اسلامی فوجی اتحاد اور پاکستان کا غیر واضح کردار

اسرائیلی وزیراعظم کی اہلیہ پر بھی فرد جرم عائد

پاکستان کی طالبان امیر ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق

مہران یونیورسٹی میں ڈیجیٹل ٹرانسفرمیشن سینٹر قائم کیا جائیگا،ڈاکٹر عقیلی

پرویز مشرف آل پاکستان مسلم لیگ کی صدارت سے مستعفی

ڈونلڈ ٹرمپ کی روسی صدر سے ملاقات کے لیے نئی حکمت عملی تیار

یمن میں سعودی جاسوسی ڈرون طیارہ تباہ

چھوٹی سی چیری بڑے فائدوں والی

بیگم کلثوم کی طبیعت قدرے بہتر پر خطرے سے مکمل طور پر باہر نہیں: میاں نواز شریف

انتخابی نشانات کی سیاست: ووٹر حیران، امیدوار پریشان

امریکہ افغان طالبان سے بات چیت کی خواہش کیوں ظاہر کر رہا ہے؟

آیت اللہ سید خامنہ ای نے قومی فٹبال ٹیم کو اچھی کاکردگی پر سراہا

بحرینی عدالت نے شیخ علی سلمان کو جاسوسی کے الزامات سے بری کردیا

فیفا ورلڈ کپ 2018: اسپین نے ایران کو 0-1 سے شکست دے دی

آئی بی اے کراچی میں منعقدہ پاکستان کی پہلی فائنل ائیر پروجیکٹس کی آن لائن نمائش کا احوال

امریکہ کی خارجہ پالیسی بحران سے دوچار

صحافی کے قتل کے خلاف بھارتی کشمیر میں ہڑتال، مظاہرے

زعیم قادری کیا شریف خاندان کے بوٹ پولش کر پائیں گے ؟

کیا عدالت فوج کے خلاف اقدام اٹھائے گی؟

کیا نواز شریف اور مریم نواز کا نام ای سی ایل میں شامل ہوگا ؟

’کراچی والوں کی جان ٹینکر مافیا سے چھڑائیں گے‘

پاکستان کے یہودی ووٹر کہاں گئے؟

پاکستان کی خاندانی سیاسی بادشاہتیں

یاہو‘ نے اپنی انسٹنٹ میسیج سروس ایپلی کیشن ’یاہو‘ میسینجر کو بند کرنے کا اعلان کردیا

انفیکشن کی بروقت شناخت سے دنیا بھرمیں ہزاروں لاکھوں جانیں بچائی جاسکتی ہیں

سفید سرکے کے کئی فوائد ہیں، اس طرح سیب کے سرکے کے بھی متعدد طبی فوائد ہیں

یمن تا فلسطین، دشمن ایک ہی ہے

کیا افغان سیکیورٹی اہلکار طالبان کو کنٹرول کر سکے گے ؟

ٹویٹر کیا ایسا کر پائے گا ؟

پاکستان میں سمندری پانی کیا قابل استعمال ہوگا ؟

عمران خان، آصف زرداری اور مریم نواز کے اثاثوں کی تفصیلات منظر عام پر آ گئیں

فٹبال ورلڈ کپ کے شوروغل میں دبی یمنی بچوں کی چیخیں

رپورٹ | یمن کی تازہ صورتحال ۔۔۔ یہاں سب بکنے لگا ہے !!!

دہشتگرد کالعدم جماعتوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دینے کی بجائے قانون کے شکنجے میں کسنے کی ضرورت ہے، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

انڈونیشیا کی جھیل میں کشتی الٹنے سے 200 افراد ہلاک

بلوچستان: سی ٹی ڈی آپریشن،خاتون سمیت 4 دہشت گرد ہلاک

ہائیڈرو گرافی کا عالمی دن ، پاک بحریہ کے سر براہ کا پیغام

امریکہ کے شکست قریب ہے؟

شیخ علی سلمان پر مقدمہ، غیر سرکاری تنظیموں کا احتجاج

عمران، شاہد خاقان، گلالئی،فہمیدہ مرزا، فاروق ستار، لدھیانوی، مشرف کے کاغذات مسترد

ایران نے امریکی صدر سے بات چیت کا امکان مسترد کر دیا

راہ حق پارٹی، جے یو آئی (ف) کے آشرباد سے کالعدم جماعتوں کا سیاسی پلٹ فارم

لندن کی سڑکوں پر بھاگتا پاکستانی سیاست دان

بن زاید کی اسرائیلی عہدے داروں سے ملاقات ؟

انتخابات 2018: الیکشن کمیشن نے ساڑھے تین لاکھ فوجی اہلکاروں کی خدمات مانگ لیں

علماء یمن نے بڑا کردیا

چوہدری نثار تھپڑ مار کیوں نہیں دیتے؟

ٹرمپ بھیڑیا ہے

ٹرمپ نے بوکھلاہٹ میں شمالی کورین جنرل سے مصافحہ کے بجائے سلیوٹ کر ڈالا

الیکشن کمیشن پاکستان راہ حق پارٹی کی رجسٹریشن منسوخ کرے

اسرائیلی فوج نے اپنا الحاج شیخ الاسلام متعارف کرادیا – عامر حسینی

این اے 53 سے عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد

الحدیدہ۔۔۔اب میڈیا خاموش کیوں ہے!؟

کیا احد چیمہ شہباز شریف کے لیے خطرے کی گھنٹٰی ہے؟

فضل اللہ کی ہلاکت کے بعد امریکا پاکستان سے کیا مطالبہ کرے گا؟

یمن میں پاکستانی لاشیں کیا کر رہی ہیں؟

جدید تر ہوتی جوہری ہتھیار سازی: آرمجدون زیادہ دور نہیں

نواز شریف اور ان کی بیٹی کا کردار سامنے لانا چاہتا ہوں، چوہدری نثار

مسلم لیگ نواز اور نادرا چئیرمین کے مبینہ ساز باز کی کہانی

آنیوالے انتخابات میں کسی مخصوص امیدوار کی حمایت نہیں کرتے، علامہ عابد حسینی

امریکی مرضی سے ملی حکومت پر لعنت بھیجتا ہوں، سراج الحق

افتخار چوہدری عدلیہ کے نام پر دھبہ ہیں، فواد چوہدری

کاغذات نامزدگی پر اعتراضات جھوٹے، من گھڑت اور صرف الزامات ہیں، عمران خان

نادرا ووٹرز کی معلومات افشا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے، الیکشن کمیشن

افغانستان میں جنگ بندی: ’ملا اشرف غنی زندہ باد‘

پشاور سے کالعدم ٹی ٹی پی کا انتہائی مطلوب کمانڈر گرفتار

جرمنی کی آسٹریا میں جاسوسی کا گھمبیر ہوتا معاملہ

کیا جرمنی نے آسٹریا میں جاسوسی کی؟

عورت چراغ خانہ ہے، شمع محفل نہیں!

کلثوم نواز کی حالت تشویشناک، نوازشریف اور مریم نواز کی وطن واپسی مؤخر

سانحہ ماڈل ٹاؤن کو چار سال گزر گئے لیکن ملزم آزاد ہیں، طاہر القادری

2017-04-04 19:08:40

اسلامی فوجی اتحاد اور پاکستان کا غیر واضح کردار

jپاکستان نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ سعودی عرب کی نگرانی میں بننے والا اسلامی ملکوں کا فوجی اتحاد غیر جانبدار اور کسی ملک کے خلاف نہیں ہے۔ حیرت ہے کہ پاکستان نے نہ تو اس اتحاد کے سلسلہ میں کوئی پیشقدمی کی تھی اور نہ ہی اس کا تصور پاکستانی حکومت کی طرف سے پیش کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود حکومت پاکستان اس اتحاد کے حوالے سے بلند بانگ دعوے کرنے کو درست پالیسی قرار دے رہی ہے۔ آج وزارت خارجہ کی سیکرٹری تہمینہ جنجوعہ نے اس بارے میں ایسے ہی رویہ کا مظاہرہ کیا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے ارکان کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا ہے کہ پاکستان اس اتحاد میں فریق نہیں ہے اور وہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں توازن برقرار رکھے گا۔ حیرت انگیز بات ہے کہ پاکستان اس اتحاد میں شامل ہونے کا فیصلہ کرچکا ہے اور حکومت سابقہ آرمی چیف کو اس کی سربراہی کرنے کی اجازت دے چکی ہے ، اس کے باوجود یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان اس معاملہ میں فریق نہیں ہے۔

خارجہ امور پر حکومت کی سب سے نمایاں نمائیندہ کا یہ بیان غیر واضح اور ایران کے ساتھ تعلقات میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ گزشتہ روز پاکستان میں ایران کے سفیر مہدی ہنر دوست نے کہا تھا کہ ایران کو اس اتحاد پر شدید تحفظات ہیں۔ پاکستان نے اس تشویش کا جواب دینے کی بجائے سعودی عرب کی درخواست پر جنرل راحیل شریف کی خدمات اس کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرلیا اور وزیر دفاع نے اس کا اعلان بھی ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے ذریعے کیا۔ اب وزارت خارجہ کی سیکرٹری کے ذریعہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ یہ اتحاد نہ تو کسی ملک کے خلاف ہے اور نہ ہی فرقہ کے خلاف بلکہ یہ صرف دہشت گردی کے خلاف ہے۔ حالانکہ دہشت گردی کی وضاحت اس وقت دنیا کا سب سے مشکل کام ہے۔ اس معاملہ پر گفتگو اور اقدامات کرتے ہوئے مختلف ممالک اپنے سیاسی مفادات کی روشنی میں فیصلے کرتے ہیں۔ شام میں خانہ جنگی کے دوران یہ تقسیم زیادہ واضح ہو کر سامنے آئی ہے۔ ایران سعودی عرب کو دہشت گرد گروہوں کا سرپرست سمجھتا ہے جبکہ سعودی عرب ایران کے بارے میں ایسے ہی خیالات رکھتا ہے اور شام اور عراق میں اس کی سرگرمیوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں رکاوٹ سمجھتا ہے۔

اس صورت حال میں پاکستان کی حکومت سعودی عرب کے ایک شہزادے کے ایک خواب کے حوالے سے پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ بیان دے رہی ہے۔ سیکرٹری خارجہ کا رویہ اس غیر واضح اور گمراہ کن پالیسی کی نشاندہی کرتا ہے۔ پاکستان کس بنیاد پر یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ سعودی عرب جو بین الملکی اتحاد قائم کرنے کی کوششیں کررہا ہے ، وہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہوگا۔ جبکہ ابھی اس اتحاد کا بنیادی ڈھانچہ بھی تیار نہیں ہؤا ہے اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے خود کہا تھا کہ جنرل راحیل شریف کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سب رکن ملکوں کے وزرائے دفاع مل کر یہ طے کریں گے کہ اس اتحاد کو کیسے منظم کیا جائے۔

یہ بات اب تک غیر واضح ہے کہ سعودی عرب نے کس مرحلہ پر پاکستان کے سابقہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی خدمات نئے فوجی اتحاد کے لئے طلب کی تھیں۔ البتہ اس بارے میں نومبر میں جنرل راحیل کی ریٹائر منٹ کے فوری بعد افواہیں گشت کرنے لگی تھیں۔ اب حکومت اس حوالے جس سرگرمی کا مظاہرہ کررہی ہے، اس کی روشنی میں یہ قیاس کرنا غلط نہیں ہوگا کہ اس بارے میں بات چیت جنرل راحیل شریف کے فوج کا عہدہ چھوڑنے سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھی۔ اس طرح موجودہ حکومت کے سعودی عرب سے قریبی تعلقات کی نوعیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اور اسی لئے ایران کی طرف سے نئے اتحاد میں پاکستان کے کردار کے بارے میں تحفظات بھی سامنے ہیں۔

یہ بات کہی جارہی ہے کہ ایک پاکستانی جنرل اگر نئے اتحاد کا سربراہ ہوگا تو پاکستان کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوگا۔ اس طرح نئے اتحاد میں پاکستان کے فوجیوں کی بھرتی اور ان کی تربیت کی صورت میں بھی پاکستان استفادہ کرے گا۔ لیکن ان فوائد کو دیکھتے ہوئے یہ بات بھلائی جا رہی ہے کہ سعودی عرب کے علاوہ کسی دوسرے ملک نے ابھی تک اس اتحاد کے حوالے سے کسی گرمجوشی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اور اب پاکستان ایک ایسے منصوبہ کی وکالت کرنے کا فریضہ انجام دے رہا ہے جس کے بارے میں اسے خود بھی بہت زیادہ علم نہیں ہے۔ یہ صورت حال پاکستان کے غیر واضح کردار کی نشاندہی کرتی ہے جو ایک اہم ہمسایہ ملک کے شبہات میں اضافہ کرے گی۔

 

 

زمرہ جات:   Horizontal 3 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)