نواز شریف کے خلاف سازش اور عمران خان کا تاحیات دھرنا

کراچی عسکری پارک میں جھولا گر گیا بچی جاں بحق 9 افراد زخمی

عالمی کپ کی اختتامی تقریب، مشعل قطر کے سپرد

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا کی ولادت باسعادت مبارک ہو

فرانس فٹبال کا نیا عالمی چیمپئن، کروشیا کو شکست

اسرائیل کا 2014 کے بعد غزہ پر سب سے بڑے حملے کا دعویٰ

یمن میں سامراج کی مخالفت کا قومی دن

اسکاٹ لینڈ: امریکی صدرکے خلاف مختلف اندازمیں احتجاج

کس قانون کے تحت کالعدم جماعتوں کو کلین چٹ دی ہے، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

’اعتزاز احسن کی آنکھ میں ککرے پڑگئے ہیں‘

صحت بخش اور توانائی سے بھرپور. . . سلاد

آمدنی اور اخراجات میں بہت فرق ہے، شمشاد اختر

سراج رئیسانی کا جنازہ ، آرمی چیف کوئٹہ پہنچ گئے

کریمینل ایڈمنسٹریشن آف جسٹس میں محکمہ پولیس کا کلیدی کردار ہے، قاضی خالد علی

ٹرمپ دورہ برطانیہ میں اپنے الفاظ سے پھر گئے

بھارتی فوج کا کنٹونمنٹ علاقے ختم کرنے پر غور

بلوچستان کے مختلف شہروں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ

’لیگی قیادت نے نواز اور مریم کو دھوکا دیا‘

داعش نےسعودی چیک پوسٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی

سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کیخلاف مقدمہ درج

آئرش پارلیمنٹ میں اسرائیلی اشیاء کی در آمدات پر پابندی کا بل منظور

’’حکومت بنا کر سب کو ایک پیج پر لاؤں گا ‘‘

ٹرمپ کے دورۂ برطانیہ پر احتجاج کا سلسلہ جاری

نواز،مریم اور صفدر کے پاس صرف ایک دن کی مہلت

یمن میں متحدہ عرب امارات کے اقدامات جنگی جرائم ہیں، ایمنسٹی انٹرنیشنل

سندھ میں رینجرز کےخصوصی اختیارات میں 90روز کی توسیع

آپ یہ پلے باندھ لیں

تحریک انصاف نے کوئٹہ جلسہ ملتوی کردیا

ترکی کا کمرشل اتاشی اسرائیل میں ترک سفار خانے میں واپس

فلسطینیوں کی حمایت میں واشنگٹن میں مظاہرہ

ایران ایک مضبوط ابھرتی ہوئی طاقت کا نام ہے،خطیب جمعہ تہران

چوہدری نثار نے اپنے دکھ کی وجہ بیان کر دی

اسامہ بن لادن کا سابق ذاتی محافظ جرمنی سے بے دخل

سعودی عرب خطے میں امریکہ اور اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی ملک ہے:سربراہ انصار اللہ

’’مجرم اعظم آگئے، 300ارب واپس کریں‘‘

امریکا کے گیس اسٹیشن پر لاکھوں پتنگوں نے ڈیرا ڈال لیا

اسحاق ڈار کےریڈ وارنٹ جاری

محمد وسیم کی ورلڈ فلائی ویٹ ٹائٹل فائٹ کل ہوگی

ٹوئٹر پرمشہور شخصیات کے فالوورز کم ہو گئے

دبئی:ریسٹورنٹ میں کھانا سرو کرتا روبوٹ

نواز شریف نے اڈیالہ جیل میں پہلے دن ناشتے میں کیا کھایا؟

گزین مری 23 سال بعد آبائی علاقے پہنچ گئے

قیدیوں نے اپنے حق کے لیے درخواست جمع کروادی

ہم نے قانونی جنگ لڑ کر جیتی ہے، شاہ محمود قریشی

ن لیگیوں کیلئے اطمینان بخش خبر

مستونگ انتخابی جلسہ دھماکا، یورپی یونین، سعودی عرب کی مذمت

نواز شریف اور مریم نواز اڈیالہ جیل منتقل

امریکا تجارتی میدان کا غنڈہ اور بلیک میلر ہے، چین

ہم عراق میں نیٹو افواج کی موجودگی کے خلاف ہیں: عصائب اہل الحق

اربیل شہر میں نیا امریکی قونصل خانہ پورے علاقے کیلئے خطرہ ہے: عراقی سیاستدان

داعش سے نمٹنے کے لیے چین، پاکستان، روس، ایران کا مشترکہ اجلاس

یمنی فورسز نے سعودی عرب کے 34 فوجیوں کو ہلاک کر دیا

نواز شریف کا پوتا اور نواسہ رہا

’’انتخابات میں فتح کا مکمل یقین ہے‘‘

ٹرمپ نے نیٹو سے نکلنے کی دھمکی دے دی

آئرلینڈ کے ایوان بالا نے اسرائیلی منصوعات کی درآمدات پر پابندی عائد کرنے کی تجویز کی حمایت کا اعلان کردیا

منی لانڈرنگ کی رقم کا بڑا حصہ اویس مظفر ٹپی کے اکائونٹ میں چلا گیا

مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی نظربندی کے احکامات جاری

مصرکےقاہرہ ایئرپورٹ کے قریب دھماکا، پروازیں معطل

یوم شہداء پر مقبوضہ کشمیر میں آج مکمل ہڑتال

سپریم کورٹ نے شاہد خاقان کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی

چین کے کیمیکل پلانٹ میں دھماکا، 19 افراد ہلاک

نواز، مریم واپسی، لاہور میں میٹرو بس سروس معطل

آرمی چیف نے 12دہشتگردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی

’’دھماکے میں محفوظ رہا، گاڑی تباہ ہوگئی‘‘

عمران کا سیاسی کارکنوں کو گدھا کہنا قابل مذمت ہے، مریم اورنگزیب

کوئٹہ:ایم ڈبلیو ایم کیجانب سے علمدارروڈ جلسہ عام کا انعقاد

زمبابوے کا ٹاس جیت کر پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت

بنوں، جے یو آئی ف کے قافلے پر بم حملہ،4 افراد شہید

نواز شریف کی واپسی: ’یہ قربانی پاکستان کے مستقبل کے لیے دے رہا ہوں‘

زرداری کیخلاف کارروائی روک دی گئی،فریال اور آصف ملزم نہیں،نام ای سی ایل میں ڈالے نہ طلب کیا،ایف آئی اے الیکشن تک نہ بلائے،سپریم کورٹ

2017-07-04 22:04:33

نواز شریف کے خلاف سازش اور عمران خان کا تاحیات دھرنا

jjحکومت کی سرپرستی میں اب یہ نظریہ عام کیا جا رہا ہے کہ پاناما کیس اور اس حوالے سے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات دراصل نواز شریف کو سیاست سے دور رکھنے کی سازش ہے کیونکہ ملک کے مقتدر ادارے ایک خود مختار وزیراعظم کو قبول نہیں کر سکتے۔ ایک طرف اس بنیاد پر بیان بازی اور تبصروں اور تجزیوں کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف عمران خان کی قیادت میں اپوزیشن اس صورتحال کو غنیمت جانتے ہوئے نواز شریف کو ’’چور‘‘ ثابت کرنے اور اس طرح اپنے لئے سیاسی مقبولیت حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی چونکہ متعدد بار اقتدار میں رہی ہے اور اس کے معاون چیئرمین آصف علی زرداری جوڑ توڑ کے ذریعے آئندہ انتخابات میں پارٹی کی سیاسی قوت میں اضافہ کرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔ اس لئے اس کا رویہ زیادہ جارحانہ نہیں ہے۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف کو یقین ہے کہ اگر نواز شریف کو سیاسی منظر نامہ سے ہٹایا جا سکے تو اس کےلئے میدان ہموار ہو جائے گا۔ اس کے سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی کا پنجاب سے بستر گول ہو چکا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ برس کے دوران عوامی رابطہ مہم چلانے اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو متحرک کرنے کا جو قصد کیا تھا، آصف زرداری نے اس پر عملدرآمد روک دیا ہے۔ اس لئے تحریک انصاف کو یقین ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور وزیراعظم کو بے اعتبار کرنے کی صورت میں اس کی سیاسی کامیابی یقینی ہے۔

ان الزامات اور تجزیوں سے جو تصویر سامنے لائی جا رہی ہے اس میں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ملک کی طاقتور فوج نواز شریف سے بوجوہ مطمئن نہیں ہے۔ چونکہ انتخابات کے ذریعے ان کا راستہ روکنا ممکن نہیں رہا اور 2018 کے انتخابات میں بھی یہ پارٹی دوبارہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے، اس لئے اب متبادل ہتھکنڈوں سے انہیں منظر نامہ سے غائب کرنا ضروری ہے۔ اس اندازے، الزام یا بیان کو درست مان لینے کی صورت میں تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ فوج نواز شریف کی بجائے کسی متبادل سیاسی لیڈر کو سامنے لانا چاہتی ہے۔ کیا وہ لیڈر عمران خان ہو سکتے ہیں۔ یہ سوال بہت دلچسپ ہے اور اس کا جواب بدستور غیر واضح ہے۔ پاکستان تحریک انصاف میں بھی عمران خان کے علاوہ شاید ہی کسی دوسرے اہم سیاسی لیڈر کو اس بات پر یقین ہوگا کہ اگر ملک کے سیاسی منظر نامہ میں فوج نے ہی تبدیلی لانا ہے تو وہ عمران خان کا بطور وزیراعظم انتخاب کرے گی۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ جس فوجی قیادت کو نواز شریف صرف اس لئے قبول نہیں ہیں کہ وہ ملک میں دہشت گرد گروہوں اور بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے معتدل اور فوج کے نقطہ نظر کے برعکس رویہ رکھتے ہیں یا یہ کہ وہ خود مختارانہ فیصلے کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ایسا ادارہ عمران خان جیسے لیڈر پر کیوں کر اعتبار کر سکتا ہے جو اس وقت اقتدار حاصل کرکے سب کچھ درست کر دینے کی دھن میں تو ضرور مبتلا ہیں لیکن وہ مزاجاً کسی کی بات سننے، دلیل سے قائل ہونے یا بااختیار اداروں کی تابعداری میں کام کرنے کےلئے تیار نہیں ہوں گے۔ اس کے برعکس ان کی پارٹی میں صف اول کے ایسے متعدد رہنما ضرور موجود ہیں جو اپنے ماضی کی خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی وفاداری اور تابعداری کا یقین بھی دلا سکتے ہیں اور ان پر بادشاہ گر طبقے یقین کرنے کےلئے بھی تیار ہوں گے۔

سیاسی سازشوں کے بیانات کے موسم میں اگر یہ قیاس کرنے کا حوصلہ کیا جائے کہ مسلم لیگ (ن) کے بیان اور الزام کے مطابق اگر فوج نواز شریف کو منظر نامہ سے غائب کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے، اگر سپریم کورٹ اور اس کی نامزد جے آئی ٹی اب منظم طریقے سے اس مقصد کےلئے کام کر رہی ہے کیونکہ بدلتے قومی و عالمی حالات میں براہ راست آئین معطل کرنا اور مارشل لا لگانا جدید اور قابل عمل طریقہ نہیں رہا۔ لیکن فوج کی حب الوطنی یا زبردستی سے متاثر ہو کر اس ملک کی اعلیٰ ترین عدالت اور تمام ادارے یا کم از کم ان کے چنیدہ افسران فوج کو ملکی نظام پر بالا دستی رکھنے کےلئے ’’متبادل راستہ‘‘ فراہم کرنے کےلئے آمادہ ہیں۔ اس سیاسی بغاوت کے اس جدید طریقہ پر عمل کرتے ہوئے نواز شریف کو سابقہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی طرح 5 برس کےلئے منتخب ہونے کے حق سے محروم کر دیا جائے تو مسلم لیگ (ن) کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ اس کے برساتی مینڈک بدلتے حالات میں بھاگ کر اس سواری کو پکڑنے کی کوشش کریں گے جو درپردہ ہاتھوں کی سرپرستی کے سبب اقتدار تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہوگی۔ اس صورتحال میں نواز شریف اور عمران خان کے حوالے سے دو علیحدہ علیحدہ سوال جنم لیتے ہیں۔ پہلے نواز شریف کی صورتحال پر غور کرتے ہیں۔

اس سازشی نظریہ کی روشنی میں نواز شریف کے حوالے سے پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ کون سی ایسی خود مختارانہ حکمت عملی ہے جس پر عمل کی وجہ سے فوج ان سے اس قدر عاجز ہے کہ وہ عالمی طاقتوں ، سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی کے ساتھ مل کر ایک سازش کا جال بنے گی۔ گویا فوج کو صرف ایک پریشانی لاحق ہے کہ کسی طرح نواز شریف سے جان چھڑا لی جائے کیونکہ وہ دہشت گردی ختم کرکے بھارت سے صلح کرنا چاہتے ہیں۔ اگر نواز شریف کا یہ موقف ہے تو اسی موقف کا اظہار تو فوج کی طرف سے بھی ہوتا ہے۔ بلکہ فوج تو دہشت گردی کے خلاف کامیابیوں کی طویل فہرست بھی فراہم کر سکتی ہے۔ اس کے باوجود اگر یہ مان لیا جائے کہ نواز شریف خود مختارانہ پالیسی اختیار کرنے کےلئے ہاتھ پاؤں مارتے رہتے ہیں لیکن ان کا بس نہیں چلتا۔ ڈھاک کے وہی تین پات کے مصداق اگر وہ اپنے سیاسی ایجنڈے پر عمل ہی نہیں کر سکتے اور قومی اسمبلی میں بھاری اکثریت کے باوجود اپنی مرضی کے فیصلے کروانے اور خارجہ اور سکیورٹی پالیسیاں اختیار کرنے کی بجائے، وہی کرنے پر مجبور ہیں جو فوج کی قیادت چاہتی ہے تو وہ مسلسل لوگوں کو یہ دھوکہ دینے پر کیوں مصر ہیں کہ وہ ان کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آئے ہیں اور عوام کی خواہشات کے مطابق ملک میں خوشحالی اور ترقی کا انقلاب برپا کرنے والے ہیں۔

اگر یہ دعویٰ وہ سی پیک کے منصوبوں کے حوالے سے کرتے ہیں تو انہیں اگر اب تک یہ بات سمجھ نہیں آئی تو اب سمجھ لینی چاہئے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ فوج کی خواہش، اعانت اور مرضی سے شروع ہوا ہے اور پاک فوج کے سربراہ ہی اس کی کامیابی کی ضمانت فراہم کرتے رہے ہیں۔ تو اس منصوبہ کے حوالے سے نواز شریف کی خدمات دراصل فوج کی پالیسی کو آگے بڑھانے ہی کا سبب بنی ہیں۔ اگر فوج اس منصوبہ کی پشت پر نہ ہوتی تو اب تک اس کا حشر بھی کالا باغ ڈیم جیسا ہو چکا ہوتا۔ نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کو سازشی نظریہ کا ثبوت دینے کےلئے ان کارناموں کی فہرست فراہم کرنا ہوگی جن پر عمل کرکے انہوں نے اتنا ناراض کردیا ہے کہ  فوج کو سازش کرنے پر ’’مجبور‘‘ ہوچکی ہے۔ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو انہیں اس قوم پر رحم کرتے ہوئے اپنے اقتدار کو بچانے اور سیاسی مقاصد حاصل کرنے کےلئے سازشی نظریوں کا پرچار کرنے سے باز رہنا چاہئے۔

اس کے علاوہ نواز شریف اگر 30 برس سیاست میں رہنے کے باوجود بھی فوج کی سازشوں کو ہی اپنے مسائل کی جڑ سمجھتے ہیں اور یہ قرار دیتے ہیں کہ اگر انہیں منظر نامہ سے ہٹایا گیا تو مسلم لیگ (ن) کا شیرازہ بکھر جائے گا تو یہ تو خود ان کی اپنی سیاسی حکمت عملی کا کیا دھرا ہے۔ انہوں نے بار بار اقتدار میں آنے کے باوجود انہی سیاسی گھوڑوں کو اپنے اصطبل کی زینت کیوں بنایا جو موسم تبدیل ہوتے ہی موسمی بٹیروں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ آخر انہوں نے پارٹی کا ڈھانچہ استوار کرنے، انتخاب کروانے، عوامی رابطہ مستحکم کرنے اور اسے اتنا مضبوط کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی کہ وہ اقتدار میں ہوں یا نہ ہوں، نواز شریف قیادت کرے یا کوئی دوسرا شخص اس کا رہنما ہو، سیاسی پارٹی اپنے مقاصد اور اہداف کےلئے کام کرتی رہے۔ یورپ کے سارے جمہوری ملکوں کی سب سیاسی پارٹیاں اس کی مثال کے طور پر پیش کی جا سکتی ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت کے ذریعے اقتدار حاصل کرنے والے سیاسی لیڈروں کو یہ مثالیں کیوں دکھائی نہیں دیتیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان لیڈروں کا مقصد جمہوریت یا عوامی حکمرانی نہیں اقتدار ہوتا ہے۔ مسلسل اقتدار میں رہنے کے خواہاں خانوادے اور ان کے لیڈر صرف جیتنے والے گھوڑے کی سواری پسند کرتے ہیں۔ اس لئے اگر وہ نواز شریف کے بعد عمران خان یا کسی دوسرے رہنما کے ہاتھ پر بیعت کرنے کےلئے پر تول رہے ہیں تو اس میں ان کا نہیں خود نواز شریف ہی کا قصور ہے جنہوں نے نہ سیاست سے کچھ سیکھا اور نہ اس کے ذریعے عوام کو کچھ دیا۔ البتہ بار بار اقتدار کے مزے ضرور لئے ہیں۔

اس حوالے سے اگر عمران خان کے جوش و خروش اور سیاسی عزم و حوصلہ پر بات کی جائے تو خواہ نواز شریف اینڈ کمپنی کا سازشی نظریہ کتنا ہی گمراہ کن ہو، تحریک انصاف ضرور یہ سمجھتی ہے کہ نواز شریف کے ’’نااہل‘‘ ہونے کی صورت میں مسلم لیگ (ن) کے ہر دم اقتدار کے خواہاں لوگ اسی طرح دھڑا دھڑ تحریک انصاف میں شامل ہوں گے جس طرح اس وقت  پیپلز پارٹی کے بعض سابقہ لیڈروں اور وزیروں کی لوٹ سیل لگی ہوئی ہے۔ ان ہتھکنڈوں سے کامیابی کا خواب دیکھنے والے عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ ایسی صورت میں وہ بھی اقتدار میں آ کر اتنی ہی تبدیلی لا سکیں گے جتنی تبدیلی آصف علی زرداری یا نواز شریف لاتے رہے ہیں۔ تاہم اس بارے میں اس سوال کا جواب تلاش کرنا بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ اگر فوج کے ’’دست شفقت‘‘ سے ہی سیاسی کامیابی مطلوب ہے تو عمران خان اپنی جولانی طبع اور ناقابل اعتبار طرز عمل کے ساتھ کیوں کر ملک کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے لئے قابل قبول ہوں گے۔ سازشوں اور خوش فہمیوں پر یقین کرتے ہوئے اگر یقین کر لیا جائے کہ نواز شریف سیاست سے نکال دیئے گئے اور تحریک انصاف کامیاب ہو گئی لیکن پارلیمنٹ میں یہ پارٹی عمران خان کی بجائے کسی دوسرے لیڈر کو وزیراعظم کو چن لیتی ہے تو عمران خان کیا کریں گے۔

کیا یہ توقع کی جائے کہ پاکستانی سیاست کا منظر نامہ بدلتے ہی اگر عمران خان وزیراعظم بننے میں ناکام رہے تو وہ خود کو دھکا دے کر اس عہدہ جلیلہ تک پہنچنے والے اپنے سابقہ ساتھیوں کی کرپشن کے خلاف تاحیات دھرنا دینے کا اعلان کریں گے۔

تحریر: سید مجاہد علی 
 
زمرہ جات:   Horizontal 1 ،
ٹیگز:   نواز شریف ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

دنیا 100 سیکنڈ میں

- سحر ٹی وی