میانمار میں خون ریزی۔اصل وجہ کیا ہے

پشاور سے کالعدم ٹی ٹی پی کا انتہائی مطلوب کمانڈر گرفتار

جرمنی کی آسٹریا میں جاسوسی کا گھمبیر ہوتا معاملہ

کیا جرمنی نے آسٹریا میں جاسوسی کی؟

عورت چراغ خانہ ہے، شمع محفل نہیں!

کلثوم نواز کی حالت تشویشناک، نوازشریف اور مریم نواز کی وطن واپسی مؤخر

سانحہ ماڈل ٹاؤن کو چار سال گزر گئے لیکن ملزم آزاد ہیں، طاہر القادری

امریکی دباؤ کے باوجود ایران کیساتھ باہمی تعاون کو جاری رہیں گے: چین

انتخابات میں مخالفین کو عبرت ناک شکست دیں گے، آصف علی زرداری

آپ کی مدد کا شکریہ عمران خان، اب آپ جاسکتے ہیں!

کالعدم ٹی ٹی پی کا نیا امیر کون؟

امریکا کا چین کے خلاف بھی تجارتی جنگ کا اعلان

افغان صوبے ننگرہار میں خودکش دھماکا، 25 افراد ہلاک

عید الفطر 1439 ھ علامہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام

انتخابات میں حصہ لینے کے خواہش مند 122 امیدوار دہری شہریت کے حامل نکلے

امریکا کے خلاف یورپ کا جوابی اقدام

سعودی عرب کا ذلت آمیز شکست کے بعد کھلاڑیوں کو سزا دینے کا اعلان

مُلا فضل اللہ کی ہلاکت، پاکستان اور خطے کے لیے ’اہم پيش رفت‘

’’رَبِّ النُّوْرِ الْعَظِیْم‘‘ کے بارے میں جبرئیل کی پیغمبر اکرمﷺ کو بشارت

پاکستان میں عید الفطر مذہبی جوش وجذبے کے ساتھ منائی جائے گی

یورپ میں بڑھتی مسلم نفرت اور اس کا حل

کیا مسلم لیگ ن کی پالیسی میں کوئی تبدیلی آ رہی ہے؟

عید فطر کا دن، خدا کی عبادت اور اس سے تقرب کا دن 

پھانسی دے دیں یا جیل بھیجیں

شفقنا خصوصی: بھاڑے کے ٹٹو اور پاک فوج

افغانستان میں ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی اطلاعات

کلثوم نواز کی طبیعت بگڑ گئی، مصنوعی تنفس پر منتقل

سعودی عرب کی کھوکھلی دھمکیاں

ایم ایم اے اور اورنگزیب فاروقی کے مابین خفیہ ڈیل کیا ہے؟

ریحام خان کو عمران کے کنٹینر تک کون لایا تھا: ایک خصوصی تحریر

غدار ٹوپیاں اور جاسوس کبوتر

آج سے موبائل بیلنس پر ٹیکس ختم: 100 روپے کے کارڈ پر پورے 100 روپے کا بیلنس ملے گا

اول ماہ ثابت ہونے کا میعار کیا ہے؟

سوال: کیا مقلدین کے لیے ضروری ہے کہ عید فطر کے لیے اپنے مرجع کی طرف رجوع کریں؟

رمضان المبارک کے انتیسویں دن کی دعا

ریحام خان کی کتاب اور معاشرہ

شیخ رشید 2018 کے انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں: سپریم کورٹ

پاکستان میں انتخابات 2018؛ 2 ہزار368 امیدوار مختلف محکموں کے نادہندہ نکلے

حسن بن صباح کی جنت، فسانہ یا حقیقت؟

آرمی چیف کا دورہ افغانستان : کیا اشرف غنی کو سخت پیغام دیا گیا ہے؟

شیخ رشید نااہلی سے بچ گئے

بھارت کے حق میں بیان : کیا شہباز شریف بیرونی قوتوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں؟

سوال و جواب » فطرہ

رمضان المبارک کے اٹھائیسویں دن کی دعا

سی پیک، پاکستان کےلیے نہیں!

دورِ زوال کا نوحہ

ایران اور مشرق وسطی کے بارے میں امریکی سوچ خطرناک ہے

ہر نیک کام میں والدین کو شریک کرنا بہت زیادہ برکات کا حامل ہے

امریکی صدر اور شمالی کوریا کے سربراہ کی تاریخی ملاقات

ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان تاریخی ملاقات کا اعلامیہ جاری

سی پیک، پاکستان کےلیے نہیں!

کالعدم اہلسنت و الجماعت میں دراڑ: احمد لدھیانوی اور مسرور جھنگوی آمنے سامنے

مشرف کی متوقع واپسی، کیا سابق آمر کا کوئی سیاسی مستقبل ہے؟

کیا نواز شریف ملک سے بھاگ جائیں گے؟

اٹلی نے اپنی بندرگاہیں تارکین وطن کے لیے بند کر دیں

رمضان المبارک کے ستائیسویں دن کی دعا

نیب کی نواز شریف، بیٹوں، بیٹی اور داماد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست

ایٹمی اثاثے، خطرات اور منصوبہ جات

قرآن اللہ کی وہ مطلق رحمت ہے جس سے ہم نے استفادہ نہیں کیا

امریکہ اور یورپ کے اختلافات میں شدت

چوہدری نثار کا آزاد حیثیت میں الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان

قطر کی بین الاقوامی عدالت میں متحدہ عرب امارات کے خلاف شکایت

خلائی مخلوق “ کے بارے قرآن کیا کہتا ہے؟

سید حسن نصراللہ کی پاکستان فوج کے متعلق پاکستانی عوام کو وصیت

بے نظیر کی تصاویر سے ریحام کی کتاب تک

نواز شریف کو ایک اور جھٹکا: وکیل خواجہ حارث کی نیب ریفرنسز کے دفاع سے معذرت

چین میں پاکستانی صدر ممنون حسین سے بھارتی وزیراعظم اور روسی صدر کی ملاقات

شام میں خانہ جنگی آئندہ سال تک ختم ہوجائے گی، بشار الاسد

رمضان المبارک کے چھبیسویں دن کی دعا

لندن میں فلسطین کے حق میں القدس ریلی + تصاویر

ریحام خان کی کتاب سے پی ٹی آئی کو کیا خوف ہے؟

2017-10-11 05:14:34

میانمار میں خون ریزی۔اصل وجہ کیا ہے

Geno

 

 

میانمار میں جاری خون ریزی اب تک ہزاروں لوگوں کی جان لے چکی ہے ۔لاکھوں لوگ  زندگی بچانے کے لئے اپنے گھروں کو چھوڑنے پرمجبور ہیں۔ایک اندازے کے مطابق چار لاکھ  سے زائد لوگ اب تک میانمار کو چھوڑ کر بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔

 

میانمار میں جاری اس قتل عام کے نسلی اور مذہبی حوالے سے ابھی تک کافی کچھ لکھا جاچکا ہےلیکن ابھی تک ایک پہلوایسا ہے جو  لکھنے والوں کی نظر سے پوشیدہ رہا ہے یاجس پرابھی تک بہت کم لکھاگیا ہے وہ اس علاقے کی معاشی اہمیت ہے۔2001 میں ایک کتاب دی نیو رولرز آف دی ورلڈ (The New Rulers of the World) منظر عام پر آئی۔ جان پلگر نے اس کتاب میں واضح کیا کہ کس طرح بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں ان ممالک کی سیاست میں اور حکومتیں بنانے اور گرانے میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔میانمار کے معاملے میں یہ بات سچ ہوتی نظر آرہی ہے۔

 

میانمار کی آبادی تقریبا53 ملین اور فی کس آمدنی تقریبا 1400ڈالر ہے۔دوسرے ترقی پذیرممالک کی طرح وسائل کا بیشتر حصہ اقلیتی ہاتھوں میں ہے اور اکثریت بدحالی کا شکارہے۔ میانمار میں کئی سال سے فوج حکمران ہے، اب بظاہر ملک میں جمہوریت ہے لیکن یہ جمہوری ڈھانچہ نمائشی ہے اور یہ جمہوری حکومت اتنی ہی بااختیار ہے جتنی ایک پسماندہ ملک میں ہو سکتی ہے اور ابھی بھی زیادہ تراختیارات فوج ہی کے پاس ہیں۔ نوے کی دہائی سے یہ فوجی حکمران چھوٹے زمینداروں سے جبری زمین ہتھیانے میں مصروف ہیں۔ لوگوں سے یہ زمین زیادہ تر ترنئی فوجی چھاؤنیاں بنا نے، معدنی وسائل ڈھونڈنے، بڑے بڑے فارم ہاوسز بنانے اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے نام پر ہتھیائی جارہی ہے۔مثال کے طور پر ریاست “کچن” (Kachin)میں غریب زمینداروں کی زمین سے سونا نکالنے کے بہانے 500 ایکڑ زمین چھینی گئی ۔ لوگوں کو زبردستی ان کے گھر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ اس نام نہاد ترقی کی وجہ سے لاکھوں لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر بنگلہ دیش ، تھائی لینڈ ،بھارت اورملائیشیا کی طرف ہجرت کر گئے۔2011میں میانمار کے فوجی حکمرانوں نے معاشی  اصلاحات کا اعلان کیا۔عوام کو یہ لالی پاپ دیا گیا کہ ان اصلاحات سے بیرونی سرمایہ کاری کا سیلاب آجائے گا اور ان کے دن پھر جائیں گے۔ اس اعلان کے فورا ًبعد 2012 میں مذہبی فسادات پھوٹ پڑے۔ جس میں پرامن سمجھے جانے والے بودھ مت کے ماننے والوں نے روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام شروع کر دیا۔ کمال بات تو یہ تھی کہ میانمار کی حکومت اس قتل عام کو روکنے کی بجائے لوگوں سے زمین ہتھیانے کے نئے قوانین بنانے میں مصرو ف تھی۔

 

میانمار قدرتی وسائل سے مالامال ملک ہے جس کے ہمسائیوں کی نظر اس کے وسائل پر ہے۔ یہ قدرتی وسائل ہی اس ملک کے عام آدمی کے لئے مسئلہ بن گئے ہیں۔ نوے کی دہائی سے چینی سرمایہ کار میانمار کی شمالی ریاست”شان”کے دریاﺅں ، جنگلات اور معدنی وسائل کے استحصال میں ملوث ہیں جس کی وجہ سے یہاں کے مقامی لوگوں اور حکومت کے درمیان تصادم بھی ہوا۔یہی مسلئہ “رخائن” کی ریاست میں ہے جہاں چین اور بھارت اپنے اپنے مفادات کے منصوبوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ نئی، نئی سڑکیں بنانے اور”رخائن” سے چین اور بھارت کے درمیان پائپ لائنیں بچھانے کے کئی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ نیشنل پٹرولیم کمپنی آف چائنہ”رخائن”کے دارلحکومت “ستوے”سے چینی شہر”کیومنگ”کے درمیان پائپ لائن بچھا رہی ہے جس سے”ستوے” سے تیل اور گیس چین کے صوبے” یوونان” کو مہیا کیا جائے گا۔

 

“ستوے “کی بندرگاہ پر بھارت نئے تعمیراتی کاموں میں مصروف ہے ۔ بھارت چاہتا ہے کہ وہ اس راستے سے اپنے صوبے میزورام کو خلیج بنگال سے ملا دے۔ جب اس علاقے میں ترقیاتی سرگرمیاں شروع کی گئی تھیں تو اس کا مقصد اس علاقے کی ترقی ، لوگوں کے لئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور یہاں سے ملنے والے تیل اور گیس میں ان کو حصہ دار بنانا تھا۔ لیکن سب کچھ اس کے برعکس ہوا۔ ترقیاتی منصوبوں کے لئے زمین مفت یا معمولی معاوضہ پر ہتھیائی گئی۔ روزگار دینے کا وعدہ بھی پورا نہیں ہوا اور تمام بڑے بڑے عہدے دوسرے علاقوں سے لائے گئے لوگوں میں بانٹ دیے گئے اور مقامی لوگوں کو معمولی نوکریاں دی گئیں ۔ سٹریٹیجک لحاظ “ستوے”کی بندرگاہ بھارت اور چین دونوں ہی کے لئے بڑی اہم ہے ۔اسی وجہ سے دونوں ممالک بڑی تیزی سے اس علاقے میں اپنے اپنے مفاد کے لئے ترقیاتی سرگرمیاں جا ری رکھے ہوئے ہیں اور اس مقصد کے لئے میانمار کی حکومت لوگوں کی زمینیں چھین چھین کر ان ملکوں کے حوالے کر رہی ہے تاکہ”ترقی کا عمل” تیز ہو سکے۔

 

 جہاں پڑوسی ممالک اپنے اپنے معاشی مفادات کے تحفظ کے لئے کسی بھی حد کو جانے کو تیار ہوں ،وہاں انسانی زندگیوں کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ چونکہ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی میں اس خطے کے تمام ممالک بلواسطہ یا بلاواسطہ طور پر ملوث ہیں اس لئے ان سے کسی طرح کی مدد کی کوئی توقع رکھنا فضول ہے۔

 

عاصم اعجاز

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)