کے لئے اپنی تمام سفارتی توانائیوں کا استعمال کیا۔ امریکا، مصر، اردن اور مغرب سمیت دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ اس ملک کے مذاکرات کو اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی کے ساتھ سعودی عرب نے ایران پر دباؤ ڈالنے کے لئے اسلامی کانفرنس تنظیم اور اس کے اعلامیہ اور قوانین میں تبدیل کیا۔ اس کے علاوہ اس نے ایران پر دباؤ ڈالنے کےلئے خلیج فارس تعاون کونسل میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کی تاکہ اس طرح سے ایران پر دباؤ ڈالا جا سکے کیونکہ اس وقت اس کونسل کا سربراہ سعودی عرب تھا۔ اسی طرح سعودی عرب نے متعدد سیاسی محاذوں پر ایران پر دباؤ ڈالنے کے لئے متعدد بار کوششیں کیں۔

سعودی عرب کے یپٹرو ڈالر، بعثی حکومت کی توپ کے گولے :

عراق کی حمایت میں سعودی عرب کے کردار کے واضح ہو جانے کے خوف نے سعودی عرب کے حکام کو ایران کے خلاف عراق کی بعثی حکومت کی خفیہ حمایت جاری رکھنے پر مجبور کر دیا۔  سعودی عرب کے پیٹرو ڈالر، جنگ میں عراق کی بعثی حکومت کا اصل ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ خرمشہر کی آزادی اور بعثی حکومت کی شکست سے کچھ ہی دن بعد یہ انکشاف ہوا کہ ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے لئے  صدام کو سعودی عرب اور خلیج فارس کے ہمسایہ ممالک سے 20 ارب ڈالر حاصل ہوئے تھے۔ اسی طرح بدر اور الفجر -8 آپریشن کے دوران سعودی عرب اور خلیج فارس کے ساحلی ممالک نے صدام کو 29 ارب ڈالر دیئے۔ اسی طرح عراق کو سعودی عرب نے 27 ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم فوجی اور اقتصادی مدد کے عنوان سے دی۔  

بعثی حکومت کی امید سے زیادہ سعودی عرب کا انٹلیجنس تعاون :

در حقیقت  ایک صدی کی جنگوں کے دوران عراق کے ساتھ سعودی عرب کی انٹلیجنس تعاون کو عدیم المثال قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ انٹلیجنس تعاون اس بات کی علامت ہے کہ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی سے ہی سعود عرب کی حکومت، ایران کی اسلامی حکومت کو نقصان پہنچانے کے درپے رہی ہے۔  جنگ شروع ہونے سے ٹھیک ڈیڑھ ماہ پہلے سعودی عرب کے حکام نے صدام کے استقبال کے وقت اسے شاہی تحفے سے نوازا تھا۔ اس کے علاوہ مسلط کردہ جنگ کے دوران، سعودی حکومت نے بارہا صدام کوامریکی آواکس سمیت تمام پیشرفتہ جاسوسی کے ساز و سامان دیئے جس کی وجہ سے عراق کے خلاف ایران کے بہت سے آپریشن لیک ہوگئے۔

بعثی حکومت کو مسلح کرکے ایران کے خلاف سعودی عرب کی براہ راست جنگ :

سعودی عرب کے حکام نے نہ صرف سعودی عرب کی بعثی حکومت کے لئے پیشرفتہ ہتھیار خریدے بلکہ وہ براہ راست عراق کی لاجسٹک اور اسلحہ جاتی حمایت کر رہے تھے۔ امریکا کے اس وقت کے صدر جیمی کارٹر نے اپنی ڈائری میں ایران کی فوجی طاقت سے سعودی حکام کے خوف و ہراس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایران کے خلاف خصوصی کاروائی کے لئے سعودی حکام سے رابطہ کیا اور ان سے مشورہ کیا اور اس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ کچھ اواکس طیارے علاقے میں روانہ کئے جائیں گے تاکہ ان کے دفاع میں ان کی مدد کی جا سکے۔

زمرہ جات:   Horizontal 3 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

جام جم - 17جولائی

- سحر نیوز