خواتین کا عالمی دن اور اسلام

کیا تیونس کا حج بائیکاٹ آل سعود کو یمن پر مظالم سے روک سکتا ہے؟

جنوبی وزیرستان: فوجی کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک، 2 جوان شہید

میری خوشی کی انتہا اس وقت نہ رہی جب نیمار میرے ساتھ آ کر کھڑا ہو گیا: احمد رضا

این اے 243 کراچی: عمران خان کے کاغذات نامزدگی کےخلاف اپیل مسترد

ملا فضل اللہ کی موت پر بھارت میں کھلبلی

الحدیدہ جنگ: 25000 کا بے بس لشکر

کیا زعیم قادری نے ’قلعہ لاہور‘ میں شگاف ڈال دیا؟

بنی اسرائیل کی حقیقت قرآن مجید کی روشنی میں

ارجنٹینا فٹبال ٹیم کی شکست کی کہانی چہروں کی زبانی

دھوپ اور بارش سے محفوظ رکھنے والی ’’ڈرون چھتری‘‘

میلانیا کی جیکٹ پر لکھا جملہ: مجھے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا کیا آپ کو پڑتا ہے؟

میرا اختلاف نواز شریف کے فائدے میں تھا، چوہدری نثار

10 غذائیں جو آپ کو ہر عمر میں جوان رکھیں

’ لگتا ہے سیاسی وڈیروں نے پمپ کھول لئے ہیں‘

ﺑﻘﯿﻊ ﺍﻭﺭ ﻗﺪﺱ ﭘﺮ ﺳﯿﺎﺳﺖ کیوں؟

کینسر کے خطرے سے بچانے والی بہترین غذا

داعش کی معاونت پر مذہبی رہنما کو سزائے موت

اسرائیلی وزیراعظم کی اہلیہ پر بھی فرد جرم عائد

پاکستان کی طالبان امیر ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق

مہران یونیورسٹی میں ڈیجیٹل ٹرانسفرمیشن سینٹر قائم کیا جائیگا،ڈاکٹر عقیلی

پرویز مشرف آل پاکستان مسلم لیگ کی صدارت سے مستعفی

ڈونلڈ ٹرمپ کی روسی صدر سے ملاقات کے لیے نئی حکمت عملی تیار

یمن میں سعودی جاسوسی ڈرون طیارہ تباہ

چھوٹی سی چیری بڑے فائدوں والی

بیگم کلثوم کی طبیعت قدرے بہتر پر خطرے سے مکمل طور پر باہر نہیں: میاں نواز شریف

انتخابی نشانات کی سیاست: ووٹر حیران، امیدوار پریشان

امریکہ افغان طالبان سے بات چیت کی خواہش کیوں ظاہر کر رہا ہے؟

آیت اللہ سید خامنہ ای نے قومی فٹبال ٹیم کو اچھی کاکردگی پر سراہا

بحرینی عدالت نے شیخ علی سلمان کو جاسوسی کے الزامات سے بری کردیا

فیفا ورلڈ کپ 2018: اسپین نے ایران کو 0-1 سے شکست دے دی

آئی بی اے کراچی میں منعقدہ پاکستان کی پہلی فائنل ائیر پروجیکٹس کی آن لائن نمائش کا احوال

امریکہ کی خارجہ پالیسی بحران سے دوچار

صحافی کے قتل کے خلاف بھارتی کشمیر میں ہڑتال، مظاہرے

زعیم قادری کیا شریف خاندان کے بوٹ پولش کر پائیں گے ؟

کیا عدالت فوج کے خلاف اقدام اٹھائے گی؟

کیا نواز شریف اور مریم نواز کا نام ای سی ایل میں شامل ہوگا ؟

’کراچی والوں کی جان ٹینکر مافیا سے چھڑائیں گے‘

پاکستان کے یہودی ووٹر کہاں گئے؟

پاکستان کی خاندانی سیاسی بادشاہتیں

یاہو‘ نے اپنی انسٹنٹ میسیج سروس ایپلی کیشن ’یاہو‘ میسینجر کو بند کرنے کا اعلان کردیا

انفیکشن کی بروقت شناخت سے دنیا بھرمیں ہزاروں لاکھوں جانیں بچائی جاسکتی ہیں

سفید سرکے کے کئی فوائد ہیں، اس طرح سیب کے سرکے کے بھی متعدد طبی فوائد ہیں

یمن تا فلسطین، دشمن ایک ہی ہے

کیا افغان سیکیورٹی اہلکار طالبان کو کنٹرول کر سکے گے ؟

ٹویٹر کیا ایسا کر پائے گا ؟

پاکستان میں سمندری پانی کیا قابل استعمال ہوگا ؟

عمران خان، آصف زرداری اور مریم نواز کے اثاثوں کی تفصیلات منظر عام پر آ گئیں

فٹبال ورلڈ کپ کے شوروغل میں دبی یمنی بچوں کی چیخیں

رپورٹ | یمن کی تازہ صورتحال ۔۔۔ یہاں سب بکنے لگا ہے !!!

دہشتگرد کالعدم جماعتوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دینے کی بجائے قانون کے شکنجے میں کسنے کی ضرورت ہے، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

انڈونیشیا کی جھیل میں کشتی الٹنے سے 200 افراد ہلاک

بلوچستان: سی ٹی ڈی آپریشن،خاتون سمیت 4 دہشت گرد ہلاک

ہائیڈرو گرافی کا عالمی دن ، پاک بحریہ کے سر براہ کا پیغام

امریکہ کے شکست قریب ہے؟

شیخ علی سلمان پر مقدمہ، غیر سرکاری تنظیموں کا احتجاج

عمران، شاہد خاقان، گلالئی،فہمیدہ مرزا، فاروق ستار، لدھیانوی، مشرف کے کاغذات مسترد

ایران نے امریکی صدر سے بات چیت کا امکان مسترد کر دیا

راہ حق پارٹی، جے یو آئی (ف) کے آشرباد سے کالعدم جماعتوں کا سیاسی پلٹ فارم

لندن کی سڑکوں پر بھاگتا پاکستانی سیاست دان

بن زاید کی اسرائیلی عہدے داروں سے ملاقات ؟

انتخابات 2018: الیکشن کمیشن نے ساڑھے تین لاکھ فوجی اہلکاروں کی خدمات مانگ لیں

علماء یمن نے بڑا کردیا

چوہدری نثار تھپڑ مار کیوں نہیں دیتے؟

ٹرمپ بھیڑیا ہے

ٹرمپ نے بوکھلاہٹ میں شمالی کورین جنرل سے مصافحہ کے بجائے سلیوٹ کر ڈالا

الیکشن کمیشن پاکستان راہ حق پارٹی کی رجسٹریشن منسوخ کرے

اسرائیلی فوج نے اپنا الحاج شیخ الاسلام متعارف کرادیا – عامر حسینی

این اے 53 سے عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد

الحدیدہ۔۔۔اب میڈیا خاموش کیوں ہے!؟

کیا احد چیمہ شہباز شریف کے لیے خطرے کی گھنٹٰی ہے؟

2017-03-12 12:14:21

خواتین کا عالمی دن اور اسلام

133 
 
ہر سال۸ مارچ خواتین کے عالمی دن کے طور پر منائی جاتی ہے اور تقریباََ دنیا کے تمام ممالک میں اس دن خواتین کو درپیش مسائل کا ذکر اور اُن کے حقوق کے لئے مختلف سیمینار یا پروگرامز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ خواتین کے عالمی دن کی تاریخ کچھ زیادہ قدیم نہیں ہے یہ لگ بھگ ایک صدی قبل روس میں Bread and Peace کے مظاہرے کے بعد سے منایا جانے لگا۔ 1908 میں روس کی فیکٹریوں میں کام کرنے والی خواتین نے مشقت اور اجرت میں کمی کے باعث مظاہرےشروع کئے تھے تاکہ ان کے کام کے اوقات کو دس گھنٹے کے بجائے آٹھ گھنٹے کیا جائے اور اُن کی اجرت کو بڑھایا جائے ۔اسی طرح پھر امریکہ میں, 28 فروری 1909 خواتین کے قومی دن کے طور پر منایا گیا۔ اس کے بعد خواتین نے اپنے حقوق کی آواز کو دبنے نہیں دیا اور یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ مختلف حادثات و واقعات بھی رونما ہوئے اور خواتین نے زبردست جدو جہد کا مظاہرہ کیا اور ہر موقع پر ہزاروں کی تعداد میں خواتین اپنے حقوق کے لئے سڑکوں پر نکلنے لگیں۔ بلآخر 1975 میں اقوام متحدہ نے آٹھ مارچ کو خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے منانا شروع کیا اور اس کے بعد ہر سال دنیا بھر میں آٹھ مارچ کو عالمی یوم خواتین کے طور پر منایا جاتا ہے ۔
اگر ہم خواتین کی حقوق کے حوالے سے تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام سے پہلے عرب، یونان،مصر،مشرق وسطیٰ ،ہندوستان غرض یہ کہ ہر جگہ عورت مظلوم تھی عورت کی کوئی معاشرتی شخصیت نہیں تھی۔ قدیم یونان میں عورت کو ایک تجارتی سامان کی طرح سمجھی جاتا اور بازاروں میں خرید و فروخت کی جاتی تھی یہاں تک کی شوہر کی موت کے بعد زندہ رہنے کا حق بھی چھین لیا جاتا تھا۔ بعض جگہوں پر باپ یا شوہر کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ بیویوں اور بیٹیوں کو قتل کریں یا بیچ دیں۔ ہندوستان میں شوہر کی موت کے بعدعورت کو بھی شوہر کے ساتھ زندہ جلا دیا جاتا تھا اور یہ تصور کیا جاتا تھا کہ اس طرح شوہر کو تنہائی سے نجات ملے گی ۔ عرب میں بھی لڑکیوں کی پیدائش شرمندگی اور بے عزتی تصور کی جاتی تھی اور پیدائش کے ساتھ ہی لڑکیوں کو زندہ در گور کر دیا جاتا تھا اور خواتین کو میراث سے بھی محروم رکھا جاتا تھا۔ جس زمانے میں عورت کو یورپ اور دیگر اقوام میں انسانوں میں بھی شمار نہیں کیا جاتا تھا ، صنف نازک کو فقط کاروبار یا خواہشات نفسانی کی تسکین کا سامان سمجھا جاتا تھا اُس وقت اسلام نے خواتین کی مقام و منزلت اور ان کے حقوق دلانے کے لیے آواز بلند کی. عورت کو ذلت سمجھنے والوں کو اسلام نے بتادیا کہ عورت ایک عظیم ہستی ہے۔ حضرت بی بی فاطمہ ؑ کے احترام میں رسول اللّٰہ کھڑے ہو جایا کرتے تھے اور رسول اللّٰہ کا یہ عمل دنیا والوں کو عورت کی مقام و منزلت اچھی طرح سمجھا رہا ہے۔ اسلام نے عورت کو باقاعدہ طور پر ایک مقام عطا کیا اور ان کے حقوق کو تفصیل سے بیان کیا اور یہ بتایا کہ عورت کو زندہ رہنے کا حق ہے، ملکیت کا حق ہے،آزادی رائے کا حق ہے، ووٹ کا حق ہے،زندگی جینے کا حق ہے، اور عورت معاشرے میں ہر جگہ مردوں کے برابر حق رکھتی ہے۔
اسلام عور ت کو مرد کی طرح کامل انسانی روح، ادارہ اور اختیار کا حامل سمجھتا ہے ، اسی لئے اسلام دونوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کرتا ہے اور اسی لیے قرآن پاک میں دونوں کو “یا ایھالناس” اور “یا ایھاالذین آمنو ” کے زریعے مخاطب کیا گیا ہے, اسلام نے دونوں کے لئے تربیتی، اخلاقی اور عملی پروگرام لازمی قرار دیے ہیں۔ اسلام بغیر کسی رکاوٹ کے عورت کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ ہر قسم کے مالی معاملات انجام دے جیسا کہ ارشار ہوتا ہے:” مردوں کے لئے وہ حصہ ہے جو انھوں نے کمایا ہے اور عورتوں کے لئے وہ حصہ ہے جو انہوں نے کمایا ہے”(سورہ نساء، آیت۳۲)۔ آج جن ممالک کی ہم پیروی کرتے ہیں اور اُن کو اپنا رول ماڈل سمجھتے ہیں کچھ عرصے پہلے تک وہاں پر بھی عورتوں کو ذلیل و حقیر تصور کیا جاتا تھا بلکہ آج بھی جس طرح اسلام نے عورتوں کے حقوق اور تحفظ کا ذکر کیا ہے کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں وہ حقوق عورتوں کو میسر نہیں ہیں، عورتوں کے ساتھ بدسلوکی اور بداخلاقی کے واقعات اسلامی ممالک سے ذیادہ روشن خیال ملکوں میں نظر آتے ہیں۔ امریکہ میں آج بھی صدر کے انتخاب کے لیے کسی خاتون کے مقابلے پر کسی سیاہ فام کو ترجیح دینا پسند کرتے ہیں جبکہ رنگی و نسلی تعصب کوٹ کوٹ کے ان کی رگوں میں موجود ہےلیکن پھر بھی یہ لوگ جتنا پست و کمتر عورت کو سمجھتے ہیں کالوں کوبھی نہیں سمجھتے. اسلام نے تو پہلے ہی رنگ و نسل کی برتری کی نفی کی ہے, جس زمانے میں عورتوں کو اپنے نظریے اور رائے کے اظہار کا کوئی حق نہیں تھا  اُس زمانے میں دینِ اسلام مرد و عورت کے لئے نظریہ دینے ،ووٹ ڈالنے (بیعت کرنے) اور مساوات و برابری کا قائل تھا۔ رسول اکرم ؐ کا ارشار ہے”عورتیں تم مردوں کے لئے لباس ہیں اور تم مرد بھی عورتوں کے لئے لباس ہو” دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں”تم میں سے وہ شخص سب سے بہتر ہے کہ جو اپنی بیوی اور بیٹیوں سے خوش اخلاقی سے پیش آئے”۔ اس کے علاوہ بھی قرآنی آیات و احادیث خواتین کے حقوق ،فضائل اور احکامات سے بھری پڑی ہیں مگر یہ کہ ہر مسلمان مرد و عورت اسلامی تعلیمات کے بارے میں صحیح سے تحقیق کرے تو اُس کو اسلامی اصولوں کا علم ہو۔ پہلے زمانے میں تعلیم حاصل کرنا ہر ایک کے بس میں نہ تھا آج کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا دور ہے تمام معلومات ہر ایک کی دسترس میں ہیں۔ اگر ہم ان سہولیات کو فضول کاموں کے بجائے اچھے کاموں کے لئے استعمال میں لائیں تو معاشرے سے برائیاں بھی ختم ہوسکتی ہے اور ساتھ ہی ہم اپنی مشکلات کا حل بھی تلاش کرسکتے ہیں۔ اگر کوئی صاحبِ عقل تحقیق کرے اور دنیا بھر میں موجود مسائل کا حل تلاش کرے تو اُس کو اسلامی تعلیمات و احکامات ہی سب پر سبقت لیتے نظر آئیں گے۔ ہم اس قدر دنیا کی رنگینیوں میں کھوئے ہوئے ہیں کہ ہمیں اپنا ہوش ہی نہیں، ہم مغرب سے آئی ہر چیز کو بلا چوں و چراں سر آنکھوں پر رکھ لیتے ہیں ہم کبھی اس کے مثبت اور منفی اثرات اوراُس کے مقاصد کی طرف توجہ نہیں کرتےاور اس کی جگہ اگر کوئی اسلامی چیز یا اسلام کے نام سے کچھ آجائے تو فوراََ ہزاروں سوالات کر ڈالتے ہیں کیوں کہ ہم کھانے پینے سے لے کر تعلیم کے حصول تک مغرب کی پیروی کرتے ہیں اور اپنی دینی تعلیمات کو صرف نام کی حد تک رکھے ہوئے ہیں تو ظاہر سی بات ہے ہمیں مغربی چیزوں میں ہی زیادہ حقیقت نظر آئے گی۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں کسی کی سوچ و فکر کو تبدیل کرنا کوئی ناممکن بات نہیں ہر حقیقت کو وہم اور ہر وہم کو حقیقت بنا کر پیش کرنا عام سی بات ہے جس کی وجہ سے ہم صحیح و غلط کی تمیز نہیں کر پا رہے۔ یہ بلکل اس مثال کی طرح ہے کہ اسلامی ممالک میں گٹر کا ڈھکن کھلا ہو تو بریکنگ نیوز بن جاتی ہے اور مغربی ممالک میں ہر پانچ سیکنڈ میں ایک عورت کی عزت لوٹی جاتی ہے تو روشن خیالی اور آزادی کا نام دیا جاتا ہے۔ اگر ہم واقعی مسلمان ہیں تو پھر ہمیں اسلامی علوم اور قوانین پر عمل کرنا ہوگا، ہمیں اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہے تو پھر مغربی سیرت کو چھوڑ کر سیرت حضرت محمد ؐ کو اپنانا ہوگا، ہمیں اس تہذیب و تمدن کی جنگ کو جیتنا ہوگا, ہم کیوں دوسروں کے رہن سہن, تہذیب و ثقافت کو اپنائیں، دوسروں کی تہذیب کو اپناتے وہ ہیں جن کی اپنی کوئی تہذیب نہ ہو اور الحمد اللہ ہمارے پاس زندگی گزارنے سے لیکر حکومتی قانون تک سب کچھ موجود ہے، نہیں ہے تو صرف جستجو ، شعوراور عمل نہیں ہے۔ اس شعور کو پھیلانے کی ذمہ داری حکومت، عوام اور میڈیا تینوں کی ہے۔ اگر کوئی بھی ذمہ دار شخص پہلے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور پھر معاشرتی حالات کو مد نظر رکھ کر کام کرے تو پھر کوئی چیز ناممکن نہیں۔ میں عالمی خواتین کے دن کا مخالف نہیں ،ناہی اُن خواتین کی جدوجہد کو نظر انداز کرتا ہوں جن کی وجہ سے آج دنیا والے آٹھ مارچ کو خواتین کے نام سے منانے پر مجبور ہیں۔ مگر میری اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمرانوں ،سرکردہ لوگوں اور عالمی حقوق کے علم برداروں سے صرف یہ گزارش ہے کہ اگر ہمارے ملک میں یوم خواتین کو سردار انبیاء ، رحمت اللعالمین ؐ کی بیٹی خاتون جنت حضرت بی بی فاطمۃالزہرا ؑ کی ولادت کے دن یعنی بیس جماد الثانی کو منایا جائے تو بہتر نہ ہوگا؟ کیونکہ جب عرب میں لڑکیوں کو ذلت و رسوائی تصور کیا جاتا تھا اور اُن کو زندہ دفن کیا جاتا تھا اور باقی دنیا میں بھی خواتین کی کوئی اہمیت نہیں تھی تو  اس وقت رسول اکرم ؐ نے دنیا کو بتایا کہ خواتین کی عظمت اورحقوق کیا ہیں اور دوسری طرف حضرت فاطمہ زہرا (س) کی زندگی خود بھی خواتین کے لئے مشعل راہ ہے۔ حضرت فاطمہ (س ) کی شان کے لئے رسول اکرم (ص ) کی یہ احادیث کافی ہیں، *حضور اکرم (ص ) فرماتے ہیں: “فاطمہ عالمین کی عورتوں کی سردار ھیں”،”فاطمہ میرا ٹکڑا ھے جس نے اسے تکلیف پھنچائی اس نے مجھے تکلیف دی ھے اور جس نے اس سے محبت رکھی اس نے مجھ سے محبت رکھی ھے”* یہ دو احادیث ہمارے لئے کافی کہ ہم ایک ایسی ہستی کو اپنا آئیڈیل بنائیں جس کی زندگی کا ہر پہلو قیامت تک کی خواتیں کے لئے روشن ستارے کی مانند ہیں۔
 
 
تحریر: ناصر رینگچن
 
 
 
زمرہ جات:   Horizontal 4 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)