5 جولائی: نواز شریف اور بھٹو کے حامی آمنے سامنے

افغانستان: 2 روز کے دوران طالبان کے حملوں میں 14 افراد ہلاک

مریم نواز کا 24 گھنٹے میں جیل سے دوسرا بیان

پاک فوج کا جج کی تقریر پر ردعمل

ڈی آئی خان خود کش حملہ اکرام اللہ گنڈا پور شہید

چیف جسٹس پاکستان نے کراچی میں سیوریج واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کا افتتاح کردیا

امریکی ہتھیار سعودی عرب کے ذریعے دہشتگردوں کے ہاتھوں میں: اخبار انڈیپنڈنٹ

امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

امریکا کا لشکرطیبہ سے وابستہ انتخابی امیدواروں پر خدشات کا اظہار

سعودی عرب میں طلباء اور دینی مبلغین کی گرفتاری کی لہر جاری

’’اسلام آباد کے ایک جج کا بیان پڑھا، بہت افسوس ہوا‘‘

یہودیوں کی قومی ریاست کا قانون، اسرائیل نے اپنے عرب شہریوں کے خلاف محاذ کھول دیا

اسرائیل کا نیا قانون نسل پرست اور عرب دشمن ہے

امریکا: کال سینٹر اسکینڈل میں 21 بھارتی شہریوں کو سزا

بھارت: مشتعل افراد نے گائے کی اسمگلنگ کے شبہ میں مسلمان کو قتل کردیا

فلسطین میں صورتحال معمول پر لانے کیلئے جنگ بندی کا اعلان

’امریکی حکام اور طالبان کے درمیان براہِ راست پہلی ملاقات‘

ویتنام میں سمندری طوفان ، 20 افراد ہلاک

امریکی ریاست آئیووا میں طوفانی بگولوں نے تباہی مچادی

سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم آخری مراحل میں

خواتین کو حق رائے دہی سے دور رکھنا جرم ہوگا

اکرم خان درانی پر دوسرا قاتلانہ حملہ

الیکش سے قبل عمران کا آج کراچی میں آخری جلسہ

انتخابات2018ء کے انتظامات کا آخری مرحلہ

ڈی آئی خان میں دھماکا، اکرام اللہ گنڈا پور زخمی

ایفی ڈرین کوٹہ کیس میں حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا

نواز شریف جیل میں کون سا ٹی وی چینل دیکھیں گے؟

ڈیموں میں پانی کی سطح میں قدرے اضافہ

جاپان سے تعلیمی تعاون بڑھانے پر کام کر رہے ہیں،اسد مجید

بلاول کو بچہ کہنے والوں کا قوم نے مذاق بنا دیا ہے: چانڈیو

لوگوں کو جوڑنے کیلئے فیس بک کا نیا اقدام

’’عمران کے نصیب میں حکومت بنانا نہیں‘‘

پرویز خٹک الیکشن کمیشن کیخلاف ہائیکورٹ جائیں گے

فواد حسن فواد مزید 14روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

حضرت شاہ چراغ کے یوم ولادت کی مناسبت سے

کالعدم تنظیموں کو الیکشن سے روکا جائے، وزیر اطلاعات

کوئٹہ سے حج پروازوں کی بندش پر ڈائریکٹر کی سرزنش

شہباز شریف کے بیانات ،نگراں حکومت نے اجلاس بلالیا

پنجاب رینجرز کا مختلف شہروں میں سرچ آپریشن، کئی مشتبہ افراد زیر حراست

جرمنی: میں چاقو بردار شخص کا بس پر حملہ، 8 افراد زخمی

امریکہ دنیا میں عدم استحکام پھیلا رہا ہے، ایرانی وزیر خارجہ

اسرائیل ایک غاصب اور غیر قانونی صیہونی حکومت ہے:آیت اللہ احمد خاتمی

ترکی نے ابو عمر الشیشانی کی بیوی کو گرفتار کرلیا

9 کیمروں والا اسمارٹ فون

ہبل ٹیلی اسکوپ

پنجاب بھر میں میٹرک کے نتائج کا اعلان

’’پرویز خٹک نے جو کی وہ رونے کی بات ہے‘‘

شام: فوعہ اور کفریا می‍ں یرغمال بنائے گئے نو سو باشندے رہا

غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملوں سے 4 فلسطینی شہید

واشنگٹن ڈائری: بٹے ہوئے امریکی معاشرے کی تصویر مزید پختہ

غیر متوقع شراکت دار: چین اور اسرائیل کے گہرے ہوتے تجارتی روابط

حج موسم کے اختتام تک تارکین کے مکہ مکرمہ جانے پر پابندی

سنگاپور میں تاریخ کا خطرناک ترین سائبر حملہ

چین اور روس کاشمالی کوریا کو تیل کی فراہمی روکنے سے انکار

ٹو پلس ٹو ڈائیلاگ کی نئی تاریخ سامنے آگئی

نازیبا زبان: ایاز صادق، فضل الرحمان اور پرویز خٹک کو حلف نامہ جمع کرانے کا حکم

مہاجر کا نعرہ لگا کرپھر لڑانے کی کوشش ہو رہی ہے، مصطفیٰ کمال

بلاول نے اس مرتبہ مساوات کی بات کی ہے، ڈاکٹر عاصم

پنجاب کے دو حلقوں سے آزاد امیدوار نے خود کشی کرلی

دن گئے جب لوگ پیپلزپارٹی کیلئے جلسے کرتے تھے، ارباب رحیم

کراچی میں جبران ناصر کی کارنر میٹنگ پر حملہ

چیف جسٹس،کل کراچی میں واٹرٹریٹمنٹ پلانٹ کا افتتاح کریں گے

1990ءکے انتخابات،نواز شریف نے زمام اقتدار سنبھالا

اسلام آباد میں اسدعمر کی کارنر میٹنگ میں فائرنگ

پنجاب کی نگران حکومت تحریک انصاف کے اشاروں پر ناچ رہی ہے: شہبازشریف

’یہودی ریاست‘ کے قانون پر تنازع کیوں

’’کیلا‘‘ غذائیت سے بھرپور پھل

کنفیوژن کے شکار حکام افغانستان سے متعلق عسکری پالیسی میں تبدیلی نہیں دیکھ رہے

بلاول کی علی موسی گیلانی کے قافلے پر فائرنگ کی مذمت

چوتھا ون ڈے: پاکستان نے بغیر کسی نقصان کے 200 کا ہندسہ عبور کرلیا

طالبان کا شہری آبادیوں پر خود کش حملے روکنے کا اعلان

2017-07-06 19:35:07

5 جولائی: نواز شریف اور بھٹو کے حامی آمنے سامنے

jjj

آج 5 جولائی ہے۔ آج سے 40 برس قبل جنرل ضیاء الحق نے مقبول عوامی رہنما ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹا تھا۔ اس کے بعد اس نے نہ صرف ملک کا آئین معطل کیا، ہر قسم کی آزادیوں پر پابندی عائد کی، انسانی حقوق پامال کئے، سیاسی آزادی کو مسخ کیا بلکہ اپنے محسن اور آج تک اس ملک کے کروڑوں عوام کے دلوں کی دھڑکن بنے رہنے والے وزیراعظم کو پھانسی کی سزا بھی دی۔ یہ سارے سیاہ کارنامے تاریخ کا حصہ ہیں۔ جنرل ضیاء الحق نے ملک پر اپنی گرفت مضبوط کرنے اور اپنے سیاسی عزائم پورے کرنے کےلئے جو اقدامات کئے، مذہب کے نام پر جس طرح جھوٹ بولے گئے اور مذہبی جنونیت کو فروغ دینے کےلئے منظم طریقے سے کام کیا گیا، اس کے اثرات و نتائج سے آج ملک کا بچہ بچہ آگاہ ہے۔ گو کہ اس ملک میں اب بھی وہ قوتیں سرگرم اور موثر ہیں جو تاریخ کے حقائق کو تبدیل کرنے اور سچ کی بجائے جھوٹ کو عام کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ تاہم اسے ذوالفقار علی بھٹو کے خون ناحق کا ثمر کہئے یا ضیاء الحق کے انتہا پسندانہ اقدامات کی شدت اور کھلی دروغ گوئی کو اس کا سبب سمجھیں  کہ یہ بات اب اس ملک کے ہر شخص کو معلوم ہے کہ اہل پاکستان اس وقت جس دہشت گردی سے نبرد آزما ہیں اور ملک کے لاکھوں گھروں میں جن ہلاکتوں کی وجہ سے بین ڈالے جاتے ہیں، اس کی بنیاد رکھنے میں ضیا الحق نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

ان معاملات میں اب کوئی اختلاف نہیں ہے۔ گو کہ ملک کی سپریم کورٹ ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے معاملہ پر نظر ثانی کرنے سے گریز کر رہی ہے کیونکہ اس پر 40 برس پہلے ہونے والے ظلم پر غور کے برعکس آج سامنے آنے والی زیادتیوں پر غور کرنے اور فیصلے صادر کرنے کےلئے دباؤ ہے۔ لیکن قومی اسمبلی متفقہ طور سے بھٹو کی پھانسی کو عدل و انصاف کا قتل قرار دے چکی ہے۔ گویا وہ سیاسی عناصر اور رہنما بھی جو ذوالفقار علی بھٹو، پاکستان پیپلز پارٹی یا ان کے ورثا کی سیاسی حکمت عملی اور نظریات سے شدید اختلافات رکھتے ہیں، یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ملک کی عدالت عظمیٰ نے 1979 میں انہیں موت کی سزا دیتے ہوئے ضیاء الحق کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ فیصلہ آئین و قانون کے مطابق نہیں تھا بلکہ سیاسی انتقام کا شاخسانہ تھا۔ اس اتفاق رائے کی روشنی میں تو یہ توقع کی جا سکتی تھی کہ بھٹو کے سیاسی حامی اور اس کے مخالف ۔۔۔۔۔ دونوں دھڑے اور تمام پاکستانی 5 جولائی 1977 کو شروع ہونے والے طویل تاریک دور سے سبق سیکھتے ہوئے، آج کے حالات میں انہی غلطیوں کا ارتکاب کرنے سے گریز کرتے۔ لیکن پاکستان کے سیاسی منظر نامہ میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ 5 جولائی کو کی گئی فوجی بغاوت اور ملک و قوم کے مفادات پر اس کے اثرات کو فراموش کر دیا گیا ہے بلکہ متعدد سیاسی اداکار آج پھر ویسا ہی کھیل رچانے میں مصروف ہیں۔ اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ اس وقت کرپشن کا سامنا کرنے والے وزیراعظم نواز شریف اپنے خلاف جاری تحقیقات اور عدالتی کارروائی کو بے توقیر کرنے کےلئے سازشوں اور درپردہ  حکومت گرانے اور انہیں سیاست سے علیحدہ کرنے کے منصوبوں کا اشارہ دے کر خود کو ’’عوامی ہیرو‘‘ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن ذوالفقار علی بھٹو کے حامی یہ دلیل لے کر میدان میں اترے ہوئے ہیں کہ کہاں راجہ بھوج کہاں گنگو تیلی ۔۔۔۔۔ کہاں ذوالفقار علی بھٹو جیسے قد آور لیڈر کے خلاف امریکہ جیسی سپر پاور کی سازش اور کہاں نواز شریف جیسے بدعنوان اور مفاد پرست شخص سے عدالتی جوابدہی۔ ان دونوں کا کیا مقابلہ ہو سکتا ہے۔

دونوں رہنماؤں کے حامی اور مخالفین سیاسی اور صحافتی میدان میں اس سوال پر سر پھٹول کرنے میں تو مصروف ہیں لیکن یہ سمجھنے، جاننے اور سوچنے کےلئے تیار نہیں ہیں کہ اگر ملک میں فوجی بغاوتوں اور خفیہ ایجنسیوں کی سیاسی شعبدہ بازیوں کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو جو تاریک رات 5 جولائی 1977 کو شروع ہوئی تھی، وہ بدستور اس قوم پر سایہ فگن رہے گی۔ سوال یہ نہیں ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف سے کتنے بڑے لیڈر تھے یا ان کے کارہائے نمایاں کا نواز شریف کی کامیابیوں سے مقابلہ ہو سکتا ہے یا نہیں بلکہ بنیادی بات یہ ہے کہ کیا اب یہ قوم اور اس ملک میں جمہوری نظام کے ذریعے تبدیلی لانے کا دعویٰ کرنے والے سب لوگ، اس بات پر متفق ہیں کہ ملک کے طاقتور ادارے جب بھی کسی بھی منتخب لیڈر کے خلاف اقدام کرنے کا تہیہ کرتے ہیں تو وہ اس لیڈر سے زیادہ ملک و قوم کے مفاد پر وار ہوتا ہے۔ اس لئے یہ طے کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر اب یا آئندہ،  40 برس پہلے رونما ہونے والے واقعات کو دہرانے کی کوئی بھی کوشش، کسی بھی طریقے سے ہوتی ہے تو اسے مسترد کرنے اور ’’قوم و ملک کے وسیع تر مفاد‘‘ میں غیر آئینی اقدام کرنے کی اجازت دینا ملک و قوم سے غداری کے مترادف ہوگا۔

تاہم یہ بھی ہم سب دیکھ چکے ہیں کہ 12 اکتوبر 1999 کو 5 جولائی 1977 کی روایت کو دہرایا گیا لیکن سیاسی اور ذاتی مفاد کےلئے پرویز مشرف کا بھی ویسے ہی خیر مقدم کیا گیا جیسا کہ ضیاء الحق کا کیا گیا تھا۔ دونوں نے ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹا تھا اور دونوں نے ملک کا آئین پامال کیا تھا۔ اس کے باوجود گزشتہ برس نومبر تک ملک کی فوج کا سربراہ رہنے والے جنرل (ر) راحیل شریف کے دور میں وقفے وقفے سے پاکستان کے در و دیوار پر یہ بینر آویزاں ہوتے رہے اور گلی کوچوں میں یہ نعرے گونجتے رہے کہ ’’جانے کی باتیں نہ کرو‘‘ اور اس ملک کو تباہی و بربادی سے بچا لو۔ فی الوقت موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ایسا ’’مطالبہ‘‘ نہیں کیا گیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جنرل باجوہ سیاست سے دور رہنے کی شہرت رکھتے ہیں اور فوج کا تعلقات عامہ کا شعبہ اب آرمی چیف کی ذاتی تشہیر پر اس طرح توجہ دینے سے گریز کر رہا ہے جیسے جنرل راحیل شریف کے عہد میں کیا گیا تھا۔ لیکن سوال یہ بھی نہیں ہے کہ کوئی فوجی جنرل کب تک آئین کا وفادار رہنا چاہتا  ہےاور کب اسے کاغذ کا ٹکڑا قرار دے کر بے توقیر کرنے کا ارادہ کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اہل پاکستان بطور قوم یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ 5 جولائی ہو یا 12 اکتوبر ۔۔۔۔۔۔۔ یہ دن ملک کی تقدیر بدلنے کا سبب نہیں بنے تھے بلکہ انہوں نے اس قوم کو نت نئے مصائب و آلام سے دوچار کیا تھا۔ اگر اس ملک کے تمام شہریوں اور خاص طور سے سیاسی طور سے متحرک لوگوں اور میڈیا کے بزرجمہروں کا اس بنیادی اصول پر اتفاق ہو جائے ، تب ہی اس ملک پر 7 اکتوبر 1958، 25 مارچ 1969، 5 جولائی 1977 یا 12 اکتوبر 1999 جیسا کوئی فیصلہ مسلط نہیں کیا جائے گا۔

اس کے برعکس اگر ملک میں بدستور ایسے عناصر طاقتور ہیں اور اس رائے کو مسلسل بڑی اکثریت کی حمایت حاصل ہے کہ فوج ہی بہرصورت ملک کا نظام درست اور بدعنوان سیاستدانوں کا احتساب کر سکتی ہے تو مل جل کر کوئی ایسا آئینی فیصلہ کر لیا جائے کہ ہر آرمی چیف ملک کا سپریم لیڈر، چیف ایگزیکٹو ، گاڈ فادر یا ان داتا بھی ہوگا، جس کی مرضی کے بغیر کوئی اسمبلی یا وزیراعظم کوئی فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں ہوگا۔ اس طرح کم از کم یہ تو طے کیا جا سکے گا کہ جو بھی جنرل تین، چار یا پانچ سال کی مقررہ مدت کےلئے فوج کی کمان سنبھالے گا تو وہ اس مدت کے بعد اپنے جانشین کے حق میں دستبردار ہو جائے گا اور اپنے اقتدار کو دائمی رکھنے کےلئے مسلسل آرمی چیف کے عہدہ سے چمٹا نہیں رہے گا۔ اس طرح فوج جیسے منظم اور اعلیٰ کارکردگی کے حامل ادارے کو اس عظیم نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے گا جو سیاسی اقتدار سنبھالنے والے فوجی کمانڈر کی سیاسی جاہ پسندی کے نتیجے میں فوج کی لائن آف کمانڈ کو  پہنچتا ہے یا ترقی کے اہل افسروں کو جبری ریٹائرمنٹ پر بھیجنے کی صورت میں پہنچایا جاتا ہے۔ لیکن یہ اہم فیصلے اسی وقت ہو سکتے ہیں جب ملک کی سیاست میں افراد کی بجائے اصولوں کو بنیاد بنا کر مباحث کا آغاز ہو سکے۔

نواز شریف اور ان کے حامی پاناما کیس کے حوالے سے پیدا ہونے والے حالات سے نمٹنے کےلئے کٹھ پتلی تماشہ اور درپردہ سازشوں کا ذکر کر رہے ہیں۔ بعض اقتدار پسند عناصر اس صورتحال کا مقابلہ 1977 سے کرتے ہوئے نواز شریف کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ ایسے دلائل بھٹو کے ان حامیوں کے لئے تکلیف کا سبب بن رہے ہیں جو یہ مانتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف 1977 میں پاکستان عوامی اتحاد PNA کی تحریک، جنرل ضیاء الحق کی سرکردگی میں فوج کی بغاوت اور عدالتوں کے ذریعے بھٹو کی پھانسی دراصل امریکہ کی نگرانی میں تیار کی جانے والی ایک عالمی سازش کا نتیجہ تھا۔ اس سازش کا اعلان اور امریکہ کی طرف سے اپنے اقتدار کو لاحق خطرات کا اظہار ذوالفقار علی بھٹو اپنے دور حکومت کے آخری دنوں میں خود بھی کرتے رہے تھے۔ اب نواز شریف اور ان کے حامی موجودہ صورتحال میں اسی ماضی سے مماثلت تلاش کرکے نئی سازشی تھیوری کو عام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی طرز عمل کی وجہ سے بھٹو کے حامی اضطراب کا شکار ہیں۔ تاہم کسی حکومت کے خلاف سازش کی بات کرنے کے باوجود کبھی اسے واضح طور سے ثابت کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ یوں بھی پاکستان کے سیاسی حالات میں یہ بات غیر اہم ہے کہ کون کس کے خلاف سازش کرتا رہا ہے یا کر رہا ہے۔ اصل نکتہ یہ ہے کہ کیا اس ملک میں اس بات پر اتفاق رائے پیدا کیا جا چکا ہے کہ کسی بھی جمہوری حکومت کے خلاف ملک کے کسی بھی ادارے کا اقدام خواہ وہ کسی بھی ’’نیک مقصد‘‘ کے نام پر کیا جائے، قبول نہیں کیا جائے گا۔ فی الوقت یقین سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ اتفاق رائے موجود نہیں ہے۔ ملک میں متحرک کئی سیاسی قوتیں جمہوریت پر شب خون کی حمایت کرنے کےلئے تیار ہیں بشرطیکہ اس سے انہیں سیاسی فائدہ حاصل ہو سکے۔

اسی صورتحال سے یہ افسوسناک نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ اس ملک میں آباد لوگوں نے 40 برس قبل رونما ہونے والے سانحہ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ اب ذوالفقار علی بھٹو یا نواز شریف کے حامی اور مخالفین اگر شخصیت پرستی میں ایک دوسرے سے دست و گریباں ہونا چاہتے ہیں تو بے شک ایسا کریں لیکن یہ یاد رکھیں کہ اس طرح وہ پاکستان میں جمہوریت کے فروغ کا سبب بننے کی بجائے جمہوریت دشمن قوتوں کو مضبوط کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔

 تحریر: سید مجاہد علی
 
 
زمرہ جات:   Horizontal 2 ،
ٹیگز:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

یادوں کے جھروکے

- سحر نیوز