دہشت گردی کے سوال پر چین کا مثبت اور تعمیری مؤقف

بنی اسرائیل کی حقیقت قرآن مجید کی روشنی میں

ارجنٹینا فٹبال ٹیم کی شکست کی کہانی چہروں کی زبانی

دھوپ اور بارش سے محفوظ رکھنے والی ’’ڈرون چھتری‘‘

میلانیا کی جیکٹ پر لکھا جملہ: مجھے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا کیا آپ کو پڑتا ہے؟

میرا اختلاف نواز شریف کے فائدے میں تھا، چوہدری نثار

10 غذائیں جو آپ کو ہر عمر میں جوان رکھیں

’ لگتا ہے سیاسی وڈیروں نے پمپ کھول لئے ہیں‘

ﺑﻘﯿﻊ ﺍﻭﺭ ﻗﺪﺱ ﭘﺮ ﺳﯿﺎﺳﺖ کیوں؟

کینسر کے خطرے سے بچانے والی بہترین غذا

داعش کی معاونت پر مذہبی رہنما کو سزائے موت

اسرائیلی وزیراعظم کی اہلیہ پر بھی فرد جرم عائد

پاکستان کی طالبان امیر ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق

مہران یونیورسٹی میں ڈیجیٹل ٹرانسفرمیشن سینٹر قائم کیا جائیگا،ڈاکٹر عقیلی

پرویز مشرف آل پاکستان مسلم لیگ کی صدارت سے مستعفی

ڈونلڈ ٹرمپ کی روسی صدر سے ملاقات کے لیے نئی حکمت عملی تیار

یمن میں سعودی جاسوسی ڈرون طیارہ تباہ

چھوٹی سی چیری بڑے فائدوں والی

بیگم کلثوم کی طبیعت قدرے بہتر پر خطرے سے مکمل طور پر باہر نہیں: میاں نواز شریف

انتخابی نشانات کی سیاست: ووٹر حیران، امیدوار پریشان

امریکہ افغان طالبان سے بات چیت کی خواہش کیوں ظاہر کر رہا ہے؟

آیت اللہ سید خامنہ ای نے قومی فٹبال ٹیم کو اچھی کاکردگی پر سراہا

بحرینی عدالت نے شیخ علی سلمان کو جاسوسی کے الزامات سے بری کردیا

فیفا ورلڈ کپ 2018: اسپین نے ایران کو 0-1 سے شکست دے دی

آئی بی اے کراچی میں منعقدہ پاکستان کی پہلی فائنل ائیر پروجیکٹس کی آن لائن نمائش کا احوال

امریکہ کی خارجہ پالیسی بحران سے دوچار

صحافی کے قتل کے خلاف بھارتی کشمیر میں ہڑتال، مظاہرے

زعیم قادری کیا شریف خاندان کے بوٹ پولش کر پائیں گے ؟

کیا عدالت فوج کے خلاف اقدام اٹھائے گی؟

کیا نواز شریف اور مریم نواز کا نام ای سی ایل میں شامل ہوگا ؟

’کراچی والوں کی جان ٹینکر مافیا سے چھڑائیں گے‘

پاکستان کے یہودی ووٹر کہاں گئے؟

پاکستان کی خاندانی سیاسی بادشاہتیں

یاہو‘ نے اپنی انسٹنٹ میسیج سروس ایپلی کیشن ’یاہو‘ میسینجر کو بند کرنے کا اعلان کردیا

انفیکشن کی بروقت شناخت سے دنیا بھرمیں ہزاروں لاکھوں جانیں بچائی جاسکتی ہیں

سفید سرکے کے کئی فوائد ہیں، اس طرح سیب کے سرکے کے بھی متعدد طبی فوائد ہیں

یمن تا فلسطین، دشمن ایک ہی ہے

کیا افغان سیکیورٹی اہلکار طالبان کو کنٹرول کر سکے گے ؟

ٹویٹر کیا ایسا کر پائے گا ؟

پاکستان میں سمندری پانی کیا قابل استعمال ہوگا ؟

عمران خان، آصف زرداری اور مریم نواز کے اثاثوں کی تفصیلات منظر عام پر آ گئیں

فٹبال ورلڈ کپ کے شوروغل میں دبی یمنی بچوں کی چیخیں

رپورٹ | یمن کی تازہ صورتحال ۔۔۔ یہاں سب بکنے لگا ہے !!!

دہشتگرد کالعدم جماعتوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دینے کی بجائے قانون کے شکنجے میں کسنے کی ضرورت ہے، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

انڈونیشیا کی جھیل میں کشتی الٹنے سے 200 افراد ہلاک

بلوچستان: سی ٹی ڈی آپریشن،خاتون سمیت 4 دہشت گرد ہلاک

ہائیڈرو گرافی کا عالمی دن ، پاک بحریہ کے سر براہ کا پیغام

امریکہ کے شکست قریب ہے؟

شیخ علی سلمان پر مقدمہ، غیر سرکاری تنظیموں کا احتجاج

عمران، شاہد خاقان، گلالئی،فہمیدہ مرزا، فاروق ستار، لدھیانوی، مشرف کے کاغذات مسترد

ایران نے امریکی صدر سے بات چیت کا امکان مسترد کر دیا

راہ حق پارٹی، جے یو آئی (ف) کے آشرباد سے کالعدم جماعتوں کا سیاسی پلٹ فارم

لندن کی سڑکوں پر بھاگتا پاکستانی سیاست دان

بن زاید کی اسرائیلی عہدے داروں سے ملاقات ؟

انتخابات 2018: الیکشن کمیشن نے ساڑھے تین لاکھ فوجی اہلکاروں کی خدمات مانگ لیں

علماء یمن نے بڑا کردیا

چوہدری نثار تھپڑ مار کیوں نہیں دیتے؟

ٹرمپ بھیڑیا ہے

ٹرمپ نے بوکھلاہٹ میں شمالی کورین جنرل سے مصافحہ کے بجائے سلیوٹ کر ڈالا

الیکشن کمیشن پاکستان راہ حق پارٹی کی رجسٹریشن منسوخ کرے

اسرائیلی فوج نے اپنا الحاج شیخ الاسلام متعارف کرادیا – عامر حسینی

این اے 53 سے عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد

الحدیدہ۔۔۔اب میڈیا خاموش کیوں ہے!؟

کیا احد چیمہ شہباز شریف کے لیے خطرے کی گھنٹٰی ہے؟

فضل اللہ کی ہلاکت کے بعد امریکا پاکستان سے کیا مطالبہ کرے گا؟

یمن میں پاکستانی لاشیں کیا کر رہی ہیں؟

جدید تر ہوتی جوہری ہتھیار سازی: آرمجدون زیادہ دور نہیں

نواز شریف اور ان کی بیٹی کا کردار سامنے لانا چاہتا ہوں، چوہدری نثار

مسلم لیگ نواز اور نادرا چئیرمین کے مبینہ ساز باز کی کہانی

آنیوالے انتخابات میں کسی مخصوص امیدوار کی حمایت نہیں کرتے، علامہ عابد حسینی

امریکی مرضی سے ملی حکومت پر لعنت بھیجتا ہوں، سراج الحق

2018-01-09 12:29:45

دہشت گردی کے سوال پر چین کا مثبت اور تعمیری مؤقف

j

چین نے ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کامیابیوں اور قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے امریکہ پر واضح کیا ہے کہ کسی ایک ملک پر الزام عائد کرنے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے اور دنیا کا ہر ملک کسی نہ کسی طرح اس مسئلہ کا سامنا کررہا ہے۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی کے ذریعے ان عناصر سے نمٹنا ممکن نہیں ہوگا۔ چین کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جبکہ امریکہ مسلسل پاکستان کے خلاف یہ الزام عائد کررہا ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے۔ سی آئی اے کے سربراہ مائیک پومپیو نے ایک انٹرویو میں یہ الزام دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستان نے ان عناصر کے خلاف کارروائی کی تو ہم بھی پاکستانیوں کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے ورنہ امریکہ کی حفاظت کے لئے مناسب اقدام کئے جائیں گے۔ امریکی لیڈروں کے بیانات امریکی قیادت کی بد حواسی اور پاکستان کے خلاف نفسیاتی جنگ کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان الزام تراشی کے اس سنگین ماحول میں چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے نہایت معقول اور متوازن بات کی ہے۔ امریکی لیڈر بھی اس حقیقت سے آگاہ ہیں لیکن وہ دنیا کے مختلف حصوں میں اپنے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو عذر کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔ 2003 میں کسی مناسب ثبوت کے بغیر جھوٹے پروپیگنڈا کی بنیاد پر عراق کے صدر پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ ان کے پاس ہلاکت خیز ہتھیاروں کا ذخیرہ ہے اور وہ دہشت گردوں کی مدد کرتے ہیں۔ بعد میں یہ الزامات غلط ثابت ہوئے۔ امریکہ نے عراق پر حملہ کرکے صدام حسین کی حکومت کا تختہ ضرور الٹ دیا لیکن اس کے ساتھ ہی مشرق وسطیٰ میں ہلاکت، تباہ کاری اور دہشت کے فروغ کے ایک لامتناہی سلسلہ کا آغاز بھی کیا۔ امریکی مفاد کی اسی جنگ کی وجہ سے داعش جیسا دہشت گرد گروہ طاقتور ہؤا۔ اب یہ معلومات تاریخی ریکارڈ کا حصہ ہیں کہ امریکہ اور اس کے عرب حلیف ملکوں نے داعش اور اس قسم کے گروہوں کو مستحکم کرنے کے لئے کردار ادا کیا تاکہ اس خطہ میں ایران کا اثر و رسوخ کم کیا جاسکے ۔

شام میں سات برس سے جاری خانہ جنگی اور اس کے تناظر میں دہشت گردی کے فروغ کو عالمی طاقتوں کے مفادات کی لڑائی کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیا جاسکتا۔ اگر یہ سب ملک ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی پالیسی سے گریز کرتے ہوئے صرف انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرتے تو شر پسند عناصر کا قلع قمع کیا جاسکتا تھا۔ لیکن امریکہ اور دیگر ملکوں کی مفاد پرستانہ پالیسیوں کی وجہ سے پورا مشرق وسطیٰ خانہ جنگی اور دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور فی الوقت اس کے خاتمہ کا کوئی امکان بھی نہیں ہے۔ اسی طرح امریکی سی آئی اے کے سربراہ کا یہ بیان بھی گمراہ کن ہے کہ پاکستان نے اگر امریکی خواہشات کے مطابق فوجی کارروائی نہ کی تو امریکہ خود اپنے شہریوں کی حفاظت کرے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان سے امریکہ کی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور نہ ہی طالبان نے کبھی امریکہ یا دیگر مغربی اہداف پر حملہ کی بات کی ہے۔ وہ صرف اپنے ملک میں غیر ملکی فوجوں کی موجودگی کے خلاف ہیں۔ یہ وہی جنگ ہے جو ستر اور اسی کی دہائی میں سویٹ یونین کے خلاف لڑی گئی تھی اور امریکہ نے بڑھ چڑھ کر مجاہدین کا ساتھ دیا تھا۔ اسی جنگ کے شکم سے طالبان پیدا ہوئے جن کو شکست دینے کے لئے گزشتہ سترہ برس سے جنگ کی جارہی ہے اور اب پاکستان کو اس جنگ میں جھونکنے کے لئے دباؤ میں اضافہ کیا جارہا ہے۔

چینی وزارت خاجہ کے ترجمان لو کانگ نے پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ دہشت گردی کی جنگ میں ایک دوسرے پر انگشت نمائی سود مند نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس حوالے سے قابل قدر خدمات سرانجام دی ہیں ۔ ان کا اعتراف کیا جانا ضروری ہے۔  دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مؤثر بنانے کے لئے الزام تراشی کی بجائے تعاون اور ایک دوسرے کا احترام کرنے کے رویہ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ چین نے یکم جنوری کو صدر ٹرمپ کے پاکستان دشمن ٹویٹ کے بعد بھی پاکستان کی حمایت کی تھی اور کہا تھا کہ امریکہ کی الزام تراشی بلا جواز ہے۔ امریکی صدر نے اس ٹویٹ میں پاکستان پر جھوٹ بولنے اور امریکی لیڈروں کو دھوکہ دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ پندرہ برس میں 33 ارب ڈالر امداد وصول کرنے کے باوجود پاکستان ان عناصر کو پناہ دیتا ہے جو افغانستان میں امریکی فوجیوں پر حملے کرتے ہیں۔ بعد میں سامنے آنے والی خبروں سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ امریکہ دراصل پاکستانی فوج کو افغان طالبان کے خلاف ایک طویل جنگ میں دھکیلنا چاہتا ہے تاکہ صدر ٹرمپ افغانستان میں کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹ کر اس سے سیاسی فائیدہ حاصل کرسکیں۔

امریکہ کی طرف سے پاکستان کے خلاف عسکری اقدامات کے بہت کم آپشن ہیں۔ اسی طرح وہ تن تنہا افغانستان میں طالبان کا مقابلہ کرنے کی سکت بھی نہیں رکھتا۔ اس لئے پاکستان پر معاشی، سفارتی اور نفسیاتی دباؤ میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ پاکستان نے اگرچہ گزشتہ اگست میں ٹرمپ کی افغان پالیسی کے بعد اعلان کیا تھا کہ پاکستان کو امریکی امداد کی ضرورت نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف اس کی خدمات اور قربانیوں کا احترام کیا جائے۔ تاہم امریکہ کے تازہ تر ین دباؤ کے بعد ملک کے سیاسی رہنماؤں نے تو امریکی امداد کو غیر اہم قرار دیا ہے اور وزیر خارجہ خواجہ آصف نے  یہ بھی کہا ہے کہ اب امریکہ کے ساتھ شراکت اور رفاقت ختم ہو گئی ہے۔ لیکن پاکستانی فوج اور سفارتی ذرائع مسلسل امریکیوں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ان سے افغان جنگ میں براہ راست شرکت کے حوالے سے ’مہلت ‘ مانگنے کی کوشش کررہے ہیں۔ عسکری امداد پر پابندی کے بعد پاک فوج کے کسی ترجمان نے یہ نہیں کہا کہ اگر امریکہ پاکستانی فوج کی قربانیوں کا اعتراف نہیں کرتا تو وہ خود ہی یہ امداد وصول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ تذبذب کا یہ رویہ امریکی قیادت کو یہ باور کروا رہا ہے کہ وہ پاکستان پر دباؤ ڈال کر اپنے مقاصد حاصل کرسکتے ہیں۔ اسی لئے امریکی وزارت دفاع نے آج ایک بار پھر کہا ہے کہ پاکستان کو حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے خلاف کارروائی کرنے کا واضح ہدف دیا گیا ہے۔ اگر پاکستان یہ کام کرے گا تو معطل امداد بحال کردی جائے گی۔

اب دیکھنا ہے کہ پاکستان امریکی دباؤ قبول کرتا ہے یا چین کی طرح واضح اور دو ٹوک پالیسی اختیار کرتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لئے پہلے انگشت نمائی اور الزام تراشی کا سلسلہ بند کیا جائے ۔ پھر مل کر اس کے خلاف کامیابی کی ایسی منصوبہ بندی کرلی جائے جو یکساں طور سے فریقین کی ضرورتوں کو پورا کرسکے۔

 
 
 
زمرہ جات:  
ٹیگز:   دہشت گردی ،
دیگر ایجنسیوں سے (آراس‌اس ریدر)

گھر اور گھرانہ

- سحر نیوز

یادوں کے جھروکے

- سحر نیوز

ہفتہ نامہ - 22 جون

- سحر ٹی وی