بلوچستان تنازعہ : ذرائع ابلاغ ہدف کیوں؟

صحافی کے قتل کے خلاف بھارتی کشمیر میں ہڑتال، مظاہرے

زعیم قادری کیا شریف خاندان کے بوٹ پولش کر پائیں گے ؟

کیا عدالت فوج کے خلاف اقدام اٹھائے گی؟

کیا نواز شریف اور مریم نواز کا نام ای سی ایل میں شامل ہوگا ؟

’کراچی والوں کی جان ٹینکر مافیا سے چھڑائیں گے‘

پاکستان کے یہودی ووٹر کہاں گئے؟

پاکستان کی خاندانی سیاسی بادشاہتیں

لہسن کے یہ حیران کن فوائد جانتے ہیں؟

یاہو‘ نے اپنی انسٹنٹ میسیج سروس ایپلی کیشن ’یاہو‘ میسینجر کو بند کرنے کا اعلان کردیا

انفیکشن کی بروقت شناخت سے دنیا بھرمیں ہزاروں لاکھوں جانیں بچائی جاسکتی ہیں

سفید سرکے کے کئی فوائد ہیں، اس طرح سیب کے سرکے کے بھی متعدد طبی فوائد ہیں

یمن تا فلسطین، دشمن ایک ہی ہے

کیا افغان سیکیورٹی اہلکار طالبان کو کنٹرول کر سکے گے ؟

ٹویٹر کیا ایسا کر پائے گا ؟

پاکستان میں سمندری پانی کیا قابل استعمال ہوگا ؟

عمران خان، آصف زرداری اور مریم نواز کے اثاثوں کی تفصیلات منظر عام پر آ گئیں

فٹبال ورلڈ کپ کے شوروغل میں دبی یمنی بچوں کی چیخیں

رپورٹ | یمن کی تازہ صورتحال ۔۔۔ یہاں سب بکنے لگا ہے !!!

دہشتگرد کالعدم جماعتوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دینے کی بجائے قانون کے شکنجے میں کسنے کی ضرورت ہے، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

انڈونیشیا کی جھیل میں کشتی الٹنے سے 200 افراد ہلاک

بلوچستان: سی ٹی ڈی آپریشن،خاتون سمیت 4 دہشت گرد ہلاک

ہائیڈرو گرافی کا عالمی دن ، پاک بحریہ کے سر براہ کا پیغام

امریکہ کے شکست قریب ہے؟

شیخ علی سلمان پر مقدمہ، غیر سرکاری تنظیموں کا احتجاج

عمران، شاہد خاقان، گلالئی،فہمیدہ مرزا، فاروق ستار، لدھیانوی، مشرف کے کاغذات مسترد

ایران نے امریکی صدر سے بات چیت کا امکان مسترد کر دیا

راہ حق پارٹی، جے یو آئی (ف) کے آشرباد سے کالعدم جماعتوں کا سیاسی پلٹ فارم

لندن کی سڑکوں پر بھاگتا پاکستانی سیاست دان

بن زاید کی اسرائیلی عہدے داروں سے ملاقات ؟

انتخابات 2018: الیکشن کمیشن نے ساڑھے تین لاکھ فوجی اہلکاروں کی خدمات مانگ لیں

علماء یمن نے بڑا کردیا

چوہدری نثار تھپڑ مار کیوں نہیں دیتے؟

ٹرمپ بھیڑیا ہے

ٹرمپ نے بوکھلاہٹ میں شمالی کورین جنرل سے مصافحہ کے بجائے سلیوٹ کر ڈالا

الیکشن کمیشن پاکستان راہ حق پارٹی کی رجسٹریشن منسوخ کرے

اسرائیلی فوج نے اپنا الحاج شیخ الاسلام متعارف کرادیا – عامر حسینی

این اے 53 سے عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد

الحدیدہ۔۔۔اب میڈیا خاموش کیوں ہے!؟

کیا احد چیمہ شہباز شریف کے لیے خطرے کی گھنٹٰی ہے؟

فضل اللہ کی ہلاکت کے بعد امریکا پاکستان سے کیا مطالبہ کرے گا؟

یمن میں پاکستانی لاشیں کیا کر رہی ہیں؟

جدید تر ہوتی جوہری ہتھیار سازی: آرمجدون زیادہ دور نہیں

نواز شریف اور ان کی بیٹی کا کردار سامنے لانا چاہتا ہوں، چوہدری نثار

مسلم لیگ نواز اور نادرا چئیرمین کے مبینہ ساز باز کی کہانی

آنیوالے انتخابات میں کسی مخصوص امیدوار کی حمایت نہیں کرتے، علامہ عابد حسینی

امریکی مرضی سے ملی حکومت پر لعنت بھیجتا ہوں، سراج الحق

افتخار چوہدری عدلیہ کے نام پر دھبہ ہیں، فواد چوہدری

کاغذات نامزدگی پر اعتراضات جھوٹے، من گھڑت اور صرف الزامات ہیں، عمران خان

نادرا ووٹرز کی معلومات افشا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے، الیکشن کمیشن

افغانستان میں جنگ بندی: ’ملا اشرف غنی زندہ باد‘

پشاور سے کالعدم ٹی ٹی پی کا انتہائی مطلوب کمانڈر گرفتار

جرمنی کی آسٹریا میں جاسوسی کا گھمبیر ہوتا معاملہ

کیا جرمنی نے آسٹریا میں جاسوسی کی؟

عورت چراغ خانہ ہے، شمع محفل نہیں!

کلثوم نواز کی حالت تشویشناک، نوازشریف اور مریم نواز کی وطن واپسی مؤخر

سانحہ ماڈل ٹاؤن کو چار سال گزر گئے لیکن ملزم آزاد ہیں، طاہر القادری

امریکی دباؤ کے باوجود ایران کیساتھ باہمی تعاون کو جاری رہیں گے: چین

انتخابات میں مخالفین کو عبرت ناک شکست دیں گے، آصف علی زرداری

آپ کی مدد کا شکریہ عمران خان، اب آپ جاسکتے ہیں!

کالعدم ٹی ٹی پی کا نیا امیر کون؟

امریکا کا چین کے خلاف بھی تجارتی جنگ کا اعلان

افغان صوبے ننگرہار میں خودکش دھماکا، 25 افراد ہلاک

عید الفطر 1439 ھ علامہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام

انتخابات میں حصہ لینے کے خواہش مند 122 امیدوار دہری شہریت کے حامل نکلے

امریکا کے خلاف یورپ کا جوابی اقدام

سعودی عرب کا ذلت آمیز شکست کے بعد کھلاڑیوں کو سزا دینے کا اعلان

مُلا فضل اللہ کی ہلاکت، پاکستان اور خطے کے لیے ’اہم پيش رفت‘

’’رَبِّ النُّوْرِ الْعَظِیْم‘‘ کے بارے میں جبرئیل کی پیغمبر اکرمﷺ کو بشارت

پاکستان میں عید الفطر مذہبی جوش وجذبے کے ساتھ منائی جائے گی

یورپ میں بڑھتی مسلم نفرت اور اس کا حل

2017-11-12 13:02:49

بلوچستان تنازعہ : ذرائع ابلاغ ہدف کیوں؟

pak media

 

 

بلوچستان میں ریاستی اداروں نے اخبارات اور ٹی وی چینلز کو ایڈوائزری جاری کرکے بلوچ علیحدگی پسندوں کی خبروں کی اشاعت رکوادی ہے،جس کے ردعمل میں کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ نے پمفلٹ شائع کر کے اخبارات اور الیکٹرانکس میڈیا سے وابستہ صحافیوں کو بلیک آوٹ ختم نہ کرنے کی صورت میں  سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی ہے۔

 

دوطرفہ دباؤ کے بعد کوئٹہ شہر کے سوا بلوچستان کے طول و عرض میں اخبارات کی سرکویشن بند اور گوادر سمیت دالبندین،پنج گور اور تربت میں اخبار فروشوں کی دکانیں اور پریس کلب مقفل ہوگئ ہیں۔بی ایل اے کے ترجمان گہرام خان نے کہا کہ بلوچستان میں اگر میڈیا نے صرف ریاستی بیانیہ کی اشاعت کے ذریعے بلوچوں کی آواز دبانے کی پالیسی  جاری رکھی تو اشاعتی اداروں کو بے رحم حملوں کا سامناکرنا پڑے گا۔مہران مری کی یونائیٹڈ بلوچ اتحاد اور دیگر قوم پرست جماعتوں نے بھی بی ایل اے کے الٹی میٹم کی حمایت کر کے میڈیا کے خلاف تشدد کے رجحان کو بڑھاوا دیا۔ترجمان نے کہا کہ ہم نے میڈیا ہاوسز مالکان کو اپنے روّیوں میں تبدیلی کی درخواست کی لیکن اخباری اداروں نے ہماری معروضات کو سنجیدہ  لینے کی بجائے اشتہارات اور مراعات کے حصول کی خاطر ابلاغ کے پیشہ وارانہ اصولوں اور غیرجانبداری کو پس پشت ڈال دیا۔دریں اثناء اے پی این ایس کے وفد نے کور کمانڈر کوئٹہ سے ملاقات کر کے انہیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ دنیا بھر میں میڈیا  علیحدگی پسند تنظیموں کی جانب سے دہشتگردانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے جیسی خبروں کو جاری کرتا ہے۔مگر بلوچستان حکومت کے ترجمان انوار الحق کہتے ہیں کہ میڈیا کو ریاست اور دہشتگرد تنظیموں میں فرق کرنا ہو گا۔ اگر  میڈیا ریاستی اداروں پر حملے اور ملک کی سلامتی کے خلاف کام کرنے والے لشکروں کو ہیرو بنا کے پیش کرے گا تو کنفیوژن بڑھے گی ،جس سے سوسائٹی حق و باطل میں تفریق نہیں کر پائے گی۔

 

بدقسمتی سے شورش زدہ بلوچستان کے صحافیوں کی مجبوریوں کو سمجھے بغیر ریاستی اتھارٹی اور علیحدگی پسندوں کا طرز عمل ایک جیسا ہے۔دونوں گروہ اپنی پالیسیز اور عملی کارروائیوں کوجائز ثابت کرنے کی خاطر میڈیا کو کنٹرول کرنے کی پالیسی پہ عمل پیرا ہیں۔آزادی اظہار پہ محمول حیات اجتماعی کے اعصابی نظام کو مفلوج رکھنے کی بجائے ریاستی ادارے اور شورش پسند دونوں اگر اپنی پالیسیز میں لچک پیدا کرتے تو انہیں اطلاعات کے فطری بہاؤکو تہہ و بالا کرنے کی ضرورت نہ پڑتی ۔لیکن افسوس کہ دونوں متحارب قوتیں میڈیا کو ہدف بنا کر معاشرے کو تاریکی کی جانب دھکیلنے میں سرگرداں ہیں۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ فطری نظم و ضبط میں جو تغیرات روز افزوں ہیں وہ قانونی تشدد کی مدد سے کم نہیں ہو سکتے۔البتہ  ابلاغی نظام کو پراگندہ کرنے کا سب سے زیادہ نقصان خود ریاست اور معاشرے کو پہنچے گا۔ریاستی اتھارٹی میڈیا کی زبان بندی کی بجائے علیحدگی پسندوں کوکنٹرول کرتی تو ہمیں یہ دن دیکھنے نہ پڑتے۔بلاشبہ ملکی سلامتی کے دشمن کسی رعایت کے مستحق نہیں۔برطانیہ نے بھی آئرش باغیوں کو کچلنے کی خاطر دیکھتے ہی گولی مارنے کی پالیسی  اپنا کر پوری قوت سے علیحدگی کی تحریک کوکچل ڈالہ لیکن بلوچ علیحدگی پسندوں بارے ریاستی اتھارٹی کی نیم دلانہ کارروائیاں اور ادہوری کوششیں تباہ کن نتائج کی حامل ثابت ہو رہی ہے ۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ جنگ زدہ بلوچستان میں دن بدن صحافیوں کیلئے ذمہ داریاں نبھانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ مقتدرہ کی نئی حکمت عملی نے بلوچستان میں آزادی صحافت کے امکانات کو محدود اور کارکن صحافیوں کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا۔خدشہ ہے کہ حسب روایت بلوچ علیحدگی پسند پنجابی آبادکاروں اور غیر بلوچ صحافیوں کو نشانہ بنا کے المیے تخلیق کرنے کی کوشش کریں گے۔

 

گزشتہ پچیس سالوں میں دنیا بھر میں جو 1610 صحافی قتل ہوئے۔ ان میں شام کی خانہ جنگی میں 235 ،عراق وار کے دوران 211 اور پاکستان میں پیشہ وارنہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران شہید ہونے والے صحافیوں کی تعداد 127 سے زیادہ ہے۔ روزنامہ ڈان کی رپوٹ کے مطابق گزشتہ بیس سالوں کے دوران بلوچستان کی شورش میں  57کارکن صحافی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔جن کی اکثریت غیر بلوچوں پہ مشتمل تھی ۔کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز(سی پی این ای) نے بلوچستان میں آزادی صحافت کی صورت حال کو  انتہائی مخدوش اور بنیادی آزادیوں کے منافی قرار دیا۔کوئٹہ میں ضیا شاہد کی صدرات میں سی پی این ای کی  اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں میڈیا کی مخدوش صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد منظوری کی گئی قراردادوں میں بلوچستان میں آزادی صحافت کو لاحق خطرات پر گہری تشویش کا اظہار اور متحارب قوتوں کی میڈیا کے خلاف بڑھتی ہوئی عدم برداشت کو سماج کی بقاء کے لئے مہلک قرار دیا گیا۔حکومت اگر قانونی تشدد کی بجائے بلوچستان میں اپنی توجہ معاشرے کو منظم کرنے پہ مرتکز رکھتی تو اسے زیادہ بہتر نتائج ملتے کیونکہ وقت کی صرف ایک ہی کروٹ بلوچستان میں علیحدگی پسندی کے رجحانات کو دفن کرنے والی ہے۔گوادر پورٹ کی بحالی اور سی پیک کی تعمیر بلوچستان میں ایک نئے صنعتی معاشرے کے قیام کا سبب بنے گی۔جتنی تیزی کے ساتھ ترقیاتی عمل آگے بڑھے گا ،اتنی ہی سرعت سے یہاں سماج کی سوچ اور طرز عمل میں تبدیلی آئے گی کیونکہ صنعتی معاشروں میں لوگوں کو جانچنے کیلئے حسب و نسب کو نہیں بلکہ تخلیقی قوت کو معیار بنایا جاتا ہے۔چنانچہ اگلے پانچ سالوں میں سردار اور انکا سرداری نظام از خود متروک ہو جائے گا۔اکیسویں صدی میں آزادی کی تحریکیں رومانوی کشش کھو  رہی ہیں اور انسانی شعور علاقائی،لسانی اور نسلی مفادات کے تنگ دائروں سے ماوراء ہو کر  کائناتی وسعتوں کی طرف بڑھ رہا  ہے۔ہم جان چکے ہیں کہ آزادی کی پکار صرف اس دل سے اُٹھتی ہے جو خفہ طور پہ طاقت کا بھوکا ہو۔وہ وقت دور نہیں جب  مادی خوشحالی  یہاں ہزاروں برسرپیکار گروہوں کو باہم ملکر زندگی گزارے کا ڈھنگ سیکھا دے گی۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ بعض وظائف مثلاً مالیات،نقل و حمل اور اظہار رائے کے وسائل اتنے قوی ہو گئے ہیں کہ آئینی پابندیوں کے بغیر وہ معاشرے کو تباہ کر سکتے ہیں۔اگرچہ ہمارے عہد میں ریاست کو نااہل،جانبدار اور بداخلاق سمجھا جاتا ہے لیکن سچ پوچھیے تو یہ بات غنیمت ہو گی کہ یہ وظائف ریاستی اختیار میں  آ جائیں۔

 

اسلم اعوان

زمرہ جات:  
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

Today is the longest day of 2018

- اے آر وائی