سپریم کورٹ پاناما کیس کا فیصلہ 20 اپریل کو سنائے گی

روہنگیا مسلمانوں کو مدد کی ضرورت ہے، پری یانکا چوپڑا

کیا شکیل آفریدی کو فضل اللہ کے عوض پاکستان امریکہ کے حوالے کر دے گا؟

نوازشریف نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

ایران ایٹمی معاہدے پر مکمل طور پر کار بندہے، آئی اے ای اے

چین پاکستان کے لئے دو سٹیلائٹس خلا میں بھیجے گا

امام کاظم (ع) کا حلال لذتوں کے بارے میں انتباہ

رمضان المبارک، مہمانی اور اللہ کی کرامات سےاستفادہ کا مہینہ ہے

انتخابات 2018: کیا نوجوان سیاسی منظرنامے کی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں؟

واٹس ایپ کا نیا خطرناک بگ: اپنے موبائل کو محفوظ کیسے بنا سکتے ہیں؟

میرا بیان ہی میرابیانیہ ہے

کیا پاکستان امریکہ مخالف اقدامات میں ایران اور شمالی کوریا کو پیچھے چھوڑ دے گا؟

رمضان المبارک کے نویں دن کی دعا

فخر ہے ایک منی لانڈرر وزیراعظم کو ہٹانے میں ہم کامیاب ہوئے، عمران خان

امریکی صدر نے شمالی کوریا کے رہنما سے ملاقات منسوخ کردی

سعودی عرب اور ایتھوپیا کے تعلقات میں کشیدگی

شعیب میر : ایک جیالا خلاق فطرت نہ رہا – عامر حسینی

امریکا کا پاکستان میں اپنے سفارتکاروں سے برے سلوک کا واویلا

فوج مخالف بیانیے سے دھمکیوں تک: نواز شریف کی مریم کے خلاف مقدمات پر سخت تنبیہہ

سعودی کفیلوں کی جنسی درندگی: بنگلہ دیشی خاتون ملازمہ کی دلدوز کہانی

جنرل زبیر کی اسرائیل کو دھمکی کے پس پردہ محرکات :امریکہ نے اسرائیل کو پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر حملے کا گرین سگنل دیدیا

رمضان المبارک کے آٹھویں دن کی دعا

ادارہ جاتی کشمکش اور نواز شریف کا بیانیہ: کیا فوج مشکل میں گھر گئی ہے؟

ماہ رمضان کی دعاوں کا انتظار کے ساتھ ارتباط

امریکی حکام انتہا پسندانہ سوچ کے حامل ہیں، ایرانی صدر

پاکستان میں 35 لاکھ افراد بے روزگار ہیں، رپورٹ

نوازشریف کا مقصد صرف اپنی جائیداد بچانا ہے: فواد چوہدری

ایران ایٹمی معاہدے سے پہلے والی صورت حال پر واپسی کے لیے تیار

محمد بن سلمان کو آل سعود خاندان میں نفرت اور دشمنی کا سامنا

اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے پاکستان کو صرف12 منٹ درکار ہیں: جنرل زبیر حیات

روزہ رکھنے والے مسلمان معاشرے کیلیے سیکیورٹی رسک ہیں، ڈنمارک کی وزیر کی ہرزہ سرائی

سعودی حکومت کے خلاف بغاوت کی اپیل: کیا آل سعود کی بادشاہت کے خاتمے کا وقت آن پہنچا؟

انٹیلی جینس بیورو (آئی بی) کے خفیہ راز

’سعودی عرب عراق کو میدان جنگ بنانے سے احتراز کرے‘

رمضان المبارک کے ساتویں دن کی دعا

نگراں وزیراعظم کیلیے وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف میں ڈیڈلاک برقرار

کیا نواز شریف کی جارحیت تبدیلی لا سکتی ہے؟

کیا لشکر جھنگوی تحریک طالبان کی جگہ سنبھال چکی ہے؟

جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک دنیا کو دھمکا رہے ہیں

مجھے کیوں نکالا: نواز شریف کے احتساب عدالت میں اہم ترین انکشافات

بغداد میں العامری کی مقتدی الصدر سے ملاقات، حکومت کی تشکیل پر تبادلہ خیال

دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک شام میں ہی رہیں گے، ایران

رمضان المبارک کے چھٹے دن کی دعا

ایران نے رویہ تبدیل نہ کیا تو اسے کچل دیا جائے گا، امریکی وزیرخارجہ کی دھمکی

کیا بغدادی انتقام کی کوئی نئی اسکیم تیار کر رہا ہے؟

بحرین میں خاندانی آمریت کے خلاف مظاہرے

ماہ رمضان میں امام زمانہ(ع) کی رضایت جلب کرنےکا راستہ

ایم آئی، آئی ایس آئی کا جے آئی ٹی کا حصہ بننا نامناسب تھا، نوازشریف

فضل الرحمان کی فصلی سیاست: فاٹا انضمام کا بہانا اور حکومت سے علیحدگی

مذہبی جذباتیت کا عنصر اور انتخابات

مادے کا ہم زاد اینٹی میٹر کیا ہوا؟

ایرانی جوہری ڈیل سے امریکی علیحدگی، افغان معیشت متاثر ہو گی

امریکہ ایرانی قوم کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کرسکتا

رمضان المبارک کے پانچویں دن کی دعا

ماہ مقدس رمضان میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور ناجائز منافع خوری نے عوام کو عذاب میں مبتلا کررکھا ہے: علامہ مختار امامی

کیا سویلین-ملٹری تعلقات میں عدم توازن دکھانے سے جمہوری نظام خطرے میں پڑگیا؟ – عامر حسینی

روزے کا ایک اہم ترین فائدہ حکمت ہے

نگراں وزیراعظم پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق ہوگیا، ذرائع

موٹروے نہیں قوم بنانا اصل کامیابی ہے: عمران خان

ایک چشم کشا تحریر: عورتوں کو جہاد کے ليے کيسے تيار کيا جاتا ہے؟

روزہ خوروں کی نشانیاں: طنزو مزاح

ترک صدر ایردوآن اور سود، ٹِک ٹِک کرتا ٹائم بم

آل سعود کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں: غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ روابط کے الزام میں سات خواتین کارکن گرفتار

فلسطینیوں کی لاشوں پر امریکی سفارتخانہ قائم

افسوس امت مسلمہ کی ناگفتہ بہ حالت پر 57 اسلامی ممالک خاموش ہیں، علامہ ریاض نجفی

رمضان المبارک کے چوتھے دن کی دعا

خاص الخاص روزے کا ذائقہ چکھنےکا راستہ

امریکی اسکول فائرنگ میں جاں بحق پاکستانی سبیکا شیخ کے خواب پورے نہ ہوسکے

اگر ہم بیت المقدس کا دفاع نہ کرسکے تو مکہ کا دفاع نہیں کرپائیں گے: صدر اردوغان

یورپ نے امریکی پابندیاں غیر موثر بنانے کے لئے قانون سازی شروع کر دی

سول ملٹری تعلقات: پاکستانی سیاست کا ساختیاتی مسئلہ

2017-04-18 16:42:00

سپریم کورٹ پاناما کیس کا فیصلہ 20 اپریل کو سنائے گی

sc

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ضمنی کاز لسٹ جاری کردی جس کے مطابق پاناما کیس کا فیصلہ 20 اپریل کو سنایا جائے گا۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس آصف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے پاناما کیس کی سماعت کی تھی اور اس کیس کا فیصلہ 23 فروری کو محفوظ کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کی ویب سائٹ پر جاری سپلیمنٹری کاز لسٹ کے مطابق پاناما کیس کا فیصلہ 20 اپریل کو دوپہر دو بجے سنایا جائے گا۔

سپریم کورٹ میں پاناما لیکس پر درخواستوں کی سماعت مکمل 23 فروری کو مکمل ہوگئی تھی اور جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں قائم 5 رکنی لارجر بنچ نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

جسٹس آصف کھوسہ نے اس وقت کہا تھا کہ فیصلے کا کوئی شارٹ آرڈر جاری نہیں ہوگا، بلکہ تفصیلی فیصلہ ہی جاری کیا جائے گا۔

جسٹس آصف کھوسہ کا مزید کہنا تھا کہ کیس کا فیصلہ مناسب وقت پر سنایا جائے گا اور 20 سال کے بعد بھی لوگ کہیں گے کہ یہ فیصلہ قانون کے عین مطابق تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر 20 کروڑ لوگ ناخوش بھی ہوتے ہیں تو ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں، صرف قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے۔

جسٹس شیخ عظمت کا کہنا تھا کہ فیصلہ ہم نے کرنا ہے قانون کے مطابق کریں گے، جس نے بھی شور مچانا ہے وہ مچاتا رہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے کاز لسٹ جاری ہونے کے بعد اپنے رد عمل میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا کہ فیصلہ جوبھی آیا قبول کریں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’20 اپریل کو انصاف جیت جائےگا، کرپشن ہارجائےگی، پرسوں کوئی کام نہیں ہوگا صرف فیصلے کا انتظار ہوگا’۔

شیخ رشید نے کہا کہ فیصلہ جو بھی آئے اس کے لیے تیار ہیں اور اس سلسلے میں کل چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کریں گے۔

واضح رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان بھی کہہ چکے ہیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ جو بھی آئے گا وہ اسے تسلیم کریں گے۔

تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ ملکی تاریخ میں اہم ترین فیصلہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ’57 روز کے انتظار کے بعد فیصلہ آرہا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ فیصلے سے ملک کو فائدہ پہنچے گا’۔

پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان نعیم الحق نے دعویٰ کیا کہ ’20 اپریل کو وزارت عظمیٰ کے منصب سے نوازشریف جیسا کرپٹ کردار الگ کردیا جائے گا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘سپریم کورٹ کا فیصلہ حق اورسچ کی ترجمانی کرے گا، 20 اپریل کوحق کی فتح اورجھوٹ خاک آلود ہوگا اور 20 اپریل ملکی تاریخ کا سنہرا دن ثابت ہوگا’۔

پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ پانامہ کیس کے فیصلے میں بلی تھیلے سے باہر آنی چاہیئے اور وہ عوام کی خواہشات کے مطابق باہر آئے گی، ہماری خواہش ہے کہ فیصلہ عوامی توقعات کے مطابق آئے۔

وزیراعظم کی نااہلی کا سوچنے والے احمق

حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ بخاری نے ڈان نیوز کے پروگرام نیوز وائز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘ وزیراعظم کی نااہلی کا سوچنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں’۔

عظمیٰ بخاری کا مزید کہنا تھا کہ ‘ پاناما کیس میں وزیراعظم نواز شریف کا نام ہی نہیں لیکن بہت سے لوگوں کی خواہش ہے کہ وزیراعظم نااہل ہوجائیں’۔

ن لیگ کے ایک اور رہنما طلال چوہدری نے اپنے رد عمل میں استفسار کیا کہ ‘وزیراعظم کے خلاف فیصلہ کیوں آئے گا؟’

طلال چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف نے استثنیٰ حاصل ہونے کے باوجود خود کوعدالت کے سامنے پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ ‘جس شخص کا نام پاناما پیپرز میں نہیں اس کے خلاف فیصلہ آنے کاامکان نہیں’۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں بننے والا پانچ رکنی نیا لارجر بینچ 4 جنوری سے پاناما کیس پر درخواستوں کی سماعت کررہا تھا، بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الحسن شامل ہیں۔

31 جنوری کو ہونے والی سماعت کے بعد لارجر بینچ کے رکن جسٹس شیخ عظمت سعید کو دل کی تکلیف کے باعث سماعت ملتوی کردی گئی تھی جس کا دوبارہ سے آغاز پندرہ روز بعد (15 فروری) سے ہوا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی، عوامی مسلم لیگ، جمہوری وطن پارٹی اور طارق اسد ایڈووکیٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں آئینی درخواستیں دائر کی تھیں۔

سپریم کورٹ نے 20 اکتوبر 2016 کو وزیراعظم کے خلاف دائر درخواستوں پر وزیراعظم نواز شریف، وزیر خزانہ اسحٰق ڈار، وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز، داماد کیپٹن (ر) صفدر، بیٹوں حسن نواز، حسین نواز، ڈی جی فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور اٹارنی جنرل سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی تھی، بعد ازاں اس کی سماعت کے لیے یکم نومبر کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔

گذشتہ سال اپریل میں بیرون ملک ٹیکس کے حوالے سے کام کرنے والی پاناما کی مشہور لا فرم موزیک فانسیکا کی افشا ہونے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کی کئی طاقت ور اور سیاسی شخصیات کے ‘آف شور’ مالی معاملات عیاں ہو گئے تھے۔

پاناما لیکس میں بتایا گیا تھا کہ کس طرح دنیا بھر کے امیر اور طاقت ور لوگ اپنی دولت چھپانے اور ٹیکس سے بچنے کے لیے بیرون ملک اثاثے بناتے ہیں۔

صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹیگٹیو جرنلسٹس (International Consortium of Investigative Journalists) کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والا یہ ڈیٹا ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات پر مشتمل تھا جس میں درجنوں سابق اور موجودہ سربراہان مملکت، کاروباری شخصیات، مجرموں، مشہور شخصیات اور کھلاڑیوں کی ‘آف شور’ کمپنیوں کا ریکارڈ سامنے آیا تھا۔

ان دستاویزات میں روس کے ولادی میر پوٹن، سعودی عرب کے فرمانروا، آئس لینڈ کے وزیراعظم، شامی صدر اور پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سمیت چین، ملائیشیا، ارجنٹائن اور یوکرائن کے اہم رہنماؤں سمیت 140 سیاستدانوں اور عوامی افسران کے نام شامل تھے۔

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)