چشم کشا انکشافات: سعودعی عرب نے القاعدہ  کی مدد سے عرب بہار کا راستہ کیسے روکا؟

کس قسم کے طرز زندگی نےحضرت خدیجہ(س) کو ام المومنین بنا دیا تھا؟

قطر کا بحران حل ہونے کی فی الحال کوئی امید نہیں

پاکستان نے فاٹا انضمام پر افغانستان کے اعتراضات مسترد کردیے

کلبھوشن کی تعیناتی بدترین غلطی تھی، امرجیت دلت

مسئلہ فلسطین اور او آئی سی کا کردار

سعودی ولی عہد کے زخمی ہونے کی خبر صحیح ہے، سابق ولی عہد

رمضان المبارک کے گیارہویں دن کی دعا

تکفیری فاشزم ، مفہوم ، اصطلاح اور رد – عامر حسینی

رمضان المبارک کے دسویں دن کی دعا

2018 کے عام انتخابات 25 جولائی کو ہوں گے، صدر مملکت نے منظوری دیدی

روہنگیا مسلمانوں کو مدد کی ضرورت ہے، پری یانکا چوپڑا

کیا شکیل آفریدی کو فضل اللہ کے عوض پاکستان امریکہ کے حوالے کر دے گا؟

نوازشریف نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

ایران ایٹمی معاہدے پر مکمل طور پر کار بندہے، آئی اے ای اے

چین پاکستان کے لئے دو سٹیلائٹس خلا میں بھیجے گا

امام کاظم (ع) کا حلال لذتوں کے بارے میں انتباہ

رمضان المبارک، مہمانی اور اللہ کی کرامات سےاستفادہ کا مہینہ ہے

انتخابات 2018: کیا نوجوان سیاسی منظرنامے کی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں؟

واٹس ایپ کا نیا خطرناک بگ: اپنے موبائل کو محفوظ کیسے بنا سکتے ہیں؟

میرا بیان ہی میرابیانیہ ہے

کیا پاکستان امریکہ مخالف اقدامات میں ایران اور شمالی کوریا کو پیچھے چھوڑ دے گا؟

رمضان المبارک کے نویں دن کی دعا

فخر ہے ایک منی لانڈرر وزیراعظم کو ہٹانے میں ہم کامیاب ہوئے، عمران خان

امریکی صدر نے شمالی کوریا کے رہنما سے ملاقات منسوخ کردی

سعودی عرب اور ایتھوپیا کے تعلقات میں کشیدگی

شعیب میر : ایک جیالا خلاق فطرت نہ رہا – عامر حسینی

امریکا کا پاکستان میں اپنے سفارتکاروں سے برے سلوک کا واویلا

فوج مخالف بیانیے سے دھمکیوں تک: نواز شریف کی مریم کے خلاف مقدمات پر سخت تنبیہہ

سعودی کفیلوں کی جنسی درندگی: بنگلہ دیشی خاتون ملازمہ کی دلدوز کہانی

جنرل زبیر کی اسرائیل کو دھمکی کے پس پردہ محرکات :امریکہ نے اسرائیل کو پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر حملے کا گرین سگنل دیدیا

رمضان المبارک کے آٹھویں دن کی دعا

ادارہ جاتی کشمکش اور نواز شریف کا بیانیہ: کیا فوج مشکل میں گھر گئی ہے؟

ماہ رمضان کی دعاوں کا انتظار کے ساتھ ارتباط

امریکی حکام انتہا پسندانہ سوچ کے حامل ہیں، ایرانی صدر

پاکستان میں 35 لاکھ افراد بے روزگار ہیں، رپورٹ

نوازشریف کا مقصد صرف اپنی جائیداد بچانا ہے: فواد چوہدری

ایران ایٹمی معاہدے سے پہلے والی صورت حال پر واپسی کے لیے تیار

محمد بن سلمان کو آل سعود خاندان میں نفرت اور دشمنی کا سامنا

اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے پاکستان کو صرف12 منٹ درکار ہیں: جنرل زبیر حیات

روزہ رکھنے والے مسلمان معاشرے کیلیے سیکیورٹی رسک ہیں، ڈنمارک کی وزیر کی ہرزہ سرائی

سعودی حکومت کے خلاف بغاوت کی اپیل: کیا آل سعود کی بادشاہت کے خاتمے کا وقت آن پہنچا؟

انٹیلی جینس بیورو (آئی بی) کے خفیہ راز

’سعودی عرب عراق کو میدان جنگ بنانے سے احتراز کرے‘

رمضان المبارک کے ساتویں دن کی دعا

نگراں وزیراعظم کیلیے وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف میں ڈیڈلاک برقرار

کیا نواز شریف کی جارحیت تبدیلی لا سکتی ہے؟

کیا لشکر جھنگوی تحریک طالبان کی جگہ سنبھال چکی ہے؟

جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک دنیا کو دھمکا رہے ہیں

مجھے کیوں نکالا: نواز شریف کے احتساب عدالت میں اہم ترین انکشافات

بغداد میں العامری کی مقتدی الصدر سے ملاقات، حکومت کی تشکیل پر تبادلہ خیال

دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک شام میں ہی رہیں گے، ایران

رمضان المبارک کے چھٹے دن کی دعا

ایران نے رویہ تبدیل نہ کیا تو اسے کچل دیا جائے گا، امریکی وزیرخارجہ کی دھمکی

کیا بغدادی انتقام کی کوئی نئی اسکیم تیار کر رہا ہے؟

بحرین میں خاندانی آمریت کے خلاف مظاہرے

ماہ رمضان میں امام زمانہ(ع) کی رضایت جلب کرنےکا راستہ

ایم آئی، آئی ایس آئی کا جے آئی ٹی کا حصہ بننا نامناسب تھا، نوازشریف

فضل الرحمان کی فصلی سیاست: فاٹا انضمام کا بہانا اور حکومت سے علیحدگی

مذہبی جذباتیت کا عنصر اور انتخابات

مادے کا ہم زاد اینٹی میٹر کیا ہوا؟

ایرانی جوہری ڈیل سے امریکی علیحدگی، افغان معیشت متاثر ہو گی

امریکہ ایرانی قوم کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کرسکتا

رمضان المبارک کے پانچویں دن کی دعا

ماہ مقدس رمضان میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور ناجائز منافع خوری نے عوام کو عذاب میں مبتلا کررکھا ہے: علامہ مختار امامی

کیا سویلین-ملٹری تعلقات میں عدم توازن دکھانے سے جمہوری نظام خطرے میں پڑگیا؟ – عامر حسینی

روزے کا ایک اہم ترین فائدہ حکمت ہے

نگراں وزیراعظم پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق ہوگیا، ذرائع

موٹروے نہیں قوم بنانا اصل کامیابی ہے: عمران خان

ایک چشم کشا تحریر: عورتوں کو جہاد کے ليے کيسے تيار کيا جاتا ہے؟

روزہ خوروں کی نشانیاں: طنزو مزاح

2017-03-17 06:07:55

چشم کشا انکشافات: سعودعی عرب نے القاعدہ  کی مدد سے عرب بہار کا راستہ کیسے روکا؟

 

Protesters opposing Egyptian President Mohammed Morsi wave flags in Tahrir Square in Cairo on Wednesday. Shortly afterward, the military staged a coup, ousting Morsi and suspending the constitution.

 

شام کے عوام نے عرب بہار سے متاثر ہو کر اپنے ملک کی ڈکیٹیٹر شپ سے نجات حاصل کرنے کے لیے جو احتجاج شروع کیا تھا اسے سعودی عرب  اور دوسرے خلیجی ممالک  نے القاعدہ کے جنگجوؤں کے ذریعےعرب بہار کی تحریک کو ہائی جیک کرلیا ۔ مبادا کہ عرب بہار سعودی عرب کو بھی اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔

 

اس خانہ جنگی کو شروع کرنے والے مسلمان ہی تھے جو اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے دوسرے مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث ہو گئے۔سعودی عرب نے القاعدہ کے جنگجوؤں کے ذریعے اس جنگ کو فرقہ وارانہ جنگ میں تبدیل کیا جس کے نتیجے میں دوسری طاقتیں ملوث ہوئیں۔

 

شامی خانہ جنگی کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ یہ تنازعہ اب تک قریب سوا تین لاکھ انسانوں کی جانیں لے چکا ہے، کئی ملین شہری اندرون ملک مہاجر بن چکے ہیں اور مجموعی طور پر کئی ملین دیگر شامی باشندے خطے کی متعدد ہمسایہ ریاستوں سے لے کر مختلف یورپی  ممالک تک میں پناہ لے چکے ہیں اور  انسانی ہلاکتوں، مصائب اور مہاجرت کا یہ سلسلہ ابھی جارے رہے گا۔

 

شام کے خونریز تنازعے کے آغاز کے چھ سال بعد اسد حکومت کو اب جنگی محاذوں پر کچھ کامیابی تو مل رہی ہے لیکن وہ جنگ ابھی بھی ختم ہوتی نظر نہیں آتی، جو لاکھوں انسانوں کی ہلاکت کا سبب بننے کے علاوہ اس ملک کو کھنڈر بنا چکی ہے۔

 

خبر رساں ادارے رائٹرز نے15 اس موضوع پر اپنے ایک تفصیلی تجزیے میں لکھا ہے کہ اس کئی سالہ خانہ جنگی کے دوران ماضی میں چند برس ایسے بھی رہے ہیں، جب شامی صدر بشارالاسد پر شدید تنقید کرنے والے کئی علاقائی اور مغربی ملکوں کے رہنما یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ مستقبل کے شام میں اسد کا کوئی کردار نہیں ہو گا اور انہیں اقتدار سے علیحدہ ہونا ہی پڑے گا۔

 

لیکن اب کافی عرصے سے شام میں جنگی صورت حال اور عسکری توازن مسلسل بدل رہے ہیں اور حالات بشار الاسد کے حق میں بہتر ہوتے نظر آ رہے ہیں۔اس خونریز تنازعے کی ابتدا کے چھ سال بعد آج بشار الاسد کی اقتدار پر گرفت پہلے کی نسبت کچھ مضبوط ہے اور شام کے کئی علاقے بھی دوبارہ حکومتی دستوں کے کنٹرول میں آ چکے ہیں۔

 

اس کا مطلب یہ نہیں کہ مشرق وسطیٰ کی اس ریاست میں جنگ ختم ہو گئی ہے یا جنگ کے اثرات اب دیکھنے میں نہیں آتے۔ شام کئی سالہ لڑائی، گولہ باری اور فضائی بمباری سے جتنا بھی تباہ ہوا ہے، اس تباہی کا دائرہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ نتیجہ یہ کہ بالکل کھنڈر بن چکا یہ ملک آج کئی حصوں میں بٹا ہوا ہے، جن پر حکومتی دستوں، اسد مخالف باغیوں، وار لارڈز، مغرب کے حمایت یافتہ شامی ملیشیا گروپوں اور داعش کے جہادیوں سمیت بہت سے دھڑے قابض ہیں۔

 

رائٹرز نے لکھا ہے کہ بہت کم غیر جانبدار مبصرین کا خیال ہے کہ شامی خانہ جنگی عنقریب ختم ہو جائے گی۔ اس سے بھی کم تعداد میں تجزیہ کار یہ کہتے ہیں کہ اسد حکومت کو دوبارہ پورے ملک پر کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔

 

ان حالات میں یہ بات تقریباﹰ مسلمہ ہے کہ شامی تنازعے میں مختلف بیرونی طاقتوں کے طور پر جتنے بھی ملک براہ راست یا بالواسطہ فریق بن چکے ہیں، ان کی اکثریت اب بظاہر اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہے کہ انہیں اسد کے آئندہ بھی اقتدار میں رہنے کی تلخ حقیقت کے ساتھ سمجھوتہ کرنا ہی پڑے گا۔

 

اس سے بھی زیادہ پریشان کن سچ یہ ہے کہ کسی کو بھی یہ امید نہیں کہ شام میں قیام امن کے لیے سبھی دھڑوں کی حمایت سے کوئی ایسا دیرپا اور نتیجہ خیز معاہدہ طے پا سکے گا، جس کے سبب بے تحاشا تباہی کے بعد اس ملک کی تعمیر نو کا سوچا بھی جا سکے۔

 

شامی تنازعے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ شام میں قیام امن سے متعلق حکومت، اپوزیشن، اقوام متحدہ، امریکا، اور حال ہی میں ترکی، روس اور ایران کی طرف سے کی جانے والی مجموعی طور پر کئی سالہ کوششوں کا کوئی ایسا مثبت یا طویل المدتی نتیجہ نہیں نکلا، جو یہ امید دلا سکے کہ اس ملک کا تباہی کے بجائے واپس امن کے راستے پر سفر شروع ہو گیا ہے۔

 

شام میں امریکا کے ایک سابق سفیر رابرٹ فورڈ کے مطابق حقیقت پسندانہ طور پر دیکھا جائے تو یہ بات ظاہر ہے کہ اسد اقتدار چھوڑ کر کہیں نہیں جا رہے، ’’خاص طور پر حلب پر حکومتی دستوں کے دوبارہ قبضے کے بعد تو اس کی کوئی امید نہیں ہے۔‘‘خود بشار الاسد بھی اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ شامی خانہ جنگی کے دوران 2012ء اور 2013ء سب سے مشکل ترین سال تھے، ’’اگر ہم نے تب اپنی رخصتی کا کبھی نہیں سوچا تھا تو اب ہم ایسا کیسے سوچ سکتے ہیں؟‘‘۔

 

DW

 

 

 

 

 

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

عنوان کے بغیر

- اسلام ٹائمز