نیویارک میں محرم کا جلوس – محمد حسین

پشاور سے کالعدم ٹی ٹی پی کا انتہائی مطلوب کمانڈر گرفتار

جرمنی کی آسٹریا میں جاسوسی کا گھمبیر ہوتا معاملہ

کیا جرمنی نے آسٹریا میں جاسوسی کی؟

عورت چراغ خانہ ہے، شمع محفل نہیں!

کلثوم نواز کی حالت تشویشناک، نوازشریف اور مریم نواز کی وطن واپسی مؤخر

سانحہ ماڈل ٹاؤن کو چار سال گزر گئے لیکن ملزم آزاد ہیں، طاہر القادری

امریکی دباؤ کے باوجود ایران کیساتھ باہمی تعاون کو جاری رہیں گے: چین

انتخابات میں مخالفین کو عبرت ناک شکست دیں گے، آصف علی زرداری

آپ کی مدد کا شکریہ عمران خان، اب آپ جاسکتے ہیں!

کالعدم ٹی ٹی پی کا نیا امیر کون؟

امریکا کا چین کے خلاف بھی تجارتی جنگ کا اعلان

افغان صوبے ننگرہار میں خودکش دھماکا، 25 افراد ہلاک

عید الفطر 1439 ھ علامہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام

انتخابات میں حصہ لینے کے خواہش مند 122 امیدوار دہری شہریت کے حامل نکلے

امریکا کے خلاف یورپ کا جوابی اقدام

سعودی عرب کا ذلت آمیز شکست کے بعد کھلاڑیوں کو سزا دینے کا اعلان

مُلا فضل اللہ کی ہلاکت، پاکستان اور خطے کے لیے ’اہم پيش رفت‘

’’رَبِّ النُّوْرِ الْعَظِیْم‘‘ کے بارے میں جبرئیل کی پیغمبر اکرمﷺ کو بشارت

پاکستان میں عید الفطر مذہبی جوش وجذبے کے ساتھ منائی جائے گی

یورپ میں بڑھتی مسلم نفرت اور اس کا حل

کیا مسلم لیگ ن کی پالیسی میں کوئی تبدیلی آ رہی ہے؟

عید فطر کا دن، خدا کی عبادت اور اس سے تقرب کا دن 

پھانسی دے دیں یا جیل بھیجیں

شفقنا خصوصی: بھاڑے کے ٹٹو اور پاک فوج

افغانستان میں ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی اطلاعات

کلثوم نواز کی طبیعت بگڑ گئی، مصنوعی تنفس پر منتقل

سعودی عرب کی کھوکھلی دھمکیاں

ایم ایم اے اور اورنگزیب فاروقی کے مابین خفیہ ڈیل کیا ہے؟

ریحام خان کو عمران کے کنٹینر تک کون لایا تھا: ایک خصوصی تحریر

غدار ٹوپیاں اور جاسوس کبوتر

آج سے موبائل بیلنس پر ٹیکس ختم: 100 روپے کے کارڈ پر پورے 100 روپے کا بیلنس ملے گا

اول ماہ ثابت ہونے کا میعار کیا ہے؟

سوال: کیا مقلدین کے لیے ضروری ہے کہ عید فطر کے لیے اپنے مرجع کی طرف رجوع کریں؟

رمضان المبارک کے انتیسویں دن کی دعا

ریحام خان کی کتاب اور معاشرہ

شیخ رشید 2018 کے انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں: سپریم کورٹ

پاکستان میں انتخابات 2018؛ 2 ہزار368 امیدوار مختلف محکموں کے نادہندہ نکلے

حسن بن صباح کی جنت، فسانہ یا حقیقت؟

آرمی چیف کا دورہ افغانستان : کیا اشرف غنی کو سخت پیغام دیا گیا ہے؟

شیخ رشید نااہلی سے بچ گئے

بھارت کے حق میں بیان : کیا شہباز شریف بیرونی قوتوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں؟

سوال و جواب » فطرہ

رمضان المبارک کے اٹھائیسویں دن کی دعا

سی پیک، پاکستان کےلیے نہیں!

دورِ زوال کا نوحہ

ایران اور مشرق وسطی کے بارے میں امریکی سوچ خطرناک ہے

ہر نیک کام میں والدین کو شریک کرنا بہت زیادہ برکات کا حامل ہے

امریکی صدر اور شمالی کوریا کے سربراہ کی تاریخی ملاقات

ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان تاریخی ملاقات کا اعلامیہ جاری

سی پیک، پاکستان کےلیے نہیں!

کالعدم اہلسنت و الجماعت میں دراڑ: احمد لدھیانوی اور مسرور جھنگوی آمنے سامنے

مشرف کی متوقع واپسی، کیا سابق آمر کا کوئی سیاسی مستقبل ہے؟

کیا نواز شریف ملک سے بھاگ جائیں گے؟

اٹلی نے اپنی بندرگاہیں تارکین وطن کے لیے بند کر دیں

رمضان المبارک کے ستائیسویں دن کی دعا

نیب کی نواز شریف، بیٹوں، بیٹی اور داماد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست

ایٹمی اثاثے، خطرات اور منصوبہ جات

قرآن اللہ کی وہ مطلق رحمت ہے جس سے ہم نے استفادہ نہیں کیا

امریکہ اور یورپ کے اختلافات میں شدت

چوہدری نثار کا آزاد حیثیت میں الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان

قطر کی بین الاقوامی عدالت میں متحدہ عرب امارات کے خلاف شکایت

خلائی مخلوق “ کے بارے قرآن کیا کہتا ہے؟

سید حسن نصراللہ کی پاکستان فوج کے متعلق پاکستانی عوام کو وصیت

بے نظیر کی تصاویر سے ریحام کی کتاب تک

نواز شریف کو ایک اور جھٹکا: وکیل خواجہ حارث کی نیب ریفرنسز کے دفاع سے معذرت

چین میں پاکستانی صدر ممنون حسین سے بھارتی وزیراعظم اور روسی صدر کی ملاقات

شام میں خانہ جنگی آئندہ سال تک ختم ہوجائے گی، بشار الاسد

رمضان المبارک کے چھبیسویں دن کی دعا

لندن میں فلسطین کے حق میں القدس ریلی + تصاویر

ریحام خان کی کتاب سے پی ٹی آئی کو کیا خوف ہے؟

2017-10-04 23:05:57

نیویارک میں محرم کا جلوس – محمد حسین

12-1

نیویارک کی سب بڑی یونی ورسٹی ’’نیویارک یونی ورسٹی‘‘ سمیت نیویارک اور نیوجرسی (پچاس میں سے صرف دو ریاستیں) کے جڑواں شہروں میں انگریزی، اردو، عربی، فارسی سمیت مختلف زبانوں میں مختلف اقوام کے لوگوں کی جانب سے تقریبا تیس عشرہ مجالس جاری ہیں،

گزشتہ اتوار کو نیویارک شہر کے مرکزی شاہراہ پر محرم کا اکتیس سالوں سے جاری روایتی جلوس بھی نکالا گیا۔ سڑکیں ایک سائڈ سے بند تھیں مگر دوسری طرف سے ٹریفک کے لیے کھلی تھیں، جلوس میں کہیں سے بھی داخل ہو سکتا تھا، چھتوں پر پولیس دیکھی گئی اور نہ ہی جلوس میں داخل ہونے کے لیے کوئی جامہ تلاشی کا سلسلہ تھا۔ جلوس میں کوئی بھی بندہ شریک ہو سکتا تھا،

میں حیران تھا کہ راہگیر لوگ جلوس کے قریب آ کر کچھ دیر رکتے تھے پھر آگے نکل جاتے، کچھ لوگ قریب آ کر جلوس میں شریک کسی سے پوچھ لیتے تھے کہ اس پروگرام کے بارے میں ان کو بتائیں، دلگیر انداز میں پڑھے جانے والے نوحے، شرکاء کے آنسو بہاتی آنکھیں، اور خواتین، بچوں اور بوڑھوں کی کثیر تعداد اور غم کے آثار ہر قلب سلیم کو متاثر کر رہے تھے

میرے درجنوں غیر مسلم دوست ان دنوں جب سوالات کرتے ہیں تو میں جواب میں ان کو دنیا کے مشاہیر کی طرف سے حضرت امام حسین علیہ السلام کو پیش کیے گئے خراج تحسین کے کلمات پیش کر دیتا ہوں تو کہنے لگتے ہیں کہ ہمیں تو اس بات کا بالکل علم نہیں تھا۔

مختلف گفت و شنید کے دوران مجھے ان کے چہرے سے محسوس ہونے لگا کہ واقعہ کربلا کے بارے میں جان کر ان کے لیے اسلام سے متعلق ایک ایسا دریچہ وا ہو جاتا ہے، جو اسلام کے بارے میں میڈیا میں پیش کیے گئے خوفزدگی پر مبنی تاثر سے مختلف ہے بلکہ یہاں نواسہ رسول ظلم و جبر کے خلاف بے مثال قربانیاں دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، تو وہ مزید جاننے کی جستجو میں لگ جاتے ہیں۔

صرف دو فیصد پر مشتمل مسلمان آبادی کے لیے ’’نظام زندگی‘‘ مفلوج ہونے پر کوئی بھی شکوہ کناں نہیں دیکھا گیا، یہاں سڑکیں بند ہونے کا غوغا سنا گیا اور نہ ہی مذہبی اجتماع کو چار دیواری کے اندر بند کرنے کا مطالبہ کسی نے کیا۔ذکر حسین سے فرقہ واریت پھیلنے کا شور بھی نہیں سنا گیا۔ نیویارک یونی ورسٹی والوں کو بھی ’’تعلیمی ماحول‘‘ خراب ہونے کی فکر نہیں ہے بلکہ وہ ان کے انتظام و اہتمام میں بھرپور سہولت فراہم کر رہے ہیں۔

واضح رہے اسی طرح یہاں ہر مکتب فکر اور رنگ و نسل اور زبان و علاقہ سے تعلق رکھنے والوں کے روزانہ کوئی نہ کوئی اجتماع ہوتا رہتا ہے۔

اس ’’کافر‘‘ ملک کے برعکس ’’قلعہ اسلام‘‘ سے متعلق سوشل میڈیا پر ہمارے مذہبی و لبرل دانشوروں کا مزاج دیکھ لیں، ملک میں کئی سالوں سے جاری دہشت گردی کے خلاف ان کے قلم خاموش رہے بلکہ فرقہ وارانہ تنظیموں، اور دہشت گردوں کا دفاع کرتے رہے ہیں مگرمحرم کے مجالس و جلوسوں میں سینکڑوں دھماکوں اور حملوں کے باوجود اسی دہشت و خوف کو شکست دے کر میدان میں نکلنے والوں پر معترض ہیں کہ ان کی وجہ سے سڑکیں بند، نیٹ ورک پند اور کاروبار بند ہیں، ارے اللہ کے بندو یہ سارے دہشت گردوں کی وجہ سے بند ہونے لگے ہیں ورنہ یہ جلوس تو صدیوں سے نکل رہے ہیں۔ یہ ہمارا مشترکہ تہذیببی ورثہ ہے کسی مکتب فکر کی جاگیر نہیں ہے ہر طبقہ فکر اس میں شریک ہوتے ہیں، آپ بھی شریک ہو جائیں، اپنے پہلے سے قائم کردہ مفروضات کو معطل کر کے قریب جا کر دیکھ لیجیے کہ کیا مجالس و جلوس کے شرکاء کیوں دھاڑیں مار مار کر رونے لگتے ہیں، کیا وہ صرف کسی دوسرے فرقے کے ضد میں سڑک بند کروانے کے لیے جلوس نکالتے ہیں یا ان کے نقطہ نظر اور جذبات کیا ہیں۔

سالانہ تبلیغی اجتماع کے وقت لاہور تا اسلام آباد موٹر وے بند کیا جاتا ہے، ملک بھر میں منعقد ہونے والے سیاسی و مذہبی پروگرامات کے دوران لوگوں کی تعداد کے مطابق سکیورٹی کے پیش نظر سڑکیں بند کی جاتی ہیں، وی آئی پیز کے نقل و حرکت کے دوران شاہراہیں بند اور نیٹ ورک بند کیے جاتے ہیں، قومی تقریبات کے وقت بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہوتا ہے۔ دھرنوں، سیاسی ریلیوں اور الیکشن کے دوران بڑے سیاسی جلسوں کے وقت بھی نامطلوب پابندیوں کا سامنا ہوتا ہے۔

ان سب پر مجھے تکلیف ہوتی ہے، مگر میرا اصولی موقف یہ ہے کہ ہر شہری کو اس کے انسانی و آئینی حقوق حاصل ہیں اس کے مطابق اس کو جینے اور اپنے مذہبی و سیاسی فکر پر عمل پیرا رہنے کا یکساں موقع ملنا چاہیے،

کرسمس، ہولی، گرونانک کا جنم دن، ایسٹر، مدح صحابہ ریلی، تبلیغی اجتماع، عشق رسول ریلی، میلاد کاجلوس، دعوت اسلامی کا اجتماع یا محرم کے جلوس اسی طرح پی ٹی آئی، ایم کیو ایم، پی پی پی، مسلم لیگ ن، ق۔ جمعیت علمائے اسلام ف، س ، جعمیت علمائے پاکستان سمیت کوئی بھی مذہبی و سیاسی تنظیم کوئی اجتماع کرنا چاہے تو یہ ان کا بنیادی انسانی حق ہے، آئین پاکستان اس کی ضمانت دیتا ہے۔

سکیورٹی کا معاملہ پوری ریاست کا معاملہ ہے۔ دہشت گردی کا مقابلہ ہم سب نے مل کر کرنا ہے جس بے پوری قوم کے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ اسے مذہبی اجتماعات کو چار دیواری میں بند کرنے نہیں ختم کیا جا سکتا بلکہ اس کی نظریاتی اساس کی بیخ کنی اور انتظامی سہولت کاروں اور اس کے متاثرین کو راہ راست پر لانے کے لییے قومی پالیسیوں میں جوہری تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔

ہمیں کاٹنے والے پاگل کتوں کو بند رکھنے چاہیں نہ کہ لوگوں کو گھروں میں محصور کیے جائیں۔

 

زمرہ جات:   Horizontal 3 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)