پاک ایران تعلقات اور نئے چیلنجز ~ این ایچ نقوی

سعودی کفیلوں کی جنسی درندگی: بنگلہ دیشی خاتون ملازمہ کی دلدوز کہانی

جنرل زبیر کی اسرائیل کو دھمکی کے پس پردہ محرکات :امریکہ نے اسرائیل کو پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر حملے کا گرین سگنل دیدیا

رمضان المبارک کے آٹھویں دن کی دعا

ادارہ جاتی کشمکش اور نواز شریف کا بیانیہ: کیا فوج مشکل میں گھر گئی ہے؟

ماہ رمضان کی دعاوں کا انتظار کے ساتھ ارتباط

امریکی حکام انتہا پسندانہ سوچ کے حامل ہیں، ایرانی صدر

پاکستان میں 35 لاکھ افراد بے روزگار ہیں، رپورٹ

نوازشریف کا مقصد صرف اپنی جائیداد بچانا ہے: فواد چوہدری

ایران ایٹمی معاہدے سے پہلے والی صورت حال پر واپسی کے لیے تیار

محمد بن سلمان کو آل سعود خاندان میں نفرت اور دشمنی کا سامنا

اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے پاکستان کو صرف12 منٹ درکار ہیں: جنرل زبیر حیات

روزہ رکھنے والے مسلمان معاشرے کیلیے سیکیورٹی رسک ہیں، ڈنمارک کی وزیر کی ہرزہ سرائی

سعودی حکومت کے خلاف بغاوت کی اپیل: کیا آل سعود کی بادشاہت کے خاتمے کا وقت آن پہنچا؟

انٹیلی جینس بیورو (آئی بی) کے خفیہ راز

’سعودی عرب عراق کو میدان جنگ بنانے سے احتراز کرے‘

رمضان المبارک کے ساتویں دن کی دعا

نگراں وزیراعظم کیلیے وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف میں ڈیڈلاک برقرار

کیا نواز شریف کی جارحیت تبدیلی لا سکتی ہے؟

کیا لشکر جھنگوی تحریک طالبان کی جگہ سنبھال چکی ہے؟

جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک دنیا کو دھمکا رہے ہیں

مجھے کیوں نکالا: نواز شریف کے احتساب عدالت میں اہم ترین انکشافات

بغداد میں العامری کی مقتدی الصدر سے ملاقات، حکومت کی تشکیل پر تبادلہ خیال

دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک شام میں ہی رہیں گے، ایران

رمضان المبارک کے چھٹے دن کی دعا

ایران نے رویہ تبدیل نہ کیا تو اسے کچل دیا جائے گا، امریکی وزیرخارجہ کی دھمکی

کیا بغدادی انتقام کی کوئی نئی اسکیم تیار کر رہا ہے؟

بحرین میں خاندانی آمریت کے خلاف مظاہرے

ماہ رمضان میں امام زمانہ(ع) کی رضایت جلب کرنےکا راستہ

ایم آئی، آئی ایس آئی کا جے آئی ٹی کا حصہ بننا نامناسب تھا، نوازشریف

فضل الرحمان کی فصلی سیاست: فاٹا انضمام کا بہانا اور حکومت سے علیحدگی

مذہبی جذباتیت کا عنصر اور انتخابات

مادے کا ہم زاد اینٹی میٹر کیا ہوا؟

ایرانی جوہری ڈیل سے امریکی علیحدگی، افغان معیشت متاثر ہو گی

امریکہ ایرانی قوم کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کرسکتا

رمضان المبارک کے پانچویں دن کی دعا

ماہ مقدس رمضان میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور ناجائز منافع خوری نے عوام کو عذاب میں مبتلا کررکھا ہے: علامہ مختار امامی

کیا سویلین-ملٹری تعلقات میں عدم توازن دکھانے سے جمہوری نظام خطرے میں پڑگیا؟ – عامر حسینی

روزے کا ایک اہم ترین فائدہ حکمت ہے

نگراں وزیراعظم پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق ہوگیا، ذرائع

موٹروے نہیں قوم بنانا اصل کامیابی ہے: عمران خان

ایک چشم کشا تحریر: عورتوں کو جہاد کے ليے کيسے تيار کيا جاتا ہے؟

روزہ خوروں کی نشانیاں: طنزو مزاح

ترک صدر ایردوآن اور سود، ٹِک ٹِک کرتا ٹائم بم

آل سعود کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں: غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ روابط کے الزام میں سات خواتین کارکن گرفتار

فلسطینیوں کی لاشوں پر امریکی سفارتخانہ قائم

افسوس امت مسلمہ کی ناگفتہ بہ حالت پر 57 اسلامی ممالک خاموش ہیں، علامہ ریاض نجفی

رمضان المبارک کے چوتھے دن کی دعا

خاص الخاص روزے کا ذائقہ چکھنےکا راستہ

امریکی اسکول فائرنگ میں جاں بحق پاکستانی سبیکا شیخ کے خواب پورے نہ ہوسکے

اگر ہم بیت المقدس کا دفاع نہ کرسکے تو مکہ کا دفاع نہیں کرپائیں گے: صدر اردوغان

یورپ نے امریکی پابندیاں غیر موثر بنانے کے لئے قانون سازی شروع کر دی

سول ملٹری تعلقات: پاکستانی سیاست کا ساختیاتی مسئلہ

پاکستان کا اگلا نگران وزیر اعظم کون ہو گا؟

کیا سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بغاوت میں ہلاک ہو گئے ہیں؟

تحریک انصاف نے حکومت کے پہلے 100 دن کا پلان تیار کرلیا

کیوبا میں مسافر طیارہ گر کرتباہ، 110 افراد ہلاک

غزہ میں اسرائیلی مظالم کی آزادانہ اورشفاف تحقیقات کرائی جائے، پاکستان

رمضان المبارک کے تیسرے دن کی دعا

رمضان الہی ضیافت کا مہینہ

امریکی سفارتخانہ کی بیت المقدس منتقلی مسترد کرتے ہیں، علامہ ساجد نقوی

بشارالاسد کی روسی صدر ولادیمیر پیوتن سے ملاقات

مریخ پر بھیجے گئے سب سے چھوٹے سیٹلائٹ سے زمین کی پہلی تصویر موصول

ایران نے مقبوضہ فلسطین میں صہیونی مظالم کی عالمی تحقیقات کا مطالبہ کردیا

62 شہید اور 2770 زخمی اور دنیا خاموش تماشائی

فلسطینی مظاہرین کو دہشت گرد کہنا ’توہین آمیز‘ ہے، روسی وزیر خارجہ

بھولے بادشاہ کا غصہ اور نفرت

نواز شریف کی سیاسی خود کشی: کیا یہ ایک سوچی سمجھی سکیم ہے؟

ایٹمی معاہدے کی حفاطت کی جائے گی، تین بڑے یورپی ملکوں کا اعلان

رمضان المبارک کے دوسرے دن کی دعا

رمضان المبارک کے پہلے دن کی دعا

2017-09-11 22:46:43

پاک ایران تعلقات اور نئے چیلنجز ~ این ایچ نقوی

1396062012305222211898344

پاکستان اور ایران کے درمیان موجود تاریخی اور دوستانہ روابط مختلف ادوار میں اتار چڑھاو کا شکار رہے ہیں۔ ایران وہ پہلا ملک تھا جس نے 1947 میں پاکستان کو تسلیم کیا۔ اسی طرح 1979 میں ایران میں آنے والے اسلامی انقلاب کو بطور نظام حکومت سب سے پہلے پاکستان نے تسلیم کیا۔

امام خمینی (رح) کی قیادت میں 1979 میں سرزمین ایران پرجب انقلاب رونما ہوا تو سب سے پہلے یہ فیصلہ کیا گیا کہ اپنے ہمسایوں اور مسلمان ممالک کے ساتھ گہرے اور مضبوط تعلقات قائم کئے جائیں۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات ہمیشہ اسلامی جمہوریہ ایران کی ترجیحات میں شامل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی جمہوری ایران اور اس کے ذمہ داروں نے ہمیشہ سے زندگی کے تمام شعبہ جات میں پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی کوشش کی ہے۔ آج بھی ایران سیاسی، اقتصادی، ثقافتی، ٹیکنالوجی اور فنی میدانوں میں اپنی طرف سے تعاون کا اعلان کر رہا ہے۔ آج مختلف میدانوں میں تعلقات و ترقی کی خاطر کام ہو رہا ہے. جیسے گیس پائپ لائن منصوبہ، یہ منصوبہ اگر مکمل ہو جائے تو اس سے پاکستان کی اقتصادی اور معاشرتی ترقی کی فضا میں بہت بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔

دوسرے مرحلے پر ایران پاکستان کو بجلی فراہم کرنے پر تیار ہے۔ اب وہ 74 میگاواٹ کی بجائے 104 میگا واٹ بلکہ دور حاضر میں تو 1000 سے 3000 میگا واٹ بجلی فراہم کرنے پر آمادگی کا اظہار کرچکا ہے۔

تجارتی میدان میں گذشتہ سال تجارتی حجم 30 فیصد تھا۔ اس سلسلے میں اگر رکاوٹوں کو دور کیا جائے تو امید ہے کہ یہ حجم 5 بلین ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی کے آخری دورہ پاکستان کے دوران مختلف اہم امور اور معاملات پر مذاکرات بھی ہوئے اور مختلف یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔ چابہار اور گوادر کو دو اہم ترین بندرگاہوں کا درجہ دیا گیا کہ ان دو بندرگاہوں کے ذریعے دونوں ممالک کے دو طرفہ تجارتی اور معاشرتی معاملات انجام پائیں گے۔

ثقافتی میدان میں موسیقی، فلم سازی نیز اردو اور فارسی زبان سکھانے اور دونوں ممالک کے درمیان کھیلوں کے فروغ پر بھی کام کیا جا سکتا ہے۔

علاوہ ازیں تجارتی تعلقات کو بڑھانے کے حوالہ سے آزادانہ تجارت کے معاہدے پر دونوں ممالک کے مابین دو اجلاس ہو چکے ہیں اور جلد پاک ایران تجارتی حجم کو بڑھایا جا سکے گا اور اس کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں بھی رفع ہو جائیں گی۔ 

دونوں برادر ممالک مختلف آڑے وقتوں میں ایک دوسرے  کے کام آئے، تاریخ اس بات کی گواہ ہے۔ 

امید کی جاتی ہے کہ پاکستان کے خلاف حالیہ امریکی جارحانہ عزائم کے خلاف بھی دونوں ممالک ڈٹ جائیں گے اور ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔  

راقم الحروف جب یہ تحریر لکھ رہا ہے، عین اسی وقت دونوں ممالک کے مابین تہران میں اہم ملاقاتیں ہورہی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ملاقاتوں میں امریکی پالیسی، مسئلہ افغانستان اور دوطرفہ اقتصادی تعلقات جیسے موضوعات زیر بحث آئیں گے۔

وزیر خارجہ خواجہ آصف ایرانی صدر حسن روحانی، اپنے ہم منصب اور نائب صدر اقتصادی اُمور محمد ناہاوندیان کیساتھ بھی اہم ملاقات کر رہے ہیں۔  

ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں چین، روس، پاکستان اور ایران مل کر اہم تبدیلیاں لا سکتے ہیں جس کے باعث امریکی بلاک کو بڑا دھچکا لگ سکتا ہے۔

زمرہ جات:   Horizontal 1 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)