نتن یاہو کے دورہ ماسکو کے اہداف

روہنگیا مسلمانوں کو مدد کی ضرورت ہے، پری یانکا چوپڑا

کیا شکیل آفریدی کو فضل اللہ کے عوض پاکستان امریکہ کے حوالے کر دے گا؟

نوازشریف نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

ایران ایٹمی معاہدے پر مکمل طور پر کار بندہے، آئی اے ای اے

چین پاکستان کے لئے دو سٹیلائٹس خلا میں بھیجے گا

امام کاظم (ع) کا حلال لذتوں کے بارے میں انتباہ

رمضان المبارک، مہمانی اور اللہ کی کرامات سےاستفادہ کا مہینہ ہے

انتخابات 2018: کیا نوجوان سیاسی منظرنامے کی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں؟

واٹس ایپ کا نیا خطرناک بگ: اپنے موبائل کو محفوظ کیسے بنا سکتے ہیں؟

میرا بیان ہی میرابیانیہ ہے

کیا پاکستان امریکہ مخالف اقدامات میں ایران اور شمالی کوریا کو پیچھے چھوڑ دے گا؟

رمضان المبارک کے نویں دن کی دعا

فخر ہے ایک منی لانڈرر وزیراعظم کو ہٹانے میں ہم کامیاب ہوئے، عمران خان

امریکی صدر نے شمالی کوریا کے رہنما سے ملاقات منسوخ کردی

سعودی عرب اور ایتھوپیا کے تعلقات میں کشیدگی

شعیب میر : ایک جیالا خلاق فطرت نہ رہا – عامر حسینی

امریکا کا پاکستان میں اپنے سفارتکاروں سے برے سلوک کا واویلا

فوج مخالف بیانیے سے دھمکیوں تک: نواز شریف کی مریم کے خلاف مقدمات پر سخت تنبیہہ

سعودی کفیلوں کی جنسی درندگی: بنگلہ دیشی خاتون ملازمہ کی دلدوز کہانی

جنرل زبیر کی اسرائیل کو دھمکی کے پس پردہ محرکات :امریکہ نے اسرائیل کو پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر حملے کا گرین سگنل دیدیا

رمضان المبارک کے آٹھویں دن کی دعا

ادارہ جاتی کشمکش اور نواز شریف کا بیانیہ: کیا فوج مشکل میں گھر گئی ہے؟

ماہ رمضان کی دعاوں کا انتظار کے ساتھ ارتباط

امریکی حکام انتہا پسندانہ سوچ کے حامل ہیں، ایرانی صدر

پاکستان میں 35 لاکھ افراد بے روزگار ہیں، رپورٹ

نوازشریف کا مقصد صرف اپنی جائیداد بچانا ہے: فواد چوہدری

ایران ایٹمی معاہدے سے پہلے والی صورت حال پر واپسی کے لیے تیار

محمد بن سلمان کو آل سعود خاندان میں نفرت اور دشمنی کا سامنا

اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے پاکستان کو صرف12 منٹ درکار ہیں: جنرل زبیر حیات

روزہ رکھنے والے مسلمان معاشرے کیلیے سیکیورٹی رسک ہیں، ڈنمارک کی وزیر کی ہرزہ سرائی

سعودی حکومت کے خلاف بغاوت کی اپیل: کیا آل سعود کی بادشاہت کے خاتمے کا وقت آن پہنچا؟

انٹیلی جینس بیورو (آئی بی) کے خفیہ راز

’سعودی عرب عراق کو میدان جنگ بنانے سے احتراز کرے‘

رمضان المبارک کے ساتویں دن کی دعا

نگراں وزیراعظم کیلیے وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف میں ڈیڈلاک برقرار

کیا نواز شریف کی جارحیت تبدیلی لا سکتی ہے؟

کیا لشکر جھنگوی تحریک طالبان کی جگہ سنبھال چکی ہے؟

جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک دنیا کو دھمکا رہے ہیں

مجھے کیوں نکالا: نواز شریف کے احتساب عدالت میں اہم ترین انکشافات

بغداد میں العامری کی مقتدی الصدر سے ملاقات، حکومت کی تشکیل پر تبادلہ خیال

دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک شام میں ہی رہیں گے، ایران

رمضان المبارک کے چھٹے دن کی دعا

ایران نے رویہ تبدیل نہ کیا تو اسے کچل دیا جائے گا، امریکی وزیرخارجہ کی دھمکی

کیا بغدادی انتقام کی کوئی نئی اسکیم تیار کر رہا ہے؟

بحرین میں خاندانی آمریت کے خلاف مظاہرے

ماہ رمضان میں امام زمانہ(ع) کی رضایت جلب کرنےکا راستہ

ایم آئی، آئی ایس آئی کا جے آئی ٹی کا حصہ بننا نامناسب تھا، نوازشریف

فضل الرحمان کی فصلی سیاست: فاٹا انضمام کا بہانا اور حکومت سے علیحدگی

مذہبی جذباتیت کا عنصر اور انتخابات

مادے کا ہم زاد اینٹی میٹر کیا ہوا؟

ایرانی جوہری ڈیل سے امریکی علیحدگی، افغان معیشت متاثر ہو گی

امریکہ ایرانی قوم کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کرسکتا

رمضان المبارک کے پانچویں دن کی دعا

ماہ مقدس رمضان میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور ناجائز منافع خوری نے عوام کو عذاب میں مبتلا کررکھا ہے: علامہ مختار امامی

کیا سویلین-ملٹری تعلقات میں عدم توازن دکھانے سے جمہوری نظام خطرے میں پڑگیا؟ – عامر حسینی

روزے کا ایک اہم ترین فائدہ حکمت ہے

نگراں وزیراعظم پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق ہوگیا، ذرائع

موٹروے نہیں قوم بنانا اصل کامیابی ہے: عمران خان

ایک چشم کشا تحریر: عورتوں کو جہاد کے ليے کيسے تيار کيا جاتا ہے؟

روزہ خوروں کی نشانیاں: طنزو مزاح

ترک صدر ایردوآن اور سود، ٹِک ٹِک کرتا ٹائم بم

آل سعود کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں: غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ روابط کے الزام میں سات خواتین کارکن گرفتار

فلسطینیوں کی لاشوں پر امریکی سفارتخانہ قائم

افسوس امت مسلمہ کی ناگفتہ بہ حالت پر 57 اسلامی ممالک خاموش ہیں، علامہ ریاض نجفی

رمضان المبارک کے چوتھے دن کی دعا

خاص الخاص روزے کا ذائقہ چکھنےکا راستہ

امریکی اسکول فائرنگ میں جاں بحق پاکستانی سبیکا شیخ کے خواب پورے نہ ہوسکے

اگر ہم بیت المقدس کا دفاع نہ کرسکے تو مکہ کا دفاع نہیں کرپائیں گے: صدر اردوغان

یورپ نے امریکی پابندیاں غیر موثر بنانے کے لئے قانون سازی شروع کر دی

سول ملٹری تعلقات: پاکستانی سیاست کا ساختیاتی مسئلہ

2017-03-12 23:48:44

نتن یاہو کے دورہ ماسکو کے اہداف

201736225245129روس کی اسپوتنک خبر رساں ایجنسی نے بتایا ہے کہ صیہونی حکومت کے وزیر اعظم نتن ياہو 9 مارچ کے اپنے ماسکو کے دورے کے دوران شام کی جنگ سے متعلق مسائل پر روسی صدر ولاديمير پوتين سے مذاکرات کریں گے۔

مشرقی حلب کے مضافاتی علاقوں اور رقہ کی جانب فوج کی پیشرفت کے پیش نظر اور ترکوں (دراصل اسرائیل) کے حمایت یافتہ مخالفین کی پیشرفت کے بند گلی میں پہنچنے سے شام کے حالات میں واحد کھلاڑی کی حیثیت سے روس شام کی فوج اور اس کے اتحادیوں (ایران، عراق اور حزب اللہ) سے براہ راست تصادم کے بغیر اسرائیل کی سیکورٹی کے خدشات کو برطرف کرنے کے لئے ضروری ضمانت دے سکتا ہے۔ ان سب کے باجوود یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ باتیں صحیح ہیں اور اسرائیل کے خدشات کو دور کرنے کے لئے پوتين کے ہاتھ کتنے کھلے ہیں؟

جولان کی پہاڑیاں اور اسرائیل کی سیکورٹی تشویش :  نتن ياہو نے اپنے ماسکو دورے کے مقاصد کے بارے میں کہا کہ ایران، شامی فوج کی حمایت کرکے جولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کے خلاف دہشت گردی کا دوسرا محاذ کھولنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جولان کی پہاڑیاں، شام کے جنوب مغربی صوبے قنیطرہ کا حصہ ہیں جو دمشق سے 70 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔ ان پہاڑیوں کے ایک بڑے حصے پر اسرائیل نے 1967 کی چھ روزہ جنگ کے دوران قبضہ کر لیا تھا۔ اب اس علاقے پر دہشت گرد گروہ داعش سے وابستہ جیش الخالد نامی گروہ کا کنٹرول ہے۔ اسرائیلی جنگی طیارے انہی علاقوں سے کئی بار شام کی سرحد میں داخل ہوکراور شام کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ میں کامیاب رہے ہیں ۔ اس بات کے پیش نظر کہ شام میں نافذ جنگ بندی میں داعش کو شامل نہیں کیا گیا ہے اور جس علاقے پر اس گروہ کا کنٹرول ہے اس کو فوج نے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے اور شام کی فوج کی پیشرفت اور اس علاقے پر اس کے کنٹرول سے اسرائیل بہت فکر مند ہے۔ اسرائیل کو امید ہے کہ وہ مقبوضہ جولان کی پہاڑیاں اور شام حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں کے درمیان مخالفین کی مدد سے بفر زون کو مضبوط کر لے گا۔ یہ ایسا منصوبہ ہے جس کی ناکامی نتن ياہو بھی سمجھ گئے ہیں اور اسی سب چیزوں کے پیش نظر وہ ماسکو کا دورہ کر رہے ہیں۔

جنگ کے بعد شام کے بارے میں گفتگو : شام کے صدر بشار اسد کے مخالفین کی بھرپور حمایت کرکے شام کے حالات میں اسرائیل اس وقت سب سے اہم کھلاڑی کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے اسرائیل کی سرحد سے لگے ملک کی سب سے مضبوط فوج بھی کمزور ہو گئی اور اس ملک کا ماضی کا بنیاد ڈھانچہ تقریبا تباہ ہو گیا ہے۔ موجودہ وقت میں شام امن مذاکرات جاری ہیں اور اسرائیل، مستقبل میں شام کے مکمل خطرے کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ شام میں مذہبی بنیاد پر فیڈرل حکومت کی تشکیل ہو، یا مذہبی نقطہ نظر سے خود مختاری حاصل ہو۔ یہی وجہ ہے کہ نتن ياہو کا کہنا ہے کہ ایران، شام میں اپنی زمینی اور سمندری موجودگی سے اس ملک میں ہمیشہ باقی رہنا چاہتا ہے۔ انہوں نے شام سے ایرانی فوج کے انخلاء پر زور دیا اور پوتين سے ملاقات میں اس بات پر زور دیں گے کہ شام کی جنگ کے خاتمے میں اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ شام میں ایران کا کوئی بھی فوجی اور حزب اللہ کا کوئی بھی لڑاکا باقی نہ بچے ۔

حزب اللہ کو مسلح ہونے سے روكنا :  لبنان کی اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ، علاقے میں اسرائیل سے جدوجہد  میں سرفہرست اور سب سے بڑی تنظیم  ہے جس نے شام میں اپنی مؤثر موجودگی سے جنگ کا نقشہ ہی بدل دیا ہے۔ اسرائیل اس بات سے فکر مند ہے کہ ایران اور شام، حزب اللہ کو جدید ہتھیاروں سے لیس کر رہے ہیں۔ اسی طرح اسرائیل کا یہ بھی خیال ہے کہ روس کی جانب سے شام کی ہر طرح کی فوجی امداد سے حزب اللہ روسی ہتھیاروں سے مسلح ہو رہی ہے اور اسرائیل کے خلاف جنگ میں ان ہتھیاروں کا ممکنہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

بہرحال نتن ياہو کے دورہ ماسکو کی وجوہات میں سے ایک شام کی موجودہ صورت حال سے اسرائیل کی تشویش اور ناراضگی ہے جس نے نتن ياہو کو بوکھلاہٹ میں مبتلا کر دیا ہے۔  شام کی بدامنی کے تندور پر روٹی سینکنے والے نتن ياہو کی سمجھ میں آ گیا ہے کہ اب آرام و سیکون کے دن ختم ہو رہے ہیں۔

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)