انسان خلیفۃ اللہ ہے یا خلیفۂ رب؟

ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکامی کے دو سال مکمل

کموڈور عدنان خالق کی ریئر ایڈمرل کے عہدے پر ترقی

افغان صدر کانگراں وزیراعظم اور آرمی چیف کو ٹیلی فون

یوٹا میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی

شہزادہ چارلس اور ولیم نے ٹرمپ سے ملنے سے انکار کر دیا

بھارت میں گوگل کاسوفٹ ویئر انجینئر بے دردی سے قتل

امریکی سفارت کاروں کو طالبان سے براہ راست مذاکرات کی ہدایت

روسی بمبار جہازجنوبی کوریا میں داخل،کوریا کا احتجاج

میاں صاحب نے کشکول کے بجائے معیشت توڑدی،اسد عمر

بلاول کو پارٹی میں صرف ’ابا‘ ہی کیوں نظر آتا؟سراج الحق

ن لیگ ،پی پی نے کرپشن کے ریکارڈ توڑدئیے،عمران خان

فخر زمان کی سنچری، پاکستان 9وکٹ سے فاتح

’عمران خان کو ناکام جلسوں کی ہیٹ ٹرک مبارک ہو‘

سعید اجمل کا پی ٹی آئی امیدوار کی حمایت کا اعلان

ایم کیو ایم سے لوگوں کو صلہ نہیں ملا، حافظ نعیم

فاروق ستار پر خواتین برس پڑیں،سیاست چمکانے کا الزام لگا دیا

شدت پسندوں کو انسان بنانیکی ناکام کوششیں

دہشتگردی کے سائے اور اہل پاکستان

کراچی عسکری پارک میں جھولا گر گیا بچی جاں بحق 9 افراد زخمی

عالمی کپ کی اختتامی تقریب، مشعل قطر کے سپرد

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا کی ولادت باسعادت مبارک ہو

فرانس فٹبال کا نیا عالمی چیمپئن، کروشیا کو شکست

اسرائیل کا 2014 کے بعد غزہ پر سب سے بڑے حملے کا دعویٰ

یمن میں سامراج کی مخالفت کا قومی دن

اسکاٹ لینڈ: امریکی صدرکے خلاف مختلف اندازمیں احتجاج

کس قانون کے تحت کالعدم جماعتوں کو کلین چٹ دی ہے، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

’اعتزاز احسن کی آنکھ میں ککرے پڑگئے ہیں‘

صحت بخش اور توانائی سے بھرپور. . . سلاد

آمدنی اور اخراجات میں بہت فرق ہے، شمشاد اختر

سراج رئیسانی کا جنازہ ، آرمی چیف کوئٹہ پہنچ گئے

کریمینل ایڈمنسٹریشن آف جسٹس میں محکمہ پولیس کا کلیدی کردار ہے، قاضی خالد علی

ٹرمپ دورہ برطانیہ میں اپنے الفاظ سے پھر گئے

بھارتی فوج کا کنٹونمنٹ علاقے ختم کرنے پر غور

بلوچستان کے مختلف شہروں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ

’لیگی قیادت نے نواز اور مریم کو دھوکا دیا‘

داعش نےسعودی چیک پوسٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی

سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کیخلاف مقدمہ درج

آئرش پارلیمنٹ میں اسرائیلی اشیاء کی در آمدات پر پابندی کا بل منظور

’’حکومت بنا کر سب کو ایک پیج پر لاؤں گا ‘‘

ٹرمپ کے دورۂ برطانیہ پر احتجاج کا سلسلہ جاری

نواز،مریم اور صفدر کے پاس صرف ایک دن کی مہلت

یمن میں متحدہ عرب امارات کے اقدامات جنگی جرائم ہیں، ایمنسٹی انٹرنیشنل

سندھ میں رینجرز کےخصوصی اختیارات میں 90روز کی توسیع

آپ یہ پلے باندھ لیں

تحریک انصاف نے کوئٹہ جلسہ ملتوی کردیا

ترکی کا کمرشل اتاشی اسرائیل میں ترک سفار خانے میں واپس

فلسطینیوں کی حمایت میں واشنگٹن میں مظاہرہ

ایران ایک مضبوط ابھرتی ہوئی طاقت کا نام ہے،خطیب جمعہ تہران

چوہدری نثار نے اپنے دکھ کی وجہ بیان کر دی

اسامہ بن لادن کا سابق ذاتی محافظ جرمنی سے بے دخل

سعودی عرب خطے میں امریکہ اور اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی ملک ہے:سربراہ انصار اللہ

’’مجرم اعظم آگئے، 300ارب واپس کریں‘‘

امریکا کے گیس اسٹیشن پر لاکھوں پتنگوں نے ڈیرا ڈال لیا

اسحاق ڈار کےریڈ وارنٹ جاری

محمد وسیم کی ورلڈ فلائی ویٹ ٹائٹل فائٹ کل ہوگی

ٹوئٹر پرمشہور شخصیات کے فالوورز کم ہو گئے

دبئی:ریسٹورنٹ میں کھانا سرو کرتا روبوٹ

نواز شریف نے اڈیالہ جیل میں پہلے دن ناشتے میں کیا کھایا؟

گزین مری 23 سال بعد آبائی علاقے پہنچ گئے

قیدیوں نے اپنے حق کے لیے درخواست جمع کروادی

ہم نے قانونی جنگ لڑ کر جیتی ہے، شاہ محمود قریشی

ن لیگیوں کیلئے اطمینان بخش خبر

مستونگ انتخابی جلسہ دھماکا، یورپی یونین، سعودی عرب کی مذمت

نواز شریف اور مریم نواز اڈیالہ جیل منتقل

امریکا تجارتی میدان کا غنڈہ اور بلیک میلر ہے، چین

ہم عراق میں نیٹو افواج کی موجودگی کے خلاف ہیں: عصائب اہل الحق

اربیل شہر میں نیا امریکی قونصل خانہ پورے علاقے کیلئے خطرہ ہے: عراقی سیاستدان

داعش سے نمٹنے کے لیے چین، پاکستان، روس، ایران کا مشترکہ اجلاس

یمنی فورسز نے سعودی عرب کے 34 فوجیوں کو ہلاک کر دیا

نواز شریف کا پوتا اور نواسہ رہا

2017-11-26 15:31:27

انسان خلیفۃ اللہ ہے یا خلیفۂ رب؟

Hazrat-Adam-640x320

سورہ بقرہ کی آیہ شریفہ ۳۰” و اِذ قَالَ رَبُّکَ لِلمَلاٰئِکَۃِ اِنّی جَاعل فِی الاَرض خَلیفۃً قَالُوا أَتَجعَلُ فِیہٰا مَن یُفسدُ فِیہٰا وَ یَسفِکُ الدِّمَاءَ وَ نَحنُ نُسَبِّحُ ِبحَمدِکَ وَ نُقَدِّسُ لَکَ قَالَ اِنِّی اَعلمُ مَا لاَ تَعلَمونَ” کے مطابق، کیا حضرت آدم رب کے خلفیہ تہے یا خلیفۃ اللہ؟۔

اجمالی جواب 

سورہ بقرہ کی آیت نمبر۳۰ میں انسان کو خلیفہ کے  طور پر منتخب کرنے کا راز اسماء الہی کی تعلیم بیان کی گئی ہے۔ اور ارشاد ہے ” علم آدم الاسماء کلہا”  جو اسم سب اسماء پر مشتمل ہے اور سب اسماء اسی علم کا جلوہ ہیں وہ ” اللہ”  کا اسم مبارک ہے ، پس انسان خلیفۃ اللہ ہے نہ کہ خلیفہ رب ، کیونکہ رب اسماء الہی کا ایک اسم اور ” اللہ” کا ایک جلوہ ہے۔

اس نکتہ کی طرف توجہ کرکے واضح ہوتا ہے کہ:

اولاً: اسماء سے مراد ، بلند حقائق ہیں ، جس سے عالم کے سب حقائق وجود میں آئے ہیں۔ اور عالم کے حقائق غیب اور شہود کو شامل ہیں۔

ثانیاً: الہی حقیقت اسماء کی صورت میں جلوہ گر ہوتی  ہے ، پس حقیقت میں انسان الہی اوصاف کا مظہر اور سب خدائی کاموں کا ذمہ دار اور ما سوی اللہ پر کامل الہی خلیفہ ہے۔

تفصیلی جواب :  

 مذکورہ سوال کوہم اس طرح واضح کرتے ہیں:

حضرت آدم کس کے خلیفہ تہے۔ اور انسان کس کا خلیفہ ہے؟ کیونکہ جو خلیفہ ، جانشیں ہوتا ہے ۔ وہ اپنے  مستخلف ( جس کا جانشین ہوتا ہے) کی طرف سے اس کے کاموں اور وظائف کا ذمہ دار اور اس کے صفات سے متصف ہوتا ہے ۔ خدا نے کس حد تک انسان کو اپنے افعال اور صفات سے متصف ہونے کی صلاحیت عطا کی ہے اور انسان کس حد تک پیرو خدا  بن سکتا ہے۔

انسان[1] کس کا خلیفہ ہے؟

قرآن مجید کے سورہ بقرہ کی آیات نمبر ۳۰ اور ۳۱  کے مطابق انسان خلیفہ اللہ ہے۔

توضیح:  آیہ شریفہ میں ” انی جاعل فی الارض خلیفۃ ۔۔۔” کی ضمیر متکلم وحدہ سے سمجہا جاتا ہے  کہ متکلم ” خداوند” نے اپنے لئے “جانشین ” منتخب کیا ہے نہ کہ غیر کے لئے۔ اور بعد والی آیت[2] ( آیہ شریفہ ۳۱) میں اس انتخاب کا راز اور انسان کو خلیفہ کے طور پر منتخب کرنے کو ” سب اسماء الہی کی تعلیم” بیان کی ہے اور ” و علم آدم الاسماء کلہا” فرمایا ہے ۔

دوسرے الفاظ میں یہ کہیں کہ خدا نے پہلی آیت میں انسان کو اپنا خلیفہ اور دوسری آیہ شریفہ میں  اپنے جانشین کی طاقت ، اور عطا شدہ خلافت کی وسعت کو بیان کیا ہے ۔ چونکہ خداوند متعال کی حقیقت اسکے اسماء میں روشن ہے ، ان دو مطالب کی وضاحت ، (یعنی اسماء اور انسان کو ان کی تعلیم ) سے روشن ہوتا ہے کہ انسان کس کا خلفیہ ہے؟ اور وہ کس حد تک خدائی کاموں کو انجام دے سکتا ہے ، اور وہ کتنے اوصاف الہی کا حامل اور انہیں  اپنے اندر ظاہر کر سکتا ہے۔

اسماء سے مراد

“اسم”  ، “نشانہ” کے معنی میں ہے، لفظی اسم ، ذہنی مفاہیم کے نشان اور مدلول ہے۔ ذہنی مفاہیم عینی حقائق کے نام اور عینی حقائق غیب اور شہود (ظاہر و باطن ) کو شامل ہو کر اپنے حقائق کے اسم اور اسکی نشانیاں قرار پاتے ہیں۔ اب دیکہنا یہ ہے کہ اس آیہ شریفہ میں جو اسماء الہی انسان کو تعلیم کئے گئے ہیں۔ ان اسماء کی کونسی اقسام میں سے ہیں، الفاظ مراد ہیں یا ذہنی مفاہیم یا عینی حقائق؟

آدم کا مسجود ملائکہ قرار پانے کیلئے صرف اسماء کی تعلیم ہی کافی نہیں۔ کیونکہ الفاظ سے آگاہی  کا کمال، دل کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے ہیں اور ملائکہ کو دل کے مقاصد کو جاننے کیلئے الفاظ اور لغات کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ الفاظ کے بغیر ہی دلوں کے مقاصد کو دریافت کرسکتےہیں” [3]

اسی طرح ذہنی مفاہیم اور حقائق کا صوری ادراک ،ملائکہ کی شان سے نیچے ہے۔ کیونکہ ان کا عالم کے بعض حقائق سے رابطہ ہے نہ کہ یہ رابطہ  صرف ان حقائق کے مفاہیم سے ۔ یعنی ان حقایق کا ادراک حضوری ہے نہ کہ حصولی۔ البتہ عالم کے سب حقائق ان کیلئے مشہود نہیں لہذا انسان کیلئے سجدہ کرنے کی دلیل صرف حقایق کے مفاہیم سے اس کی آگاہی نہیں ہوسکتی ۔

اس لئے ایک طرف  اسماء سے مراد  وہی حقائق ہیں اور دوسری طرف عالم کے سب عینی حقائق کا علم ہے۔ جن کو سمجہنے اور حامل ہونے کیلئے فرشتے قاصر تہے اور فرشتوں میں ان اسماء کی بلندیوں تک پرواز کرنے کی طاقت نہیں تہی۔ اور بعد والی آیات کے مطابق ” اسماء” سے مراد ” عالم غیب کے حقایق” ہیں ، کیونکہ آیت نمبر ۳۳ میں ارشاد کیا ہے ” الم اقل لکم انی اعلم غیب السموات و الارض ” [4]  بعض مفسرین کرام  کی تفسیر کے مطابق کہ سورہ بقرہ کی آیات ۳۰ سے ۳۳  کا سیاق و سباق یہ ہے کہ اس ” غیب” سے مراد ” ان اسماء،جن کی تعلیم عطا ہوئی ہے اور آیہ شریفہ انی اعلم ما لا تعلمون[5] میں مذکور مسائل کے علاوہ کچہہ نہیں ہے”۔  یعنی میں نے وہ چیزیں جن کو آپ نہیں جانتے ہیں اور وہ صرف میرے علم کے دائرے  تک ہی محدود ہیں انسان کو عطا کی ۔۔۔ پس اسماء غیبی وہ حقائق ہیں جو فرشتوں کی فہم سے بہت بلند  ہیں۔ فرشتے ، جو خود عالم مادہ سے بالاتر اور غیب کے بعض اسرار اور مراتب کے حامل ہیں۔ اور وہ حقایق عالیہ ہیں جن سے عالم کے سب حقایق زندگی لیتے ہیں جو غیب اور شہود کو شامل ہیں۔[6]

تعلیم کے معنی

بیان شدہ مطالب کو مد نظر رکہہ کر کہ “بغیر کسی واسطے کے حضرت آدم کا اسماء کو دریافت کرنا” [7] سے واضح ہوتا ہے کہ تعلیم سے مراد:

اولاً: اسماء کے شہودی اور حضوری علم کا عطا کرنا نہ کہ صرف ان کے مفاہیم سے آگاہی۔

ثانیاً: علم لدنی اورخداوند متعال سے بغیر کسی واسطے کے تعلیم حاصل کرنا ہے۔  اور چونکہ علم کا مطلب حامل ہونا ہے  چاہے  کسی چیز کے مفہوم  اور صورت کا حامل ہونا، یا خود اس چیز کی حقیقت  کا حامل ہونا ہے۔ تعلیم الہی کی یہ دو خصوصیتیں (شہودی اور لدنی) جو بیان ہوئیں ان کا مطلب یہ ہے کہ خداوند متعال نے حضرت آدم اور انسان  کو اسماء حسنی کی حقیقیت عینی اور( اسماء کے گزشتہ معنی کے مطابق ) اپنے اسماء کی پوری نشانیاں عطا کی ہیں ۔

پس مذکورہ  مطالب کو مد نظر رکہتے ہوئے آیہ شریفہ پورے اسماء کی تعلیم پر دلالت کرتی ہے، اور جو اسم سب اسماء پر مشتمل ہے اور سب اسماء اس سے روشنی  پاتے ہیں وہ اسم “اللہ” ہے ، نتیجہ یہ نکلا کہ انسان خلیفہ اللہ ہے نہ کہ خلیفہ رب۔ کیونکہ رب اسماء الہی اور اسم ” اللہ” کا ایک جلوہ ہے اور حقیقت میں انسان خدا کا مظہر تام ہے ، اور اوصاف الہی کا جلوہ گر اور ما سوی اللہ پر سب خدائی کاموں کا ذمہ دار ہے۔

مزید معلومات کیلئے رجوع کریں:

۱۔ تفسر المیزان ، ذیل آیات ۳۰ تا ۳۴۔

۲۔ تفسیر تسنیم ، آیۃ اللہ جوادی آملی، ج ۳ ص ۱۷ ۔۔ ۳۲۱

[1]  اس آیت کے دیگر تفسیری دلائل  سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خلافت صرف حضرت آدم علیہ السلام کیلئے مخصوص نہیں تہی بلکہ سب انسانوں میں یہ حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہے، اس لئے ہم نے کلی طور پر بحث میں انسان کا ذکر کیا ہے نہ کہ حضرت آدم علیہ السلام کا ، مزید معلومات کیلئے ملاحظہ ہو ” تفسیر تسنیم ” آیۃ اللہ جوادی آملی ،  ج ۲ ص ۴۱ اور ۲۹۳۔ اور “عنواں” مصداق خلیفۃ اللہ از دیدگاہ قران ، سوال ۱۹۸۱ ( سائٹ نمبر ، ۲۰۲۳)

[2]  “و علم آدم الاسماء کلہا چم عرضہم علی الملائکۃ  فقال انبئونی باسماء ہؤلاء ان کنتم صادقیں۔”

[3]  المیزان ، ج۱ ص ۱۱۶ ، ۱۱۷۔

[4]  کیا میں نے تم سے  نہیں کہا کہ  میں آسمان اور زمین کے غیب کو جانتا ہوں ۔

[5]  میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

[6] “تفسیر تسنیم” ج ۳ ص ۱۶۹۔

[7] لفظ “علم” آیہ شریفہ ۳۱ میں ملائکہ کے واسطے کی نفی کرتا ہے۔

 

 
زمرہ جات:   Horizontal 4 ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)