نواز شریف کا نظریہ

’’ کالعدم تنظیموں کا انتخابات میں حصہ لینا، جمہوریت کے لیے خطرہ ہے‘‘،بلاول بھٹو

’پی پی اور ن لیگ میں پس پردہ نیا مک مکا چل رہا ہے‘

ٹیکس ادائیگی سے متعلق غلط بیانی عمران اسماعیل کے گلے پڑگئی

سعودی عرب: خواتین کو طیارے اڑانیکی تربیت کی اجازت

خان صاحب عوام میں مقبول نہیں ،بلاول کا دعویٰ

پارلیمنٹ نے اسرائیلی وزیراعظم سے جنگی اختیارات چھین لیے

کراچی:الیکشن میں دہشت گردی کی سازش،2 گرفتار

صہیونی جیل میں اسیر 4 فلسطینیوں کی بھوک ہڑتال ہنوز جاری

اسپین کے کئی شہروں کا اسرائیلی بائیکاٹ مہم میں شمولیت کا اعلان

ورثے میں ہمیں یہ غم ہے ملا، بلاول کا ٹوئٹ

پاکستان نے زمبابوے کو تیسرے ون ڈے میں شکست دے دی

لیبیا میں کنٹینر میں دم گھٹنے سے 8 غیرقانونی تارکین وطن ہلاک

برطانوی وزیر اعظم تھریسامے کی مشکلات میں اضافہ، ایک اور وزیر مستعفی

افغانستان میں امریکا کی حکمت عملی ناکام ہو گئی، حامد کرزئی

افغانستان میں داعش کا حملہ، طالبان کمانڈر سمیت 20 ہلاک

ایرانی افواج ہر طرح کی جارحیت کا جواب دینے کے لئے آمادہ و تیار ہیں:ایرانی وزیر دفاع

اسرائیل نے غزہ تک ایندھن کی ترسیل بند کر دی

بن سلمان کی ذاتی سیکورٹی "موساد” کے حوالے، امریکی تجزیہ کار

چین میں گرمی سے روڈ پگھلنے لگے

سعودی عرب : خواتین ڈرائیورزکیلئے زنانہ جیلوں کی تیاری

اسرائیل کی مسجد اقصیٰ کے قریب پھر کھدائی

زرداری اور فریال کا نام ای سی ایل سے خارج

مستونگ خود کش حملہ آور کا ڈی این اے ٹیسٹ

خواجہ حارث نے نواز شریف کے جیل ٹرائل کا مقصد بتادیا

عمران خان کو نیب نے آج طلب کرلیا

رؤف صدیقی سردارشیر محمد رند کے حق میں دستبردار

صفدر کی گرفتاری میں رکاوٹ ڈالنے والوں کی ضمانت میں توسیع

نادرا آج سے ’رزلٹ ٹرانسمیشن سروس‘ ایکٹیویٹ کرے گا

نواز اورمریم کی سزاؤں کیخلاف درخواست کی سماعت کل ہوگی

حافظ آباد میں پی ٹی آئی اور ن لیگی کارکنوں میں تصادم

اسکول جس میں صرف ایک بچی پڑھتی ہے

بجلی مہنگی کرنے کیلئے نیپرا کو درخواست ارسال

شہباز ، عمران، بلاول کو وزیر اعظم کے برابر سکیورٹی فراہم کرنے کا فیصلہ

شیعہ رہنماوں کی کالعدم جماعت کے سرغنہ لدھیانوی سے ملاقات کی رُداد، علامہ امین شہیدی کی زبانی

گورنر اسٹیٹ بینک کیخلاف 22 سینیٹرز کی درخواست مسترد

شاہد آفریدی کی سراج رئیسانی کے اہلخانہ سے تعزیت

یادداشت کیلئے چارسائنسی انداز

یاہو میسنجر کی موت واقع ہو گئی

جنوبی کوریا:ہیلی کاپٹر حادثے میں5افراد ہلاک

سی ای او پی آئی اے کی دعوت پر ایئر سفاری کی، ڈی جی سی اے اے

الیکشن کمیشن عمران خان کی تقاریر پر پابندی لگائے، ن لیگ

این اے124: پیپلز پارٹی تحریک انصاف کے حق میں دستبردار

نواز شریف کو پیش نہ کر کے کیا چھپایا جا رہا ہے؟

فواد حسن فواد ایک روزہ ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں

نگراں حکومت نے شہباز شریف کے خط کا جواب دےدیا

بھارت میں چاند ستارے والا سبزجھنڈا لگانے پر سماعت

امریکی صدر کے دورے کے خلاف فنلینڈ کے عوام کے مظاہرے

روس کا ایران میں 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا فیصلہ

اماراتی شہزادہ قطر فرار، ابوظہبی کے حکمراں خاندان پر تنقید

دبئی نے نئے ویزہ قوانین متعارف کروا دیے

اسرائیل کا حماس کے ساتھ جنگ میں شکست کا اعتراف

اسرائیل کو ‘صیہونی ریاست’ قرار دینے کیلئے بل تیار

ایران کی مسلح افواج کے سربراہ کی صدر ممنون حسین سے ملاقات

امریکہ کو ایرانی بحریہ کی طاقت کا اندازہ ہوگیا ہے؛بریگیڈیر رمضان شریف

فلسطین کے بارے میں امریکی شیطانی پالیسیاں ناکام ہوں گی:آیت اللہ سید علی خامنہ ای

سعودیہ میں ایران کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے:علی محمد دوشنبہ

’’تمام جماعتوں سے نئے میثاقِ جمہوریت پر بات کرنا چاہتا ہوں‘‘

فرانسیسی ٹیم کا وطن واپسی پر شاندار استقبال

ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکامی کے دو سال مکمل

کموڈور عدنان خالق کی ریئر ایڈمرل کے عہدے پر ترقی

افغان صدر کانگراں وزیراعظم اور آرمی چیف کو ٹیلی فون

یوٹا میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی

شہزادہ چارلس اور ولیم نے ٹرمپ سے ملنے سے انکار کر دیا

بھارت میں گوگل کاسوفٹ ویئر انجینئر بے دردی سے قتل

امریکی سفارت کاروں کو طالبان سے براہ راست مذاکرات کی ہدایت

روسی بمبار جہازجنوبی کوریا میں داخل،کوریا کا احتجاج

میاں صاحب نے کشکول کے بجائے معیشت توڑدی،اسد عمر

بلاول کو پارٹی میں صرف ’ابا‘ ہی کیوں نظر آتا؟سراج الحق

ن لیگ ،پی پی نے کرپشن کے ریکارڈ توڑدئیے،عمران خان

فخر زمان کی سنچری، پاکستان 9وکٹ سے فاتح

2017-12-15 09:29:55

نواز شریف کا نظریہ

NS

پاکستان کے تین دفعہ وزیر اعظم رہنے والے خوش نصیب شخص نواز شریف آج کل اپنی قسمت کو کوس رہے ہیں۔ ان کا لہجہ دن بدن تلخ ہوتا جا رہا ہے۔ ملک کی تاریخ کے 16 سابق وزرائے اعظم کی طرح وہ بھی کبھی اپنی مدت مکمل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔

حالات کی ستم ظریفی ہے یا مکافات عمل ،وہ خود عمران خان کی طرح وزرائے اعظم کے خلاف برسر پیکار رہے اور پھر بالکل تحریک انصاف کی طرح اپنے مشن میں کسی نہ کسی صورت کامیاب بھی رہے۔ لیکن اب اس سب کا ذمہ دار وہ اسٹیبلشمنٹ کو قرار دیتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے خیال میں ضد اور ہٹ دھرمی ہر دفعہ نواز شریف  کی اداروں سے ٹکراؤ کی وجہ بنتی رہی ہے۔ اس تنقید کا جواب وہ ایک سوال کی صورت میں دیتے ہیں کہ کیا 70 برسوں میں کوئی بھی وزیر اعظم ٹھیک نہیں تھا؟ پھر خود ہی خبردار بھی کرتے ہیں کہ اب یہ کھیل بند ہو جانا چاہیے۔

دو دہائیوں سے زائد ملک پر حکمرانی کرنے والے نواز شریف نے پہلے یہ نعرہ بلند کیا کہ اب وہ نظریاتی ہوگئے ہیں اور پھر کہا کہ نواز شریف خود ایک نظریے کا نام ہے۔ گویا انھوں نے اپنی ناکامیوں کی تمام تر ذمہ داری ایک معصوم مگرغیر نظریاتی نواز شریف کے کندھوں پررکھ دی ہو۔ نواز شریف ملک کی سیاست میں بھٹو مخالف نظریے کے تحت شامل ہوئے اور پھر آگے کی منازل طے کرتے گئے۔ یہ نظریہ کیا تھا اور اس کا بانی کون تھا، اس پر انھوں نے کبھی روشنی ڈالنا پسند نہیں کیا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ملک کی سیاست دو دہائیوں سے زائد عرصہ بھٹو اور بھٹو مخالف نظریے کے گرد ہی گھومتی رہی۔ نواز شریف کو اس نظریے کی صرف ایک شق کا علم تھا کہ وہ اقتدار میں اسی رستےسے آ سکتے تھے۔ اس نظریے پر چل کر انھوں نے خاندان کی کھوئی ہوئی دولت اور اثاثے سود سمیت وصول کر لیے۔ پھر ان کے اثاثوں نے بڑھوتری کرتے کرتے آدھی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔  یوں اسلام آباد سے شروع ہونے والا سفر پانامہ   پر جا کے ختم ہوا۔

بذریعہ جی ٹی روڈ 4 دن کی مسافت طے کر کے وہ اسلام آباد سے واپس اپنے گھر لاہور پہنچے۔ داتا دربار پر اپنے سفر کے اختتامی خطاب میں انھوں نے اپنے اور اپنے محسنوں کے خلاف ایف آئی آر  درج کراتے ہوئے کہا کہ  یہ کیسا ملک ہے؟ یہاں کسی کو اپنی مدت نہیں پوری کرنے دی جاتی۔ پھر بلاتوقف چارج شیٹ پڑھی کہ ملک میں عدالتی انصاف ہے اور نہ ہی معاشی مساوات۔ غریب تعلیم حاصل کر سکتا ہے اور نہ ہی بہتر علاج کی سہولت میسر ہے۔ پھر اس عزم کا اظہار بھی کر ڈالا کہ اب وہ ضرور نیا لائحہ عمل تشکیل دیں گے اور ملک کو حقیقی فلاحی ریاست بنائیں گے۔ اس لائحہ عمل کو انھوں نے دو حصوں یعنی مختصر اور طویل دورانیہ پر تقسیم کر دیا۔

نواز شریف کے سیاسی سفر کا اتار چڑھاؤ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ملک کی سیاست میں فوجی آمر جنرل ضیاء کے متعارف کردہ نواز شریف کس کو اپنی ناکامی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں؟ وہ فوجی آمروں کے خلاف کیسے ہو گئے؟ کیا یہ سب کچھ وہ ماضی کی طرح پھر کسی گٹھ جوڑ کے لیے کر رہے ہیں؟ لیکن اس دفعہ تو ملک میں مارشل لاء بھی نہیں ہے۔ پھر ان کے لہجے میں تلخی کیوں بڑھتی جا رہی ہے؟ وہ تمام حقائق اور رپورٹس منظر عام پر کیوں نہ لے کر آسکے؟

نواز شریف نے جس نظریے کے تحت سیاست میں قدم رکھا تھا اس کے خدوخال کا جائزہ لینا بھی از حد ضروری ہے۔ اگر اس نظریے کی تمام شقوں کو وہ خود پڑھ لیتے تو شائد آج ان کی اتنی سخت دل آزاری نہ ہوتی۔ جس دستاویز پر یہ عبارت کندہ تھی کہ یہ نظریہ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے کا مختصر ترین وظیفہ ہے اگلے صفحے پر یہ بھی درج تھا  کہ یہی نظریہ ان کے زوال کا بھی شاخسانہ ہوسکتا ہے۔ اس نظریے کے تحت ایک فرد اقتدار تک تو ضرور پہنچتا ہے لیکن وہ مقتدر نہیں ہوتا۔ جب وہ اپنے آپ کو حکمران سمجھنے لگتا ہے تو پھر اس نظریے کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار پاتا ہے۔ اس نظریے کے تحت کوئی بھی شخص مختصر یا طویل دورانیے کے لیے بلا خوف و خطر اثاثے بنا سکتا ہے۔ ملک کے اندر یا باہرخوب عیاشی سے زندگی گزار سکتا ہے لیکن ان کو اپنی مرضی سے کسی نئے ازم یا نظریے کے لیے استعمال نہیں کرسکتا۔ ورنہ نظریہ ضرورت جاگ جاتا ہے ۔ پھر قانون، قاضی اور عدالتیں سب منہ موڑلیتے ہیں۔ باقی رہا معاملہ عوام کا تو یہ تو تب سیسہ پلائی دیواربنے گی جب ان کے درمیان کسی نے کبھی سیسہ یعنی دکھ درد بانٹا بھی ہو۔ ورنہ لوہے کی فیکٹریاں اور مضبوط روسی یا امریکی ساخت کے ٹینک بھی دفاع کے لیے کافی نہیں ہوتے اور شکست مقدر بن کر سر پر منڈلا رہی ہوتی ہے۔

اگر نواز شریف نظریاتی ہوگئے ہیں تو پھر پہلے انھیں پرانے نظریے کے تحت حاصل کی گئیں تمام مراعات واپس کرنا ہونگی۔ اپنے نئے نظریے کے صاف صاف خدوخال بیان کرنا ہونگے ۔پھر ہی یقین سے کچھ کہا جاسکتا ہے کہ اب وہ کس سمت سفر کررہے ہیں۔ شاید صرف نظریاتی ہونے یا خود کو نظریہ کہنے سے بات آگے نہ بڑھ سکے اور پھر اقتدار کی یہ لوڈشیڈنگ کبھی ختم نہ ہوسکے۔ البتہ یہ بات خوش آئند ہے کہ شہباز شریف نے جالب اور نواز شریف نے غالب کو پڑھنا شروع کر دیا ہے۔ اگر اب بھی روش نہ بدلی تو پھر بہادر شاہ ظفر کی شاعری بھی انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔

 

اعظم خان

زمرہ جات:  
ٹیگز:   پاکستان ، نواز شریف ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

یادوں کے جھروکے

- سحر ٹی وی