آئیے ایک اور مذمت کریں

افغانستان: 2 روز کے دوران طالبان کے حملوں میں 14 افراد ہلاک

مریم نواز کا 24 گھنٹے میں جیل سے دوسرا بیان

پاک فوج کا جج کی تقریر پر ردعمل

ڈی آئی خان خود کش حملہ اکرام اللہ گنڈا پور شہید

چیف جسٹس پاکستان نے کراچی میں سیوریج واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کا افتتاح کردیا

امریکی ہتھیار سعودی عرب کے ذریعے دہشتگردوں کے ہاتھوں میں: اخبار انڈیپنڈنٹ

امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

امریکا کا لشکرطیبہ سے وابستہ انتخابی امیدواروں پر خدشات کا اظہار

سعودی عرب میں طلباء اور دینی مبلغین کی گرفتاری کی لہر جاری

’’اسلام آباد کے ایک جج کا بیان پڑھا، بہت افسوس ہوا‘‘

یہودیوں کی قومی ریاست کا قانون، اسرائیل نے اپنے عرب شہریوں کے خلاف محاذ کھول دیا

اسرائیل کا نیا قانون نسل پرست اور عرب دشمن ہے

امریکا: کال سینٹر اسکینڈل میں 21 بھارتی شہریوں کو سزا

بھارت: مشتعل افراد نے گائے کی اسمگلنگ کے شبہ میں مسلمان کو قتل کردیا

فلسطین میں صورتحال معمول پر لانے کیلئے جنگ بندی کا اعلان

’امریکی حکام اور طالبان کے درمیان براہِ راست پہلی ملاقات‘

ویتنام میں سمندری طوفان ، 20 افراد ہلاک

امریکی ریاست آئیووا میں طوفانی بگولوں نے تباہی مچادی

سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم آخری مراحل میں

خواتین کو حق رائے دہی سے دور رکھنا جرم ہوگا

اکرم خان درانی پر دوسرا قاتلانہ حملہ

الیکش سے قبل عمران کا آج کراچی میں آخری جلسہ

انتخابات2018ء کے انتظامات کا آخری مرحلہ

ڈی آئی خان میں دھماکا، اکرام اللہ گنڈا پور زخمی

ایفی ڈرین کوٹہ کیس میں حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا

نواز شریف جیل میں کون سا ٹی وی چینل دیکھیں گے؟

ڈیموں میں پانی کی سطح میں قدرے اضافہ

جاپان سے تعلیمی تعاون بڑھانے پر کام کر رہے ہیں،اسد مجید

بلاول کو بچہ کہنے والوں کا قوم نے مذاق بنا دیا ہے: چانڈیو

لوگوں کو جوڑنے کیلئے فیس بک کا نیا اقدام

’’عمران کے نصیب میں حکومت بنانا نہیں‘‘

پرویز خٹک الیکشن کمیشن کیخلاف ہائیکورٹ جائیں گے

فواد حسن فواد مزید 14روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

حضرت شاہ چراغ کے یوم ولادت کی مناسبت سے

کالعدم تنظیموں کو الیکشن سے روکا جائے، وزیر اطلاعات

کوئٹہ سے حج پروازوں کی بندش پر ڈائریکٹر کی سرزنش

شہباز شریف کے بیانات ،نگراں حکومت نے اجلاس بلالیا

پنجاب رینجرز کا مختلف شہروں میں سرچ آپریشن، کئی مشتبہ افراد زیر حراست

جرمنی: میں چاقو بردار شخص کا بس پر حملہ، 8 افراد زخمی

امریکہ دنیا میں عدم استحکام پھیلا رہا ہے، ایرانی وزیر خارجہ

اسرائیل ایک غاصب اور غیر قانونی صیہونی حکومت ہے:آیت اللہ احمد خاتمی

ترکی نے ابو عمر الشیشانی کی بیوی کو گرفتار کرلیا

9 کیمروں والا اسمارٹ فون

ہبل ٹیلی اسکوپ

پنجاب بھر میں میٹرک کے نتائج کا اعلان

’’پرویز خٹک نے جو کی وہ رونے کی بات ہے‘‘

شام: فوعہ اور کفریا می‍ں یرغمال بنائے گئے نو سو باشندے رہا

غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملوں سے 4 فلسطینی شہید

واشنگٹن ڈائری: بٹے ہوئے امریکی معاشرے کی تصویر مزید پختہ

غیر متوقع شراکت دار: چین اور اسرائیل کے گہرے ہوتے تجارتی روابط

حج موسم کے اختتام تک تارکین کے مکہ مکرمہ جانے پر پابندی

سنگاپور میں تاریخ کا خطرناک ترین سائبر حملہ

چین اور روس کاشمالی کوریا کو تیل کی فراہمی روکنے سے انکار

ٹو پلس ٹو ڈائیلاگ کی نئی تاریخ سامنے آگئی

نازیبا زبان: ایاز صادق، فضل الرحمان اور پرویز خٹک کو حلف نامہ جمع کرانے کا حکم

مہاجر کا نعرہ لگا کرپھر لڑانے کی کوشش ہو رہی ہے، مصطفیٰ کمال

بلاول نے اس مرتبہ مساوات کی بات کی ہے، ڈاکٹر عاصم

پنجاب کے دو حلقوں سے آزاد امیدوار نے خود کشی کرلی

دن گئے جب لوگ پیپلزپارٹی کیلئے جلسے کرتے تھے، ارباب رحیم

کراچی میں جبران ناصر کی کارنر میٹنگ پر حملہ

چیف جسٹس،کل کراچی میں واٹرٹریٹمنٹ پلانٹ کا افتتاح کریں گے

1990ءکے انتخابات،نواز شریف نے زمام اقتدار سنبھالا

اسلام آباد میں اسدعمر کی کارنر میٹنگ میں فائرنگ

پنجاب کی نگران حکومت تحریک انصاف کے اشاروں پر ناچ رہی ہے: شہبازشریف

’یہودی ریاست‘ کے قانون پر تنازع کیوں

’’کیلا‘‘ غذائیت سے بھرپور پھل

کنفیوژن کے شکار حکام افغانستان سے متعلق عسکری پالیسی میں تبدیلی نہیں دیکھ رہے

بلاول کی علی موسی گیلانی کے قافلے پر فائرنگ کی مذمت

چوتھا ون ڈے: پاکستان نے بغیر کسی نقصان کے 200 کا ہندسہ عبور کرلیا

طالبان کا شہری آبادیوں پر خود کش حملے روکنے کا اعلان

2017-04-05 13:26:37

آئیے ایک اور مذمت کریں

census

آج صبح لاہور میں مردم شماری کرنے والی ٹیم اور ان کی حفاظت کے لئے متعین فوجی دستے پر خود کش دھماکہ میں چھ افراد جاں بحق اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ حملہ لاہور کینٹ کے علاقے بیدیاں روڈ پر ہؤا ہے ۔

 

اس علاقہ میں فوجی تنصیبات کی وجہ سے سیکورٹی غیر معمولی طور پر سخت ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود دہشت گرد اس علاقے میں بھی حملہ کرنے اور خوف و ہراس پیدا کرنے کا مقصد پورا کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ حملہ کے بعد بھی حسب معمول مذمت کے پیغامات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ دہشت گردی کو ختم کرنے اور انتہا پسندوں سے ہار نہ ماننے کے اعلانات سامنے آرہے ہیں۔ مرنے والوں کو ایک عظیم مقصد کے لئے جام شہادت نوش کرنے والے بھی قرار دیا جا رہا ہے لیکن اس بات کا جواب کہیں سے موصول نہیں ہوتا کہ دہشت گردوں کو ختم کرنے کے دعوؤں کے باوجود یہ کون لوگ ہیں جو تسلسل سے حملے کرنے اور اپنے موجود ہونے کا پیغام عام کررہے ہیں۔ تو آئیے ہم بھی مل کر ایک اور مذمت کرلیں۔
پاکستانی قوم کے پاس اس کے سوا چارہ ہی کیا ہے کہ وہ اپنے مرنے والوں کی لاشوں پر بین کرے او ر باقی ماندہ لوگ حملہ کی مذمت کریں اور یہ دعا کریں کہ اس سانحہ میں ہمارا کوئی بھائی بند یا عزیز شامل نہ ہو۔ حکومت اس بات کا احساس کرنے سے قاصر نظر آتی ہے کہ یہ حملے لوگوں میں خوف پیدا کررہے ہیں اور ہر نئے حملہ کے ساتھ یہ شبہ یقین میں بدلنے لگا ہے کہ ریاست کے تمام ادارے اور پوری قوت بھی مل کر ان عناصر کا خاتمہ کرنے سے قاصر ہے جو لوگوں کی زندگیوں کے لئے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ کسی ایک واقعہ کی سنگینی کا اندازہ صرف اس میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سے نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ اسے سمجھنے کے لئے اس بے یقینی اور خوف کو شمار کرنا ہوگا جو ایسے سانحات عام کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ دہشت گردوں کا مقصد بھی یہ واضح کرنا ہے کہ وہ موجود ہیں اور اپنی مرضی کے مطابق جہاں چاہیں وار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ حکومت اور فوج مسلسل دعوؤں اور کثیر تعداد میں لوگوں کو ہلاک کرنے کے باوجود نہ تو دہشت گردوں کی قوت کو کم کرسکے ہیں اور نہ ہی ان کے حوصلے پست کئے جا سکے ہیں۔
اس سال کے شروع میں لگاتار حملوں میں ایک سو سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ ملک کا کوئی علاقہ دہشت گردوں کی دسترس سے دور نہیں رہا تھا۔ ایک حملہ لاہور میں مال روڈ پر پنجاب اسمبلی کے سامنے جمع ہونے والے اجتماع میں ہؤا تھا۔ ان حملوں کا الزام افغانستان میں موجود ایسے گروہوں پر عائد کیا گیا جو بہر صورت پاکستان میں انتشار اور تباہی پھیلانے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔ اسی لئے افغانستان کے ساتھ پاکستان کی سرحد کو کئی ہفتے تک بند رکھا گیا۔ اس کا مقصد افغانستان کو سزا دینا تھا۔ لیکن اس سے بھی دہشت گردی کو روکنے کا مقصد حاصل نہیں ہو سکا۔ کوئی وجہ تو ہوگی کہ دہشت گرد کامیاب اور ریاست ناکام ہو رہی ہے۔
ایک الزام بھارت کی ایجنسیوں اور افغانستان کے راستے پاکستان کے خلاف تخریب کاری کو منظم کرنے کے بارے میں لگایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے کچھ شواہد بھی سامنے لائے گئے ہیں اور عالمی اداروں میں آواز بلند کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت اور افغانستان بھی پاکستان پر ایسے ہی الزامات عائد کرتے ہیں اور اس حوالے سے شواہد بھی پیش کرتے ہیں۔ پاکستان ان الزامات کو اسی شدت سے مسترد کرتا ہے جس سختی سے بھارت یا افغانستان، پاکستان میں دہشت گردی کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔
ملک میں آپریشن ضرب عضب کے بعد آپریشن ردالفساد جاری ہے۔ مقصد دہشت گردوں کی سرکوبی ہے لیکن وہ ہر آپریشن کے بعد اسی توانائی سے سر اٹھانے اور ریاست کی قوتوں کو زچ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کے پاس تب حرف مذمت کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔
کہا : اب تک کئے گئے اقدامات کا جائزہ لیا جائے۔
دست بستہ عرض کیا: ان غلطیوں کا جائزہ لے کر ان کا ازالہ کرنے کی کوشش کی جائے جو ماضی میں ہمارے پاؤں کی زنجیر بنی تھیں۔
گزارش کی: اپنے اسٹریجک اثاثوں کو پرکھ لیا جائے کہ یہ واقعی ملکی مفاد میں کارآمد ہیں یا اب ہمارے لئے بوجھ بن چکے ہیں۔
دیوار پر لکھا ہے: دوسروں کے آنگن میں چنگاریاں پھینکنے سے اپنا گھر بھی محفوظ نہیں رہے گا۔
کیا اب ہم نوشتہ دیوار پڑھنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔

سید مجاہد علی

زمرہ جات:   Horizontal 1 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

محافظ بدلیے جناب!

- ایکسپریس نیوز

واک کیجیے …..مگر

- ایکسپریس نیوز

کیا آپ کو ذیابیطس ہے؟

- بی بی سی اردو

وقت کا تقاضا 

- ایکسپریس نیوز

وقت کا تقاضا 

- ایکسپریس نیوز

حکومت کون کر رہا ہے؟

- ایکسپریس نیوز

سیاست کے پیچ وخم

- ایکسپریس نیوز

حکومت کون کر رہا ہے؟

- ایکسپریس نیوز

کون بنے گا وزیراعظم؟

- ایکسپریس نیوز

ذکر نظم ’’مشیر‘‘ کا

- ایکسپریس نیوز

ووٹ اور ریزہ ریزہ منشور

- ایکسپریس نیوز