تاریخ کیوں یاد رکھے گی؟

یہودیوں کی قومی ریاست کا قانون، اسرائیل نے اپنے عرب شہریوں کے خلاف محاذ کھول دیا

اسرائیل کا نیا قانون نسل پرست اور عرب دشمن ہے

امریکا: کال سینٹر اسکینڈل میں 21 بھارتی شہریوں کو سزا

بھارت: مشتعل افراد نے گائے کی اسمگلنگ کے شبہ میں مسلمان کو قتل کردیا

فلسطین میں صورتحال معمول پر لانے کیلئے جنگ بندی کا اعلان

’امریکی حکام اور طالبان کے درمیان براہِ راست پہلی ملاقات‘

ویتنام میں سمندری طوفان ، 20 افراد ہلاک

امریکی ریاست آئیووا میں طوفانی بگولوں نے تباہی مچادی

سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم آخری مراحل میں

خواتین کو حق رائے دہی سے دور رکھنا جرم ہوگا

اکرم خان درانی پر دوسرا قاتلانہ حملہ

الیکش سے قبل عمران کا آج کراچی میں آخری جلسہ

انتخابات2018ء کے انتظامات کا آخری مرحلہ

ڈی آئی خان میں دھماکا، اکرام اللہ گنڈا پور زخمی

ایفی ڈرین کوٹہ کیس میں حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا

نواز شریف جیل میں کون سا ٹی وی چینل دیکھیں گے؟

ڈیموں میں پانی کی سطح میں قدرے اضافہ

جاپان سے تعلیمی تعاون بڑھانے پر کام کر رہے ہیں،اسد مجید

بلاول کو بچہ کہنے والوں کا قوم نے مذاق بنا دیا ہے: چانڈیو

لوگوں کو جوڑنے کیلئے فیس بک کا نیا اقدام

’’عمران کے نصیب میں حکومت بنانا نہیں‘‘

پرویز خٹک الیکشن کمیشن کیخلاف ہائیکورٹ جائیں گے

فواد حسن فواد مزید 14روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

حضرت شاہ چراغ کے یوم ولادت کی مناسبت سے

کالعدم تنظیموں کو الیکشن سے روکا جائے، وزیر اطلاعات

کوئٹہ سے حج پروازوں کی بندش پر ڈائریکٹر کی سرزنش

شہباز شریف کے بیانات ،نگراں حکومت نے اجلاس بلالیا

پنجاب رینجرز کا مختلف شہروں میں سرچ آپریشن، کئی مشتبہ افراد زیر حراست

جرمنی: میں چاقو بردار شخص کا بس پر حملہ، 8 افراد زخمی

امریکہ دنیا میں عدم استحکام پھیلا رہا ہے، ایرانی وزیر خارجہ

اسرائیل ایک غاصب اور غیر قانونی صیہونی حکومت ہے:آیت اللہ احمد خاتمی

ترکی نے ابو عمر الشیشانی کی بیوی کو گرفتار کرلیا

9 کیمروں والا اسمارٹ فون

ہبل ٹیلی اسکوپ

پنجاب بھر میں میٹرک کے نتائج کا اعلان

’’پرویز خٹک نے جو کی وہ رونے کی بات ہے‘‘

شام: فوعہ اور کفریا می‍ں یرغمال بنائے گئے نو سو باشندے رہا

غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملوں سے 4 فلسطینی شہید

واشنگٹن ڈائری: بٹے ہوئے امریکی معاشرے کی تصویر مزید پختہ

غیر متوقع شراکت دار: چین اور اسرائیل کے گہرے ہوتے تجارتی روابط

حج موسم کے اختتام تک تارکین کے مکہ مکرمہ جانے پر پابندی

سنگاپور میں تاریخ کا خطرناک ترین سائبر حملہ

چین اور روس کاشمالی کوریا کو تیل کی فراہمی روکنے سے انکار

ٹو پلس ٹو ڈائیلاگ کی نئی تاریخ سامنے آگئی

نازیبا زبان: ایاز صادق، فضل الرحمان اور پرویز خٹک کو حلف نامہ جمع کرانے کا حکم

مہاجر کا نعرہ لگا کرپھر لڑانے کی کوشش ہو رہی ہے، مصطفیٰ کمال

بلاول نے اس مرتبہ مساوات کی بات کی ہے، ڈاکٹر عاصم

پنجاب کے دو حلقوں سے آزاد امیدوار نے خود کشی کرلی

دن گئے جب لوگ پیپلزپارٹی کیلئے جلسے کرتے تھے، ارباب رحیم

کراچی میں جبران ناصر کی کارنر میٹنگ پر حملہ

چیف جسٹس،کل کراچی میں واٹرٹریٹمنٹ پلانٹ کا افتتاح کریں گے

1990ءکے انتخابات،نواز شریف نے زمام اقتدار سنبھالا

اسلام آباد میں اسدعمر کی کارنر میٹنگ میں فائرنگ

پنجاب کی نگران حکومت تحریک انصاف کے اشاروں پر ناچ رہی ہے: شہبازشریف

’یہودی ریاست‘ کے قانون پر تنازع کیوں

’’کیلا‘‘ غذائیت سے بھرپور پھل

کنفیوژن کے شکار حکام افغانستان سے متعلق عسکری پالیسی میں تبدیلی نہیں دیکھ رہے

بلاول کی علی موسی گیلانی کے قافلے پر فائرنگ کی مذمت

چوتھا ون ڈے: پاکستان نے بغیر کسی نقصان کے 200 کا ہندسہ عبور کرلیا

طالبان کا شہری آبادیوں پر خود کش حملے روکنے کا اعلان

چین کے صدر تین روزہ دورے پر امارات پہنچ گئے

امریکا کی بھارت کو مسلح ڈرونز فروخت کرنے کی پیشکش

زاہدان کے قریب مسلح شرپسندوں کے ہاتھوں دو سیکورٹی اہلکارشہید

یمنی فوج کا ریاض میں سعودی امریکی آئل کمپنی آرامکو پرڈورن حملہ

الیکشن میں شرکت نہ کرنا شیعوں کی کمزوری کا باعث بنے تو ضرور شرکت کریں:آیت الله صافی گلپایگانی

پاکستان میں داعش کی آمد کی اطلاع

چمن کے مال روڈ پر دھماکا اور فائرنگ، پولیس

بھارت کی واٹس ایپ کو ایک اور وارننگ

نیویارک :زیر زمین اسٹیم پائپ لائن میں دھماکہ

پرو میں ججوں کا رشوت لے کر فیصلے دینے کا انکشاف

2017-08-10 21:58:45

تاریخ کیوں یاد رکھے گی؟

j

تاریخ بہت ظالم ہے اور اس کا دھارا کسی کی مرضی سے نہ ہی بہتا ہے اور نہ مڑتا ہے۔ تاریخ میں وہی لوگ زندہ رہتے ہیں جو تاریخی کام کرتے ہیں۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے پاناما لیکس کے فیصلے کو عوام اور تاریخ پر چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔ مسلم لیگ کے کارکنوں سے خطاب میں نواز شریف کا کہنا تھا کروڑوں لوگ وزیراعظم منتخب کرتے ہیں اور چند لوگ ختم اسے فارغ کر دیتے ہیں۔ انہیں کس بات کی سزا دی جا رہی ہے؟ کیا یہ عوام کے ووٹ کی توہین نہیں؟ ۔ نواز شریف کے گلے شکوے اپنی جگہ مگر نہ ہی وہ عدالت کے سوالوں کے جواب دے سکے اور نہ ہی عوام کے دیئے گئے مینڈیٹ کے مطابق کام کر سکے۔ آج ڈکٹیٹر کے مظالم پر رونے والے نواز شریف کی حکومت نے ہی پرویز مشرف کو بیرون ملک روانگی کا پروانہ دیا جو آج باہر بیٹھ کر جمہوری حکومتوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور پاکستان میں بیڈ گورننس اور تاریخی غلطیوں کا ملبہ بھی سیاستدانوں پر گرانے کی کوشش کرتے ہیں۔

میاں نواز شریف نااہلی کے بعد سے مسلسل ایک بات کو دہرا رہے ہیں کہ انہیں کرپشن کے الزام پر نہیں بلکہ بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل کیا گیا۔ متوازن جائزہ لیا جائے تو سابق وزیراعظم کی دلیل میں کوئی وزن نہیں۔ نواز شریف کو حقیقی معنوں میں بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نہیں بلکہ بیرون ملک قائم ایک کمپنی کی چیئرمین شپ چھپانے پر نااہل کیا گیا اور جہاں تک بات کرپشن نہ کرنے کی ہے تو سپریم کورٹ نے انہیں پاناما کیس سے بری الذمہ قرار نہیں دیا بلکہ معاملے کو ٹرائل کورٹ میں بھیجا ہے جہاں ان کیسز کی حقیقت کو پرکھا جائے گا۔
 
کسی بھی سڑک پر مارچ کرنا اور سیاسی زور دکھانا ہر سیاسی جماعت کا بنیادی اور جمہوری حق ہے جو کوئی نہیں چھین سکتا تاہم احتجاج کا پس منظر اس کے سیاق و سباق کے مطابق دیکھنا اور سمجھنا ضروری ہے۔ میاں نواز شریف یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انہیں گھر بھیجا گیا اور وہ گھر جا رہے ہیں۔ جی ٹی روڈ سے جانے کا مقصد صرف اور صرف عوام کا شکریہ ادا کرنا ہے جبکہ ان کا یہ دعویٰ کوئی بھی آزاد مبصر تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ نواز شریف کے احتجاج کو اداروں پر دباﺅ ڈالنے کا حربہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں صورتحال اگر تصادم کی طرف چلی جائے تو حیران کن بات نہیں ہو گی مگر ملک کو اس لڑائی سے نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا اور جمہوریت بھی کمزور پڑتی چلی جائے گی۔
 
اپنی تقریر میں نواز شریف نے سیاسی حریفوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ عمران خان اور طاہر القادری ان کے خصوصی نشانے پر رہے۔ آج کل وہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کا بھی بار بار تذکرہ کر رہے ہیں۔ حالانکہ ان کے چھوٹے بھائی اور دست راست شہباز شریف یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ گیلانی کی نااہلی مسلم لیگ (ن) کی پٹیشن پر ہوئی اور وہ اس کا پورا کریڈٹ لیتے ہیں۔ اپنی نااہلی کے بعد اب یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کا معاملہ سپریم کورٹ تک نہ جانے کی بات کرنا اور میمو گیٹ کے معاملے پر کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ پہنچنے کو اپنی غلطی قرار دینے کو مبصرین سیاسی بیان کا نام دینے پر مجبور ہیں۔ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا اعلیٰ ظرفی کی نشانی ہے مگر حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو میاں نواز شریف کا یہ اعتراف کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ 
 
نواز شریف نے خطاب کے دوران کارکنوں سے کچھ وعدے لئے ۔ کہا ”میرے ساتھ وعدہ کرو کہ اپنے مینڈیٹ پر شب خون مارنے نہیں دو گے، وعدہ کرو کہ اپنے وزیر اعظم کی تذلیل نہیں ہونے دو گے، وعدہ کرو کہ اپنے ووٹوں کا تقدس قائم رکھو گے“۔ اس طرح کی باتیں اور کارکنوں کو جذباتی نعروں کے پیچھے لگانا صاف ظاہر کر رہا ہے کہ نواز شریف تصادم کی سیاست کی طرف جا رہے ہیں۔ ایک طرف غلطیوں کا اعتراف اور دوسری طرف جذبات بھڑکانے والے نعرے ۔۔۔۔۔۔ اب نواز شریف کو سوچنا ہو گا کہ تاریخ انہیں کیوں یاد رکھے گی۔
 
  تحریر: آصف عباس
 
زمرہ جات:  
ٹیگز:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

نام ور جو ناکام رہے

- ایکسپریس نیوز

All set for PTI rally in Karachi

- اے آر وائی

ہم سب کا پاکستان

- ایکسپریس نیوز

خدا تجھے یہ غم نہ بھلائے

- ایکسپریس نیوز

خدا تجھے یہ غم نہ بھلائے

- ایکسپریس نیوز