شیعوں کی تباہی کے لئے MI-6 اور C.I.A کا منصوبہ بے نقاب

بلوچستان: سی ٹی ڈی آپریشن،خاتون سمیت 4 دہشت گرد ہلاک

ہائیڈرو گرافی کا عالمی دن ، پاک بحریہ کے سر براہ کا پیغام

امریکہ کے شکست قریب ہے؟

شیخ علی سلمان پر مقدمہ، غیر سرکاری تنظیموں کا احتجاج

عمران، شاہد خاقان، گلالئی،فہمیدہ مرزا، فاروق ستار، لدھیانوی، مشرف کے کاغذات مسترد

ایران نے امریکی صدر سے بات چیت کا امکان مسترد کر دیا

راہ حق پارٹی، جے یو آئی (ف) کے آشرباد سے کالعدم جماعتوں کا سیاسی پلٹ فارم

لندن کی سڑکوں پر بھاگتا پاکستانی سیاست دان

بن زاید کی اسرائیلی عہدے داروں سے ملاقات ؟

انتخابات 2018: الیکشن کمیشن نے ساڑھے تین لاکھ فوجی اہلکاروں کی خدمات مانگ لیں

علماء یمن نے بڑا کردیا

چوہدری نثار تھپڑ مار کیوں نہیں دیتے؟

ٹرمپ بھیڑیا ہے

ٹرمپ نے بوکھلاہٹ میں شمالی کورین جنرل سے مصافحہ کے بجائے سلیوٹ کر ڈالا

الیکشن کمیشن پاکستان راہ حق پارٹی کی رجسٹریشن منسوخ کرے

اسرائیلی فوج نے اپنا الحاج شیخ الاسلام متعارف کرادیا – عامر حسینی

این اے 53 سے عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد

الحدیدہ۔۔۔اب میڈیا خاموش کیوں ہے!؟

کیا احد چیمہ شہباز شریف کے لیے خطرے کی گھنٹٰی ہے؟

فضل اللہ کی ہلاکت کے بعد امریکا پاکستان سے کیا مطالبہ کرے گا؟

یمن میں پاکستانی لاشیں کیا کر رہی ہیں؟

جدید تر ہوتی جوہری ہتھیار سازی: آرمجدون زیادہ دور نہیں

نواز شریف اور ان کی بیٹی کا کردار سامنے لانا چاہتا ہوں، چوہدری نثار

مسلم لیگ نواز اور نادرا چئیرمین کے مبینہ ساز باز کی کہانی

آنیوالے انتخابات میں کسی مخصوص امیدوار کی حمایت نہیں کرتے، علامہ عابد حسینی

امریکی مرضی سے ملی حکومت پر لعنت بھیجتا ہوں، سراج الحق

افتخار چوہدری عدلیہ کے نام پر دھبہ ہیں، فواد چوہدری

کاغذات نامزدگی پر اعتراضات جھوٹے، من گھڑت اور صرف الزامات ہیں، عمران خان

نادرا ووٹرز کی معلومات افشا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے، الیکشن کمیشن

افغانستان میں جنگ بندی: ’ملا اشرف غنی زندہ باد‘

پشاور سے کالعدم ٹی ٹی پی کا انتہائی مطلوب کمانڈر گرفتار

جرمنی کی آسٹریا میں جاسوسی کا گھمبیر ہوتا معاملہ

کیا جرمنی نے آسٹریا میں جاسوسی کی؟

عورت چراغ خانہ ہے، شمع محفل نہیں!

کلثوم نواز کی حالت تشویشناک، نوازشریف اور مریم نواز کی وطن واپسی مؤخر

سانحہ ماڈل ٹاؤن کو چار سال گزر گئے لیکن ملزم آزاد ہیں، طاہر القادری

امریکی دباؤ کے باوجود ایران کیساتھ باہمی تعاون کو جاری رہیں گے: چین

انتخابات میں مخالفین کو عبرت ناک شکست دیں گے، آصف علی زرداری

آپ کی مدد کا شکریہ عمران خان، اب آپ جاسکتے ہیں!

کالعدم ٹی ٹی پی کا نیا امیر کون؟

امریکا کا چین کے خلاف بھی تجارتی جنگ کا اعلان

افغان صوبے ننگرہار میں خودکش دھماکا، 25 افراد ہلاک

عید الفطر 1439 ھ علامہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام

انتخابات میں حصہ لینے کے خواہش مند 122 امیدوار دہری شہریت کے حامل نکلے

امریکا کے خلاف یورپ کا جوابی اقدام

سعودی عرب کا ذلت آمیز شکست کے بعد کھلاڑیوں کو سزا دینے کا اعلان

مُلا فضل اللہ کی ہلاکت، پاکستان اور خطے کے لیے ’اہم پيش رفت‘

’’رَبِّ النُّوْرِ الْعَظِیْم‘‘ کے بارے میں جبرئیل کی پیغمبر اکرمﷺ کو بشارت

پاکستان میں عید الفطر مذہبی جوش وجذبے کے ساتھ منائی جائے گی

یورپ میں بڑھتی مسلم نفرت اور اس کا حل

کیا مسلم لیگ ن کی پالیسی میں کوئی تبدیلی آ رہی ہے؟

عید فطر کا دن، خدا کی عبادت اور اس سے تقرب کا دن 

پھانسی دے دیں یا جیل بھیجیں

شفقنا خصوصی: بھاڑے کے ٹٹو اور پاک فوج

افغانستان میں ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی اطلاعات

کلثوم نواز کی طبیعت بگڑ گئی، مصنوعی تنفس پر منتقل

سعودی عرب کی کھوکھلی دھمکیاں

ایم ایم اے اور اورنگزیب فاروقی کے مابین خفیہ ڈیل کیا ہے؟

ریحام خان کو عمران کے کنٹینر تک کون لایا تھا: ایک خصوصی تحریر

غدار ٹوپیاں اور جاسوس کبوتر

آج سے موبائل بیلنس پر ٹیکس ختم: 100 روپے کے کارڈ پر پورے 100 روپے کا بیلنس ملے گا

اول ماہ ثابت ہونے کا میعار کیا ہے؟

سوال: کیا مقلدین کے لیے ضروری ہے کہ عید فطر کے لیے اپنے مرجع کی طرف رجوع کریں؟

رمضان المبارک کے انتیسویں دن کی دعا

ریحام خان کی کتاب اور معاشرہ

شیخ رشید 2018 کے انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں: سپریم کورٹ

پاکستان میں انتخابات 2018؛ 2 ہزار368 امیدوار مختلف محکموں کے نادہندہ نکلے

حسن بن صباح کی جنت، فسانہ یا حقیقت؟

آرمی چیف کا دورہ افغانستان : کیا اشرف غنی کو سخت پیغام دیا گیا ہے؟

شیخ رشید نااہلی سے بچ گئے

2017-02-14 07:29:39

شیعوں کی تباہی کے لئے MI-6 اور C.I.A کا منصوبہ بے نقاب

 

 

CIA and Mi6

 

منصوبہ ”تفرقہ ڈالو اور مذہب [شیعہ] کو تباہ کرو“

A Plan to Divide and destroy [Shia] Theology

 

نامی ایک کتاب امریکہ میں شائع ہوئی، جس میں سی آئی اے کے سابق نائب سربراہ «ڈاکٹر مائکل برانٹ» کی مفصل انٹرویو شائع ہوئی ہے.

 

مائکل برانٹ کو مالی اور انتظامی کرپشن کی بنا پر برطرف کیا گیا تھا اور کہا جاتا ہے کہ اس نے انتقام لینے کے لئے سی آئی اے کا یہ اہم راز فاش کرتے ہوئے اپنے انٹرویو میں جھنجوڑ دینے والے رازوں سے پردہ اٹھایا:

 

اس طویل انٹرویو کے چند نکات پیش خدمت ہیں:

 

… ایران کے اسلامی انقلاب نے 1979 میں ہماری پالیسیوں کو نقصان پھنچایا… اسلامی بیداری کی نشوونما کا ظہور لبنان، عراق، کویت، بحرین اور پاکستان میں ہوا تو C.I.A کے عہدیداروں کا ایک اجلاس ہوا جس میں برطانوی خفیہ سروس 6-MI کا نمائندہ بھی شریک تھا… اس اجلاس میں معلوم ہؤا کہ انقلاب کے اہم ترین اسباب مذہبی مرجع کی قیادت اور 1400 سال پہلے کربلا میں [امام] حسین [علیہ السلام] نواسہ محمد [صلی اللہ علیہ و آلہ] کی شہادت کی یاد میں شیعوں کی صدیوں سے جاری عزاداری، ہیں اور ان ہی اسباب کی بناء پر شیعہ دوسرے مسلمانوں سے زیادہ متحرک اور اکٹیو ہیں … ابتدائی تحقیقات اور منصوبہ سازی کے لئے چالیس ملین ڈالر کا بجٹ منظور ہؤا…

 

مراحل:

1: انفورمیشن اور اعداد و شمار فراہم کرنا:

 

2: قلیل المدت ہدف یا “Short Term Target” کے طور پر شیعوں کے خلاف پراپیگنڈا کرانا، شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دے کر فسادات کرانا شیعوں کو سنی اکثریت کے ساتھ لڑانا، اور ان کی توجه امریکی پالیسیوں سے ہٹانا۔

 

3: طویل المدت ہدف (Long Term Target) کے طور پر تشیع کا خاتمہ کرنا۔

 

پہلے مرحلے میں کچھ افراد پاکستان بھیج دیئے گئے جنہوں نے اسی مضمون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں اور کراچی کے ایک شیعہ نشین علاقے رضویہ سوسائٹی میں بعنوان (Paying Guests) مقیم رہے اور اسی طرح «نکومہ» نامی ایک جاپانی عورت نے کوئٹہ شہر کے شیعوں کے درمیان رہ کر ”شیعہ سٹڈیز“ کے موضوع پر اپنا ڈاکٹریٹ کا رسالہ مکمل کیا۔

 

ڈاکٹر مائکل برانٹ نے کہا ہے: شیعہ ممالک میں فیلڈ ورک ریسرچ اور حاصلہ انفارمیشن کے مطابق مندرجہ ذیل نتائج سامنے آئے ہیں:

 

مرجعیت:

مراجع تقلید، شیعہ مذہب کی اصلی طاقت ہیں جو ہر زمانے میں دین کی حفاظت کرتے ہیں اور اس کے اصول پر انتہائی ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہتے ہیں انہوں نے تشیع کے پوری تاریخ میں کبھی بھی غیر اسلامی حکمران کے ساتھ بیعت نہیں کی۔ گذشتہ صدی کے ایک مرجع (آیۃ اللہ میرزا شیرازی) کے فتوے کی وجہ سے انگریز، ایران میں قدم نہ جما پائے۔

دوسری علمی مراکز میں ایسا نہیں رہا اور ان مراکز نے اکثر حکمرانوں کا ساتھ دیا ہے، جبکہ قم جیسے مراکز سے شاہانہ نظام کا خاتمہ شروع ہوگیا جہاں اب ابھی امریکہ جیسی سپر پاور پیر جمانے کے لئے ناکام کوشش کر رہا ہے۔

شیعوں کا عظیم ترین علمی مرکز عراق میں تھا جسے صدام اپنی تمام کوششوں کے باوجود نہ خرید سکا بلکہ اسے بند کرنے پر مجبور ہوا۔

امام موسی صدر کی تحریک نے برطانوی، فرانسیسی اور اسرائیلی افواج کو لبنان سے مار بھگایا اور اسرائیل کو پہلی مرتبہ حزب اللہ کی شکل میں بہت بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑا ۔

 

ڈاکٹر برانٹ مزید کہتے ہیں: سب سے زیادہ اہم نتیجہ اور فیصلہ جو ہمیں ان سب باتوں سے معلوم ہوتا ہے وہ یہ یے کہ شیعوں کو براہ راست نقصان پھنچانا اور انہیں اپنا فرمانبردار بنانا مشکل ہے؛ لہذا یہ فیصلہ ہوا کہ پس پردہ رہ کر کام کیا جائے۔ ہم نے برطانیہ کے پرانے فارمولے «تفرقہ ڈالو اور حکومت کرو» کو ایک اور فارمولے «تقسیم کرو اور ختم کرو» میں بدل کر اس پر عملدرآمد شروع کردیا۔ ہمیں چاہیے کہ اس پروپیگنڈے کو جگہ جگہ پھیلادیں کہ ”شیعہ کافر ہیں“۔ کم پڑھے لکھے اور ان پڑھ افراد کا ایک گروہ بنایا جائے یہاں تک کہ ان کی (جو ہمارا پانچواں اہم رکن ہیں) تعداد اتنی ہوجائے کہ شیعوں کے خلاف مسلح جہاد کر سکے۔ ہمیں چاہئے کہ شیعہ کا چہرہ اس حد تک مسخ کردیں کہ عام لوگوں میں شیعہ نفرت انگیز بن جائیں۔

شیعہ مراجع کے خلاف ہوشیاری کے ساتھ محاذ کھولنا، شیعوں کے درمیان مذہب کا لبادہ اوڑھنے والے پیسہ پرست اور شہرت طلب نوحہ خواں اور ذاکرین کا «ففتھ کالم» بنانا اور اس طرح شیعیت کا چہرہ مسخ کرانا تا کہ نوبت یہاں تک پہنچے کہ تشیع ہر خاص و عام میں غیر مقبول ہو کر رہ جائے اور لوگ خود مرجعیت کا خاتمہ کردیں۔

 

عزاداری:

شیعہ، واقعہ كربلا كی یاد میں مجالس برپا کرتے ہیں، ایک آدمی تقریر كرتا ہے اور سامعین سنتے ہیں اور جوان اس کے بعد سینہ زنی كرتے ہیں ۔ یہ مقرّرین اور سامعین ہمارے لئے بہت اہم ہیں؛ كیونكہ ان ہی مجالس کی بدولت شیعوں میں جوش وخروش، جذبہ آزادی کے ساتھ ساتھ باطل كے خلاف جنگ کا جذبہ پيدا ہوتا ہے؛ لہذا ہم نے دسیوں ملین ڈالرز كے فنڈز ان سامعین اور مقررین كو خريدنے کےلئے مختص كئے اور یہ كام اس طريقے سے انجام دے رہے ہيں:

 

باریک لیکن تباہ کُن منصوبہ:

 

پہلے مرحلے میں ایسے افراد تلاش کرنا جو دنيا پرست با اثر اور شہرت طلب ہوں اور ایمانی لحاظ سے کمزور ہوں۔ ہم ان كے ذریعے سے عزاداری میں اثر و رسوخ پیدا كرینگے۔ ان افراد سے مطالبہ کریں گے کہ وہ :

 

1۔ ایسے مرثیہ خواں پیدا کریں جو شیعہ عقائد سے ناواقف ہوں اور ان کی سرپرستی کریں۔

 

2۔ ایسے افراد كو سامنے لائیں جو تالیف و تصنیف كے ذریعے شیعوں كے مراكز اور عقائد كو نشانہ بنائیں اور تشیع كی بنیادیں نابود كردیں۔ یہ اہل قلم اپنی بات کو شیعہ مراجع كا کلام ظاہر كرکے پیش کریں گے۔

 

3۔ عزاداری میں ایسی رسومات كا اضافہ كرنا یا ان كی حفاظت كرنا جو شیعہ عقائد كے منافی ہوں۔ شیعہ مذہب میں عجیب و غریب رسومات کا اضافہ ہو تا کہ ظاہر ہوجائے کہ تشیع ايک جاہل اور وہم پرست مذہب ہے. یہ لوگ محرم میں عام انسانوں (دوسرے مذاہب والوں) كے لئے بہت ساری مشكلات کھڑی کرديتے ہیں ہمیں چاہئے کہ ان پروگراموں کی تشہير كے لئے بہت بڑی رقوم خرچ کریں اور مرثیہ خوانوں كی اچھی خاصی سرپرستی کریں۔

اور یوں شیعہ جو لاجیکل قوت و طاقت كا مالک ہیں، محض ایک ملنگی مذہب میں تبدیل ہوکر اندر سے کھوکھلا ہوجائے گا۔

 

4- عام لوگوں كے درمیان شیعوں کی نفرت اور خود شیعوں میں فرقہ بندی پھيلا دیں یہاں تک کہ بالآخر جہادیوں كے ہاتھوں انہیں نیست ونابود کردیا جائے۔

 

5۔ مرجعیت كے خلاف مواد اکٹھا کرکے دولت پرست اور غیرمعروف مؤلفین كے سپرد کیا جائے گا اور ان كی نشر و اشاعت كے لئے اچھی خاصی رقوم خرچ كی جائیں گی۔ یہ مواد مرثیہ خواں اور جاہل ماتمی گروہوں کے ہاتھوں شیعہ عوام میں پھیلادیا جائے گا۔

 

آخری مرحلے میں شیعہ خود شیعوں کے خلاف آواز اٹھائیں گے اور 2010 تک مرجعیت یا دوسرے الفاظ میں تشیع کی مرکزیت ختم ہوکر رہ جائے گی اور باقی شیعہ منتشر ہوجائیں گے اور مرجعیت جو آج تک ہماری حکومتوں کے سامنے تشیع کے دفاع کا ایک مستحکم قلعہ سمجھی جاتی تھی خود شیعوں کے ہاتھوں ہی تباہ ہو جائے گی۔

 

IUVM

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)