غداری کے نئے الزامات

یمنی فوج کا ریاض میں سعودی امریکی آئل کمپنی آرامکو پرڈورن حملہ

الیکشن میں شرکت نہ کرنا شیعوں کی کمزوری کا باعث بنے تو ضرور شرکت کریں:آیت الله صافی گلپایگانی

پاکستان میں داعش کی آمد کی اطلاع

چمن کے مال روڈ پر دھماکا اور فائرنگ، پولیس

بھارت کی واٹس ایپ کو ایک اور وارننگ

نیویارک :زیر زمین اسٹیم پائپ لائن میں دھماکہ

پرو میں ججوں کا رشوت لے کر فیصلے دینے کا انکشاف

ٹرمپ کی پیوٹن کو دورہ واشنگٹن کی دعوت

ہزاروں پولنگ اسٹیشنز غیر محفوظ، سہولیات سے محروم

عابد باکسر کی 10 مقدمات میں ضمانت منظور

انسداد دہشتگردی عدالت میں راؤ انوار کی ضمانت منظور

عسکری پارک کے کمرشل استعمال کیخلاف درخواست دائر

حنیف عباسی کیخلاف ایفی ڈرین کیس کا فیصلہ محفوظ

الیکشن: فوج ضابطہ اخلاق کے اندر رہے گی،آزادی کے ساتھ ووٹ ڈالنے کا جمہوری حق ممکن بنایا جائیگا، آرمی چیف

مراد علی شاہ کیخلاف دوہری شہریت کی درخواست مسترد

مریم کی سہالہ ریسٹ ہاؤس منتقلی مؤخر

حکومت کون بنائیگا، پی ٹی آئی یا پیپلز پارٹی؟

انصاراللہ نے الحدیدہ سے یمنی فوج کے انخلا کا مطالبہ مسترد کر دیا

تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کو خطرہ

پیوٹن کی دہشت ملینیا کے چہرے پر

ترکی دہشت گردی کی سخت مذمت کرتا ہے، قونصل جنرل

پکتیا میں فورسز کیساتھ جھڑپوں میں 27 دہشتگرد ہلاک

ایران میں کام کرنے والی یورپی کمپنیوں کی حمایت کا اعلان

امریکا کے طالبان سے براہ راست مذاکرات کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں،افغان حکومت

بنگلہ دیش میں منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی میں 200 افراد ہلاک

صحت کی حفاظت کے رہنما اصول

ہڈیوں کا بھر بھراپن ایک خاموش بیماری

مودی کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک کل پیش ہوگی

امریکی صدر کی ایرانی صدر سے ملاقات کے لئے آٹھ بار درخواست

انصاراللہ نے الحدیدہ سے یمنی فوج کے انخلا کا مطالبہ مسترد کر دیا

سمندر پار پاکستانی عام انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے، نادرا حکام

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ پرغداری کا الزام لگ گیا

برطانیہ نے اسلحے کی فروخت دگنی کر دی

برطانیہ میں چھ روزہ بین الاقوامی ایئر شو زوروشور سے جاری

غذر میں لینڈ سلائیڈنگ، دریا کا بہاؤ رک گیا

’ایک جیل میں قید باپ بیٹی کو ملنے کی اجازت نہیں‘

کلبھوشن کیس پر جواب جمع کروا دیا

’’شہباز شریف مجھے مقابلے میں مروانا چاہتے تھے‘‘

’’ توبہ قبول کرنا ہمارا کام نہیں‘‘

نواز اور مریم سے وکلاء کی ملاقات منسوخ

فیصل واوڈا کو 8 اہلکار سیکیورٹی دیں گے

عمران کی آئندہ نا زیبا زبان استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی

پاک فوج نے تھریٹ الرٹ جاری نہیں کیا، آئی ایس پی آر

پاکستان، ایران فوجی تعلقات میں بہتری کی امید؟

’’ کالعدم تنظیموں کا انتخابات میں حصہ لینا، جمہوریت کے لیے خطرہ ہے‘‘،بلاول بھٹو

’پی پی اور ن لیگ میں پس پردہ نیا مک مکا چل رہا ہے‘

ٹیکس ادائیگی سے متعلق غلط بیانی عمران اسماعیل کے گلے پڑگئی

سعودی عرب: خواتین کو طیارے اڑانیکی تربیت کی اجازت

خان صاحب عوام میں مقبول نہیں ،بلاول کا دعویٰ

پارلیمنٹ نے اسرائیلی وزیراعظم سے جنگی اختیارات چھین لیے

کراچی:الیکشن میں دہشت گردی کی سازش،2 گرفتار

صہیونی جیل میں اسیر 4 فلسطینیوں کی بھوک ہڑتال ہنوز جاری

اسپین کے کئی شہروں کا اسرائیلی بائیکاٹ مہم میں شمولیت کا اعلان

ورثے میں ہمیں یہ غم ہے ملا، بلاول کا ٹوئٹ

پاکستان نے زمبابوے کو تیسرے ون ڈے میں شکست دے دی

لیبیا میں کنٹینر میں دم گھٹنے سے 8 غیرقانونی تارکین وطن ہلاک

برطانوی وزیر اعظم تھریسامے کی مشکلات میں اضافہ، ایک اور وزیر مستعفی

افغانستان میں امریکا کی حکمت عملی ناکام ہو گئی، حامد کرزئی

افغانستان میں داعش کا حملہ، طالبان کمانڈر سمیت 20 ہلاک

ایرانی افواج ہر طرح کی جارحیت کا جواب دینے کے لئے آمادہ و تیار ہیں:ایرانی وزیر دفاع

اسرائیل نے غزہ تک ایندھن کی ترسیل بند کر دی

بن سلمان کی ذاتی سیکورٹی "موساد” کے حوالے، امریکی تجزیہ کار

چین میں گرمی سے روڈ پگھلنے لگے

سعودی عرب : خواتین ڈرائیورزکیلئے زنانہ جیلوں کی تیاری

اسرائیل کی مسجد اقصیٰ کے قریب پھر کھدائی

زرداری اور فریال کا نام ای سی ایل سے خارج

مستونگ خود کش حملہ آور کا ڈی این اے ٹیسٹ

خواجہ حارث نے نواز شریف کے جیل ٹرائل کا مقصد بتادیا

عمران خان کو نیب نے آج طلب کرلیا

رؤف صدیقی سردارشیر محمد رند کے حق میں دستبردار

2017-03-15 23:54:14

غداری کے نئے الزامات

Sامریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کی طرف سے گزشتہ جمعہ کو واشنگٹن پوسٹ میں لکھے جانے والے ایک مضمون کے بعد پاکستان میں ایک بار پھر ایک دوسرے کو غدار قرار دینے اور ملک کے مفادات کے خلاف کام کرنے کے الزامات کا آغاز ہؤا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اس حوالے سے تحقیقات کرنے کے لئے پارلیمانی کمیشن بنانے اور سارے حقائق سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔ اس سے پہلے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے یہ مضمون لکھنے پر حسین حقانی کو غدار قرار دیا تھا۔ البتہ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ سابقہ سفیر کو صرف غدار کہنا کافی نہیں ہے ۔ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے اور تمام حقائق عوام کے سامنے آنے چاہئیں۔ اس دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما ظفر علی شاہ نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں عدالت سے کہا گیا ہے کہ حسین حقانی کے علاوہ سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔

پاکستان میں حکومت سمیت سیاسی رہنما مختلف معاملات پر بیان بازی کرتے ہوئے قومی مفاد کی بجائے ذاتی اور سیاسی فائدے کو پیش نظر رکھتے ہیں۔ اسی لئے کبھی کسی اہم مسئلہ پر تفصیلی معلومات تو منظر عام پر نہیں آتیں لیکن مختلف اوقات میں ایک دوسرے پر غداری کا الزام عائد کرکے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ضرور کی جاتی ہے۔ اس قسم کے مباحث میں مرکزی نکتہ فوج کے ساتھ تعلقات اور ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے طریقہ کار اور مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کے بارے میں ہوتا ہے۔ اب بھی وفاقی وزیر اور حکمران جماعت کے رہنما حسین حقانی کے ایک تازہ مضمون کا سہارا لے کر پرانا ہتھکنڈا اختیار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس طرح نہ تو کوئی نئی بات سامنے آئے گی اور نہ ہی ملک میں سیاسی معاملات بہتر ہو سکیں گے۔ البتہ اس طرح سول حکومت فوج کو یہ یقین دلانے کی کوشش ضرور کررہی ہے کہ صرف وہی اس کے مفادات کا تحفظ کر سکتی ہے۔

یہ طرز عمل اس پس منظر میں زیادہ اہمیت اختیار کرجاتا ہے کہ عام طور سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ فوج کی بالواسطہ سرپرستی کے بغیر کوئی سیاسی جماعت نہ تو ملک میں اکثریت حاصل کرسکتی ہے اور نہ ہی حکومت قائم کرسکتی ہے۔ یہ تاثر بے بنیا د ہو سکتا ہے لیکن ملک کی سیاسی قیادت اس حوالے سے غلط فہمیاں پیدا کرنے کا سبب ضرور بنتی ہے۔ پہلے اپوزیشن لیڈر نے اپنی ہی پارٹی کے دور حکومت میں ساڑھے تین برس تک سفیر رہنے والے شخص کو جو آصف زرداری کے ذاتی دوست بھی شمار ہوتے ہیں، غدار قرار دیا اور اب وزیر دفاع اور ظفر علی شاہ اس بنیاد پر غداری کے نئے الزامات سامنے لانے کی افسوسناک کوشش کررہے ہیں۔

سابق سفیر حسین حقانی کا مضمون پاکستان کی سیاست سے متعلق نہیں تھا بلکہ انہوں نے ٹرمپ حکومت کے مختلف اہلکاروں پر روسی سفیر سے رابطے رکھنے کی بحث میں حصہ لینے کی کوشش کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر سفیر اپنے ملک کے بہترین مفادات میں امریکہ کی دونوں بڑی پارٹیوں سے رابطے قائم کرتا ہے۔  اس حوالے سے انہوں نے بتایا تھا کہ وہ خود سابق صدر اوباما کی صدارتی مہم کے دوران انتخابی دوڑ میں شریک دونوں پارٹیوں سے رابطے میں رہے تھے۔ انہوں نے اس دوران ہی اوباما کے قریبی ساتھیوں سے رابطے اور دوستیاں استوار کیں۔ بعد میں اوباما کے صدر بننے کے بعد یہ رابطے پاکستان اور امریکہ کے بہترین مفاد میں استعمال کئے گئے۔

حسین حقانی کا دعویٰ ہے کہ2008 میں جمہوری حکومت قائم ہونے کے بعد صدر آصف زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کی طالبان نواز پالیسی بدلنا چاہتے تھے اور اس سلسلہ میں امریکہ کو پیغام دیا گیا تھا ۔ ان کے نزدیک اسی پالیسی کے نتیجے میں سی آئی اے کے ایجنٹوں کو ملک کی انٹیلی جنس ایجنسی کی اجازت کے بغیر ویزے جاری کئے گئے ۔ ان ہی ایجنٹوں کے فیلڈ ورک کی وجہ سے بعد میں پاکستان میں اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے ہلاک کیا جا سکا۔ یہ معلومات ایک غیر متعلقہ بحث میں غیر ضروری طور پر فراہم کی گئی ہیں۔ ویسے بھی امریکہ میں متعین روسی سفیر پر کوئی حرف زنی نہیں کررہا بلکہ ان سے خفیہ طور پر ملنے اور بعد میں ان ملاقاتوں کے بارے میں معلومات فراہم نہ کرنے والے ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں کو تنقید کا سامنا ہے۔ اس تناظر میں حقانی بحث کا حصہ بن کر امریکی سیاست میں اپنی اہمیت جتانے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس کے بارے میں ان کے خیالات نئے نہیں ہیں اور نہ ہی انہوں نے پہلی بار اس قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے کہ پاکستانی فوج سول معاملات میں مداخلت کرکے منتخب حکمرانوں کو فیصلے کرنے کا حق نہیں دیتی۔ وہ یہ الزام بھی لگاتے رہے ہیں کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیاں بعض شدت پسند گروہوں کی حمایت کرتی ہیں۔ لیکن یہ الزامات امریکہ کی طرف سے بھی تواتر سے لگائے جاتے رہے ہیں۔ اس قسم کی الزام تراشی کو سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے کھیل میں ضروری ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

اس پس منظر میں سابق سفیر کے ایک مضمون کی روشنی میں، جس میں پرانی باتیں نئے الفاظ کے ساتھ کہی گئی ہیں، ملک میں غداری کی نئی بحث کا آغاز افسوسناک ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کو اس غیر ضروری موضوع پر اپنی صلاحیتیں صرف کرنے کی بجائے مل کر جمہوری اداروں کے تحفظ اور فوج اور سیاسی حکومت کے درمیان بہتر تعاون کا میکینزم استوار کرنے کے لئے کام کرنا چاہئے۔

 

 

زمرہ جات:   Horizontal 2 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

چمن میں دھماکا

- ایکسپریس نیوز